ناقدین کی خدمت میں (۲)

حافظ محمد عثمان

(دسمبر ۲۰۰۵ کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کے مضمون ’’اسلام اور تجدد پسندی‘‘ کے جواب میں ہمیں ’المورد‘ کے ایسوسی ایٹ فیلو جناب طالب محسن اور ’دانش سرا‘ گکھڑ منڈی کے رفیق محمد عثمان صاحب کی طرف سے تحریریں موصول ہوئی ہیں۔ اس موضوع پر مزید بحث مباحثے کے لیے یہ صفحات حاضر ہیں۔ مدیر)


’الشریعہ‘ کے دسمبر کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلام اور تجدد پسندی‘ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں مغربی تہذیب کے حوالے سے تین رویوں کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے دوسرے رویے پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے :

’’دوسرے وہ حلقہ فکر جو فکری مرعوبیت کا شکار ہو گیا اور ا س نے مغربی تہذیب اور اس کے اصولوں کی ’بڑائی‘ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور وہ اس چیز کا علم بردار بن گیا کہ اپنے نظام فکر وعمل کو بدل کر اسے اس نئی اور غالب تہذیب سے ہم آہنگ کر دے۔‘‘

اس دوسرے نقطہ نظر کے حاملین میں ڈاکٹر صاحب نے جاوید احمد غامدی صاحب کو بھی شامل کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے نزدیک غامدی صاحب مغربی تہذیب سے مرعوب ہیں اور مغربی تہذیب کے فکری چولے کو اسلام پر فٹ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اگر اس دعوے کے حق میں کچھ دلائل وشواہد پیش کر دیتے تو قارئین بھی بہتر طور پر ان کے دعوے کا تجزیہ کر پاتے اور ڈاکٹر صاحب سے اختلاف رکھنے والوں کو بھی دلائل کی بنیاد پر بات کرنے میں آسانی ہوتی، لیکن افسوس ہے کہ انھوں نے سارا مضمون ایک جذباتی اور تاثراتی کیفیت میں لکھا ہے اور اس میں استدلال نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ میرا گزشتہ کئی سالوں سے غامدی صاحب سے تعلق ہے، ان کی کم وبیش تمام تحریریں میں نے پڑھ رکھی ہے، اور ان کی فکر کے امتیازی خط وخال سے بھی میں آگاہ ہوں۔ غامدی صاحب دین وشریعت کی تعبیر وتشریح میں رائج علمی آرا سے تو بے شک بہت سے اختلافات رکھتے ہیں، لیکن ان کے زاویہ نگاہ میں مغرب سے مرعوبیت یا مغرب پرستی کا کوئی شائبہ بھی میں نے کبھی محسوس نہیں کیا۔ اس کے برعکس جب میں فکر وفلسفہ اور تہذیب وثقافت کی سطح پر مغرب کے پیدا کردہ چیلنج اور پھر ان کے حوالے سے غامدی صاحب کی آرا وافکار کا جائزہ لیتا ہوں تو وہ اسلامی شریعت اور اسلام کی تہذیبی اقدار کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے بالکل یکسو دکھائی دیتے ہیں۔ مغربی فکر، نظام حیات کے کسی بھی دائرے میں، خواہ وہ سیاست ہو یا معیشت، معاشرت ہو یا قانون، انسانی عقل وتجربہ سے بالاتر کسی ذریعہ ہدایت کو ماخذ ماننے کے لیے تیار نہیں، جبکہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب ’میزان‘ میں ان تمام دائروں سے متعلق قرآن وسنت کی ہدایات کی نہ صرف باقاعدہ تشریح کی ہے بلکہ مسلم دانش وروں میں پھیلے ہوئے بہت سے غلط افکار (مثلاً سود کا جواز، اسلامی حدود کو سنگین اور وحشیانہ سمجھتے ہوئے ان سے دست برداری، مرد اور عورت کی ہر پہلو سے مساوی قانونی حیثیت، مقاصد شریعت کو ابدی جبکہ متعین شرعی قوانین کو وقتی اور عارضی قرار دینا وغیرہ) کی واضح طور پر تردید کی ہے اور فطرت انسانی اور علم وعقل کی روشنی میں اسلامی شریعت کے احکام وہدایات کا دفاع کیا ہے۔ 

اپنی کتاب ’مقامات‘ کے مضمون ’تہذیب کی جنگ‘ میں معاصر تہذیبی جنگ کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں:

’’یہ تہذیب اگرچہ پچھلے تین سو سال سے روبہ زوال ہے، اس کا فطری ارتقا بند ہو چکا ہے، اس پر مسلمانوں کی اسلام سے عملی بے پروائی کے اثرات بھی نمایاں ہیں، امتداد زمانہ سے جاہلیت کے بہت سے اجزا بھی اس میں شامل ہو چکے ہیں اور یہ بلاشبہ بہت کچھ اصلاح کی متقاضی ہے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ بہرحال میری تہذیب ہے۔ میں اس میں ہر وقت اصلاح کے لیے تیار ہوں، لیکن اس کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اختیار کر لوں، یہ میرے لیے کسی طرح ممکن نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مغربی تہذیب اس وقت دنیا کی غالب تہذیب ہے اور میری قوم کے کارفرما عناصر اس سے اس قدر مرعوب ہو چکے ہیں کہ ان کی ساری جدوجہد اب اس کو پوری طرح اپنا لینے ہی میں لگی ہوئی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ انھیں یہ بات اب بہت آسانی کے ساتھ نہیں سمجھائی جا سکتی کہ دین اگر اپنی تہذیبی شناخت سے محروم ہو جائے تو اس کی حیثیت پھر آفتاب کی سی ہوتی ہے جو آسمان پر نمودار تو ہوا لیکن گہرے بادلوں کے پیچھے سے اپنی شعاعیں ہماری زمین تک پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔‘‘ (ص ۹۰)

اسی مضمون میں آگے چل کر وہ لکھتے ہیں:

’’مجھے ان سب باتوں پر اصرار ہے اور میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اسلام کی جنگ اگر تہذیب کے میدان میں ہار دی گئی تو پھر اسے عقائد ونظریات کے میدان میں جیتنا بھی بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس وجہ سے میں اپنے ان دوستوں کی خدمت میں جو اردو اور شلوار قمیض اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر میرے اصرار کو دیکھ کر چیں بہ چیں ہوتے ہیں، بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں صرف فکر مغرب ہی کو نہیں، اس تہذیب کو بھی اپنے وجود کے لیے زہر ہلاہل سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میں جس طرح اس کے فکری غلبہ کے خلاف نبرد آزما ہوں، اسی طرح اس کے تہذیب استیلا سے بھی برسر جنگ ہوں۔ میں نہیں جانتا اس معرکہ میں فتح کس کی ہوگی، لیکن یہ میرے ایمان کا تقاضا ہے کہ میں اسی طرح پوری قوت کے ساتھ اس سے لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔‘‘ (ص ۹۱)

میں نے غامدی صاحب سے جب بھی یہ پوچھا کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کا طریقہ کیا ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اس کا طریقہ نہ انقلاب ہے نہ انتخاب، بلکہ یہ ہے کہ آپ عوام کی تربیت کریں اور ان کا ذہنی وفکری شعور بلند کریں ۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کے صحیح اور پائیدار نفاذ کا طریقہ یہ ہے کہ اسلام کو تہذیب بنا کر نافذ کریں۔ اسلام کو زبردستی قانون بنا کر نافذ نہیں کیا جا سکتا اور ایسا کیا بھی گیا تو اس کے نتائج نہ اچھے ہوں گے اور نہ دیرپا۔ 

میری ناقص رائے میں جو صاحب علم مغرب کے فکری وتہذیبی استیلا کے جواب میں مذکورہ رویے کا حامل ہو، اس کو مغرب سے ذہنی مرعوبیت کا طعنہ دینا نہ قرین انصاف ہے اور نہ قابل فہم۔ جہاں تک شریعت کی تعبیر وتشریح کا تعلق ہے تو اس میں علمی اختلاف، جیسا کہ خود ڈاکٹر صاحب نے واضح کیا ہے، کوئی نئی اور معیوب بات نہیں۔ اس صورت حال میں ڈاکٹر صاحب سے یہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ اگر انھوں نے غامدی صاحب کی آرا وافکار میں مغرب پرستی کی بو پائی ہے تو ازراہ کرم میری طرح کے عام قارئین کی سہولت کے لیے وہ قابل اعتراض نکات کو واضح طور پر متعین فرمائیں اور ان پر تنقید کر کے نہ صرف ان کا علمی نقص واضح کریں، بلکہ اس بنیادی سوال پر بھی روشنی ڈالیں کہ آیا علمی اختلافات کے دائرے میں ان کے لیے کوئی گنجایش نہیں اور کیا وہ ہر حال میں مغربی فکر وتہذیب سے مرعوبیت ہی کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں؟

محمد عثمان 

سلطان پورہ۔ گلی نمبر ۵۔ گکھڑ منڈی


آراء و افکار

Flag Counter