دسمبر ۲۰۰۷ء

جامعہ حفصہ کا سانحہ ۔ کچھ پس پردہ حقائق

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اس دفعہ ادارتی صفحات میں ہم ایک خاتون کا خط شائع کر رہے ہیں جو حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی مدظلہ کے نام ہے۔ اس میں جامعہ حفصہ کے الم ناک سانحہ کے بارے میں جامعہ کی طالبات ہی کے حوالے سے کچھ پس پردہ حقائق کا انکشاف کیا گیا ہے اور بہت سے توجہ طلب امور کی نشان دہی کی گئی ہے جن پر علمی ودینی حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ ہماری رائے میں افغانستان سے روسی استعمار کے انخلا کے بعد سے ہی پاکستان کے ان ہزاروں نوجوانوں کی فہرستوں کی تیاری اور ان کی درجہ بندی شروع ہو گئی تھی جنھوں نے افغانستان کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور ٹریننگ حاصل کی تھی۔...

فقہ و اجتہاد کے چند اہم پہلو

― مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ

اس مقام پر اصولی طور پر یہ بحث بھلی معلوم ہوتی ہے کہ مخالفت حدیث کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ کیا ہر مقام پر مخالفت سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کی مخالفت مراد ہوتی ہے یا ان الفاظ کے اندر جو معنی اور مدلول پنہاں ہوتا ہے، اس کی مخالفت بھی مراد ہوتی ہے؟ اور اگر کوئی شخص آپ کے ظاہری الفاظ کی تو مخالفت کرتا ہے لیکن ان کے اندر جو معنی مستنبط ہوتا ہے، ا س کی اطاعت کرتا ہے جو بظاہر لفظوں سے متبادر نہیں ہوتا تو کیا اس شخص کو مخالفت حدیث کاملزم قرار دیا جا سکتا ہے؟ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز سے منع فرمایا ہے تو کیا ہر مقام پر...

’’شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد‘‘

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر ونواہی اور قرآن وسنت کے بیان کردہ احکام وفرائض کا عقل ومصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے او ربس! اس سے زیادہ ان میں غور وخوض کرنا اور ان میں مصلحت ومعقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل ومصلحت پر ہے اور عقل ومصلحت ہی کے حوالے سے یہ واجب العمل...

شریعت، مقاصد شریعت اور اجتہاد

― محمد عمار خان ناصر

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ کے مقدمہ میں اس مسئلے پر تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ شریعت کے اوامر ونواہی اور قرآن وسنت کے بیان کردہ احکام وفرائض کا عقل ومصلحت کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک گروہ کا موقف یہ بیان کیا ہے کہ یہ محض تعبدی امور ہیں کہ آقا نے غلام کو اور مالک نے بندے کو حکم دے دیا ہے او ربس! اس سے زیادہ ان میں غور وخوض کرنا اور ان میں مصلحت ومعقولیت تلاش کرنا کار لاحاصل ہے، جبکہ دوسرے گروہ کا موقف یہ ذکر کیا ہے کہ شریعت کے تمام احکام کا مدار عقل ومصلحت پر ہے اور عقل ومصلحت ہی کے حوالے سے یہ واجب العمل ہیں۔...

کیا قرآن قطعی الدلالۃ ہے؟ (۲ )

― حافظ محمد زبیر

قرآن وسنت کا باہمی تعلق۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کے مُبَیّن(وضاحت اورتشریح کرنے والے) ہیں اور جناب غامدی صاحب بھی اس بات کو مانتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ’برہان‘ میں قرآن و سنت کے باہمی تعلق کے عنوان سے اس موضوع پر مفصل گفتگو کی ہے ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن میں ذکر ہے:’’اور ہم نے آپؐ کی طرف قرآن نازل کیا تا کہ آپؐ اس کی تبیین کریں جو ان کی طرف نازل کیاگیا ہے اور تا کہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘(النحل:۴۴)۔ اسی طرح قرآن میں ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیان کی خود ذمہ داری لی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:...

امہات المومنینؓ کے لیے حجاب کے خصوصی احکام

― ڈاکٹر عبد الباری عتیقی

’’الشریعہ ‘‘کے اگست ۲۰۰۷ء کے شمارے میں جناب ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی کا مضمون ’’امہات المومنینؓ کے لیے حجاب کے خصوصی احکام ‘‘اورستمبر ۲۰۰۷ء کے شمارے میں اس مضمون پر محمد رفیق چودھری صاحب کی تنقید بعنوان ’’امہات المومنین اورآیت حجاب کاحکم ‘‘نظر سے گزرے۔اس سلسلے میں سورۃ احزاب کی آیت ۳۳کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش خدمت ہیں ،اس آیت کا ترجمہ حسب ذیل ہے: ’’اوراپنے گھروں میں ٹک کر رہو،دورجاہلیت کی عورتوں کی طرح اپنی زینت کی نمائش کرتی نہ پھرو،نماز قائم کرو، زکوٰۃ اداکرو ،اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو،اللہ چاہتاہے یہ کہ تم اہل بیت...

مکاتیب

― ادارہ

بسم اللہ۔ لندن۔ ۹ نومبر ۲۰۰۷۔ محترم مولانا راشدی صاحب زید لطفہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ نومبر کا الشریعہ ابھی ملا ہے۔ کل میں وطن کے لیے نکلنے کا ارادہ کیے ہوں۔ ایسے میں کچھ لکھنے لکھانا تو مولانامحمد علی جوہر جیسے خدا مستوں ہی کا کام تھا(رحمۃ اللہ علیہ)، مگر ایک ایسا مراسلہ آپ نے اس شمارے میں مجھ سے متعلق دے دیا ہے کہ سب کام چھوڑ کے چندسطریں اس پر ضروری معلوم ہوئیں۔ مجھے از حد افسوس ہے کہ لال مسجد پر میرا مضمون محترم مراسلہ نگار کے لیے دلی صدمے کاباعث بنا۔ اللہ کی پناہ میں اس بات سے چاہتا ہوں کہ میری کسی بات سے کسی بندۂ مؤمن کی دل آزاری ہو۔...

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام علمی و فکری نشستیں

― ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم کے راہ نما اور آسٹریلیا میں گولڈ کوسٹ اسلامک سنٹر کے خطیب مولانا سید اسد اللہ طارق گیلانی نے کہا ہے کہ مغرب کے ساتھ تہذیبی جنگ اور فکری کشمکش میں مسلمانوں کے جو تعلیمی اور فکری ادارے کام کر رہے ہیں، ان کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی اور بالآخر وہ اپنے مشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔ وہ گزشتہ شام الشریعہ اکامی ہاشمی کالونی گوجرانوالہ میں ایک نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مغرب کے دانش ور اور حکمران اس بات کو خود تسلیم کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نظریاتی، فکری اور تہذیبی جنگ میں مصروف ہیں، مگر ہمارے بہت سے مسلمان حکمران...

مغربی بنگال کے دینی مدارس اور غیر مسلم طلبہ

― ادارہ

کلکتہ۔ حالیہ سالوں میں بھارت میں مذہبی مدارس کو عام طور پر شک وشبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ طلبہ کو فرسودہ مذہبی تعلیم دیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان مذہبی اداروں میں دہشت گردی کے نظریہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ تاہم ان تمام الزامات کے باوجود مغربی بنگال کے مدارس نہ صرف ترقی کر رہے ہیں بلکہ ان میں تعلیم پانے والے ہندو طلبہ اور طالبات کی تعداد بھی دن بدن بڑھ...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter