اسلام اور دولت کی گردش

مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ

فرمایا: اللہ نے تقسیم مال کا یہ حکم اس لیے دیا ہے ’کی لایکون دولۃ بین الاغنیاء منکم‘، تاکہ یہ دولت تمہارے آسودہ حال لوگوں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ اس کی گردش معاشرے کے انتہائی طبقے تک ہونی چاہیے۔ ’دولۃ‘ کے لفظ سے یہ اصول بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ اسلامی نظام معیشت میں کسی خاص طبقہ میں ارتکاز دولت ہر گز پسندیدہ نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام (concentration of weath) کو کبھی پسند نہیں کرتا۔ وجہ ظاہر ہے کہ جب دولت کا دوران صرف ایک طبقہ تک محدود ہو جاتا ہے اورباقی طبقات محروم ہو جاتے ہیں توپھر اس کے نتیجے میں امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہو جاتے ہیں۔ جب کبھی ملک میں اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں توپھر وہاں کمیونز م اور سوشلزم کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام بھی ملعون ہے، مگر سوشلزم اس سے بھی قبیح ہے۔ مطلق العنان ملوکیت بھی اسی قبیل سے ہے۔ کسی ملک کا بادشاہ یا ڈکٹیٹر اپنے آپ کوغیر مسؤل سمجھتاہے اوران کے ہاں آمد وخرچ کا حساب کوئی نہیں پوچھ سکتا۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام میں شخصی ملکیت کی اجازت ہے، مگر یہ ملکیت عارضی اور بطورامانت ہوتی ہے۔ اللہ جس کو دولت دیتاہے، اس کو آمد وخرچ کے قوانین کا بھی پابند بناتا ہے۔

ارتکازِ زر کی ممانعت 

جس مالک الملک نے انسانوں کو ارتکازِ زر کی اجازت نہیں دی، اس نے اپنے براہ راست قبضہ قدرت کی چیزوں کو اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ کوئی ادنیٰ واعلیٰ ان سے محروم نہیں رہتا، مثلاً ہوا، فضا ، سورج ، چاند، ستارے، بارش، دریا، سمندر وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو اس نے مخلوق میں کسی کے قبضے میں نہیں دیا۔ تمام انسان، جانور، پرندے اورکیڑے مکوڑے ان چیزوں سے براہ راست مستفید ہوتے ہیں۔ سانس لینے کے لیے ہوا کی ہر جاندار کو ضرورت ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کی روشنی سب کی ضرورت ہے، پانی بھی تمام جانداروں کی بنیادی ضرورت ہے، لہٰذا اللہ نے یہ چیزیں ہر ایک کے لیے فری مہیا کی ہیں۔ اسی طرح دولت بھی چند ہاتھوں میں محدود ہو کر نہیں رہنی چاہیے۔ جب تک دولت کا دوران (circulation) صحیح طریقے سے ہوتا رہے گاتو دنیا میں توازن قائم رہے گا، ورنہ یا تو نظام سرمایہ داری آ جائے گا یا پھر رد عمل کے طور پر سوشلزم آئے گا، حالانکہ یہ دونوں نظام ملعو ن ہیں۔

شخصی ملکیت کا احترام 

ایک طرف سرمایہ دارانہ نظام ہر شخص کو دولت کمانے اور خرچ کرنے کی کھلی چھٹی دیتا ہے جس سے ارتکازِ زر پیدا ہوتا ہے تو دوسری طر ف سوشلزم شخصی ملکیت کابالکل ہی انکار کر دیتا ہے۔ اسلام کا نظام معیشت ان دونوں کے درمیان اعتدال کے ساتھ چلتاہے۔ اسلام کسی شخص کی ذاتی ملکیت کا اسی طرح احترام کرتا ہے جس طرح کسی کی جان کا احترام کرتا ہے۔ اسلام اگرقاتل کا سر قلم کر دیتا ہے تو مال چوری کرنے والے کا بھی ہاتھ کاٹ پھینکتاہے۔ ’لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفسہ‘، کسی مسلما ن کا مال دوسرے کے لیے حلال نہیں جب تک مالک اپنی مرضی سے کسی کو نہ دے۔ غرضیکہ مال کی شخصی ملکیت بھی انسا نی جان کی طرح محترم ہے۔ البتہ اسلام نے اکتسابِ زر پر ضرور پابندی عائد کی ہے تاکہ نہ کوئی مضر پیشہ اختیار کیا جائے اورنہ چوری، ڈکیتی، رشوت، قمار بازی، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے ذریعے مال حاصل کیا جائے۔ مخرب اخلاق کاروبار جیسے فوٹو گرافی، فلم سازی، موسیقی، سٹہ بازی کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔مطلب یہ کہ صرف حلال ذرائع سے ہی دولت کمانے کی اجازت ہے۔

اگراسلام نے جائز ذرائع سے دولت کما نے کی اجازت دی ہے توساتھ ساتھ ایسے مال کے حقوق ادا کرنے کا بھی پابند بنایا ہے۔ اگر مال نصاب کو پہنچ گیا ہے تو اس کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ دو، صدقہ فطر ادا کرو، قربانی دو، حج اور عمرہ کے لیے خرچ کرو، غربا ومساکین کو صدقہ خیرات دو۔ اگریہ حقوق اداکیے جائیں تو ارتکازِ زر کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مال خرچ کرنے سے دوفوائد حاصل ہوتے ہیں۔ ایک طرف مستحقین کی حاجت برآری ہوتی ہے اوردوسری طرف خرچ کرنے والے سے بخل کا مادہ دور ہو کر اس میں اخلاق حسنہ پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ نے تقسیم مال کی ایک اور صورت بھی لازمی قرار دی ہے اور وہ ہے وراثت کی تقسیم۔ مال دارآدمی کے مرنے کے بعد جائیداد میں سے پہلے قریبی رشتہ داروں کو حصہ ملتاہے اوراگر وہ موجود نہ ہوں تو دور کے رشتہ دار حصہ داربن جاتے ہیں۔ اسلا م نے یہ تما م طریقے ارتکاز دولت کو روکنے کے لیے رکھے ہیں۔ الغرض اسلام کا نظام معیشت ہی بہترین نظا م ہے جو ارتکاز کو روک کر مال کو زیادہ سے زیادہ پھیلنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

(معالم العرفان فی دروس القرآن، سورۃ الحشر ۵۹: ۷)

دین اور معاشرہ

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸