تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’تاریخ ختم نبوت‘‘

تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں قادیان، پنجاب سے مرزا غلام احمد کی نبوت کا فتنہ پیدا ہوا تو علماء حق نے تحریر وتقریر کے ذریعے سے پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ کم وبیش پون صدی کی محنت کے بعد ۱۹۷۴ء میں آئینی سطح پر مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس جدوجہد میں یوں تو برصغیر کے طول وعرض میں علما اور اہل حق شریک رہے، لیکن علماء لدھیانہ کی خدمات اس ضمن میں خاص طور پر ناقابل فراموش ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس فتنہ کی نشان دہی کی۔ ۱۸۸۴ء میں جب مرزا صاحب نے ’’ براہین احمدیہ ‘‘ تحریر کی تو مولانا محمد عبد اللہ لدھیانوی اور مولانا عبد العزیز لدھیانوی نے اس کتاب میں مرزا صاحب کے فاسد عقائد کی نشان دہی کی اور دور اندیشی سے کا م لیتے ہوئے بر وقت بلکہ قبل از وقت ان کے خلاف کفر کا فتوی جاری کیا۔ بعض دوسرے علماء کرام نے مرزا قادیانی کے نظریات سے پوری طرح آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ابتداءً فتواے تکفیر سے گریز کیا لیکن بعد میں یہ حضرات بھی مرزا ئیوں کے کفر پر متفق ہو گئے۔ 

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ قادیانیوں کے خلاف کفر کا فتوی سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے دیا تھا۔ علماے لدھیانہ کے تاریخی کردار کی وضاحت کے لیے اسی خاندان کے چشم وچراغ جناب ابن انیس حبیب الرحمن صاحب نے ۱۹۹۷ء میں ایک کتاب ’’سب سے پہلا فتوی تکفیر علماء لدھیانہ نے دیا ‘‘تحریر کی جس میں فتواے تکفیر اور علماء لدھیانہ کی جدوجہد کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تاہم کچھ دوسرے لوگوں نے اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی اور مذکورہ کتاب کے جوا ب میں ڈاکٹر بہاؤ الدین صاحب نے ۲۰۰۱ میں ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ قادیانیوں کے خلاف سب سے پہلا فتوی غیر مقلد علما نے دیا تھا ۔زیر تبصرہ کتاب اسی کا جواب ہے جس میں مولف موصوف نے محققانہ انداز میں دلائل کے ساتھ بہاؤ الدین صاحب کے دعووں کا رد کیا ہے۔ کتاب کا اسلوب تحریر مناظرانہ ہے اور کہیں کہیں سخت کلامی بھی در آئی ہے جس سے گریز مناسب تھا ۔ تاہم تاریخی ریکارڈ کی درستی کے لیے یہ مجموعی طور پر ایک مفید کاوش ہے جس کے لیے مولف داد کے مستحق ہیں۔

بہترین ورق ،مضبوط جلد اور دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ ۴۸۴ صفحات کی یہ کتاب رئیس الاحرار اکادمی خالصہ کالج فیصل آباد نے شائع کیا ہے ۔قیمت درج نہیں ۔

(محمد شفیع خان عقیل)

’’خطبات شورش‘‘

شورش کاشمیری مرحوم کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ شعر وادب، تاریخ و صحافت ،مذہب و سیاست، اور تصنیف وتالیف کی دنیاؤں کے بھی شہسوار تھے، لیکن خطابت کے شعبے میں اللہ تعالی نے انہیں خصوصی مہارت عطاکر رکھی تھی ۔ شورش ایک وسیع المطالعہ خطیب تھے۔ منفرد اسلوب بیاں اور علمی وادبی لطائف ان کی خطابت کے نمایاں محاسن تھے۔ انھیں مشکل سے مشکل بات بھی فصاحت وبلاغت کے ساتھ بیان کرنے کی خداداد قدرت حاصل تھی۔ انہیں اپنی فکر اور رائے کی صحت پرکامل یقین تھا اور وہ اپنے کمال خطابت سے متضاد ومتخالف نظریات رکھنے والے سامعین کے ہجوم کو وحدت کے رشتے میں پرو کر انہیں فکروخیال کی کسی بھی مخصوص رو میں بہا لے جانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ موقع ومحل کی مناسبت سے خطیبانہ نکتے بیان کرنا اور الفاظ کے زیر وبم سے عوامی جذبات کو شعلوں میں تبدیل کر دینا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا اور ان کے شدید ترین مخالفین بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے۔

زیر نظر کتاب میں شیخ مجیب الر حمن بٹالوی صاحب نے شورش مرحوم کی بعض معرکہ آرا تقاریر کو بڑے سلیقے سے صفحہ قرطاس پر منتقل کیا ہے۔ یہ ایک محنت طلب کا م تھا جس سے موصوف عمدگی سے عہدہ برآ ہوئے ہیں۔ ان خطبات کے مطالعے سے آج کے قاری کو شورش کے انداز خطابت، مختلف النوع خیالات کو بیان کرنے کی صلاحیت اور مترادفات وتشیہات کے استعمال پر ان کی قدرت کا ایک حد تک اندازہ ہو سکے گا۔ 

کتاب دیدہ زیب ٹائٹل کے ساتھ اور عمدہ کاغذ پر طبع ہوئی ہے اور اسے احرارفاوندیشن پاکستان نے شائع کیا ہے ۔ 

(فضل حمید چترالی)

تعارف و تبصرہ

(جنوری ۲۰۰۶ء)

Flag Counter