مکاتیب

ادارہ

(۱)

لندن ۲۴ جون ۲۰۰۷ء

بخدمت محترم مولانا راشدی زید مجدہم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ،

مولانائے محترم، آج کے جنگ میں محترم مفتی محمد رفیع صاحب کا فتویٰ رشدی ملعون کے بارے میں جیو ٹی وی کے پروگرام ’’عالم آن لائن‘‘ کے حوالے سے چھپا ہے جو ہر مسلمان کو نہ صرف اس کے قتل کا اختیار دیتا ہے بلکہ اس کے اجر میں جنت کی بشارت کے ذریعہ ترغیب بھی۔ مفتی صاحب میرے علم کی حد تک کسی سیاسی محاذ سے وابستہ نہیں ہیں اس لیے ان کی بات کو سنجیدگی سے لینا پڑتا ہے۔ (ورنہ آج کل آپ کے یہاں کی تمام مذہبی بولیوں میں سیاست درآئی نظر آتی ہے اور اس لیے وہ سنجیدگی سے لیے جانے کی مستحق نہیں رہ جاتیں) محترم مفتی صاحب کے اس فتوے کے سلسلہ میں، جو بلاقیدِ زمان و مکان ہے، یعنی ساکنانِ برطانیہ بھی اس کے دائرۂ نفوذ میں آجاتے ہیں، مجھے یہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے کہ برطانیہ میں اگر کوئی مجھ سے اس فتوے کے حوالہ سے مسئلہ پوچھتا ہے اور میں کمزوری یا خود رائی سے اس کی تائید میں جواب نہ دے سکوں تو میرا کیا حکم ہے؟ 

میرے پاس حضرت مفتی صاحب کا ای میل یا فون وغیرہ نہیں ہے۔ اس لیے آپ کو تکلیف دے رہا ہوں کہ براہِ کرم میرے لیے اس نہایت اہم اور عجلت طلب معاملہ میں مفتی صاحب سے جواب حاصل کرکے جلد از جلد بھجوانے کی کوشش سے ممنون فرمائیں۔ آپ کے رابطہ پر مفتی صاحب مجھے براہِ راست بھی جواب دے سکتے ہیں۔ الغرض عجلت کا طالب ہوں، آپ سے بھی اور حضرت مفتی صاحب سے بھی۔ والسلام

(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی 

(۲)

دار الافتاء، دار العلوم کراچی کی طرف سے جواب 

الجواب حامداً ومصلیاً

سائل جو کہ عالم دین ہیں اور غیر مسلم ملک میں رہتے ہیں، اگر وہ سلمان رشدی کے قضیہ میں فتویٰ دینے سے جان کا خطرہ محسوس کرے ہیں، یا ناقابل برداشت مضرت کا خطرہ محسوس کرتے ہیں، یا سائل مذکورہ قضیہ میں کوئی اختلاف رائے رکھتے ہیں، اور وہ رائے قرآن وحدیث کی صریح وصحیح نصوص کے خلاف نہ ہو تو اس صورت میں سائل کے لیے مذکورہ قضیہ میں سکوت اختیار کرنے کی گنجایش ہے۔

قال النووی فی شرح مسلم: ثم ان الامر بالمعروف والنہی عن المنکر فرض کفایۃ اذا قام بہ بعض الناس سقط الحرج عن الباقین واذا ترکہ الجمیع اثم کل من تمکن منہ بلا عذر ولا خوف الخ (عون المعبود ۱۱/۳۳۰)
وفی المرقاۃ للملا علی قاری: وشرطہما (الامر بالمعروف والنہی عن المنکر) ان لا یودی الی الفتنۃ کما علم من الحدیث (۸/۸۶۲)
وفی التعلیق الصبیح للشیخ مولانا محمد ادریس الکاندھلوی: فان لم یستطع ذلک بلسانہ لوجود مانع کخوف فتنۃ او خوف علی نفس او عضو او مال بقلبہ الخ (۵/۳۱۳)
فی التلویح علی التوضیح فی بحث الرخصۃ والعزیمۃ: کما فی الامر بالمعروف فانہ فرض بالدلائل الدالۃ علیہ فیکون ترکہ حراما ویستباح لہ الترک اذا خاف علی نفسہ (۲/۶۸۹)
وفی نور الانوار: وترک الخائف علی نفسہ الامر بالمعروف عطف علی المکرہ ای اذا ترک الخائف علی نفسہ الامر بالمعروف للسلطان الجائز جاز لہ ذلک الخ (۱۷۰)
وفی الحاشیۃ علیہ: ای بشرط ان یکون کارہا لذلک بقلبہ
وفی شرح القواعد الفقہیۃ: وتجویز السکوت علی المنکر اذا کان یترتب علی انکارہ ضرر عظیم کما تجوز طاعۃ الامیر الجائر اذا کان یترتب علی الخروج علیہ شر اعظم (بتقدیم الشیخ عبد الفتاح ابو غدۃ رحمہ اللہ ص ۱۴۷)
کذا فی المقالات الفقہیۃ للشیخ المفتی محمد رفیع العثمانی حفظہ اللہ تعالیٰ ص ۳۱۱) واللہ تعالیٰ اعلم

(۳)

لندن ۱۱؍جولائی ۲۰۰۷

مولانائے محترم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ

آج تازہ الشریعہ کا کلمۂ حق پڑھا۔ بالکل حق ہے۔ ضرورکچھ ہونا چاہیے،لیکن جن دانشوروں سے آپ کا خطاب ہے، میں نہیں جانتا انھیں کوئی دلچسپی آپ کے انکارِ مُنکَر کے تصور سے ہوگی۔ مگر آپ نے بات اُٹھائی ہے تو عمل درآمدکی کوئی راہ ضرور سوچیں اور قدم اُٹھائیں۔ شریعہ کاؤنسل کے حوالہ سے بھی یہ آپ کے کرنے کا کام بنتاہے۔ میرے ذہن میں ایک بات آئی ہے ،شاید قابلِ غور ہو۔ اور سوچتاہوں کاش یہ بات لال مسجد برادران کا قضیہ علم میں آنے پر ذہن میں آگئی ہوتی تو آپ سے عرض کرتا کہ ان کو اس راہِ عمل کی طرف متوجہ کیجیے۔ یہ راہِ ہے پکیٹنگ(Picketing) کی راہ، جو بالکل اس انداز پر ہو جیسے ہندوستان میں کبھی کانگریس کے والینٹیر شراب کی دوکانوں اور شراب خانوں وغیرہ پر اس سوچ کے ماتحت کرتے تھے کہ اس سے گھر برباد ہوتے ہیں۔ یہ پکیٹنگ مناسب وعظ و تذکیر کے ساتھ ہو، سو فی صد پرامن ہو، منظم ہو، جن جگھوں پر کی جائے، وہاں تشدد کا سامنا ہو تو ادنیٰ جوابی تشدد کے بغیر اُسے سہا جائے، گورنمنٹ کو اعتراض ہو تو بلا مزاحمت گرفتاری قبول کی جائے۔ موجودہ حالات میں کہ گورنمنٹ کو کوئی دلچسپی فواحش و منکرات کے روکنے سے نہیں ہے، معاشرہ کے اہلِ حس کی طرف سے کچھ کرنے کی یہی راہ شاید ہو سکتی ہے ۔مگر بڑی مختلف الجہات منصوبہ بندی کرنا پڑے گی، تب کہیں کوئی مؤثر صورت ابھر نے کی امید کی جاسکے گی۔ 

افسوس، لال مسجد کا قضیہ ایسی بری شکل میں تمام ہوا کہ کسی نے بھی غالباً نہ سوچاہو۔ اناّللہ و انّا الیہ راجعون۔ اور اس کے نتیجے میں مدارس کے حق میں بنائی گئی مخالف و معاند فضا کو کس قدر تقویت مل سکتی ہے؟ اسے تو آپ حضرات ہی بہتر سمجھ سکتے ہیں۔ کاش برادران نے یہ دیکھنے کے بعدکہ ان کے خلاف اقدام کی گھڑی سامنے آکر کھڑی ہو چکی ہے، مدارس پر اثرات کے خیال سے نہ سہی، مسجد ہی کے تقدّس اور طالبات و طلبا کی حفاظت ہی کے خیال سے گرفتاری دے دینے کو حصولِ شہادت کے مساوی سمجھ لیا ہوتا۔ بلکہ اس اقدام میں جو پاکستانی فوجی استعمال ہونے جارہے تھے، جو سب کے سب مسلمان تھے، اور کسی کے بھی متعلق غالباً نہ کہا جاسکتا ہو کہ وہ علما یا مدارس مخالف ذہن کا تھا، میں تو سمجھتاہوں ان کا بھی حق تھا کہ اس سنگین آزمائش سے انھیں بچانے کی خاطر اور ان کی جانیں بچانے کی خاطر ہی ترکِ مزاحمت کو ترجیح دے دی جاتی۔ (افسران کے بارے میں بدگمانی کی گنجائش ہو تو ہو لیکن جو محض سپاہی ہیں، ان کا معاملہ تو جدا ہے) کیسے افسوس کی بات ہے کہ ان میں سے دس بارہ کی جانیں بھی اس قضیے کی نذر ہوئیں جبکہ وہ ہرگزفریق نہ تھے۔ افسوس ہم لوگوں کی قسمت میں ’’اے کاش کہ، اے کاش کہ‘‘ ہی رہ گیا ہے۔ 

مجھے نہیں معلوم آپ حضرات ان فوجیوں کے مارے جانے کو بھی کوئی اہمیت دے رہے ہیں،مگر میرے نزدیک یہ آپ کے اورفوج کے درمیان ایک ایسا بَل ڈال دینے والا واقعہ ہے جس کی طرف سے فکر کی جانی چاہیے۔ جس دن کرنل ہارون الاسلام کے مسجد کی فائرنگ سے مار ے جانے کی خبر سنی، دل نے کہا تھا اب اللہ خیر ہی کرے۔ اور پھر تو ایک کی جگہ دس ہوگئے۔ اللہ ان سب کی مغفرت کرے اور اس کے برے اثرات سے اپنے دین کے خادموں کی حفاظت فرمائے۔ آپ شاید محسوس کریں کہ حکومت کے بارے میں ایک لفظ میں نے اس قصہ میں نہیں لکھا، تو مولانا اُس کے بارے میں کس امید پر لکھوں؟ آپ حضرات جو کہانی آخری رات میں اپنی کوششوں اور پراسرار ناکامی کی سنا رہے ہیں، اس کے بعد کسی کہنے سننے سے حکومت پر اثر کی کوئی کیا توقع کرسکتا ہے؟ اور کسی فائدہ و اثر کی توقع کے بغیر کہنا سننا ایک فعلِ عبث ۔ہاں آپ حضرات اہلِ پاکستان کی بات دوسری ہو سکتی ہے۔

اچھا مولانا مجھے اپنے استفتا کا جواب مل گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ کو بھی بھیجا گیا ہے، کہ آپ نے بھی کاپی کی فرمائش کی تھی۔ مگر شاید میری کم فہمی کا نتیجہ ہو کہ جواب اور اس کی دلیل میں مجھے کوئی تعلق،ما نحن فیہ کو دیکھتے ہوئے، نظر نہ آیا۔ آپ کی نظر میں تعلق ہو تو براہ کرم مجھے ضرور بتائیں۔ بالکل تکلف نہ فرمائیں۔ والسلام 

(مولانا) عتیق الرحمن سنبھلی 

(۴)

محترم جناب مدیر الشریعہ 

السلا م علیکم !امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔

میں مدیر ’اشراق‘جناب سید منظور الحسن صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے غامدی صاحب پر میری تنقید کے تعاقب میں بحث کو آگے بڑھایا ہے ۔میں نے اپنے اصل مضمون میں یہ لکھا تھا کہ غامدی صاحب کے بنیادی مصادر شریعت چار ہیں جو کہ درج ذیل ہیں:

۱) دین فطرت کے بنیادی حقائق، ۲) سنت ابراہیمی، ۳) نبیوں کے صحائف، ۴) قرآن۔

جناب سید منظور الحسن صاحب نے میرے مضمون پر تعاقب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ’ ’فطرت‘ ‘ غامدی صاحب کے نزدیک کوئی مستقل ماخذ دین نہیں ہے۔جناب منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں:

’’غامدی صاحب نے ’’اصول مبادی ‘‘ میں فطرت کا ذکر قرآن مجید کی دعوت کو سمجھنے میں معاون ایک ذریعے کے طور پر تو کیاہے‘لیکن کہیں بھی اسے مستقل بالذات ماخذ دین کے طور پر پیش نہیں کیا۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ‘جولائی ۲۰۰۷‘ص۳۸)

اس بیان سے پہلے سید منظور الحسن صاحب کا دعوی تھا کہ غامدی صاحب نے ’اصول و مبادی‘ میں ’فطرت کے حقائق ‘ کو ایک مستقل ماخذ دین کے طور پر بیان کیا ہے ۔جناب سید منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں:

’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔(ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)

۱) پہلی بات تو یہ ہے کہ سید منظور الحسن صاحب مجھ پر کج فہمی کا الزام لگا رہے ہیں حالانکہ دیکھا جائے تو غامدی صاحب کے حوالے سے میں نے وہی بات بیان کی ہے جو کہ منظور الحسن صاحب نے بھی لکھی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں ۔جب میں ’فطرت کے حقائق ‘ کو غامدی صاحب کا مأخذ دین لکھوں تو مجھے منظور الحسن صاحب کج فہم کہتے ہیں لیکن میں سید منظور الحسن صاحب یہ استفسار کرنے میں حق بجانب ہوں کہ ان کا اپنے اس فہم کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جس میں انہوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں؟

۲) دوسری بات یہ ہے کہ سید منظور الحسن صاحب کی مذکورہ بالا عبارت کہ جس میں انہوں نے غامدی صاحب کے مآخذ دین چار بتلائے ہیں‘قطعی الثبوت اور قطعی الدلالت ہے ۔قطعی الثبوت تو اس لیے کہ منظور الحسن صاحب کی یہ عبار ت‘ غامدی صاحب کے ماہنامہ اشراق میں کہ جس کے وہ خود مدیر بھی ہیں‘ ان کے ذاتی نام سے شائع ہوئی ہے۔اور قطعی الدلالت اس لیے کہ اس عبارت کا ایک ایک لفظ اپنے مفہوم کو بغیر کسی اشتباہ کے واضح کر رہا ہے۔منظور الحسن صاحب کی عبارت یہ ہے :

’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں‘‘۔ (ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)

اگر کسی اردو جاننے والے سے اس عبارت کا مفہوم پوچھا جائے تو وہ یہی بتائے گا کہ ’مصادر ‘ کا معنی ’مصادر ‘ ہے۔ ’قرآن‘ سے مراد’ قرآن ‘ہے۔’فطرت ‘ سے مراد ’فطرت‘ ہے ۔’سنت ابراہیمی ‘سے مراد ’سنت ابراہیمی‘ ہے۔’قدیم صحائف‘ سے مراد ’قدیم صحائف‘ہے‘لہذا منظور الحسن صاحب کی یہ عبارت اس مسئلے میں نص قطعی ہے کہ ان نزدیک غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں۔

۳) تیسری بات یہ ہے کہ جناب منظور الحسن صاحب نے اپنی اس عبارت کی نسبت جناب غامدی صاحب کی ہے۔ منظور الحسن صاحب لکھتے ہیں : 

’’ دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔(ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)

جناب منظور الحسن صاحب نے واضح لکھا ہے کہ غامدی صاحب کی’ میزان‘ کی عبارت کو کوئی صاحب صرف ان کا فلسفہ نہ سمجھے بلکہ یہ ان کے مصادر شریعت ہیں۔جبکہ اسی رسالے کے شروع میں کہ جس میں منظور الحسن صاحب کی مذکورہ بالا عبارت شائع ہوئی ‘یہ عبارت بھی موجود ہے:

’’یہ مضمون استاذ گرامی کے افادات پر مبنی ہے اور انھی کی رہنمائی میں تحریر کیا گیا ہے‘‘۔ (ماہنامہ اشراق:مارچ ۲۰۰۴‘ص۱۱)

ماہنامہ ’اشراق‘ کی یہ عبارتیں وضاحت کرتی ہیں کہ منظور الحسن صاحب نے یہ عبارت لکھتے وقت اپنے استاد محترم سے نہ صرف بذریعہ ’میزان‘ تحریری رہنمائی لی بلکہ قولی رہنمائی بھی لی۔

۴) چوتھی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ’۲۰۰۴ء‘میں منظورا لحسن صاحب کی یہ عبارت ’اشراق‘ میں شائع ہوئی کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں اور ان میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے لیکن ابھی تک جناب غامدی صاحب کی طرف سے کوئی ا یسی تردید نہیںآئی کہ جس میں انہوں نے یہ لکھا ہو کہ میرے شاگرد رشید نے جومیرے چار مآخذ دین گنوائے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا شاگرد رشیدمیری کتاب ’میزان‘ کی عبار ت کو سمجھ نہیں سکا اور اس کوسمجھنے میں وہ کج فہمی کا شکار ہوا ہے۔

۵) پانچویں بات یہ کہ جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی اس عبارت کا مفہوم اپنے استاد محترم کے درج ذیل اصول کی روشنی میں اگر متعین کریں تو نہ وہ خود کج فہم رہیں گے اور نہ مجھ پر کج فہمی کاالزام عائد کر سکیں گے۔ جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں:

’’ہم جو کچھ بولتے اور لکھتے ہیں ‘اس اعتماد کے ساتھ بولتے اور لکھتے ہیں کہ دوسرے اس سے وہی کچھ سمجھیں گے جو ہم کہنا چاہتے ہیں،دنیا میں ہر روز جو دستاویزات لکھی جاتی ہیں ‘جو فیصلے سنائے جاتے ہیں‘جو احکام جاری کیے جاتے ہیں ‘جو اطلاعات بہم پہنچائی جاتی ہیں اور جن علوم کا ابلاغ کیا جاتا ہے‘ان کے بارے میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال اگر پیدا ہوجائے کہ ان ا لفاظ کی دلالت اپنے مفہوم پر قطعی نہیں ہے تو ان میں سے ہر چیز بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گی۔ چناچہ یہ نقطہ نظر نری سو فسطائیت ہے جس کے لیے علم کی دنیا میں ہر گز کوئی گنجائش پیدا نہیں کی جا سکتی‘‘۔(میزان:ص۳۳)

غامدی صاحب کے اس اصول کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے جناب منظور الحسن صاحب کی یہ عبارت:

’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔ اس موضوع پر مفصل بحث استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کی تالیف ’’میزان‘‘کے صفحہ۴۷پر ’’دین کی آخری کتاب ‘‘کے زیر عنوان ملاحظہ کی جاسکتی ہے ‘‘۔

اس مسئلے میں نص قطعی ہے کہ غامدی صاحب کے مآخذ دین چار ہیں کہ جن میں سے ایک ’فطرت‘ بھی ہے۔

۶) جہاں تک آیت مبارکہ ’یحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث‘ میں ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘کی تعیین کا مسئلہ ہے کہ ان کی تعیین کسی طرح ہو گی ؟ اس کو ان شاء اللہ غامدی صاحب کے ہی اصول و مبادی میں موجود مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں ایک مستقل مضمون میں واضح کروں گا۔اصحاب المورد کا مسئلہ یہ ہے کہ جب چاہتے کسی مسئلے میں امت کی اتفاقی رائے کو نظر انداز کر کے اہل سنت کے بالمقابل ایکمنفرد رائے قائم کر لیتے ہیں اور جب چاہتے ہیں فقہا کی شاذ آرا کو اپنے موقف کی تائید کے لیے بطور ڈھال استعمال کر لیتے ہیں۔جن فقہا کے جناب منظور الحسن صاحب نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیر کرتے وقت حوالے دیے ہیں اگر ان فقہا کا فہم ان کے نزدیک حجت ہے تو مسئلہ رجم‘حضر ت عیسیٰ بن مریمؑ کی آمد ثانی‘عورت کے دوپٹے‘مجسمہ سازی‘ مرتد کی سزا اور قرا ء ات قرآنیہ کے بارے میں ان فقہاء کے فہم پر یہ لوگ اعتماد کیوں نہیں کرتے؟جہاں تک دلیل کی بات ہے تو جناب منظور الحسن صاحب نے کوئی ایسی بات بیان نہیں کی کہ جس یہ ثابت ہوتا ہو کہ ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی تفسیرمیں انہوں نے جن فقہا کی آرا بیان کی ہیں، ان کے دلائل یہ ہے۔ میں ان شاء اللہ واضح کروں گا کہغامدی صاحب کی فکر اور ان فقہا کی آرا میں کیا فرق ہے کہ جن کے حوالے جناب منظور الحسن صاحب نے بیان کیے ہیں اور یہ بھی ثابت کروں گا کہ آپ نے ’الطیبات‘ اور ’الخبائث‘ کی جو تفسیر فقہا کے اقوال کی روشنی میں بیان کی ہے، وہ تفسیر اس تفسیرسے بالکل مختلف ہے جو کہ آپ کے مبادی تدبر قرآن کی روشنی میں سامنے آتی ہے۔ 

۷) آخر میں ‘ میں جناب منظور الحسن صاحب سے گزارش کروں گا کہ اگر آپ واقعتااس بحث کو کسی نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں تو اس ادھر ادھر کی تأویلات میں پڑکر بحث کو طویل کرنے ا ور الجھانے کی بجائے درج ذیل تین آپشنز پر غور کریں:

الف) اگر تو غامدی صاحب ’الشریعہ‘ کے کسی شمارے میںیہ لکھ دیں کہ ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں جناب منظور الحسن صاحب نے میری نسبت سے جو چار مصادر دین بیان کیے ہیں‘اس میں وہ غلط فہمی کا شکار ہیں اور میں ان کی اس عبارت سے متفق نہیں ہوں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔

ب) یاجناب سیدمنظورا لحسن صاحب خود یہ لکھ دیں کہ میری ماہنامہ’اشراق‘ مارچ۲۰۰۴ء میں شائع شدہ عبارتمنسوخ ہے‘ پہلے میرا خیال یہ تھا کہ غامدی صاحب کے مصادر دین چار ہیں لیکن اب مجھ پرواضح ہوا ہے کہ’فطرت‘ ان کے مصادر دین میں سے نہیں ہے۔ 

ج) یا سید منظور الحسن صاحب مجھے کم از کم غامدی صاحب کے بارے میں اتنالکھنے کی اجازت دیں جتنا کہ خود انہوں نے لکھا ہے اور وہ یہ ہے کہ 

’’دین کے مصادر قرآن کے علاوہ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت اور قدیم صحائف بھی ہیں۔‘‘

اور چوتھی اور آخری صورت وہ ہے کہ جو جناب منظور الحسن صاحب عملا کر رہے ہیں کہ اس بحث کوا تنا طویل کر دو اور الجھا دو کہ قارئین کے ذہن منتشر ہو جائیں اور اصل نکتے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔ اللہ تعالی ہم سب کی حق بات کی طرف رہنمائی فرمائے۔آمین

حافظ محمد زبیر 

ریسرچ ایسوسی ایٹ ‘قرآن اکیڈمی ‘لاہور

hmzubair2000@yahoo.com

(۵)

مکرمی مولوی محمد طارق صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ! امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

۱۷؍ مئی کو آپ نے جناب جاوید احمد غامدی کے نام جو خط لکھا، اس کی کاپی آپ کی طرف سے ای میل کے ذریعے سے مجھے بھی بھیجی گئی تھی۔ اس خط میں برادرم شبیر احمد میواتی صاحب کے حوالے سے میری طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ میں نے بذات خود غامدی صاحب سے ’’غامدی‘‘ نسبت کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواباً فرمایا کہ ’’مجھے اصلاحی نام بہت اچھا لگتا تھا اور میں امین احسن کے تتبع میں اسے اپنے نام کا حصہ بنانا چاہتا تھا لیکن مدرسۃ الاصلاح سے فارغ التحصیل نہ تھا اس لیے اس نام کو استعمال کرنے کا مجاز نہ تھا۔ لہٰذا اصلاحی کے مترادف کے طور پر میں نے غامدی لفظ کو اپنے نام کا حصہ بنا لیا‘‘، جبکہ یہ بات میں نے شبیر میواتی صاحب کے سامنے غامدی صاحب کی نسبت سے نہیں بلکہ ایک عام اندازے اور قیاس کے طور پر ذکر کی تھی۔ میرا گمان تھا کہ شاید میواتی صاحب کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی اور انھوں نے آپ کے سامنے اس بات کا ذکر اس انداز میں کر دیا ہوگا جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں تحریر کیا ہے، لیکن کل وہ گوجرانوالہ تشریف لائے اور میں نے ان سے دریافت کیا تو انھوں نے قطعی طور پر اس بات کی تردید کی اور حلفاً کہا کہ انھوں نے میرے، غامدی صاحب سے براہ راست یہ بات دریافت کرنے اور ان کے جواب دینے کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مجھے ’’غامدی‘‘ نسبت کی تحقیق کرنے سے نہ کبھی دلچسپی رہی ہے اور نہ اس موضوع پر غامدی صاحب سے میری کوئی گفتگو ہی ہوئی ہے، اس لیے اس روایت کو متصل بنانے کے لیے ازراہ کرم کوئی اور سند وضع فرمائی جائے۔

جناب خالد جامعی اور ’ساحل‘ کے دیگر رفقا کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔

محمد عمار خان ناصر 

۹ جون ۲۰۰۷ 

مکاتیب

اگست ۲۰۰۷ء

جلد ۱۸ ۔ شمارہ ۸