مکاتیب

ادارہ

محترم جناب رئیس التحریر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا مجلہ ملتا ہے۔ عمدہ مضامین ہوتے ہیں جو حق پسندی، خود اعتمادی، اپنی اقدار پرپختگی کا درس دیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ دسمبر ۲۰۰۵ء کے سمارے میں ڈاکٹر محمد آصف اعوان کے مقالے ’’ڈارون کا تصور ارتقا اور اقبال‘‘ میں علامہ اقبالؒ کے ساتھ بڑی ناانصافی برتی گئی ہے۔ میں نے پہلے بھی نوٹ کیا ہے کہ آپ کے مجلے میں مسلمانوں کے اس محبوب شاعر ومفکر اور پاکستان کے اولین محسن کے بارے میں ناروا انداز فکر کا پرچار کیا گیا ہے۔ کافی پہلے لندن میں بیٹھے ہوئے ایک ’’دیوبندی مولانا‘‘ نے اپنے ایک مضمون نما خط میں اقبال کو ’’سر محمد اقبال اور .....‘‘ کے طنز سے یاد کیا تھا۔ اب ان تازہ مضمون نگار صاحب نے ان کو ڈارون (Darwin) کا ہم نوا بلکہ مقلد بتانے کی کوشش کی ہے۔

کیا دیوبندی مکتب فکر کے لیے ضروری ہے کہ علامہ اقبال کے خلاف مہم جاری رکھی جائے؟ شاید آپ کو معلوم ہو کہ بیسویں صدی کے عظیم مفکر اسلام، داعی الی اللہ، محقق اور اہل اللہ مولانا ابو الحسن علی ندویؒ نے اقبال کو شاعر الاسلام کے لقب سے دنیاے عرب میں معروف کرایا۔ ان کی عربی کتاب ’’من روائع اقبال‘‘ میں، جو اس ناچیز نے دمشق سے ۱۹۵۷ء میں شائع کرائی تھی اور جو اردو میں ترجمہ ہو کر ’’نقوش اقبال‘‘ کے نام سے چھپ چکی ہے، مولانا مرحوم کا وہ مقالہ موجود ہے جو شاعر الاسلام کے نام سے انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی میں پڑھا تھا۔ غضب خدا کا! وہ بندۂ خدا جس کی ساری شاعری، سارا سوز وتڑپ اسلام اور اس کی سربلندی کے لیے تھا، جس کا ماخذ علم قرآن تھا، جس نے قرآنی آیات اور جملوں کو اپنے اشعار (مثنوی، اسرار خودی ورموز بے خودی) میں اس طرح سمو دیا ہے کہ ایک غیر حافظ قرآن یا غیر مولوی کو ان کا سمجھنا بھی مشکل ہے، اسی شاعر قرآن واسلام کو ایک دینی مدرسہ سے شائع ہونے والا مجلہ ڈارون کا پیرو وہم نوا بتاے۔ ان ہذا الا افک مبین۔

ڈاکٹر آصف صاحب کے ذہن میں اقبالؒ کے یہ اشعار تو ہوں گے:

قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جوہر کردار
گر تو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن

وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو برابر کہتا رہا:

در دل مومن مقام مصطفی است
آبروے ما ز نام مصطفی است


محمد عربی کابروئے ہر دو سرا است
کسے کہ خاک درش نیست خاک بر سر او

تو پھر کیا قرآن اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ’’تصور ارتقا‘‘ کی تعلیم دی ہے جس کا سہرا ملحد ومادہ پرست ڈارون کے سر ہے؟ پھر یہ کہ مغربی فکر وتہذیب پر جتنی کڑی اور برمحل تنقید علامہ اقبال نے کی ہے، اس کی کہیں نظیر نہیں ملتی۔ 

یہ باتیں تو میں نے تمہیداً اس افترا کے رد عمل میں کہی ہیں جو ڈاکٹر آصف صاحب نے علامہ اقبال پر کیا ہے، لیکن ان کے اٹھائے ہوئے نقاط کے جواب میں عرض ہے کہ:

۱۔ وہ کس طرح یہ فرماتے ہیں کہ ’’اقبال کی فکر کا بنیادی نکتہ (یہاں صحیح ’نقطہ‘ ہے) اس کا فلسفہ خودی ہے، تاہم اگر بنظر عمیق دیکھا جاے تو معلوم ہوگا کہ ان کی فکر پر اول تا آخر فلسفہ ارتقا کی چھاپ ہے، یہاں تک کہ تصور خودی بھی اسی بنیادی اور بڑے فلسفے کا ایک حصہ معلوم ہوتا ہے۔‘‘

حیرت ہے کہ وہ کسی بھی دلیل کے بغیر کس طرح یہ بے جا الزام لگا رہے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے تو اپنے فلسفہ خودی کی بنیاد لا الٰہ الا اللہ کو کہا ہے:

خودی کا سر نہاں لا الٰہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الٰہ الا اللہ

یا پھر:

نقطہ نورے کہ نام او خودی است
زیر خاک ما شرار زندگی است

ڈارون کے یہاں ’’نقطہ نور‘‘ کا ذکر کہاں ملتا ہے؟ وہ تو ظلمت حیوانی کا نقیب تھا اور مغرب کی آج کی فحاشی اور جنسی ہوس وآزادہ روی ڈارون کے فلسفہ ارتقا کی مرہون منت ہے کہ جب انسان بندر (چمپانزی) سے ترقی کر کے انسان بنا ہے تو اس میں وہی خصائص ہونے چاہییں جو بندر میں ہوتے ہیں۔

اس موقع پر جو حوالہ ڈاکٹر آصف صاحب نے ارتقاے خودی کے ضمن میں اسرار خودی سے دیا ہے، اس کا موضوع سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ارتقا تو زندگی کے ہر مرحلے میں بلکہ نطفہ سے پیدایش طفل اور پھر طفولت سے بلوغت وکہولت تک جاری وساری ہے۔ انسان جاہل ہوتا ہے، پڑھ لکھ کر عالم بنتا ہے، خطیب بنتا ہے، مصنف بنتا ہے، مخترع بنتا ہے وغیرہ۔ ڈارون ا س ارتقا کی نشان دہی کے لیے مشہور نہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ آگے چل کر وہ تضاد بیانی کا شکار ہوتے ہیں جب یہ فرماتے ہیں کہ: ’’اقبال اور ڈارون کا ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اقبال کے نزدیک تمام مادہ کی حقیقت روحانی ہے۔‘‘ (مزید تضاد کے لیے ملاحظہ ہو ص ۴۰، ۴۱۔۴۳)

مضمون کے آخر میں پروفیسر انعام الرحمن صاحب نے بھی ایسا ہی ظلم اقبالؒ پر روا رکھا ہے، بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ۔ وہ فرماتے ہیں: 

’’اقبال نے جہاں جمود زدہ مسلم فکر میں حرکت پیدا کر کے مسلم معاشرے کی مردہ رگوں میں زندگی کی لہر دوڑا دی، وہاں نطشے اور ڈارون کے افکار کی اسلای تعلیمات سے تطبیق کی کوشش میں مسلم معاشرے کی روایتی فکر کو بری طرح مجروح کیا۔‘‘

علامہ اقبال کے خلاف ایسا زہر آلود اور جاہلانہ جملہ آج تک نہیں پڑھا۔ تقسیم ہند سے قبل ملحدانہ فکر رکھنے والے یا لادین ترقی پسند مصنفین اقبال کی فکر کے ڈانڈے نطشے، بائرن، ہیگل، کارل مارکس وغیرہ سے ملاتے تھے اور ان کی اس تمام شاعری سے آنکھیں بند کر لیتے تھے جس میں قرآنی حقائق کی ترجمانی ہے۔ مولانا رومی سے اخذ واقتباس ہے، فکر فرنگ پر بے لاگ کڑی تنقید ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اور آپ کے پیغام سے محبت کا بے پناہ اظہار ہے، یا پھر میاں انعام الرحمن صاحب کا یہ مفتریانہ جملہ میں نے اب پڑھا ہے۔ کیا انھوں نے علامہ مرحوم کی نظم ’’ایک فلسفہ زدہ سید زادہ سے خطاب‘‘ نہیں پڑھی؟ ضرب کلیم میں اب پڑھ لیں، اور خاص طور سے یہ اشعار:

تو اپنی خودی اگر نہ کھوتا
زناری برگساں نہ ہوتا
ہیگل کا صدف گہر سے خالی
ہے اس کا طلسم سب خیالی
دیں مسلک زندگی کی تقویم
دیں سر محمد وبراہیم
اے پو زعلی ز بوعلی چند
دل در سخن محمدی بند
چوں دیدہ راہ بیں نداری
قائد قرشی بہ از بخاری

(ابو علی سینا بخارا کا رہنے والا تھا)

اب جہاں تک ڈارون کا تعلق ہے تو علامہ اقبالؒ نے پیام مشرق میں یورپ کے بہت سے فلسفیوں اور سائنس دانوں، ہیگل، کارل مارکس، شوپن ہار، نیٹشہ، آئن سٹائن وغیرہ کے بارے میں اشعار وقطعات لکھے ہیں، لیکن انھوں نے ڈارون کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے اور جہاں تک نیٹشہ کا تعلق ہے، وہ فرماتے ہیں:

حریف نکتہ توحید ہو سکا نہ حکیم
نگاہ چاہیے اسرار لا الٰہ کے لیے 

اور اس کے بارے میں ان کا یہ فارسی مصرع تو بہت مشہور ہے : قلب او مومن دماغش کافر است۔

اور جہاں تک ان کی انگریزی کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islam کا تعلق ہے تو اس میں صرف دو جگہ ڈارون کا نام ہے اور دونوں جگہ تنقیدی انداز میں۔ ڈارون کے نیچرل ہسٹری کے بارے میں ڈاکٹر آصف نے اس کے Concept of Mechanism کا ذکر تو انگریزی اقتباس میں دے کر کیا، لیکن اس کے فوراً بعد علامہ اقبال کا دوسرا جملہ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس Concept (نظریہ) کے حامی نہیں تھے، نقل نہیں کیا جو یہ ہے:

And the battle for and against mechanism is still being fiercely fought in the domain of biology. (p. 41)

اپنی پوری کتاب میں علامہ اقبال نے کہیں بھی ڈارون کے نظریہ ارتقاء حیوانی کو قبول (endorse) نہیں کیا ہے۔ یہ علمی دیانت داری کے خلاف بات تھی کہ ڈاکٹر آصف صاحب نے اقبال کے جملہ مکملہ کو نہیں لکھا۔ یہی نہیں، وہ آگے چل کر اسی کتاب میں نیٹشہ اور ڈارون دونوں کے بارے میں اپنی رائے کا بے لاگ اظہار اس طرح کرتے ہیں:

Yet Neitzsche was a failure; and his failure was mainly due to his intellectual progenitors such as Schopenhauer, Darwin, and Lange whose influence completely blinded him to the real significance of his vision. (p. 195)
(اس کے باوجود نیٹشہ ایک ناکام شخص تھا اور اس کی ناکامی کا سبب اس کے فکری مربی تھے جیسے شوپنہار، ڈارون اور لینج جن کے اثرات نے اس کو اس کی بصیرت کی امتیازی شان سے اندھا کر دیا)۔

آگے اسی صفحہ پر نٹشہ پر مزید کڑی تنقید ہے۔ علاوہ ازیں اہل نظر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اقبال کی بنیادی فکر وفلسفہ ان کے نو فارسی واردو دواوین میں ہے، ان کی انگریزی نثری کتاب میں نہیں۔

امید ہے کہ ’الشریعہ‘ ایسے مضامین کی اشاعت سے گریز کرے گا جو حقائق مسخ کر دیں۔

خاکسار

(ڈاکٹر) سید رضوان علی ندوی

5۔ گلی P خیابانِ سحر فیز6

ڈیفنس کراچی

(۲)

گرامی قدر مکرمی جناب مولانا عمار خان صاحب زید ت درجاتکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاج گرامی؟

بلاطلب استحقاق آپ کاموقر جریدہ مسلسل کئی ماہ سے مل رہا ہے۔ یہ آپ کا کرم بالائے کرم ہے۔ جزاک اللہ تعالیٰ۔ بوجوہ رسید کی اطلاع کر سکا ن ہی ا س نعمت غیر مترقبہ کا شکریہ ادا کر سکتا۔ معذرت ومغفرت کی درخواست ہے۔

متفق علیہ نکات پر امت کو مجتمع کرنے کی ضرورت ہے۔ مختلف نقطہ ہائے نظر کی اشاعت سے فکری انتشار بڑھے گا۔ براہ کرم آپ اس کو چوراہا یا دھوبی گھاٹ بنائیے۔ آپ کا قلم، آپ کی جملہ توانائیاں امت کی امانت ہیں جسے آپ امت مسلمہ کے مجموعی مفاد میں استعمال کیجیے۔ اللہ آپ کے قلم کو رواں اور ہمت کو جواں رکھے۔ آمین

بہرکیف یہ تاثر ہے جو عرض کر دیا۔ امید ہے کہ خاطر عاصر پر گراں نہ گزرے گا۔

والسلام علیکم

حبیب الرحمن ہاشمی

جامع مسجد نشتر میڈیکل کالج

ملتان

۱۳؍ اکتوبر ۲۰۰۵

مکاتیب