رینڈ کارپوریشن کی حالیہ رپورٹ

ڈاکٹر یوگندر سکند

"Three Years After: Next Steps in the war on Terror" (تین سال بعد: دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آئندہ مراحل)، یہ رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین دستاویز کا عنوان ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں سے بحث کی گئی ہے اور اس میں مناسب تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ رینڈ کارپوریشن دائیں بازو کا ایک تحقیقی ادارہ ہے جس کے امریکی حکومت اور امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ادارہ دنیا پر امریکی غلبے کے حوالے سے مشہور ہے اور، جیسا کہ اس دستاویز سے بھی نمایاں طور پر اس بات کا اظہار ہوتا ہے، اس کی تحقیقی کاوشوں کا ہدف بھی اسی مقصد کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔ یہ امریکا کے موثر ترین نو قدامت پسند اور صہیونیت کے حامی تھنک ٹینکس میں سے ہے اور اس کی مطبوعات دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت، جو اس دستاویز کا موضوع ہے، بنیادی ایشوز پر امریکی حکومت کی پالیسیوں کی عکاس بھی ہوتی ہیں اور ان کی تشکیل میں بھی مددگار ہوتی ہیں۔

اگر کوئی شخص دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا زاویہ نظر سمجھنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اس دستاویز کا مطالعہ ناگزیر ہے، جو اپنے آپ کو ’’متعدد اعلیٰ ترین اور تازہ مطالعات کا حاصل‘‘ قرار دیتی ہے۔ سرسری نظر ڈالنے سے ہی واضح ہو جاتا ہے کہ یہ رپورٹ دہشت گردی کے اسباب کے ایک نہایت غلط اور ناقص فہم پر مبنی ہے۔ چنانچہ اصل اسباب کو قصداً نظر انداز کرتے ہوئے اس میں جو حل تجویز کیے گئے ہیں، ان سے صورت حال کے مزید الجھنے اور زیادہ پیچیدہ ہو جانے کا خطرہ ہے۔

دستاویز کے مصنفین رینڈ کے خود ساختہ ماہرین ہیں جو امریکی حکومت کے محکموں سے قریبی طور پرمتعلق ہیں اور ان میں سے بعض یہودی پس منظر کے حامل ہیں۔ ان کے نقطہ نظر کے مطابق دہشت گردی کی واحد قسم جو غور وفکر اور توجہ کی مستحق ہے، صرف وہ ہے جسے ذرائع ابلاغ میں عام طور پر ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ امریکی ریاستی دہشت گردی کا تو ذکر ہی کیا جس کا وحشیانہ اظہار آج عراق میں ہو رہا ہے، اس دستاویز میں لگے بندھے خیالات کا اظہار کرنے والے ماہرین دہشت گردی کی دوسری مختلف شکلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اسلامی دہشت گردی کو دہشت گردی کی واحد شکل سمجھتے ہیں اور اسے امریکی مفادات کے لیے ایک بنیادی چیلنج بھی قرار دیتے ہیں۔

اسلامی دہشت گردی کی تشخیص میں بھی رینڈ کے خود ساختہ ماہرین ایک ناقابل معافی جہالت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بھی نرم الفاظ ہیں، ورنہ اس کے لیے دھوکے کا لفظ زیادہ بہتر ہے۔ متعدد مسلم ممالک میں بے اطمینانی کے اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی اسباب کو نظر انداز کرتے ہوئے، جن میں امریکی حمایت کے بل بوتے پر فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور مسلم ممالک میں جابر پٹھو حکمرانوں کی امریکی حمایت بھی شامل ہیں، یہ ماہرین اسلامی تشدد پسندی کو محض ایک نظریاتی مظہر سمجھتے ہیں۔ دستاویز کے ایڈیٹر داؤد ہارون ، جو امریکی حکومت کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار ہیں اور اس وقت رینڈ کارپوریشن کے ساتھ سینئر فیلو کی حیثیت سے منسلک ہیں، کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ ایک نظریاتی جنگ ہے جس میں اسلامی تشدد پسندی کا کردار وہی ہے جو کسی زمانے میں امریکی تصورات کے مطابق کمیونزم ادا کر رہا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلامی تشدد پسندی کا نظریہ عملی حالات واثرات سے بالکل مجرد ہے اور اس کا کوئی تعلق ان سماجی حقائق سے نہیں ہے جو اس کو پیدا کرنے اور اسے تسلسل دینے کے ذمہ دار ہیں۔ مسلم بے اطمینانی کے تمام اسباب اسلام کے ایک غلط اور گمراہ کن فہم کا نتیجہ ہیں اور امریکی پالیسیوں کا نہ اس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ وہ رد عمل میں پیدا ہونے والی اسلامی انتہا پسندی کی ذمہ دار ہیں۔ اس پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکی بالادستی کی مخالف اور بائیں بازو کی قوتوں کے خلاف لڑنے کے لیے امریکہ نے اسلامی گروپوں کی امداد اور حمایت کی جو پالیسی اختیار کی تھی، وہ اب طاق نسیاں کی نذر ہو گئی ہے کیونکہ سابقہ دوست اب دشمن بن گئے ہیں۔

مسلم بے اطمینانی کے اصل وجوہ پر بحث کرنے کے بجائے، جس کے نتائج میں ایک حد تک اسلامی تشدد پسندی بھی شامل ہے، اس دستاویز کے مصنفین کے تجویز کردہ حل امریکی غلبے اور صہیونی مفادات کے تحفظ کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ وہ اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ امریکی پالیسی بنیادی طور پر درست ہے اور امریکا کے لیے خود احتسابی یا مسلم دنیا اور اسرائیل کے حوالے سے اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ یہ بات باعث حیرت نہیں کہ دستاویز میں مسلم بے چینی کے ممکنہ اسباب کے تحت درج ذیل حقائق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا: اسرائیلی مظالم، عراق پر امریکہ کی عائد کردہ پابندیاں جن کی وجہ سے لاکھوں بچے موت کی وادی میں جا پہنچے، سالہا سال تک اسلامی گروپوں کی حمایت کے بعد افغانستان پر امریکی بمباری ، عراق پر امریکی اور برطانوی فوجوں پر حملہ اور اس پر کا قبضہ۔ اس طرح کی کسی چیز کا کوئی ذکر نہیں اور مسلم رد عمل کو محض ایک نظریاتی انحراف اور بے راہ روی قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تشدد پسندی کی توجیہ اس خلاف حقیقت تناظر میں کرنے کے باعث مصنفین نے مسئلے کے صرف دو حل پیش کیے ہیں۔ ایک، اسلام مخالف بحث ومباحثہ کے فروغ کے ذریعے انتہا پسند اسلام کا نظریاتی سطح پر مقابلہ اور دوسرا ہر طرح کی میسر طاقت کا بھرپور استعمال کر کے انتہا پسند مسلمانوں کا خاتمہ۔

پہلا حل رینڈ کارپوریشن کے ایک ماہر چیری بنارڈ نے، جو بش کے اعلیٰ سطحی معاون اور عراق میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی اہلیہ ہیں، اپنے مقالے ’’اسلام میں جمہوریت: اسلامی دنیا میں جدوجہد۔ امریکہ کے لیے حکمت عملی‘‘ میں پیش کیا ہے۔ یہ مقالہ بھی اسی بنیادی مفروضے پر مبنی ہے کہ امریکی پالیسیاں مسلم بے اطمینانی یا مخالفانہ رد عمل کو جنم دینے کی ذمہ دار نہیں ہیں اور اس کے بجائے انتہا پسند اسلام کی اصل وجوہ اسلام کی چند مخصوص تعبیرات میں پائی جاتی ہیں ، جسے انھوں نے ’’اسلام کی داخلی کشمکش‘‘ کا نام دیا ہے۔ بینارڈ نے مضمون کے آغاز میں جارج بش کے اس قول کا مثبت انداز میں حوالہ دیا ہے کہ ’’فی الحقیقت ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا عنوان ہی غلط رکھا ہے۔ اس کو نظریاتی انتہا پسندوں کے خلاف جدوجہد کہنا چاہیے جو آزاد معاشروں کے قیام پر یقین نہیں رکھتے اور دہشت گردی کو اپنے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘‘

بینارڈ نے ایک بہت بڑا اور پرتخیل منصوبہ پیش کیا ہے جس کی امریکا کو پیروی کرنی چاہیے تاکہ اسلام کے ایک ایسے ورژن کو فروغ دیا جا سکے جو امریکی ہدایات کا فرماں بردار ہو۔ وہ اس قسم کے اسلام کو ’ماڈرنسٹ’ یعنی جدیدیت پسند اسلام کہتی ہیں اور اس سے ان کی مراد ایسا اسلام ہے جو مغربی پروٹسٹنٹ ازم سے معمولی طور پر ہی مختلف ہے اور سرمایہ دارارانہ نظام میں مطمئن رہ سکتا ہے۔ یہ نکتہ ان کے اس جملے سے، جو زیادہ گہرے تجزیے پر مبنی نہیں، واضح ہے کہ ’’جدیدیت ہی وہ چیز ہے جس نے مغرب کے لیے مفید کردار ادا کیا۔‘‘ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ جن جدیدیت پسندوں کی حمایت کا وہ مشورہ دے رہی ہیں، ان کا اثر ورسوخ صرف اشرافیہ میں ہے اور عوامی سطح پر انھیں کوئی مقبولیت یا پیروی حاصل نہیں، بینارڈ تجویز کرتی ہیں کہ امریکہ کو جدیدیت پسندوں کے کاموں کی مختلف شکلوں میں طباعت کے لیے امداد دینی چاہیے مثلاً ویب سائٹس، نصابی کتب، پمفلٹس اور کانفرنسز وغیرہ۔ ان کی رائے میں ’’امریکہ کو جدیدیت پسندوں کو مثالی نمونے اور راہنما کے طور پر مقبول بنانا چاہیے اور ان کے پیغام کے ابلاغ کے لیے مواقع اور پلیٹ فارم مہیا کرنے چاہییں۔‘‘ ظاہر ہے کہ بینارڈ امریکہ کو جن جدیدیت پسندوں سے تعاون کا مشورہ دے رہی ہیں، انھیں امریکی تعاون اس وقت تک ہی حاصل رہے گا جب تک کہ ان کے غیظ وغضب کا رخ اسلام پسندوں کی طرف رہے گا، لیکن اگر وہ امریکی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا چاہیں گے تو انھیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی، جیسا کہ تیسری دنیا کی بائیں بازو کی قوتوں کی مثال سے ظاہر ہے جنھیں کچل دینے میں امریکی تعاون اور سازباز بھی حصہ دار ہے۔

دستاویز میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دوسرا حل عسکری قوت کا استعمال تجویز کیا گیا ہے۔ یہ بھی اس مفروضے پر مبنی ہے کہ امریکی پالیسیوں میں تبدیلی کی کوئی ضرورت نہیں، امریکہ بالکل معصوم ہے اور اسلامی تشدد پسندی محض مذہب کے ساتھ جنونی لگاؤ کا نتیجہ ہے۔ بش حکومت کا معیاری موقف بھی یہی ہے۔ دستاویز میں اس موقف کو سابق امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف ڈیفنس اور ورلڈ بینک کے حالیہ صدر پال ولفووٹز نے پوری قوت سے پیش کیا ہے، جو عراق پر امریکی حملے کے بنیادی منصوبہ سازوں میں سے ایک ہیں۔ امریکہ کے ظالمانہ امپریلسٹ ماضی، افریقی غلامی کے داغ، مقامی باشندوں کی امریکی نوآباد کاروں کے ہاتھوں تباہی، اور نام نہاد تیسری دنیا میں بلامبالغہ لاکھوں انسانوں کی ہلاکت جس کا امریکہ بنیادی طور پر ذمہ دار ہے، ان تمام حقائق سے آنکھیں چراتے ہوئے ولفووٹز یہ معصومانہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عراق پر حملہ نہ قبضے کی غرض سے ہے اور نہ امریکہ کی شہنشاہیت قائم کرنے کے لیے ، اس کے بجائے یہ ایک اصولی جنگ ہے اور اس کا محرک آزادی اور جمہوریت کے ساتھ وابستگی کا وہ تصور ہے جس نے امریکی تاریخ کے آغاز ہی سے امریکہ کو متحرک کیے رکھا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ’’امریکی قوم شر کے مقابلے کے لیے ہمیشہ میدان میں رہی ہے۔‘‘ اسے ناواقفیت کہہ لیجیے یا صریح دھوکہ، لیکن اگر ولفووٹز کو یہ توقع ہے کہ ان کا یہ دعویٰ امریکہ کے دامن سے سنگین جرائم کا داغ دھو سکتا ہے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ امریکی پالیسیاں بہت بڑی حد تک مسلم بے اطمینانی کی ذمہ دار ہیں، لیکن ولفو وٹز اس کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہ بتاتے ہیں کہ اس کا سبب ’’دہشت گردانہ جنونیت‘‘ کے سوا کچھ نہیں۔ نتیجتاً وہ عراق پر امریکی حملے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نمایاں طور پر اسی طرح جائز اور برحق قرار دیتے ہیں جس طرح سفید فام مغربی آباد کار امریکہ کی سیاہ فام آبادی پر حملہ کرنے اور ان کو محکوم وغلام بنانے کو قرار دیتے تھے۔ ان آباد کاروں کے نزدیک بھی یہ ایک مہذب مشن تھا اور پال وولفووٹز کے الفاظ میں امریکہ بھی ’’ایک منصفانہ اور پر امن دنیا‘‘ کی تشکیل کے لیے دہشت گردوں کے جبر، موت اور مایوسی کے مقابلے میں زندگی، امید اور آزادی کا وژن پیش کر رہا ہے ۔ وہ بش کی عراق پالیسی کا ذکر ’آزادی کی طاقت کی کہانی‘ کے الفاظ میں کرتے ہیں اور عراق میں امریکی فوجیوں کو ’’غیر معمولی بہادر جوان امریکی‘‘ قرار دیتے ہیں ’’جو اپنی زندگیوں کو اس لیے خطرے میں ڈال رہے ہیں تاکہ دوسرے لوگ آزادی سے مستفید ہو سکیں اور تاکہ خود ہمارے اپنے لوگ زیادہ حفاظت سے زندگی بسر کر سکیں‘‘ ۔

ولفووٹز کو اصرار ہے کہ جمہوریت عراقیوں پر نافذ کرنی چاہیے اور اگر وہ مزاحمت کریں تو انھیں موت کی دھمکی دے کر اسے قبول کرنے پر مجبور کیا جائے۔ گویا عراق پر امریکی حملہ ہمدردی اور خیر خواہی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے اور اس کا کوئی واسطہ سستے تیل کے حصول یا وسیع تر مسیحی بنیاد پرست صہیونی ایجنڈے سے نہیں۔ کم از کم ولفووٹز ہمیں یہی باور کرانا چاہتے ہیں۔ وہ امریکی حملے کو یوں پیش کرتے ہیں جیسے اس کا محرک جمہوریت کے فروغ کا ایک بے پایاں جذبہ ہے۔ تاہم اس نکتے پر ان کی خاموشی ہرگز باعث حیرت نہیں کہ امریکہ دنیا کی بعض بدترین غیر جمہوری حکومتوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔

عراق امریکی قابض فوجوں کی موجودگی کو انسانی واخلاقی جواز دینے کی غرض سے وہ ایک نا معلوم عراقی خاتون کا حوالہ دیتے ہیں جس نے مبینہ طور پر ایک جمہوری معاشرے کے روزوشب کو دیکھنے کے لیے امریکہ کا دورہ کیا اور وائٹ ہاؤس میں صدر بش سے ملاقات کے دوران میں کہا کہ ’’اگر امریکی افواج قربانی نہ دیتیں تو عراقی خواتین کو کبھی جمہوریت سے متعلق جاننے کا موقع میسر نہ آتا۔‘‘ یہاں نہ ان ہزاروں عراقیوں کا کوئی ذکر ہے جنھیں امریکی پابندیوں کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھونا پڑے، نہ دس سال پر محیط عراق ایران جنگ میں عراق کی امریکی حمایت کا ، اور نہ ان ہزاروں عراقیوں کو جو امریکی حملے کے بعد سے اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ ولفووٹز ’’عراق میں امریکی فوجیوں کے عظیم کارناموں‘‘ کا ذکر تو بڑی فصاحت وبلاغت سے کرتے ہیں جو ان کے بیان کے مطابق اسکول قائم کر رہے ہیں، لوگوں کوان کے گھروں میں آباد کر رہے ہیں، حتیٰ کہ صرف پانچ پانچ ڈالر کی سائیکلیں عراقی بچوں میں تقسیم کر رہے ہیں، لیکن امریکی قبضے کے نتیجے میں مسلسل ہلاک ہونے والے ہزاروں عراقیوں سے متعلق انھوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

یہ بات نہیں کہ رینڈ رپورٹ کے مصنفین، جو سب کے سب اچھے عہدوں پر فائز اور پوری ط رح باخبر ہیں، اتنے ہی سادہ لوح، جاہل یا نرے احمق ہیں جتنے کہ وہ اپنی تحقیقی کاوشوں سے نظر آتے ہیں۔ بالکل واضح ہے کہ ان تجزیہ اور تجویز کردہ حل امریکی اور صہیونی غلبے کا تسلسل قائم رکھنے اور امریکی واسرائیلی مفادات کو لاحق کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہب سے پھوٹنے والی تشدد پسندی اور دہشت گردی بہرحال ایک بہت نازک سوال ہے، لیکن رینڈ رپورٹ کے مصنفین اس معاملے کو صرف مسلم گروہوں تک محدود کرتے ہیں جو کہ سراسر حقائق کے منافی ہے۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنا ہوگی کہ مذہبی انتہا پسندی مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے اور اگر ہم اس کا مقابلہ کرنے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں اس طرح کے تمام گروہوں کی طرف توجہ مبذول کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کے علاوہ مسیحی، ہندو، یہودی اور دوسرے گروہ بھی ہیں جو مذہب کے نام پر نفرت اور دہشت پھیلا رہے ہیں۔ اسی طرح ریاستی دہشت گردی کو بھی، جس کو رینڈ رپورٹ ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کا عنوان دے کر جائز قرار دیتی ہے، مساوی درجے کا سنگین خطرہ سمجھنا ہوگا اور اس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ مزید برآں مذہبی انتہا پسندی کو محض نظریاتی اصطلاحات میں نہیں سمجھا جا سکتا، جیسا کہ رینڈ رپورٹ میں کیا گیا ہے، بلکہ عالمی سطح پر امریکی بالادستی قائم کرنے کی کوششوں اور مغربی بالادستی کے نمائندہ سرمایہ دارانہ نظام کے تناظر میں اس کے پیچھے کار فرما پیچیدہ معاشی، ثقافتی اور سیاسی وجوہ و عوامل بھی زیر غور آنے چاہییں ۔ تب ہی ہم درست سوالات اٹھانے اور ان کے صحیح جواب دینے کے قابل ہوں گے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ ایک ایسا کام ہے جو رینڈ کارپوریشن کے ماہرین اور اس قبیل کے لوگوں کو نہیں سونپا جا سکتا۔

اخبار و آثار

(جنوری ۲۰۰۶ء)

Flag Counter