ستمبر ۲۰۰۵ء

دینی مدارس کی اسناد اور رجسٹریشن کا مسئلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

دینی مدارس کی اسناد کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رجسٹریشن کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس بیک وقت سامنے آئے ہیں اور دین کی تعلیم دینے والی درس گاہیں ایک بار پھر ملک بھر میں گفتگو اور تبصروں کا موضوع بن گئی ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس سے قبل عبوری فیصلے میں دینی مدارس کی اسناد رکھنے والوں کو بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دے دی تھی مگر الیکشن کے پہلے مرحلے سے صرف دو روز قبل حتمی فیصلہ صادر کر کے یہ قرار دے دیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں سے شہادۃ ثانیہ رکھنے والے افراد نے چونکہ مطالعہ پاکستان، انگلش اور اردو کے لازمی مضامین کا میٹرک...

ہم جنس پرستی کا سیلاب اور ہماری ذمہ داریاں

― مولانا محمد یوسف

معاشرے کی وہ حس تیزی سے کند ہوتی جا رہی ہے جو کسی نازیبا حرکت پر آتش زیرپا ہوجایا کر تی تھی اور اس حرکت کے مر تکب کے خلاف احتجاج کی ایک تند و تیز لہر بن کر ا بھرتی تھی۔ یہی و جہ ہے کہ دور حاضر میں لادینی قوتیں اپنے تمام ترمذموم ہتھکنڈوں کے ساتھ ہمارے گھر کی دہلیز پر ڈیرا جما ٰئے بیٹھی ہیں اور ہماری سوچ کے دھاروں کو اپنی تعفن زدہ فکر سے آلودہ کرنے کے لیے مصروف کار ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے کہ اگر ہماری بے حسی کے باعث لادینیت کی ا ن بپھری ہوئی موجوں نے ہمارے گھروں کا مو رچہ بھی سر کر لیا تو پھر آنے والی نسلوں کا خدا ہی حافظ ہے۔ ہمارا حال تویہ ہے کہ جب مغرب...

تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت

― یوسف خان جذاب

جولائی ۲۰۰۵ کے ’الشریعہ‘ میں شاہ نواز فاروقی صاحب کی تحریر، جو انھوں نے پروفیسر شاہدہ قاضی کے مضمون ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ کے جواب میں لکھی ہے، نظر سے گزری۔ پروفیسر شاہدہ قاضی صاحبہ نے اپنے مذکورہ مضمون میں جو کچھ لکھا، اس سے کلی اتفاق تو نہیں کیا جا سکتا، لیکن انگریزی کے اس فقرے کے مصداق کہ: Allegations are not facts, but they are based on facts، (الزامات حقائق تو نہیں ہوتے، لیکن حقائق پر مبنی ضرور ہوتے ہیں) ان کے مضمون کے سمندر میں حقائق کے موتی تہہ نشیں تھے جس سے ان کی حب الوطنی، اسلام سے ان کے لگاؤ اور حقیقت پسندی پر ان کے غیر متزلزل ایمان کا اندازہ...

انسان کا حیاتیاتی ارتقا اور قرآن

― ڈاکٹر محمد آصف اعوان

قرآن پاک کا بغور مطالعہ کرنے سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ ارتقا سنتِ الٰہی ہے اور کارخانہ قدرت میں ہر سو اسی کی کارفرمائی ہے ۔اللہ اپنی ربوبیت سے مختلف انواع کو پیدا کرتا ،انہیں تاریخی مراحل سے گزارتا اور اکملیت کی جانب گامزن رکھتا ہے ۔اللہ اگر چاہے تو کسی بھی چیز کو فوراً مکمل حالت میں نیست سے ہست میں لے آئے لیکن ایسا کرنا اس کی شانِ ربوبیت کے خلاف ہے ۔خلیفہ نصیرالدین صدیقی اپنی کتاب "The Quran And the World Today"میں لفظ ’’ِ رب‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز...

غیر مادی کلچر میں عورت کے سماجی مقام کی تلاش

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

جب سے یہ کائنات بنی ہے اور جب سے انسان نے زمین پر قدم رکھا ہے ، تب سے اس ارضِ رنگ و بو میں خیر و شر کا معرکہ برپا ہے ۔ اب تک کی معلوم تاریخ کی یہی مختصر داستان ہے۔ اگر ہم انسانی تاریخ کے مخصوص احوال و ظروف پر عمیق نظر رکھتے ہوئے اس کی معنوی شناسائی کے درپے ہوں تو معلوم تاریخ، انسانیت کی جستجو سے عبارت دکھائی دے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ نوعِ انسانی کئی صدیوں سے اپنی ضروریات کے جبر اور تخیلات کی پرواز کے ذریعے مادی کلچر کو منصہ شہود پر لا رہی ہے۔ تلوار، ٹینک، بندوق، ہل، ٹریکٹر، جہاز اور میزائل سے لے کر تفریحی کھیلوں اور آرٹ کے متجسم نمونوں تک انسانی ترقی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی ومحترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب زید مجدہ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی! انتہائی سپاس گزار ہوں کہ ایک عرصہ سے آپ کا موقر ماہنامہ ’الشریعہ‘ موصول ہو رہا ہے، مگر یہ ناکارہ اس کی کوئی رسید بھی نہ بھیج سکا۔اس کوتاہی کے باوجود ’الشریعہ‘ مسلسل مل رہا ہے۔ یہ بس آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ اس محبت وشفقت پر مکرر شکر گزار ہوں۔ ادارہ میں آنے والے جرائد ورسائل میں ایک ’الشریعہ‘ بھی ہے جسے بالاستیعاب پڑھتا ہوں اور اس کے مضامین سے استفادہ کرتا ہوں۔ ’الشریعہ‘ کے ذریعے بلاشبہ سب کے دلوں کی ترجمانی ہوتی رہتی ہے اور یہ آپ کی وسعت ظرفی کا...

’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ : ایک مطالعہ

― حافظ صفوان محمد چوہان

ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کا سفرنامۂ اندلس ’’پوشیدہ تری خاک میں۔۔۔‘‘ پڑھا۔ جو چند باتیں فوری طور پر ذہن میں جگہ پاگئی ہیں، اُنھیں ایک امانت خیال کرتے ہوے معرضِ تحریر میں لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلی اور نمایاں بات تو یہ ہے کہ پونے تین سو صفحات کے اِس سفرنامے میں، جو کہ سرزمینِ یورپ کے دو ممالک کے سفر کی روداد ہے، ایک جگہ پر بھی کوئی خاتون در نہیں آئی-- نہ اِشارتاً نہ صورتاً۔ یہ بات نمایاں اِس لیے ہے کہ اردو میں سفرنامہ لکھنا جب سے ’’صنعت‘‘ کی شکل اختیار کرگیا ہے، Marketing کا یہ اُصول کہ ہر چیز کی تشہیر عورت کے ذریعے سے ہو، ہر سفرنامے...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’بائبل کا تحقیقی جائزہ‘‘۔ جناب بشیر احمد ایک تجربہ کار اور وسیع المطالعہ مصنف ہیں اور قادیانی ویہودی تعلقات کے حوالے سے ’’تحریک احمدیت‘‘ کے زیر عنوان ایک ضخیم دستاویزی کتاب مرتب کرنے کے علاوہ بہائی مذہب اور یہودی تنظیم فری میسنری پر بھی معلوماتی کتابیں پیش کر چکے ہیں۔ زیر نظر تصنیف میں انھوں نے بائبل کے متن کے تاریخی وتحقیقی جائزے کا اپنا موضوع بنایا ہے اور انسائیکلو پیڈیاز اور دیگر مستند علمی مآخذ کے ایک قابل قدر ذخیرے سے استفادہ کرنے کے بعد بائبل کے متن کی ترتیب وتدوین، اس کے تاریخی ارتقا، مقدس صحائف کے مختلف نسخوں، تاریخی اہمیت...