سرسید کے بارے میں تاریخی افسانوں کی حقیقت

ضیاء الدین لاہوری

الشریعہ کے گزشتہ تین شماروں میں ’’تاریخی افسانے اور ان کی حقیقت‘‘ کے عنوان سے پروفیسر شاہدہ قاضی، جناب شاہ نواز فاروقی اور مسٹر یوسف خان جذاب کی علمی بحث مطالعے میں آئی۔ اول الذکر اور موخر الذکر نے تاریخی افسانوں کے رد میں بڑے ہاتھ پاؤں مارے ہیں۔ اس رد وقدح میں سرسید کے بارے میں ایسی باتوں کو بھی حقیقت کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو خود تاریخی افسانوں کے ضمن میں آتی ہیں اور جن کی اشاعت ہمارا تعلیمی نصاب اور ذرائع ابلاغ کئی نسلوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ راقم ایک محدود دائرے میں اس موضوع پر سرسید کی اپنی تحریروں سے حقیقت کی نقاب کشائی کرنے کی جسارت کرتا ہے۔

فاروقی صاحب نے اپنے مضمون میں تحریر کیا تھا کہ 

’’سرسید بلاشبہ انگریزوں کے وفادار تھے بلکہ تاریخی شواہد سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ مجاہدین آزادی کی مخبری کرتے رہے۔‘‘ (ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ، جولائی ۲۰۰۵ء، ص ۲۲)

مسٹر جذاب نے اس پر یہ تبصرہ فرمایا کہ یہ بات 

’’سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔‘‘ (ایضاً، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸)

اس سلسلے میں ہم سرسید ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ وہ اس الزام پر اپنے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں وہ اپنے کردار کی وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:

’’بڑا شکر خدا کا یہ ہے کہ اس ناگہانی آفت میں، جو ہندوستان میں ہوئی، فدوی بہت نیک نام اور سرکار دولت مدار انگریزی کا طرف دار اور خیر خواہ رہا۔‘‘ (مکتوبات سرسید، مجلس ترقی ادب لاہور، جلد اول ۱۹۸۵ء، ص ۴۰۹)

اس خیر خواہی کے عوض انھیں کیا ملا، ان کی زبانی ملاحظہ فرمائیے:

’’اس کے عوض میں سرکار نے میری بڑی قدر دانی کی، عہدہ صدر الصدور پر ترقی کی اور علاوہ اس کے دو سو روپیہ ماہواری پنشن مجھ کو اور میرے بڑے بیٹے کو عنایت فرمائے اور خلعت پانچ پارچہ اور تین رقم جواہر، ایک شمشیر عمدہ قیمتی ہزار روپیہ کا اور ہزار روپیہ نقد واسطے مدد خرچ کے مرحمت فرمایا۔‘‘  ( لائل محمڈنز آف انڈیا، سرسید احمد خان، مون لائٹ پریس میرٹھ، ۱۸۹۸ء، ص ۱۰۱)

انعام واکرام کی درج بالا رقوم کی مالیت کا تعین موجودہ زمانے کے حساب سے نہیں، بلکہ ڈیڑھ سو برس قبل کے دور کے مطابق کرنا ضروری ہے۔ انگریزوں کی وفاداری کا یہ جذبہ اس واقعہ کے چالیس سال بعد یعنی ان کی حیات کے آخری سال میں بھی پوری طرح کارفرما تھا۔ لکھتے ہیں:

’’ہمارا مذہبی فرض ہے کہ ہم گورنمنٹ انگریزی کے خیر خواہ اور وفادار رہیں اور کوئی بات قولاً وفعلاً ایسی نہ کریں جو گورنمنٹ انگریزی کی خیر خواہی اور وفاداری کے برخلاف ہو۔‘‘  (آخری مضامین، سرسید احمد خان، رفاہ عام پریس لاہور، ۱۹۰۰، ص ۱۰۱)

ثابت ہو ا کہ سرسید مرتے دم تک انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے رہے۔ ایک موقع پر وہ مسلمانوں کو انگریزوں کی اطاعت کی تلقین کرتے ہوئے اپنی فرماں برداری کا عرصہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’ہندوستان میں برٹش گورنمنٹ خدا کی طرف سے ایک رحمت ہے۔ اس کی اطاعت اور فرماں برداری اور پوری وفاداری اور نمک حلالی، جس کے سایہ عاطفت میں ہم امن وامان کی زندگی بسر کرتے ہیں، خدا کی طرف سے ہمارا فرض ہے۔ میری یہ رائے آج کی نہیں، بلکہ پچاس ساٹھ برس سے میں اسی رائے پر قائم اور مستقل ہوں۔‘‘  (مکمل مجموعہ لکچرز سرسید، مصطفائی پریس لاہور، ۱۹۰۰ء، ص ۲۲۲)

ان کے یہ خیالات ۱۸۷۳ کے ہیں۔ سنہ پیدایش ۱۸۱۷ ہے۔ گویا ان کے وفادارانہ جذبات کی بنیاد ان کے بچپن میں پڑی۔ اس حساب سے وہ اپنی پیدایش سے وفات تک انگریزوں کے وفادار رہے۔ وہ اپنی تمنا کا اظہار یوں کرتے ہیں:

’’ہماری خواہش ہے کہ ہندوستان میں انگلش گورنمنٹ صرف ایک زمانہ دراز تک ہی نہیں بلکہ اٹرنل (Eternal) ہونی چاہیے۔‘‘ (ایڈریس اور اسپیچیں متعلق ایم اے او کالج، مرتبہ نواب محسن الملک، انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ، ۱۸۹۸ء، ص ۷۵)

سرسید کے ایسے خیالات کے اندراج کے لیے ایک دفتر چاہیے۔ اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے درج بالا اقتباسات پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے کہ یہی ان کی وفاداری کے ثبوت کے لیے کافی ہیں۔

سرسید پر دوسرا الزام مجاہدین آزادی کی مخبری کا ہے۔ اس کی صداقت جاننے کے لیے ہم ان کی تاریخی تصانیف کی ورق گردانی کرتے ہیں۔ ’’لائل محمڈنز آف انڈیا‘‘ میں وہ جنگ آزادی کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’جب غدر ہوا، میں بجنور میں صدر امین تھا کہ دفعتاً سرکشی میرٹھ کی خبر بجنورمیں پہنچی۔ اول تو ہم نے جھوٹ جانا مگر جب یقین ہوا تو اسی وقت سے میں نے اپنی گورنمنٹ کی خیر خواہی اور سرکار کی وفاداری پر چست کمر باندھی۔‘‘  (لائل محمڈنز آف انڈیا، جلد اول، ص ۱۳)

اپنی تصنیف ’’سرکشی ضلع بجنور‘‘ میں سرسید نے اپنی وفاداری کے کاموں کا ذکر بڑی تفصیل اور فخر سے بیان کیا ہے۔ نواب محمود خان نے جب بجنور پر قبضہ کیا تو انھوں نے اپنی جان کو داؤ پر لگا کر انگریزوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے میں اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا۔ وہ ان کے ساتھ نہیں گئے۔ کیوں؟ انگریزوں کے اخبار ’’مارننگ ایڈورٹائزر‘‘ مورخہ ۱۲ دسمبر ۱۸۸۵ء میں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے:

’’سرسید احمد پیچھے بجنور میں نواب (محمود خاں) کی ملازمت کے بہانے ٹھہرے مگر یہ قیام دراصل انگریز آقاؤں کے لیے کام کرنے کی خاطر تھا۔‘‘

اس کام کا آغاز انھوں نے جس طرح کیا، سرسید اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’نواب نے ہم کو کہا کہ تم سب اپنا اپنا کام کرو۔ اس وقت میں نے اور سید تراب علی تحصیل دار اور پنڈت رادھا کرشن ڈپٹی انسپکٹر نے باہم مشورہ کیا اور آپس کی ایک کمیٹی بنائی اور یہ تجویز کی کہ ہم میں سے کوئی شخص کوئی کام نہ کرے جب تک کہ باہم کمیٹی کے اس کی صلاح نہ ہو لے۔ چنانچہ اسی وقت کام کرنے کے باب میں یہ رائے ٹھہری کہ میر سید تراب علی تحصیل دار بجنور کو جو ضروری حکم نواب کا پہنچے، اس کو لاچار تعمیل کریں اور باقی احکام سب ملتوی پڑے رہنے دیں اور باقی مال گزاری، بجز اس قدر روپیہ کے جس سے تنخواہ عملہ تحصیل وتھانہ تقسیم ہو جائے، اور کچھ وصول نہ کریں۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا اور بخش رام تحویل دار کی معرفت، کہ وہ بھی خیر خواہ سرکار اور ہمارا ہم راز تھا، جو مال گزار آیا اس کو فہمایش کی کہ روپیہ مت دے۔ ‘‘(سرکشی ضلع بجنور، سرسید احمد خان، مون لائٹ پریس آگرہ، ۱۸۵۸ء، ص ۳۲)

اس دوران منیر خاں جہادی ان کے درپے ہوا۔ اس کا ذکر سرسید کی اپنی زبانی سنیے جس میں انھوں نے انگریزوں سے سازش رکھنے کا برملا اعتراف کیا ہے:

’’منیر خاں جہادی نے بجنور میں بہت غلغلہ مچایا اور مجھ صدر امین اور رحمت خاں ڈپٹی کلکٹر اور میر سید تراب علی تحصیل دار بجنور پر یہ الزام لگایا کہ انھوں نے انگریزوں کی رفاقت کی ہے اور ان کو زندہ بجنور سے جانے دیا ہے اور اب بھی انگریزوں سے سازش اور خط وکتابت رکھتے ہیں، اس لیے ان کا قتل واجب ہے۔ اور درحقیقت ہماری خفیہ خط وکتابت جناب مسٹر جان کری کرافٹ ولسن صاحب بہادر سے جاری تھی۔‘‘ (ایضاً، ص ۳۷)

مزے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے اپنی تصنیف میں ان خطوط کی نقول بھی شامل کی ہیں جو انھوں نے خفیہ طور پر انگریزوں کو لکھے۔ ان میں ’’باغیوں‘‘ کی عسکری کیفیت بیان کر کے بار بار بجنور پر جلد از جلد حملہ آور ہونے کی ترغیب دی گئی ہے۔ ساری کتاب ان کی انگریزوں سے جاں نثاری کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ پھر جب حالات سے مجبور ہو کر وہ بجنور سے بھاگے اور بعد میں انگریزی فوج نے بجنور پر چڑھائی کی تو وہ اس کے عقب میں رواں دواں تھے۔ ایک محاربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’تمام جنگل اور سڑک پر ہتھیار بکھرے ہوئے تھے اور ہر ہر قدم پر لاش پڑی تھی۔ میں، جو لشکر محارب کے پیچھے پیچھے چلا آتا تھا، قصداً لاشوں کو دیکھتا تھا کہ شاید کوئی شناخت میں آئے مگر کوئی نامی آدمی نہیں مارا گیا، البتہ دو لاشیں ملنگان نمک حرام کی نظر پڑیں۔ ......‘‘ (ایضاً، ص ۱۳۳)

پوری کتاب حریت پسندوں کے لیے غلیظ گالیوں سے بھری پڑی ہے۔ مفسد، غنیم، غادر، کم بخت، بد ذات، بد نیتی اور فساد کا پتلا، بدمعاش، قدیمی بدمعاش، پکا بدمعاش اور حرام زادہ جیسے الفاظ بکثرت استعمال کیے گئے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ تمام ’’القابات‘‘ مسلمانوں کو دیے گئے ہیں جبکہ ہندووں کا ذکر بڑے احترام کے ساتھ کیا گیا ہے۔

اپنی بحث میں سرسید کی وکالت کرتے ہوئے مسٹر جذاب لکھتے ہیں کہ 

’’ ایک طرف ہندو اور انگریز ان کے مخالف تھے تو دوسری طرف مسلمان ان کو تکفیر کے ہار پہنا رہے تھے۔‘‘ (الشریعہ گوجرانوالہ، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸)

کیا موصوف یہ بتانا گوارا کریں گے کہ کس نسل کے انگریز ان کی مخالفت کر رہے تھے؟ الف سے یا تک سب ان کے دوست تھے۔ ایک انگریز کرنل نے سب سے پہلے ان کی سوانح حیات لکھ کر انھیں بلند مقام عطا کیا۔ ہندوستان سے برطانیہ تک انگریزی اخبارات ان کی تعریفوں کے پل باندھتے رہے۔ لندن گئے تو ملکہ معظمہ کی خدمت حاضری کا شرف حاصل ہوا اور گھٹنے ٹیک کر ان کے ہاتھ کو بوسا دیا۔ کالج بنا تو انگریزوں کی مدد سے جس کے بیشتر اساتذہ اور پرنسپل انگریز تھے اور کالج کے اغراض ومقاصد میں یہ بات شامل تھی:

’’ہندوستان کے مسلمانوں کو سلطنت انگریزی کی لائق وکارآمد رعایا بنانا۔‘‘ (ایڈریس اور اسپیچیں، ص ۳۲)

کالج کے ٹرسٹیوں کے ایک اعلان کے مطابق:

’’من جملہ کالج کے مقاصد اہم کے یہ مقصد نہایت اہم ہے کہ یہاں کے طلبہ میں حکومت برطانیہ کی برکات کا سچا اعتراف اور انگلش کیرکٹر کا نقش پیدا ہو۔‘‘ (تذکرہ وقار، محمد امین زبیری، عزیزی پریس آگرہ، ۱۹۳۸ء، ص ۲۱۲)

سرسید کے دست راست اور جانشیں محسن الملک فرماتے ہیں:

’’اس کا بیج تو بویا سرسید نے، اب جب کہ یہ پھلے پھولے گا اور اس میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تہذیب، شایستگی، علمی قابلیت اور گورنمنٹ کی وفادار رعایا ہونے کی حیثیت سے آپ اپنی مثال ہوں گے تو اس وقت گورنمنٹ انگریزی کی برکتوں اور آزادی کی بشارت دیتے پھریں گے۔‘‘  ( مجموعہ لکچرز نواب محسن الملک، نول کشور پرنٹنگ ورکس پریس لاہور، ۱۹۰۴، ص ۴۸۶)

سرسید کے سب سے بڑے مقلد الطاف حسین حالی لکھتے ہیں:

’’وہ اپنی قوم میں وفاداری، اخلاص اور اطاعت کا ہمیشہ کے لیے بیج بو گیا ہے۔ وہ ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک بارآور درخت لگا گیا ہے جس کا پھل انگلش نیشن کی محبت اور انگلش گورنمنٹ کی وفاداری اور فرماں برداری ہے۔‘‘  (کلیات نثر حالی، جلد دوم، مجلس ترقی ادب لاہور، ۱۹۶۸ء، ص ۵۸)

یہ ہے اعلیٰ تعلیم کے لیے سرسید کی کوششوں اور علی گڑھ کے نام پر تاریخی افسانے کا کچا چٹھا جو اس ادارے کے بانی ارکان کی زبانی حقیقت بیان کر رہا ہے۔ تو پھر ان کی مخالفت کی بنیاد کیا تھی؟ شیخ محمد اکرام ’’موج کوثر‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’ان کی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت ہوئی جب انھوں نے تہذیب الاخلاق جار ی کیا اور ان مذہبی عقائد کا اظہار کیا جنھیں عام مسلمان تعلیم اسلامی کے خلاف اور ملحدانہ سمجھتے تھے، مثلاً شیطان، اجنہ اور ملائک کے وجود سے انکار، حضرت عیسیٰ کے بن باپ پیدا ہونے یا زندہ آسمان پر جانے سے انکار، حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کے معجزات سے انکار وغیرہ وغیرہ۔‘‘ ( موج کوثر، شیخ محمد اکرام، مرکنٹائل پریس لاہور، ۱۹۴۰، ص ۵۳)

اور یہی عقائد ان کی تکفیر کا باعث بنے۔ اس کے متعلق افسانے تراشے جاتے ہیں کہ انگریزی کی تعلیم اور مغربی علوم سے علما کی نفرت کی بنا پر ان کے خلاف کفر کے فتوے عائد کیے گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ اس بارے میں شیخ محمد اکرام لکھتے ہیں:

’’اس معما کے حل کرنے کے لیے ان مضامین اور فتاویٰ کا مطالعہ کرنا چاہیے جو سرسید کی مخالفت اور ان کی تکفیر میں شائع ہوئے۔ ..... علی گڑھ کالج کے متعلق سخت سے سخت مضامین اوردرشت سے درشت فتاویٰ میں یہ نہیں لکھا کہ انگریزی پڑھنا کفر ہے بلکہ یہی ہوتا تھا کہ جس شخص کے عقائد سرسید جیسے ہوں، وہ مسلمان نہیں اور جو مدرسہ ایسا شخص قائم کرنا چاہیے، اس کی اعانت جائز نہیں ....... لوگوں کا خیال تھاکہ سرسید اپنے مدرسے میں اپنے عقائد کی تبلیغ کریں گے جن کا اظہار وہ اپنے رسائل وکتب میں کر رہے تھے۔ سرسید نے ایسا نہیں کیا لیکن ان کی تصانیف میں کئی ایسی باتیں ہوتی تھیں جن سے مخالف بلکہ موافق بھی بدظن ہو جاتے تھے۔‘‘ (ایضاً، ص ۵۱)

مسٹر جذاب فرماتے ہیں کہ 

’’سرسید اپنے زمانے کے مہدی تھے ......... مذہبی لحاظ سے وہ آج بھی روشن خیالوں کے امام ہیں۔ جو لوگ ان کی سیاسی پالیسی کے مخالف ہیں، انھیں وطن عزیز پاکستان سے ہجرت کر جانی چاہیے۔‘‘ (الشریعہ گوجرانوالہ، ستمبر ۲۰۰۵ء، ص ۱۸) 

یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ سرسید کے درج بالا عقائد کون سے اسلام اور کون سے مذہب میں روشن خیالی کے زمرے میں آتے ہیں۔ شیطان، جن اور ملائکہ کا وجود اور انبیاء علیہم السلام کے معجزات پر اہل کتاب حاکم بھی اعتقاد رکھتے تھے جنھیں ان کے دینی عالموں نے آج تک چیلنج نہیں کیا۔ سرسید جس قسم کا روشن خیال اسلام ایجاد کر رہے تھے، اس پر تو ان کے اندھے اور بے مغز عشاق بھی یقین نہیں رکھتے۔ سرسید نے اسلام کی جو تعبیر کی، عامۃ المسلمین نے اسے کبھی قبول نہیں کیا۔ یہ ملک سرسید کے نظریہ (فرنگی وفاداری) کے برعکس عالم وجود میں آیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے انگریزی حکومت کی برکات کے نظریے کو رد کر کے اپنی جدوجہد سے آزادی حاصل کی۔ اس کے قیام میں نہ سرسید کی روشن خیالی کا حصہ ہے اور نہ ان کی سیاسی پالیسی کا۔ بہتر ہے کہ دوسروں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دینے والے سرسید پرست خود اپنے مہدی اور امام کے ’’برکاتی‘‘ آقاؤں کے ملک سدھاریں۔

شخصیات