تعارف و تبصرہ

ادارہ

’’بائبل کا تحقیقی جائزہ‘‘

جناب بشیر احمد ایک تجربہ کار اور وسیع المطالعہ مصنف ہیں اور قادیانی ویہودی تعلقات کے حوالے سے ’’تحریک احمدیت‘‘ کے زیر عنوان ایک ضخیم دستاویزی کتاب مرتب کرنے کے علاوہ بہائی مذہب اور یہودی تنظیم فری میسنری پر بھی معلوماتی کتابیں پیش کر چکے ہیں۔ زیر نظر تصنیف میں انھوں نے بائبل کے متن کے تاریخی وتحقیقی جائزے کا اپنا موضوع بنایا ہے اور انسائیکلو پیڈیاز اور دیگر مستند علمی مآخذ کے ایک قابل قدر ذخیرے سے استفادہ کرنے کے بعد بائبل کے متن کی ترتیب وتدوین، اس کے تاریخی ارتقا، مقدس صحائف کے مختلف نسخوں، تاریخی اہمیت رکھنے والے تراجم اور دور جدید میں بائبل پر ہونے والی علمی وفنی تنقید کے مختلف پہلووں پر بنیادی اور اہم معلومات جمع کر دی ہیں۔ 

کتاب یقیناًایک اہم علمی موضوع پر ہے اور اس میں، عام مذہبی روایت کے برعکس، مناظرانہ انداز سے بھی بالعموم اجتناب کیا گیا ہے، تاہم ترتیب وپیش کش کے پہلو سے کتاب میں بہتری پیدا کرنے کی کافی گنجایش موجود ہے۔ اندازہ یہ ہوتا ہے کہ نوٹس کی صورت میں کتاب کا مواد جمع کرنے کے بعد موضوع کی تسہیل اور مواد کی مناسب پیش کش کے لیے درکار ترتیب وتہذیب کا خاص اہتمام نہیں کیا گیا۔ جا بجا ایسے پیرا گرافس ملتے ہیں جن میں جملوں کے مابین کوئی منطقی ربط تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات پر تاریخی نظریات وواقعات کا حوالہ اس طرح اجمال واختصار سے آیا ہے کہ مسئلے کی پوری تصویر قاری کے سامنے نہیں آتی۔ اسی طرح بعض ایسے ابواب شامل کتاب کر لیے گئے ہیں جو فنی طور پر کتاب کے عنوان کے دائرے میں نہیں آتے، مثلاً باب چہارم ابتدائی دور کے مسیحی فرقوں کی فہرست پر مشتمل ہے، باب نہم میں اسلام اور عیسائیت کے عقائد کا تقابل کیا گیا ہے جبکہ باب دہم میں مسلم ممالک میں عیسائی مشنریوں کے تبلیغی حربوں کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں ترتیب کتاب میں عہد نامہ جدید کو ناقابل فہم طور پر عہد نامہ قدیم سے مقدم کر دیا گیا ہے۔ پروف خوانی کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں۔ 

ان فنی نقائص سے قطع نظر یہ کتاب، ایک ایسے قاری کے لیے جو انگریزی مآخذ تک براہ راست رسائی نہیں رکھتا، موضوع سے واقفیت کا ایک اچھا اور قابل استفادہ ماخذ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہر باب کے آخر میں مزید مطالعہ کے لیے کتب تجویز کی گئی ہیں جو خصوصی طور پر ایک مفید چیز ہے۔ 

۱۸۸ صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت ۱۵۰ روپے درج ہے اور اسے اسلامک اسٹڈی فورم (پوسٹ بکس ۶۳۹ اسلام آباد) نے شائع کیا ہے۔ 

سہ ماہی ’’التفسیر‘‘ کراچی

برصغیر کے مذہبی مکاتب فکر میں سے بریلوی مکتب فکر عام طور پر علمی وتحقیقی مسائل سے عدم دلچسپی اور عامیانہ تصوف کی نمائندگی کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ حیات اجتماعی کی مشکلات اور اعلیٰ سطحی فکر وتدبر سے گریز کی ایک عمومی کیفیت اگرچہ اب بھی پائی جاتی ہے، تاہم مولانا غلام رسول سعیدی اور پیر کرم شاہ صاحب الازہری جیسے اصحاب علم کی کاوشوں کے نتیجے میں پچھلے کچھ عرصے میں صورت حال میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ مذکورہ دونوں بزرگوں کی ایک اور امتیازی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے فقہ حنفی کی علمی روایت کے ساتھ وابستہ ہونے کے باوجود بہت سے مسائل میں علمی دلائل اور اجتماعی مصالح کی روشنی میں دوسری فقہی آرا سے اخذ واستفادہ کے باب میں وسیع المشربی کا طریقہ اپنایا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کے منتسبین میں بھی اس رجحان کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ 

زیر نظر جریدہ مولانا غلام رسول صاحب سعیدی کے حلقہ فکر کے ایک صاحب علم اور جامعہ کراچی میں فقہ وتفسیر کے استاد ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج صاحب کی زیر ادارت شائع ہوتا ہے۔ ہمارے سامنے اس کا تیسرا شمارہ (جولائی تا ستمبر ۲۰۰۵) ہے جو مختلف علمی وفقہی مضامین پر مشتمل ہے اور ان میں سے بعض مضامین علمی مسائل میں آزادانہ غور وفکر کا نمونہ بھی پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر محمد شکیل اوج شرعی اصولوں اور فقہی جزئیات پر غور کرنے کے بعد مروجہ فقہی فتوے کے برعکس، اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خواتین کے لیے ناخن پالش لگانا اور اس کو اتارے بغیر وضو اور غسل کرنا شرعی لحاظ سے بالکل درست ہے۔ ایک دوسرے مضمون میں محمد عارف خان ساقی صاحب کے نتائج تحقیق یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹخنوں کو ننگا رکھنے کا حکم عرب کی مخصوص معاشرتی روایت کے تناظر میں تکبر اور نخوت کی علت کی بنا پر دیا تھا جس کا دنیا کے مختلف معاشروں میں رائج لباس کی تمام شکلوں پر اطلاق نہیں کیا جا سکتا، چنانچہ ’’حالت نماز میں پائنچے سے ٹخنے ڈھکے رہنے کی صورت میں نماز کی صحت اور درستگی پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔ نماز کے ’’واجب الاعادہ‘‘ ہونے کا قول محض بے اعتدالی ہے۔ کسی ذاتی ضرورت یا مصلحت کے تحت شلوار کو آدھی پنڈلی پر یا ٹخنے سے اوپر رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ شریعت لوگوں کے روزہ مرہ میں نہیں الجھتی۔‘‘

توقع کی جا سکتی ہے کہ یہ جریدہ تحقیقی رجحانات اور مثبت علمی رویوں کے فروغ میں ایک مفید کردار ادا کرے گا۔

اس جریدے کی اشاعت کا اہتمام مجلس التفسیر کراچی کی جانب سے کیا جاتا ہے اور اس سے متعلق معلومات کے لیے پوسٹ بکس ۸۴۱۳، جامعہ کراچی، کراچی ۷۵۲۷۰ کے پتے پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہنامہ ’’حق چاریار ‘‘ (اشاعت خاص)

ماہنامہ حق چاریار کا زیر نظر خصوصی شمارہ تحریک خدام اہل سنت کے بانی اور قائد مولانا قاضی مظہر حسین علیہ الرحمۃ کی یاد میں شائع کیا گیا ہے اور اس میں مولانا مرحوم کے حالات زندگی اور علمی وتصنیفی خدمات کے تذکرہ کے علاوہ ان کے ساتھ استفادہ وعقیدت کا تعلق رکھنے والے بیسیوں اہل قلم کے تاثرات، مختلف عنوانات پر مولانا کی تحریریں ، ان کے نام اکابر کے خطوط اور تحریروں کے عکسی نمونے جمع کر دیے گئے ہیں۔ 

خالصتاً عقیدت کی نگاہ سے مطالعہ کرنے والے قارئین کا معاملہ الگ ہے، لیکن سوانحی لٹریچر سے دلچسپی رکھنے والا ایک عام باذوق قاری مولانا مرحوم جیسی شخصیت پر تیرہ سو سے زائد صفحات کے اس خصوصی نمبر کی تیاری میں جس درجے کی محنت اور فنی مہارت کی توقع کر سکتا ہے، وہ نمایاں طور پر مفقود ہے۔ مشمولہ تحریرات کا بیشتر حصہ مولانا کی وفات پر اخبارات وجرائد میں شائع ہونے والے یا منتسبین سے خصوصی طور پر لکھوائے گئے متفرق اور جزوی نوعیت کے تاثرات پر مشتمل ہے جو کسی طرح بھی مولانا کی شخصیت، سوانح اور خدمات کے اہم پہلوؤں پر مستقل اور مفصل مضامین کا بدل نہیں ہو سکتے۔ مواد کے ’انتخاب‘ اور ترتیب وپیشکش کے پہلوؤں سے بھی یہ خصوصی اشاعت زیادہ قابل اطمینان نہیں ہے۔

اس ضخیم اشاعت کی رعایتی قیمت ۳۰۰ روپے مقرر کی گئی ہے اور اسے دفتر ماہنامہ حق چاریار، متصل جامع مسجد میاں برکت علی، ذیل دار روڈ، اچھرہ لاہور سے طلب کیا جا سکتا ہے۔

’’بھینس کی قربانی‘‘

قرآن مجید میں قربانی کا حکم دیتے ہوئے ’’بہیمۃ الانعام‘‘ یعنی چوپایوں میں سے بہیمہ قسم کے جانوروں کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جن میں اونٹ، گائے اور بکری شامل ہیں۔ فقہی روایت میں بھینس کو بھی گائے ہی کی ایک نوع شمار کر کے اس کی قربانی کو جائز تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اہل حدیث مکتبہ فکر کے بعض اہل علم اس رائے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ مولانا حافظ نعیم الحق ملتانی نے، جو خود ایک اہل حدیث عالم ہیں، جمہور فقہا کی رائے کی تائید اور مخالفین کے نقطہ نظر کی تردید میں علمی مباحث کا ایک اچھا ذخیرہ زیر نظر کتاب میں جمع کر دیا ہے جو موضوع سے دلچسپی رکھنے والے حضرات کے لیے قابل مطالعہ ہے۔

۲۴۴ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مکتبہ دار الحسنیٰ، سمبڑیال روڈ ڈسکہ نے شائع کی ہے اور اس کی قیمت ۱۰۰ روپے ہے۔

تعارف و تبصرہ