مکاتیب

ادارہ

بسم اللہ

لندن۔ ۹ نومبر ۲۰۰۷

محترم مولانا راشدی صاحب زید لطفہٗ السلام علیکم ورحمۃ اللہ، 

نومبر کا الشریعہ ابھی ملا ہے۔ کل میں وطن کے لیے نکلنے کا ارادہ کیے ہوں۔ ایسے میں کچھ لکھنے لکھانا تو مولانامحمد علی جوہر جیسے خدا مستوں ہی کا کام تھا(رحمۃ اللہ علیہ)، مگر ایک ایسا مراسلہ آپ نے اس شمارے میں مجھ سے متعلق دے دیا ہے کہ سب کام چھوڑ کے چندسطریں اس پر ضروری معلوم ہوئیں۔ 

مجھے از حد افسوس ہے کہ لال مسجد پر میرا مضمون محترم مراسلہ نگار کے لیے دلی صدمے کاباعث بنا۔ اللہ کی پناہ میں اس بات سے چاہتا ہوں کہ میری کسی بات سے کسی بندۂ مؤمن کی دل آزاری ہو۔ اس لیے میں موصوف سے اور ایسے ان تمام لوگوں سے معافی چاہوں گا جنھیں اس مضمون سے تکلیف پہنچی ہو، یہ الگ بات ہے کہ مضمون کے بارے میں میں مراسلہ نگارسے اتفاق نہیں کر سکتا۔ معذرت خواہی کے ساتھ ساتھ مجھے مراسلہ کے اس پہلو کی داد بھی دینی ہے کہ ایسی دل آزاری کے شکوے کے باوجود کوئی سخت لفظ اس کے اظہار و بیان میں نہیں ہے۔ ابھی گزشتہ شمارے میں ایک مراسلہ قاضی محمد رویس خاں ایوبی صاحب کا نکلا تھا، اس کاخیال کرتا ہوں تو جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد کے محترم مولانا محمد اصغر کے اس ظرف اور ضبطِ نفس کی داد کے لیے الفاظ سوچنے کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ اللہ کرے ان کا یہ طرز و نمونہ ہمارے یہاں عام ہو۔

مراسلے میں متعین طور پر میری ایک غلطی پر گرفت بھی ہے، کہ عبدالرشید غازی صاحب سے مذاکرات کے ڈرافٹ کا حوالہ دیتے ہوئے میں نے ایک صحافی کی بات کوعلما کے بیان پر ترجیح دے لی اور ’’گھر میں رکھاجائے گا‘‘ والے نکتے کو’’ ان کے گھر میں رکھا جائے گا‘‘ بتا دیا۔ اس میں اتنی بات توصحیح ہے کہ میرے مضمون میں ’’گھر‘‘ کے بجائے ’’ان کے گھر‘‘ کے الفاظ ہیں، مگر یہ صحافی کے الفاظ نہیں تھے۔ صحافی نے مفتی رفیع صاحب کے حوالے سے صرف ’’گھر‘‘ ہی لکھا تھا۔ یہ میرے فہم کی غلطی تھی کہ میں نے ’’گھر‘‘ کو غازی صاحب کا اپنا گھر سمجھ لیا، اور اس غلطی پر مجھے تنبّہ اس وقت ہوا جب بعد میں مفتی صاحب کاتفصیلی مضمون اس قصہ پر آیا۔ الغرض واقعہ یہ نہیں تھا کہ میں نے علما کے بیان پر کسی دوسرے کے بیان کو ترجیح دے دی تھی۔ 

والسلام 

عتیق الرحمن سنبھلی 

حالات و واقعات

Since 1st December 2020

Flag Counter