آفتاب عروج صاحب کے خیالات پر ایک نظر

محمد شکیل عثمانی

ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۲۰۰۵ میں اہل تشیع کی تکفیر کے سلسلے میں آفتاب عروج صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف غلام احمد پرویز صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور منیر رپورٹ سے استدلال، بحیثیت مجموعی طبقہ علما کی مذمت اور صرف قرآن کو اتحاد ملت کی اساس قرار دینا اس گروہ کی خاص تکنیک ہے۔ 

آفتاب عروج صاحب نے منیر رپورٹ کے حوالے سے علما پر یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا ہے کہ وہ فسادات پنجاب (۱۹۵۳) کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے مسلمان کی متفقہ تعریف پیش نہیں کر سکے تھے۔ منیر رپورٹ سیکولر اور نام نہاد روشن خیال اعتدال پسندوں، منکرین سنت ، قادیانیوں اور مستشرقین کی بائبل ہے۔ اسلام، اسلامی ریاست اور علما پر جب بھی انھیں اعتراض کرنا ہوتا ہے، وہ اسی رپورٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ میرے سرہانے دو کتابیں رکھی رہتی ہیں، ایک لیڈی چیٹرلیز لور (ایک فحش ناول) اور دوسری منیر رپورٹ۔

منیر رپورٹ کے مرتبین کا کہنا ہے کہ دو علما بھی ایسے نہ تھے جو مسلمان کی تعریف پر متفق ہوں اور اگر وہ اپنی طرف سے مسلمان کی تعریف کریں جو ان تعریفوں سے مختلف ہوں جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو انھیں متفقہ طور پر خارج از اسلام قرار دیا جائے گا اور اگر وہ علما میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علما کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔ یہ عذر پیش کر کے مرتبین نے اپنی طرف سے مسلمان کی کوئی تعریف پیش کرنے سے جان چھڑا لی ہے، حالانکہ اسی رپورٹ میں اسلام، اسلامی ریاست اور فنون لطیفہ کے بارے میں فاضل جج صاحبان نے اپنی آرا بیان کی ہیں۔ اگر وہ مسلمان کی تعریف بھی بیان کر دیتے تو اہل علم کو رہنمائی ملتی۔ فاضل مرتبین نے علما سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ انھیں ۵ مارچ ۱۹۵۳ کو لاہور کے بپھرے ہوئے عوام کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہو جانا چاہیے تھا، خواہ لوگ ا ن کی تکا بوٹی کر ڈالتے، جبکہ خود مرتبین نے مسلمان کی تعریف اس رپورٹ میں شامل کرنے سے اس بنا پر تامل کیا کہ ’’ہم باتفاق خارج از اسلام قرار پائیں گے۔‘‘

اب آئیے اس افسانے کی طرف کہ دو علما بھی مسلمان کی تعریف پر متفق نہ تھے۔ اس موضوع پر جناب نعیم صدیقی اور جناب سعید ملک نے اپنی کتاب ’’فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر تبصرہ‘‘ میں عمدہ بحث کی ہے۔ یہاں اس کا ایک اقتباس نقل کریں گے:

’’صحت، ریاست اور بغاوت کی تعریف مختلف اہل علم نے مختلف الفاظ میں کی ہے مگر یہ اختلافات زیادہ تر تعبیر کے اختلافات ہیں۔ ایسا ہی حال ’’مسلمان‘‘ کی تعریف کا بھی ہے کہ ایک ہی حقیقت کو مختلف اہل علم نے مختلف طریقوں سے بیان کیا ہے۔ ان کے درمیان حقیقت شے میں نہیں، انداز بیان میں اختلاف ہے۔
ایک شخص کہتا ہے کہ جو کوئی قرآن اور ما جاء بہ محمد (جو کچھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں) کو مانتا ہے، وہ مسلمان ہے۔ دوسرا کہتا ہے جو خدا کی توحید، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام انبیاء سابقین کی نبوت، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم المرسلینی، قرآن اور آخرت کو مانے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو واجب الاطاعت تسلیم کرے، وہ مسلمان ہے۔ تیسرا کہتا ہے مسلمان وہ ہے جو کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا قائل ہو اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع قبول کر لے۔ چوتھا کہتا ہے جو توحید اور انبیا اور کتب الٰہی اور ملائکہ اور یوم آخر کو مانے، وہ مسلمان ہے۔ پانچواں کہتا ہے مسلمان ہونے کے لیے ایک شخص کو خدا کی توحید اور انبیا اور آخرت پر ایما ن اور خدا کی بندگی اختیار کرنی چاہیے اور ہر اس چیز کو ماننا چاہیے جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔ چھٹا کہتا ہے توحید، نبوت اور قیامت کو ماننا اور ضروریات دین (مثلاً احترام قرآن اور وجوب نماز، وجوب روزہ، وجوب ح مع الشرائط کو تسلیم کرنا مسلمان ہونا ہے۔ ساتواں کہتا ہے کہ جو پانچ ارکان اسلام اور رسالت محمدیہ کو تسلیم کر لے، اس کو مسلمان مانتا ہوں۔ آٹھواں کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی اطاعت کرتے ہوئے جو ضروریات دین کو تسلیم کرے، میرے نزدیک وہ مسلمان ہے۔ (مندرجہ بالا تعریفوں کے لیے ملاحظہ ہو منیر رپورٹ صفحہ ۲۱۵ تا ۲۱۷)
ان مختلف تعریفات کا تقابل اور تجزیہ کر کے دیکھیے۔ کیا ان کے درمیان مسلمان کی نفس حقیقت میں کوئی فرق ہے؟ ضروریات دین وہی تو ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوں۔ اسی چیز کے لیے دوسرے الفاظ ما جاء بہ محمد ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو مان لینے میں قرآن، توحید، رسالت، آخرت ، ملائکہ، انبیا اور کتب آسمانی سب کا مان لینا آپ سے آپ شامل ہو جاتا ہے اور یہی کچھ قرآن کو مان لینے کا نتیجہ بھی ہے۔ کوئی شخص خواہ قرآن کو مان نے کا اعلان کرے یا یہ کہے کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت مان لی یا ایک ایک چیز کا الگ الگ نام لے کر اس کے ماننے کا اقرار کرے، تینوں صورتوں میں لازماً ایک ہی اسلام کو قبول کرنے کا اعلان واقرار ہوگا اور محض کلمہ لا الہ الا الہ محمد رسول اللہ کو مان لینے کا حاصل بھی اس سے ذرہ برابر مختلف نہ ہوگا۔ لہٰذا ان آٹھوں آدمیوں نے مختلف الفاظ میں جس حقیقت کو بیان کیا ہے، وہ بعینہ ایک حقیقت ہے۔ مسلمان کے تصور اور اس کے معنی میں ان کے درمیان ایک بال کے برابر بھی فرق نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں، ان آٹھوں آدمیوں میں سے کسی ایک کی بیان کی ہوئی تعریف دنیا کے کسی عالم دین کے سامنے رکھ دیں، وہ بلا تکلف کہہ دے گا یہ مسلمان کی صحیح تعریف ہے۔ خود ان آٹھوں آدمیوں سے پوچھ کر دیکھیے، ان میں سے ہر ایک تسلیم کرے گا کہ دوسرے کی بیان کردہ تعریف غلط نہیں ہے۔ (ص ۱۲۰ تا ۱۲۲)

محترم آفتاب عروج صاحب کا یہ ارشاد کہ صرف قرآن ہی اتحاد ملت کی اساس ہے، پرویز صاحب کے دعوے کی صدائے بازگشت ہے جنھوں نے فرمایا کہ ’’بے شک آیات قرآنی کے معنی سمجھنے میں بھی اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ اختلافات چونکہ الفاظ وعبارات کے نہ ہوں گے بلکہ صرف فہم کے ہوں گے اس لیے مزید غور وفکر سے مٹ جائیں گے۔‘‘ (مقام حدیث جلد اول ص ۱۹۷) گزشتہ پچھتر سال کی تاریخ اس کی گواہ ہے کہ ’’قرآنی فکر‘‘ کے علم برداروں کے تعبیری اختلافات بجائے مٹنے کے بڑھے ہیں۔ مثلاً دیکھیے قرآنی فکر کے علم بردار ایمان بالرسل کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔

ڈاکٹر غلام جیلانی برق لکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی پر ایمان کافی ہے۔ جزوی ایمان چاہیے۔ ایمان بر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ضروری نہیں۔ (ایک اسلام) واضح رہے کہ برق صاحب نے اس کتاب سے لاتعلقی کا آخر وقت تک اظہار نہیں کیا اور ’’دو اسلام‘‘ سے بھی ان کا اظہار لا تعلقی محض دفع الوقتی تھا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے جس پر ڈاکٹر عبد العزیز ساحر نے ’’ڈاکٹر غلام جیلانی برق کے خطوط‘‘ کے دیباچے میں بڑی نفیس بحث کی ہے۔

جناب غلام احمد پرویز اور حافظ اسلم جیراج پوری کے نزدیک رسول پر محض ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کے انتقال کے بعد اس کی اطاعت نہیں کرنی چاہیے، اس لیے کہ اطاعت بالمشافہہ ہوتی ہے اور اب کوئی زندہ نبی نہیں ہے جس کی بالمشافہہ اطاعت کی جائے۔ اب اطاعت مرکز ملت کی ہوگی۔ (اسلامی نظام ص ۱۲۲۔ مقام حدیث جلد اول ص ۱۹)

مولوی احمد الدین امرتسری لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ پر ایمان تو ضرور لانا چاہیے مگر ساتھ ہی یہ بھی یقین رکھنا چاہیے کہ رسول خدا قرآن مجید کا تمام فہم نہیں رکھتے تھے اور یہ کہ حضور سے قرآن کے فہم میں بکثرت غلطیاں ہوئیں۔ (برہان القرآن)

یہی حال ایمان بالملائکہ، ایمان بالکتاب، ایمان بالآخرۃ، صلوٰۃ، روزے، درود وغیرہ کی تعبیر وتشریح میں ہے۔ چند سال پہلے علامہ محمد حسین عرشی، جو پچاس کی دہائی میں طلوع اسلام کے صفحات پر پرویز صاحب کی خدمات قرآنی کو خراج تحسین پیش کیا کرتے تھے، پرویز صاحب کی کتاب مفہوم القرآن کی اشاعت کے بعد ۲۰ جون ۱۹۸۴ کو محمد اقبال سلمان کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’.... لفظ آدم پر مفصل مقالہ صحت یاب ہو کرلکھیں ...... آپ نے پرویز صاحب کامفہوم القرآن شاید نہیں دیکھا۔ میرے خیال میں ان کو ایسی جسارت نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کے مطالعے کے لیے قاری کو اپنی بصیرت کی بھی ضرورت ہے کیونکہ انھوں نے اپنی رائے اور میلان کو خواہ مخواہ گھسیڑ دیا ہے۔‘‘ (نوادرات عرشی مرتبہ ڈاکٹر تصدق حسین راجا، ص ۸۸)

علامہ تمنا عمادی جو ۵۰ کی دہائی میں پرویز صاحب کو علامہ پرویز لکھتے تھے اور جن کی قرآنی بصیرت پر طلوع اسلام کو بڑا اعتماد تھا، ۶۰ کی دہائی میں پرویز صاحب کی تصنیف لغات القرآن کے سب سے بڑے ناقد بن گئے۔ ماہر القادری لکھتے ہیں:

’’علامہ تمنا عمادی نے غلام احمد پرویز کی لغات القرآن پر بڑی کس کر تنقید کی۔ ان کے کئی مضامین فاران میں بھی چھپ چکے ہیں۔ اس موضوع پر نہ جانے کتنے مضامین غیر مطبوعہ ہی رہے۔ علامہ نے اپنے مضامین میں اعلیٰ علمی استدلال کے ساتھ ثابت کیا کہ لغات القرآن کا لکھنے والا نہ قرآنی علوم سے واقف ہے اور نہ عربی زبان وادب سے باخبر ہے۔ قرآن کی یہ عجیب لغت ہے جس میں قرآن ہی کی مخالفت کی گئی ہے۔‘‘ (ماہنامہ فاران، فروری ۱۹۷۳)

قرآنی فکر کے علم بردار دو اداروں، طلوع اسلام اور بلاغ القرآن کے تعبیر قرآن کے اختلافات ایک مستقل مضمون کے متقاضی ہیں۔ کسی مناسب موقع پر ان شاء اللہ ان پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

آراء و افکار