جنوری ۲۰۰۶ء

’الشریعہ‘ کی سترہویں جلد کا آغاز

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بحمد اللہ تعالیٰ زیر نظر شمارے کے ساتھ ہم ’الشریعہ‘ کی سترہویں جلد کا آغاز کر رہے ہیں۔ آج سے کم وبیش سولہ سال قبل اکتوبر ۱۹۸۹ء میں ’الشریعہ‘ نے ماہوار جریدے کے طور پر اپنا سفر شروع کیا تھا اور اتار چڑھاؤ کے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے یہ دینی وفکری ماہنامہ اپنی موجودہ شکل میں قارئین کے سامنے ہے۔ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ کے اس ترجمان کی ابتدا اس عزم کے ساتھ ہوئی تھی کہ دور حاضر کے مسائل اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی تعلیمات واحکام کو جدید اسلوب اور تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی، عالم اسلام کے علمی ودینی حلقوں کے درمیان...

رینڈ کارپوریشن کی حالیہ رپورٹ

― ڈاکٹر یوگندر سکند

"Three Years After: Next Steps in the war on Terror" (تین سال بعد: دہشت گردی کے خلاف جنگ کے آئندہ مراحل)، یہ رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین دستاویز کا عنوان ہے جس میں مشرق وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں سے بحث کی گئی ہے اور اس میں مناسب تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ رینڈ کارپوریشن دائیں بازو کا ایک تحقیقی ادارہ ہے جس کے امریکی حکومت اور امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ ادارہ دنیا پر امریکی غلبے کے حوالے سے مشہور ہے اور، جیسا کہ اس دستاویز سے بھی نمایاں طور پر اس بات کا اظہار ہوتا ہے، اس کی تحقیقی کاوشوں کا ہدف بھی اسی مقصد کو آگے بڑھانا ہوتا ہے۔...

تدوین فقہ اور امام ابو حنیفہؒ کی خدمات

― عاصم نعیم

بیسویں صدی مسلمانوں کے عروج و انحطاط کی مختلف داستانوں کو سمیٹتے ہوئے رخصت ہوچکی ہے۔ موجودہ صدی اسی تسلسل میں متعدد نئے منظر نامے پیش کر رہی ہے۔ نو آبادیاتی دور کے بعدمسلم دنیا اپنے دینی اور تہذیبی تشخّص کی حفاظت کے لیے جو کاوشیں کر رہی ہے، وہ مقدار اور معیار میں کم ہوتی محسوس ہو رہی ہیں ۔تہذیبوں اور تمدنوں کاتصادم بالکل عیاں ہو چکا ہے۔ اندریں حالات مسلم امّہ ایک ہمہ جہت بحران کا شکار ہے۔ سیاسی ،معاشی ،تعلیمی ،سماجی ،اور عسکری میدانوں میں اپنے نظریات وافکار کے بقا اور احیا کے احساس میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔تعلیم وتربیت اور ثقافت کے مسائل...

قرآنی علمیات اور معاصر مسلم رویہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

دنیا کی کوئی فکر، کوئی فلسفہ یا کوئی نظامِ حیات ، معاشرتی سطح پر اپنے نفوذ کی خاطر متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ کیے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ یہ آدھا سچ ہے ۔ بقیہ آدھا سچ یہ ہے کہ متعلقہ معاشرت اور کلچر کا لحاظ اگر حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ نظامِ حیات یا فلسفہ اپنے مخصوص اور منفرد منہج سے ہٹ کر محدودیت اور تنگ نظری کو فروغ دینے والی معاشرتی کہاوتوں کو بھی، جن کے پیچھے اصلاً نفسیاتی عوارض کار فرما ہوتے ہیں، اپنی بنیادی صداقتوں میں شمار کرنے لگتا ہے اور انہیں ازلی سچ گردانتے ہوئے اپنی علمیات (Epistemology) سے کچھ اس طرح خلط ملط کرتا ہے کہ نہ صرف جھوٹ...

آفتاب عروج صاحب کے خیالات پر ایک نظر

― محمد شکیل عثمانی

ماہنامہ الشریعہ اکتوبر ۲۰۰۵ میں اہل تشیع کی تکفیر کے سلسلے میں آفتاب عروج صاحب کا مضمون پڑھا۔ موصوف غلام احمد پرویز صاحب کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں اور منیر رپورٹ سے استدلال، بحیثیت مجموعی طبقہ علما کی مذمت اور صرف قرآن کو اتحاد ملت کی اساس قرار دینا اس گروہ کی خاص تکنیک ہے۔ آفتاب عروج صاحب نے منیر رپورٹ کے حوالے سے علما پر یہ گھسا پٹا اعتراض دہرایا ہے کہ وہ فسادات پنجاب (۱۹۵۳) کی تحقیقاتی عدالت کے سامنے مسلمان کی متفقہ تعریف پیش نہیں کر سکے تھے۔ منیر رپورٹ سیکولر اور نام نہاد روشن خیال اعتدال پسندوں، منکرین سنت ، قادیانیوں اور مستشرقین...

ناقدین کی خدمت میں (۱)

― طالب محسن

استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی کے افکار وآرا پر بہت سی تنقیدیں لکھی گئی ہیں اور آئندہ بھی لکھی جائیں گی۔ عام طور پر یہ تنقیدیں محض دشنام طرازی، طعن وتشنیع اور تضحیک واستہزا پر مبنی ہوتی ہیں۔ کچھ اندیشوں اور خدشات کو بنیاد بنا جاتا ہے۔ کچھ اندازے قائم کیے جاتے ہیں جو سراسر سوء ظن پر مبنی ہوتے ہیں۔ کچھ مقاصد طے کیے جاتے ہیں جن کا کوئی ثبوت کسی قول وتحریر میں نہیں ہوتا۔ اور اس طرح صاحب تنقید اپنے لیے قلمی جہاد کا جواز فراہم کرتااور نوک قلم سے اپنے ہی علم وتقویٰ کا خون کر ڈالتا ہے۔ ’المورد‘ میں، چھپنے والی ان تنقیدوں کو غور سے پڑھا جاتا ہے...

ناقدین کی خدمت میں (۲)

― حافظ محمد عثمان

’الشریعہ‘ کے دسمبر کے شمارے میں ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون ’اسلام اور تجدد پسندی‘ پڑھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے مضمون میں مغربی تہذیب کے حوالے سے تین رویوں کا ذکر کیا ہے اور ان میں سے دوسرے رویے پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’دوسرے وہ حلقہ فکر جو فکری مرعوبیت کا شکار ہو گیا اور ا س نے مغربی تہذیب اور اس کے اصولوں کی ’بڑائی‘ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا اور وہ اس چیز کا علم بردار بن گیا کہ اپنے نظام فکر وعمل کو بدل کر اسے اس نئی اور غالب تہذیب سے ہم آہنگ کر دے۔‘‘ اس دوسرے نقطہ نظر کے حاملین میں ڈاکٹر صاحب نے جاوید احمد غامدی صاحب کو بھی شامل...

مکاتیب

― ادارہ

محترم جناب رئیس التحریر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا مجلہ ملتا ہے۔ عمدہ مضامین ہوتے ہیں جو حق پسندی، خود اعتمادی، اپنی اقدار پرپختگی کا درس دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ دسمبر ۲۰۰۵ء کے سمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان کے مقالے ’’ڈارون کا تصور ارتقا اور اقبال‘‘ میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ بڑی ناانصافی برتی گئی ہے۔ میں نے پہلے بھی نوٹ کیا ہے کہ آپ کے مجلے میں مسلمانوں کے اس محبوب شاعر ومفکر اور پاکستان کے اولین محسن کے بارے میں ناروا انداز فکر کا پرچار کیا گیا ہے۔ کافی پہلے لندن میں بیٹھے ہوئے ایک ’’دیوبندی مولانا‘‘...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’تاریخ ختم نبوت‘‘۔ تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں قادیان، پنجاب سے مرزا غلام احمد کی نبوت کا فتنہ پیدا ہوا تو علماء حق نے تحریر وتقریر کے ذریعے سے پوری قوت کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا۔ کم وبیش پون صدی کی محنت کے بعد ۱۹۷۴ء میں آئینی سطح پر مرزا غلام احمد اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس جدوجہد میں یوں تو برصغیر کے طول وعرض میں علما اور اہل حق شریک رہے، لیکن علماء لدھیانہ کی خدمات اس ضمن میں خاص طور پر ناقابل فراموش ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس فتنہ کی نشان دہی کی۔ ۱۸۸۴ء میں جب مرزا صاحب نے ’’ براہین احمدیہ ‘‘ تحریر کی تو مولانا...

کوروٹانہ (عقب واپڈا ٹاؤن، گوجرانوالہ) میں عظیم دینی تعلیمی مرکز کا قیام

― ادارہ

اس مرکز کے لیے کھیالی گوجرانوالہ کے جناب محمد بشیر اور ان کے فرزند جناب ثناء اللہ طیب جنجوعہ نے آٹھ کنال زمین وقف کی ہے اور الشریعہ اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کو متولی اور منتظم کی حیثیت سے تمام اختیارات تفویض کر دیے ہیں۔ یہ معاملہ حضرت مولانا مفتی محمد اویس، مولانا محمد نواز بلوچ، جناب عثمان عمر ہاشمی اور جناب ڈاکٹر محمد نواز صاحب آف کھیالی کے مخلصانہ تعاون، توجہ اور محنت سے پایہ تکمیل کو پہنچا، جس پر ہم مذکورہ سب حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس مرکز میں علاقہ کے عوام کے لیے جامع مسجد خورشید اور فری ڈسپنسری کے علاوہ مندرجہ ذیل...