ادارہ مباحث فقہیہ بھارت کا آٹھواں فقہی اجتماع

ادارہ

۲۷ اپریل سے جمعیۃ علماء ہند کے شعبہ مباحث فقہیہ کی طرف سے جمعیۃ علماء کرناٹک کے زیر اہتمام ’’دینی مقاصد کے لیے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کا استعمال‘‘ کے عنوان سے سہ روزہ فقہی اجتماع کا آغاز حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی کی صدارت میں مفتی مولوی سید محمد عفان کی تلاوت اور قاری فراست کی نعت سے ہوا۔ اس اجتماع میں پورے ملک سے ۱۵۰ سے زائد اصحاب افتا اور ارباب علم ودانش اور علماے کرام نے شرکت کی۔ آج کی پہلی نشست میں کرناٹک، تامل ناڈو اور آندھرا پردیش سے بھی ایک ہزار سے زائد منتخب علما، مفتیان اور موقر افراد شریک ہوئے۔ خطبہ استقبالیہ مولانا شعیب اللہ خان کی طرف سے مولانا زین العابدین نے پیش کیا جبکہ افتتاحی وتعارفی کلمات مولانا مفتی سلمان منصوری پوری نے کہے۔ انھوں نے نظامت کے ساتھ موضوع کے تعلق سے تحریر کردہ مقالات کے پیش نظر چار نکات پر روشنی ڈالی اور غور وفکر کر کے حضرات علماے کرام ومفتیان عظام کو مسئلے کے صحیح حل کرنے کی دعوت دی۔

صدر اجلاس حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند دامت برکاتہم نے کہا کہ موجودہ حالات بہت سنگین ہیں۔ امت کو انتشار سے بچانا، ان تک صحیح معلومات پہنچانا اور درپیش مسائل کا حل کرنا اصحاب افتا اور علماے کرام کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ امت کو انتشار اور پریشانی سے نکالنے کی کوشش نہیں کریں گے تو یہ بہت برا وقت ہوگا۔ انھوں نے ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ جیسے ذرائع کے دینی مقاصد کے لیے استعمال کے سلسلے میں اپنی کوئی رائے ظاہر کیے بغیر پورے ملک سے تشریف لائے ہوئے اہل علم وافتا کو مسئلے کے حل اور اس پر غور وفکر کے لیے متوجہ کیا۔ اس نشست میں اس موقع پر حضرت امیر الہند دامت برکاتہم کے دست مبارک سے مولانا مفتی سلمان منصور پوری کی کتاب ’’لمحات فکریہ‘‘، مولانا اختر امام عادل کی کتاب ’’امام شاہ ولی اللہ کے افکار کی معنویت‘‘ اور مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دار العلوم (وقف) دیوبند کی تقریروں کے مجموعہ ’’خطبات خطیب الاسلام‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔

موضوع پر آغاز بحث سے پہلے جامعہ باقیات الصالحات ویلور کے شیخ الحدیث مولانا محمد اقبال قاسمی نے قدرے تفصیل سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ذرائع ابلاغ کی اصطلاحات کا تعارف کرایا۔ اس کے بعد دار العلوم دیوبند کے مفتی مولانا محمد ظفیر الدین کا مقالہ مفتی کوکب نے پیش کیا جبکہ مفتی صاحب بذات خود اجتماع میں موجود تھے۔ مقالہ میں جائز ذرائع کے استعمال پر زور دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دعوت وتبلیغ ایک دینی فریضہ ہے لیکن اس کے طریقے منصوص ومتعین نہیں ہیں۔ ریڈیو کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن مجموعہ مفاسد ہے اور تصویر کشی ناجائز ہے۔ دعوت وتبلیغ کے طریقے مباح ہیں، لہٰذا ناجائز اور حرام کا استعمال صحیح نہیں ہوگا۔ سد ذریعہ کے تحت مجموعہ مفاسد ٹیلی ویژن کا دینی مقاصد کے لیے استعمال جائز نہیں ہونا چاہیے۔

جبکہ دوسرے مقالہ نگار مولانا مفتی عبد اللہ معروفی استاذ دار العلوم دیوبند نے کہا کہ ٹیلی ویژن پر جو صورت نظر آتی ہے، وہ تصویر کے حکم میں نہیں بلکہ وہ عکس ہے، لہٰذا اس پر تصویر کشی کی حرمت والی روایتوں سے استدلال صحیح نہیں ہوگا۔ انھوں نے تصویر اور اس کے متعلقہ نئے پہلووں پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انٹر نیٹ کا جائز مقاصد کے لیے استعمال بالکل صحیح ہے۔ رہا ٹیلی ویژن کا معاملہ تو اس کے استعمال کی دو نوعیت ہیں۔ (۱) دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے اس کا استعمال۔ (۲) دینی معلومات فراہم کرنا۔ مثلاً اسلام اور مسلمانوں کی شبیہ درست کرنا، ان کے سلسلے میں غلط فہمیوں کو دور کرنا اور ضروری اسلامی تعلیمات کے بارے میں بتانا۔ مولانا معروفی نے دوسری صورت (یعنی ضرور ی معلومات فراہم کرنا) کے لیے ٹیلی ویژن کے استعمال کو جائز قرار دیا جبکہ پہلی صورت کے بارے میں بتایا کہ متبادل ذرائع معلومات دست یاب ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں ہوگا کیونکہ اس سے زیادہ مفاسد کی ترسیل ہوتی ہے، اس پر شر کا غلبہ ہے۔ 

اس موقع پر مولانا حبیب الرحمن اعظمی استاذ حدیث ومدیر ماہنامہ دار العلوم دیوبند نے یہ اہم نکتہ اٹھایا کہ قدیم فقہا نے جو صورت اور تصویر کی تعریف کی ہے، وہ جدید سائنسی ایجادات، کیمرہ وغیرہ سے لی گئی تصویر پر صادق آتی ہے یا نہیں۔ دوسرے یہ کہ اگر ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت تصویر نہیں، بلکہ عکس ہے تو ابتداء اً بھی عکس ہے یا تصویر، صورت حال کے مکمل جائزے کے بعد نئی تعریف ہونی چاہیے۔ مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری استاذ دار العلوم دیوبند نے مولانا اعظمی کے اٹھائے نکتے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سائنسی تمدنی ترقیات اور حالات کے مطابق اشیا کی تعریف کر کے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔

اس موقع پر کراچی (پاکستان) کے نامور محقق عالم مولانا مفتی تقی عثمانی اور آگرہ کے مفتی اعظم مولانا عبد القدوس رومی کے پیغامی خط مولانا معز الدین احمد ناظم امارت شرعیہ ہند وناظم اجتماع نے اجلاس کے سامنے پڑھ کر سنائے۔ مولانا رومی نے تصویر کشی کی حرمت اور ٹیلی ویژن کو فواحش ومنکرات پھیلانے کا ذریعہ اور مفاسد کا مجموعہ قرار دے کر اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا، جبکہ مولانا عثمانی نے ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت کو تصویر کے بجائے عکس قرار دیتے ہوئے دینی مقاصد کے لیے ٹیلی ویژن کے ان پروگراموں کو جائز قرار دیا جو براہ راست نشر ہوں۔

آج کی دوسری نشست کا آغاز بعد نماز مغرب مولانا محمد سالم قاسمی مہتمم دار العلوم (وقف) دیوبند کی صدارت میں ہوا۔ اس نشست کا پہلا مقالہ مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی کا تھا۔ ان کے مقالے میں بڑی شدت تھی۔ زبان وبیان پربھی حاضرین کو اعتراض تھا۔ محترم خیر آبادی نے تصویر کی تعریف اور اس کے متعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پروگرام چاہے براہ راست نشر ہو یا بالواسطہ، دونوں صورتیں تصویر کشی کے ذیل وتعریف میںآتی ہیں لہٰذا ٹیلی ویژن کا استعمال کسی طرح جائز نہیں، وہ ناجائز اور حرام ہے۔ وہ آلہ لہو ولعب ومجسم مفاسد ہے۔ اس کے ذریعہ اسلام اور دینی مقاصد کی اشاعت ان کی اہانت ہے۔ اس پر پروگرام پیش کرنا، دیکھنا سب ناجائز ہے۔ اس پر نظر آنے والی صورت عکس نہیں، بلکہ تصویر ممنوعہ ہے۔ البتہ انھوں نے انٹر نیٹ کے استعمال کو جائز قرار دیا۔ مولانا خیر آبادی کے مقالے پر صدر جمعیۃ مولانا سید اسعد مدنی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنی شدت مناسب نہیں ہے۔ ہر چیز کو قطعی حرام قرار دینے سے کام نہیں چلے گا۔ علما کو امت کو انتشار سے نکالنے کی صورت پر توجہ دینی چاہیے۔ لوگ ٹیلی ویژن پر قادیانیوں، عیسائیوں کی طرف سے نشر ہونے والے پروگراموں کو دیکھ کر مرتد ہو رہے ہیں۔ کیا لوگوں کو ارتداد سے بچانے اور ان تک صحیح معلومات پہنچانے کے لیے ایسی صورت نہیں نکالی جا سکتی ہے جیسی کہ شناختی کارڈ، پاسپورٹ وغیرہ کے لیے تصویر کے سلسلے میں نکالی گئی ہے؟ انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا نفلی حج، عمرہ یا اسفار کے لیے تصویر کھینچنے کھنچوانے کی ضرورت کو تسلیم نہیں کر لیا گیا ہے؟ کیا یہ ضرورت، ضرورت اضطراری کے ذیل میں آتی ہے؟

مولانا مدنی مدظلہ کے تبصرہ کے بعد مولانا برہان الدین سنبھلی، مولانا سید طاہر حسین گیاوی، مولانا زبیر احمد سیتا مڑھی، مولانا شبیر احمد قاسمی مدرسہ شاہی مراد آباد، مولانا الطاف الرحمن مدرسہ حیات العلوم مراد آباد، مفتی اشفاق احمد سرائے میر اعظم گڑھ، مفتی ابو الحسن مدراس، مولانا مفتی راشد دار العلوم دیوبند، مولانا ابو سفیان مؤ، مفتی ساجدمبارک پور نے مقالات پیش کیے۔

مولانا سنبھلی نے بالواسطہ، محفوظ کر کے باتصویر پروگرام کو پیش کرنے کو بلا ضرورت شرعی ناجائز قرار دیا، جبکہ براہ راست جائز پروگراموں کو پیش کرنے کو جائز قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ خفی اور چھوٹی تصویر رکھنا ضرورتاً جائز ہے اور تصویر کی حرمت قطعی نہیں، ظنی ہے۔ باطل عقائد کی تردید، اسلام کی اشاعت ممنوعہ اور غلط طریقوں مثلاً عریاں تصویر سے بچتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔ اس کا لحاظ کرتے ہوئے اپنا چینل بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلی ویژن اور دیگر نشریات کی وضع اصلاً شر کے لیے نہیں، بلکہ فراہمی معلومات کے لیے ہوئی ہے۔ ان کی کلیتاً مخالفت فہم سے بالاتر ہے۔ جو چیز ٹیلی ویژن کے باہر دیکھنا جائز ہے، اس کا دیکھنا اس کے اندر بھی جائز ہے۔ حدود وشرائط کا لحاظ کرتے ہوئے نشریات جائز، دیکھنا جائز ہے۔

صدر اجلاس مولانا محمد سالم قاسمی دامت برکاتہم نے بیماری اور ضعف کے پیش نظر بقیہ دیگر مقالہ نگاروں سے پہلے اپنے صدارتی کلمات میں بدلتے ہوئے حالات میں نئی ایجادات سے شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان کے استعمال کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسلام ایک عالمی مذہب ہے۔ اسے تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے ہر ممکن جائز طریقہ وذریعہ اختیار کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلے کا مدار پروگرام پر ہے۔ جس کو دیکھنا سننا جائز ہے، اس کا نشر بھی جائز ہے۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے، اس کو سامنے رکھتے ہوئے مسئلے کا حل نکالنا اصحاب علم وافتا کی ذمہ داری ہے۔ مولانا قاسمی نے مزید کہا کہ ٹیلی ویژن وغیرہ فی نفسہ آلہ اشاعت ومعلومات ہے۔ اس سے شر کی بھی اشاعت ہوتی ہے اور اچھائی کی بھی۔ اسے مطلقاً ناجائز قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ ا س لیے جو باہر جائز ہے، وہ آلہ کے اندر بھی جائز ہوگا۔ الیکٹرانک میڈیا کی شر انگیزی اور وسعت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس پر باطل کی تردید کے ساتھ اسلام کی تعلیمات کو اس قوت سے پیش کریں کہ دشمنان اسلام دفاعی پوزیشن میں آ جائیں۔

مولانا سید طاہر حسین گیاوی او رمولانا مفتی اشفاق احمد نے عکس اور تصویر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی صورت تصویر ہے، لیکن ضرورتاً اس کو عام ضرورت کے مفہوم میں لے کر اس پر پروگرام کے نشر کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ مولانا مفتی زبیر نے ضرورتاً مقاصد شریعت کے تحت جواز کی رائے دی۔ انھوں نے کہا کہ صہیونی میڈیا کس طرح اسلام اور مسلمانوں کی صورت کو مکروہ بنا کر پیش کر رہا ہے، تو کیا اصل صورت حال کو پیش کرنے کے لیے گنجایش نکالنی چاہیے یا نہیں؟ مقاصد شریعت کے تحت اس کے استعمال کی گنجایش ہونی چاہیے۔ مولانا مفتی شبیر احمد قاسمی نے موضوع پر بڑا تفصیلی مقالہ تحریر کیا۔ انھوں نے مختلف مثالوں اور دلیلوں سے اپنے موقف کو مدلل کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے اہون البلیتین (دو مصیبتوں میں آسان مصیبت کو اختیار کرنے) اور اخف المفسدین (دو فساد میں ہلکا فساد) کے قاعدہ کو پیش نظر رکھنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ضرورت کے تحت دینی مقاصد کے لیے شروط وقیود کے ساتھ حد میں رہ کر جائز قرار دیا، لیکن ٹیلی ویژن ناجائز اور برائی کی اشاعت کا ذریعہ ہے اور شر کا غلبہ ہے، اس لیے مطلق ناجائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ٹیلی ویژن وغیرہ فی نفسہ آلہ معلومات ہے، البتہ اس کے غلط استعمال نے اسے مجموعہ مفاسد بنا دیا ہے۔ ایک بات یہ کہ جائز کا عکس لینا بھی جائز ہے اور دیکھنا بھی۔ مناقشہ میں حصہ لیتے ہوئے انھوں نے ضرورتاً تصویر کی طرح اس کے استعمال کی گنجایش بتائی۔ 

مولانا مجیب اللہ دار العلوم دیوبند نے احتیاط اور ضرورت کے تحت جواز کی رائے دی۔ مولانا ابو الحسن مدراس، مفتی راشد دیوبند، مفتی ابو سفیان مؤ، مفتی ساجد مبارک پور، مفتی جمیل الرحمن پرتاب گڑھ، مفتی خورشید انور گیاوی دیوبند، مفتی احمد الراشد مبارک پور، مفتی سعید الحق، مفتی سید صدیق نلکنڈا، مفتی ذکر اللہ بہرائچ، مفتی ابو الکلام بھوپال، مفتی شاہد سہارنپور، مفتی تبارک حسین بہادر گنج بہار نے ٹیلی ویژن کو مجموعہ شر ومفاسد قرار دے کر دینی مقاصد کے لیے اس کے استعمال کو ناجائز قرار دیا اور موجودہ حالات میں اس کی ضرورت سے انکار اور دیگر متبادل اپنانے کی رائیں دیں، جبکہ مولانا مفتی نذیر احمد کشمیر، مفتی محی الدین گجرات، مولانا مفتی عتیق احمد راندر گجرات، مولانا مفتی اختر امام عادل منوروا شمستی پور بہار، مولانا مفتی اقبال احمد کانپور، مولانا مفتی حبیب الرحمن مؤ ائمہ، مولانا مفتی خلیل الرحمن ناندیڑ، مولانا مفتی عبد الرشید کانپور، مفتی لقمان مراد آباد، مولانا یعقوب قاسمی برطانیہ، مفتی عثمان گورینی جونپور، مفتی جاوید اقبال کشن گنج بہار، مولانا متین الحق اسامہ کانپور، مولانا مفتی بدر نجیبی پھلواری شریف، مولانا مفتی اشتیاق احمد بہرائچ، مولانا مفتی سلیمان منصور پوری، مولانا مفتی وحید الدین قاسمی فلاح دارین ترکیسر گجرات، مفتی کوکب، مولانا مفتی ابو جندل، مولانا ریاست علی رام پوری ہاپوڑ، مفتی امان اللہ نرابی گوڑا (اے بی)، مولانا مفتی عبد الغفور سنبھلی مدرسہ حسینیہ تاؤلی مظفر نگر، مولانا مفتی مزمل حسین مدرسہ مظاہر علوم سیلم، دانش بن نعیم کوکن، مولانا مفتی مبین پرنامٹ، مولانا نور الحسن غازی آباد وغیرہم نے ضرورت کے تحت ٹیلی ویژن کے استعمال کو، منکرات وفواحش سے بچتے ہوئے جائز قرار دیا،چینل کے قیام کو ایک ضرورت بتایا۔ ان حضرات نے اسے آلہ لہو ولعب قرار دینے کو غلط قرار دیا۔ ان میں سے بعض حضرات نے ضرورتاً تصویر کو تصویر مانتے ہوئے جائز قرار دیا تو کچھ حضرات نے ٹیلی ویژن میں نظر آنے والی تصویر کو تصویر ہی تسلیم نہیں کیا۔ مفتی عقیل اور مفتی اختر امام عادل تو آلہ لہو ولعب کو بھی مطلقاً حرام قرار دینے کے خلاف ہیں۔ ا س کے غلط استعمال سے وہ غلط ہے۔ چھوٹی تصویروں کے جواز اور مواقع مستثنیات، ضرورت/حاجت کے ذیل میں آتے ہیں۔ بعض مثلاً مولانا نذیر کشمیری، مفتی اقبال، مفتی عبد الرشید جوا زکے ساتھ اس کو وقت کی ایک ضرورت مانتے ہیں۔ 

پاکستان سے آئے خصوصی مہمان مولانا سید نصیب علی شاہ نے مسئلے کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالتے ہوئے توقف کو احوط قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان علما اور اہل علم، علماے دیوبند کے فیصلے کی طرف بڑی امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آپ کے پاس جو تحقیقی مواد ہے، وہ ہمیں دیں اور جو ہمارے پاس ہے، وہ ہم آپ کو دیں گے۔ 

اجلاس کے دیگر صدور میں مولانا مفتی منظور احمد مظاہری کانپور اور مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری عدم جواز کی طرف گئے ہیں۔ مولانا مدنی اور مولانا قاسمی کا رجحان ان کے صدارتی اور تبصراتی کلمات سے پتہ چلتا ہے۔ مولانا مفتی ظفیر الدین کی رائے بھی سابق میں آ چکی ہے۔ ان تمام تر اختلافات آرا کے باوجود کمیٹی برائے تجاویز کی تیار کردہ تجاویز سے اتفاق کر کے مسئلے کے متفقہ حل تک پہنچنے اور افہام وتفہیم کی راہ اچھے ماحول میں فراہم کی۔ اس آخری نشست کی صدارت مولانا عبد الحق استاذ دار العلوم دیوبند کو کرنی تھی، لیکن طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے صدارت کا فریضہ مولانا مفتی ظفیر الدین نے ادا کیا۔ ان حضرات پر مشتمل ایک تجاویز کمیٹی بنائی گئی تھی:

(۱) مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری (۲) مولانا حبیب الرحمن اعظمی (۳) مولانا مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی (۴) مفتی شبیر احمد قاسمی (۵) مولانا سید طاہر حسین گیاوی (۶) مولانا مفتی سلمان منصور پوری (۷) مولانا محمد اقبال قاسمی (۸) مولانا زبیر احمد سیتا مڑھی (۹) مولانا عبد اللہ معروفی۔

ان کے علاوہ بحث وگفتگو میں مولانا معز الدین قاسمی اور عبد الحمید نعمانی بھی شریک رہے۔ کمیٹی کی تیار کردہ تجاویز مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری نے پیش کیں۔ تجویز شکریہ مولانا محمود مدنی نے پیش کی جو تمام تر انتہائی مصروفیات کے باوجود آخری اجلاس میں شریک ہوئے۔ ۲۷؍اپریل سے ۲۹؍اپریل تک کل پانچ نشستیں ہوئیں۔

اس سہ روزہ فقہی اجتماع میں پورے ملک سے بھرپور نمائندگی تھی۔ کرناٹک، آندھرا پردیش، تامل ناڈو کے علاوہ دیگر صوبوں سے بھی بڑی تعداد میں موقر حضرات نے فقہی اجتماع میں شرکت کی ۔ ان میں مولانا ابو سفیان بن محمد سالم قاسمی، مولانا سید محمد عفان دیوبند، مولانا قاری حماد دہلی، مولانا حسیب صدیقی، مفتی شکیل راجستھان، مولانا مفتی ایوب پرنامبٹ، مفتی حبیب اللہ راجستھان، مفتی عبد القیوم، مولانا عبد الہادی پرتاب گڑھ، مولانا مفتی عبد الرزاق بھوپال، مولانا سید مشہود حسن دہلی، مولانا مفتی ضیاء اللہ بھوپال، مولانا محمد قاسم امروہہ قابل ذکر ہیں۔ مولانا مفتی سید معصوم تو اجتماع کے روح رواں نظر آتے تھے۔ صبح سے شام تک سراپا متحرک۔ ان کے علاوہ بہت سے اہم حضرات ہیں جن کا فقہی اجتماع کے انعقاد اور کامیابی میں بڑا دخل ہے۔ مثلاً دار العلوم شاہ ولی اللہ کے مہتمم مولانا زین العابدین، مولانا افتخار صدر جمعیۃ علماء کرناٹک، مولانا مفتی شمس الدین، مولانا شعیب اللہ خان، ڈاکٹر ظفر الاسلام۔ 

راقم (عبد الحمید نعمانی) کا سہ روزہ اجتماع کے تعلق سے تاثر یہ ہے کہ اجتماع میں جو مقالات پڑھے گئے اور جس انداز سے بحث وگفتگوہوئی، اس سے غور وفکر کے مختلف ابواب وا ہوئے ہیں۔ افہام وتفہیم کا جو ماحول بنا ہے، اس نے امیدوں کے ساتھ بحث ومباحثے کو تعمیری ومثبت رخ دیا ہے۔ یہ خوش آئند مستقبل کا اشاریہ بھی ہے۔

تجاویز

ادارۃ المباحث الفقہیۃ جمعیۃ علماے ہند کے آٹھویں فقہی اجتماع منعقدہ ۱۷۔۱۸۔۱۹ ربیع الاول ۱۴۲۶ مطابق ۲۷۔۲۸۔۲۹ ؍اپریل ۲۰۰۵ بمقام مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ ہال، عید گاہ جدید، ٹیانری روڈ، بنگلور میں ’’ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کا دینی مقاصد کے لیے استعمال‘‘ پر غور وخوض کے بعد درج ذیل امور طے کیے گئے:

۱۔ آج ٹیلی ویژن پر زیادہ تر فحاشی، عریانیت اور مخرب اخلاق پروگراموں کا غلبہ ہے۔ چوبیس گھنٹے اس کے مختلف چینلوں پر رقص وسرود اور حد درجہ شرمناک مناظر دکھائے جاتے ہیں۔ پھر ڈش انٹینا اور پرائیویٹ کیبل چینلوں نے تو تمام اخلاقی اور انسانی حدود کو پار کر دیا اور آج ٹی وی زدہ معاشرہ جن شرمناک حرکتوں میں ملوث ہے، وہ ناقابل بیان ہیں اور جس گھر میں ٹیلی ویژن ہو، وہاں کے لوگوں کا اس کے مخرب اخلاق پروگراموں سے بچنا تقریباً محال ہے لہٰذا ٹیلی ویژن گھر میں رکھنا اور اس کے پروگراموں کو دیکھنا شرعاً ناجائز ہے جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

۲۔ اسلام میں بلا ضرورت شرعی تصویر کھنچوانا نائز ہے، لیکن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ٹیلی ویژن اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اعداے اسلام یا شرپسند فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے کوئی ایسی چیز سامنے آئے جس سے اسلامی عقائد اور احکام واقدار پر زد پڑتی ہو اور اس کا مناسب جواب نہ دینے سے اسلام کی شبیہ بگڑنے یا مسلمانوں کے حقوق کے ناقابل تلافی نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کے دفاع کے لیے ٹیلی ویژن کے کسی پروگرام پر آنے کی ضرورتاً گنجایش ہے۔

۳۔ اسلامی ٹی وی چینل قائم کرنا مشکل ترین امر ہے اور اگر ایسا چینل وجود میں آ بھی جائے تو اس کے ذریعہ سے فوائد کے مقابلے میں نقصانات کہیں زیادہ ہیں کیونکہ اس طرح کے چینلوں کو بہانہ بنا کر لوگ ٹیلی ویژن کے فحش پروگراموں تک بآسانی رسائی حاصل کر لیں گے اور دیگر باطل فرقوں کے چینلوں سے اس کا امتیاز بھی دشوار ہوگا۔ نیز عام لوگوں کی دل چسپی کی چیزیں شامل کیے بغیر خالص اسلامی چینل کے ناظرین کی تعداد غیرمعمولی حد تک کم ہوگی اور متوقع فوائد حاصل نہ ہو سکیں گے۔ ان وجوہ سے اسلامی چینل قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

۴۔ انٹر نیٹ اس دور میں ایسا معلوماتی ذریعہ ہے جس میں ہر طرح کے اچھے اور برے پروگرام پائے جاتے ہیں۔ گو کہ آج زیادہ تر اس ذریعہ کو ناجائز اور حرام چیزوں میں استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس کو اگر شرعی حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے تو منکرات وفواحش سے بچتے ہوئے اس سے عظیم تعلیمی، تجارتی اور انتظامی وغیرہ فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے یہ فقہی اجتماع انٹر نیٹ کے جائز حدود میں استعمال کو جائز قرار دیتا ہے اور اس کے ناجائز استعمال کو ناجائز اور حرام قرار دیتا ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔

نوٹ: تمام شرکا نے اس تجویز سے مکمل اتفاق کیا، البتہ مولانا مفتی اشفاق صاحب (سرائے میر) نے شق نمبر ۲ سے جزوی اختلاف کرتے ہوئے یہ نوٹ تحریر کیا: ’’ٹیلی ویژن پر آنے کی اجازت ہے‘‘ سے مجھے اتفاق نہیں ہے۔ تجویز نمبر ۳ سے تضاد محسوس ہوتا ہے اور ٹیلی ویژن کے جواز کا دروازہ کھلتا ہے۔

(بشکریہ ہفت روزہ الجمعیۃ، دہلی)

دار العلوم دیوبند اور سیاسی معاملات میں فتویٰ

دار العلوم دیوبند نے ۱۶ اگست ۲۰۰۵ کو ایک فتویٰ جاری کیا تھا جس کا مدعا یہ تھا کہ مسلم خواتین انتخابات میں حصہ نہ لیں، اور اگر وہ ایسا کرنا ہی چاہتی ہیں تو پردے کی لازماً پابندی کریں۔ اس پر سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید رد عمل کا اظہار ہوا۔ بھارتی وزیر قانون ایچ آر بھردواج نے اس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی گروہوں کی طرف سے دیے جانے والے فتووں کی آئینی لحاظ سے کوئی اہمیت نہیں اور ان کو ماننا یا نہ ماننا لوگوں کے اپنے اختیار میں ہے۔ مختلف حلقوں کی جانب سے رد عمل سامنے آنے کے بعد دار العلوم نے سیاسی معاملات میں فتویٰ دینے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دار العلوم کے نائب مہتمم مولانا مفتی مرغوب الرحمن نے بتایا کہ ’’تمام مفتیوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ نہ تو کوئی فتویٰ جاری کریں اور نہ میڈیا کے ساتھ رابطہ رکھیں۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ جن مفتیوں نے انتخابات میں خواتین کے حصہ لینے سے متعلق فتویٰ دیا تھا، انھیں سرزنش کی گئی ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ دار العلوم نے کبھی مسلم خواتین کو انتخابات میں حصہ لینے سے نہیں روکا اور جدوجہد آزادی میں مسلم خواتین کسی رکاوٹ کے بغیر شریک ہوتی رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے تو اسلامی شریعت میں بیان کردہ صرف ان حدود وقیود کی وضاحت کی ہے جن کی خواتین کو پبلک زندگی میں اپنے لباس اور طور طریقوں کے حوالے سے پابندی کرنی چاہیے۔‘‘ 

مولانا مرغوب الرحمن نے بتایا کہ آئندہ فتویٰ جاری کرنے کے عمل کو محتاط بنانے اور کسی بھی غلط تشریح سے بچنے کے لیے دار العلوم کی طرف سے ایک چھ رکنی کمیٹی مقرر کی گئی ہے جو کسی بھی فتوے کو جاری کرنے سے پہلے اس کے متن پر غور کر کے اسے حتمی شکل دے گی۔

(http:203.199.69.66/news/nation/2005/august/116893.htm)

بدسلوکی کے مرتکب شوہروں کا سماجی مقاطعہ

امریکی ریاست فلا ڈیلفیا کی شریعہ کونسل نے مسلمان خواتین پر ان کے شوہروں کی طرف سے ہونے والے تشدد کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جن کی رو سے بیویوں سے بدسلوکی کرنے اور ان کو گھروں میں تنہا چھوڑ دینے والے شوہروں کو سماجی سطح پر رسوا کیا جائے گا اور انھیں مسلم کمیونٹی سے الگ کر دیا جائے گا۔ فیصلے کی رو سے بیویوں سے بدسلوکی کرنے والے شوہروں کے ناموں کی ایک فہرست علاقے کے مسلمانوں کو بھجوا دی جائے گی اور جو علاقے اس فیصلے سے اتفاق کریں گے، ان میں ایسے مردوں کے ساتھ آئندہ شادی کرنا ممنوع ہوگا۔ اسی طرح یہ کوشش بھی کی جائے گی کہ مسلم کمیونٹی کی طرف سے ایسے لوگوں کی تجارتی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔ اسلام آن لائن کے مطابق شکاگو ٹربیون نے کونسل کے رکن عبد المتین کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ 

’’اس معاملے پر بھرپور طریقے سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان شوہروں کو یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ ہم اس معاملے میں کوئی لچک نہیں دکھائیں گے۔‘‘ 

(العالم الاسلامی، مکۃ المکرمۃ، ۲۲ اگست ۲۰۰۵)

غزہ میں یہودی عبادت گاہیں نذر آتش

اسرائیلی حکومت کی طرف سے غزہ سے انخلا کا اصولی فیصلہ ہوتے ہی اس سوال پر غور وخوض شروع ہو گیا تھا کہ یہاں موجود متعدد یہودی عبادت گاہوں کے حوالے سے کیا رویہ اختیار کیا جائے۔ ایک حلقے کی رائے یہ تھی کہ ان عبادت گاہوں کو خود اسرائیلی فوج مسمار کر دے۔ تاہم ایک بڑے حلقے نے اس کو ترجیح دی کہ ان عبادت گاہوں کے معاملے کو ایک باقاعدہ سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جائے اور فلسطینیوں کو مذہبی عدم رواداری کے حوالے سے دنیا میں بدنام کیا جائے۔ چنانچہ ۱۱ اگست ۲۰۰۵ کو اسرائیلی کابینہ نے باقاعدہ فیصلہ کیا کہ غزہ میں یہودی عبادت گاہوں کو مسمار نہ کیا جائے۔ اسرائیلی وزیر دفاع شاؤل موفاز نے اس فیصلے کی توجیہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ 

’’فیصلہ ہماری اس خواہش کا آئینہ دار تھا کہ یہ عبادت گاہیں نہ ڈھائی جائیں۔ اس سوال پر حکومتی حلقوں اور مذہبی قیادت کے ہاں وسیع غور وخوض ہوتا رہا۔ ہمیں معلوم تھا کہ فلسطینی اس فیصلے کا جواب دیں گے۔ تاہم ربیوں نے فیصلہ کیا کہ یہ زیادہ بہتر ہے کہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے بجائے یہ عبادت گاہیں فلسطینیوں کے ہاتھوں مسمار ہوں۔‘‘

توقع کے عین مطابق اسرائیلیوں کے انخلا کے فوراً بعد جوشیلے فلسطینیوں نے متعدد یہودی عبادت گاہوں پر حملہ کیا اور انھیں آگ لگا دی۔ اگلے روز منصوبہ بندی کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ سلوان شیلوم نے ۱۳ اگست کو بیان جاری کیا کہ 

’’عبادت گاہوں کی حفاظت نہ کر کے فلسطینیوں نے اپنی پہلی ہی ذمہ داری میں ناکامی کا ثبوت دے دیا ہے۔‘‘ انھو ں نے کہا کہ ’’عبادت گاہوں کو جلانے کا واقعہ ایسے وحشی لوگوں کا کارنامہ ہے جو مقدس مقامات کا کوئی احترام نہیں کرتے۔‘‘ 

(یروشلم پوسٹ، ۱۲ ستمبر ۲۰۰۵)

اخبار و آثار