اہل تشیع کی تکفیر کا مسئلہ

ادارہ

(۱)

ماہنامہ الشریعہ شمارہ مئی ۲۰۰۵ میں محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا مضمون بعنوان ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ نظر نواز ہوا۔ سب سے پہلے تو میں محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب کی خدمت اقدس میں سلام پیش کرنا چاہوں گا کہ فرقہ واریت کے اس لرزہ خیز اور بھیانک دور میں اور بذات خود بھی ایک فرقہ سے متعلق ہو کر ان کے نہاں خانہ دل میں ’’اتحاد بین المسلمین‘‘ کے تصور کا پیدا ہونا ہی ایک بہت بڑی قلب ماہیت ہے۔ اس کی جس قدر بھی ستایش کی جائے، کم ہے۔ اللہ تعالیٰ انھیں استقامت عطا فرمائیں، ان کی حفاظت فرمائیں۔ میری مسلم امہ سے مایوسی کی تاریک سرنگ میں روشنی کی ایک معمولی سی کرن نظر آئی تو اب فرقہ واریت کی اس تاریک سرنگ کے اس پار محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کی شکل میں روشنی کی دوسری کرن بھی نمودار ہوئی ہے۔ گو کہ ان ہلکی سی معمولی دو کرنوں سے فرقہ واریت کے گھپ اندھیروں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، لیکن روشنی بہرحال روشنی ہوتی ہے، خواہ وہ کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو۔ جہاں روشنی ہوگی، وہاں اندھیرا نہیں رہے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر اپنے اپنے طور پر وحی الٰہی قرآن کے نور (النساء ۱۷۵) کے دیے روشن کرتے چلے جائیں تو اندھیرا خود بخود چھٹ جائے گا اور تمام عالم میں ہر سو اجالا ہو کر رہے گا۔

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے مذکورہ مسئلہ کے پائیدار حل کے لیے کچھ تجاویز تحریر فرمائی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ 

’’تکفیر مسلمین کے بارے میں سخت شرعی احکام کے پیش نظر احتیاط وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ فتویٰ یہ دیا جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے۔ یہ نہ کہا جائے کہ سارے شیعہ کافر ہیں۔‘‘ 

اس عاجز کم علم قاری کی محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنی اس تجویز کو مزید وسعت دیں، اس لیے کہ اس تجویز سے یہ التباس پیدا ہوتا ہے کہ صرف شیعہ کمیونٹی میں سے کچھ گروپ یا گروہ ایسے ہیں جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں، باقی تمام فرقوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا، وہ تمام پکے اور مستند مسلمان ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دوسرے فرقوں کے خلاف بھی فتوے جاری ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں اور اب ان فتاویٰ کی رو سے کوئی بھی فرقہ مسلمان نہیں رہا اور یہ فتاویٰ کوئی ہما شما قسم کے اشخاص نے نہیں دے رکھے، بلکہ مکہ ومدینہ کے علما کے دستخطوں اور مہروں کے ساتھ منگوائے جاتے رہے ہیں۔ یہ عاجز کم علم ڈاکٹر محمد امین صاحب سے عرض گزار ہے کہ آپ کی پیش کردہ تجاویز کو اس طرح وسعت دی جائے کہ جس شخص کے یہ اور یہ عقائد ہوں، وہ کافر ہے۔ اس میں کسی مخصوص فرقہ کی بات نہ ہو اور وہ فتویٰ تمام مسالک کے علماء کرام کا متفق علیہ ہو اور اس پر تمام مسالک کے علما کے دستخط ہوں اور وہ فتویٰ کسی حکومتی ادارہ یا بینک میں محفوظ کر دیا جائے اور اس کی نقل تمام اخبارات وجرائد میں شائع کی جائے اور تمام ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے اس طرح بار بار نشر ہوتا رہے جس طرح حکومت تمباکو نوشی کے خلاف اشتہار نشر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا جو کوئی بھی شخص کسی بھی فرد یا گروہ کے خلاف فتویٰ جاری کرے، اس کے خلاف انضباطی کارروائی کا کوئی مستقل ادارہ قائم کر دیا جائے۔ بصورت دیگر وہ مقاصد ہرگز حاصل نہ ہو سکیں گے جو مولانا زاہد الراشدی صاحب اور محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب اپنی آرزووں میں رکھتے ہیں۔

ہر شخص پر اپنے اپنے فرقہ اور مذہب کی گرفت اس قدر مضبوط ہوتی ہے کہ اس پر اپنے فرقہ سے الگ ہونے کے تصور سے ہی کپکپی طاری ہونے لگتی ہے۔ وہ ایک ان دیکھے خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ میرے محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب جیسی صاحب علم اور مدبر شخصیت کو بھی صراحت کرنی پڑ گئی۔ وہ فرماتے ہیں، 

’’التباس سے بچنے کی خاطر ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ذاتی طور پر ہمارا عقیدہ وہی ہے جو جمہور اہل سنت کا .....۔‘‘ 

میں یہاں شاید سوء ادب کا مرتکب گردانا جاؤں کہ اس عاجز، کم علم کے مطابق اللہ جل شانہ نے اپنی ہدایت وتعلیمات کے ذریعے انسانوں کے لیے جو ضابطہ زندگی عملاً اختیار کرنے کو دیا ہے، اسے اسلام کہا ہے: 

’’اور آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمتیں پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ہے۔‘‘ (مائدہ ۳) 

اور جو لوگ اس دین (ضابطہ حیات) کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، انھیں مسلم (مسلمان) کہا ہے۔ (الانبیاء ۱۰۸۔ یونس ۷۲) اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تعارف مسلم (مسلمین) کہہ کر کروایا ہے۔ (الانعام ۱۶۴) تو یہ بیچ میں جمہور اہل سنت یا جمہور اہل تشیع کہاں سے آ گئے؟ کیا جمہور یا کسی گروہ یا کسی شخصیت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ وحی الٰہی قرآن کے رکھے گئے نام واصلاحات واحکامات کو تبدیل کر دیں یا اپنی نسبت یا اپنا تعارف کسی دوسرے نام سے کرائیں؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سنی یا شیعہ تھے؟ کیا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سنی یا شیعہ تھے یا حضرت علی رضی اللہ عنہ شیعہ تھے؟ ہرگز ہرگز ایسا نہیں تھا۔ وہ سنی تھے نہ شیعہ۔ وہ فقط مسلم تھے، مومن تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا تعارف ان الفاظ میں کرایا ہے: 

’’محمد خدا کے پیغمبر ہیں۔ اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل۔‘‘ (الفتح ۲۹) 

صحابہ کرام کے کردار کے متعلق اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے، وہ صحیح ومستند اور لاریب ہے یا صحابہ کرام کے کردار کا وہ رخ جو تاریخ ہمیں دکھاتی ہے، وہ معتبر ہے؟ 

اسی آیہ مبارکہ میں صحابہ کرام کو کھیتی کے بیج سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اگر تاریخ کے مطابق جو اس نے ہمیں بتایا ہے، بیج ہی ناقص ہو تو زمین سے نہ کونپل پھوٹے گی، نہ نال مضبوط ہوگی، نہ کھیتی والے خوش ہوں گے۔ نہ کافروں کا جی جلتا، نہ اسلام پھلتا پھولتا۔ دراصل یہ سارا قصہ ہماری تاریخ کا ہے جس پر وحی الٰہی سے زیادہ ہمارا ایمان ہے اور تاریخ ہمیشہ ظنی ہوتی ہے۔ 

’’اور ان میں سے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ ظن، حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہو سکتا۔‘‘ (یونس ۳۶) 

اس کے ثبوت کے لیے ماہنامہ الشریعہ ماہ مئی اور جولائی کے شماروں میں محترمہ پروفیسر شاہدہ قاضی اور محترم شاہ نواز فاروقی کی تحریریں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ہماری تاریخ انھی محترم حضرات کی چپقلشوں سے بھری پڑی ہے جنھوں نے نہ جانے کتنے افسانوں کو ہمارے سامنے حقیقت کے روپ میں پیش کر کے ہمارے ایمان کا جزو اول بنا رکھا ہے۔ شیعہ سنی تنازع بھی ایک افسانہ تھا جو حقیقت بن کر اللہ اور اس کے رسول کے ماننے والوں میں موجب فساد بن کر ہزاروں لاکھوں کروڑوں بے گناہ انسانوں کی جانیں لے چکا ہے اور اب بھی لے رہا ہے۔ دشمنان دین اسلام کی سازشوں اور کارستانیوں اور ہمارے علماء کرام کی انتہائی سادگی کے سبب اعلیٰ وارفع سچے دین کے پیروکاروں کو فرقہ واریت کی اس آگ میں جھونک دیا گیا ہے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ہمیں بچایا تھا۔ 

’’اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تمھیں بچا لیا۔‘‘ (الانفال ۶۵)

محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب کا یہ تجزیہ صحیح ہے کہ حکومتی انتظامیہ اور جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے دینی عناصر سے متعلق لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی اپنا رکھی ہے، لیکن میرے محترم، یہ تو میکیاولی کی سیاست ہے جسے جمہوریت کہتے ہیں اور یہ حربے اور طور طریقے جمہوریت کا مرکزی نظریہ اور اس کی اساس ہیں۔ سیاست دانوں کی حد تک تو میکیاولی سیاست کا یہ حربہ یا طریقہ شاید قابل قبول ہو، لیکن دینی علما اس میکیاولی سیاست کا حصہ بننے پر کیوں بضد ہیں، جبکہ یہ کبھی بھی ان کا فریضہ نہیں رہا۔ ان کا اصل فریضہ اور غایت الغایات تعمیر سیرت وکردار اور انسان سازی ہے۔ (سورۃ البقرہ ۱۲۹، ۱۵۱) لیکن یہ حضرات تزکیہ نفس یعنی تعمیر سیرت وکردار کو ترک کر کے سیاست دانوں کی تقلید میں مفاد عاجلہ کی خاطر حصول اقتدار کے لیے میکیاولی سیاست کے گند میں کیوں کود پڑے اور اپنے مقام ومرتبہ، اپنے وقار اور احترام کو خاک میں ملا کر بیٹھے؟ انھیں چاہیے تھا کہ سیاست واقتدار کے بجائے امت میں موجود فرقہ واریت کو ختم کرتے، قوم میں فکری ونظریاتی ہم آہنگی پیدا کرتے اور افراد معاشرہ کی اصلاح اور تعمیر سیرت وکردار کے لیے (جو اس وقت ناپید ہے) جدوجہد کرتے۔ اس کے لیے اگر جان کی قربانی بھی دینی پڑتی تو اس سے دریغ نہ کیا جاتا۔ 

اس وقت میرے سامنے جنوری ۱۹۵۱ میں پاکستان کے اکیس علماء کرام کے منظور کردہ بائیس نکات پر مشتمل دستخط شدہ متفقہ قرارداد کی کاپی ہے جس میں حکومت وقت سے ملک میں نفاذ شریعت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس قرارداد کی شق نمبر ۴ میں یہ الفاظ درج ہیں:

’’اسلامی مملکت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ مسلمہ اسلامی فرقوں کے لیے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا بندوبست کرے۔‘‘

شق نمبر ۹ کے الفاظ ہیں: 

’’مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدود قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی ہوگی۔‘‘

یعنی ملک کے اکتیس جید علماء کرام متفق ہوئے ہیں فرقہ واریت پر جس کو اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دے رکھا ہے۔

۱۹۵۸ میں (ہندو مسلم نہیں) مرزائیوں اور دوسرے لوگوں کے درمیان فسادات کروائے گئے۔ سیکڑوں انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ پہلا مارشل لا متعارف ہوا جس کا باعث مذہب تھا۔ حکومت نے اس قضیہ کو مٹانے کی خاطر ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جس کے سربراہ جسٹس منیر تھے۔ اس عدالت نے تمام علماء کرام سے استدعا کی تھی کہ وہ عدالت کی راہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ مسلم کی تعریف (Definition) کیا ہے۔ اس کے جواب میں کسی بھی ایک عالم نے دوٹوک جواب نہیں دیا۔ جن علما حضرات نے جواب داخل کروائے، ان کا جواب کسی بھی دوسرے عالم سے نہیں ملتا تھا۔ نتیجتاً جو فیصلہ دیا گیا، اس کے الفاظ یہ تھے:

’’ان متعدد تعریفوں کو جو علما نے پیش کی ہیں، پیش نظر رکھ کر ہماری طرف سے کسی تبصرہ کی ضرورت ہے، بجز اس کے کہ دین کے دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں؟ اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی Definition کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرۂ اسلام سے خارج کر دیا جائے گا۔ اگر ہم علما میں سے کسی ایک کی تعریف اختیار کر لیں تو اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے، لیکن دوسرے تمام علما کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔‘‘  (حوالہ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات پنجاب، ص ۲۳۵، ۱۹۵۳)

جنرل ضیاء الحق نے نفاذ اسلام کے شوق میں ۱۹۷۳ کے آئین کی دفعہ ۲۲۷ میں وضاحتی نوٹ کے نام پر ترمیم کر کے فرقہ واریت کو دوام دے کر مختلف فرقوں کے درمیان محاذ آرائی کا دروازہ کھول دیا تھا۔ اب اگر علماء کرام خلوص نیت سے فرقہ واریت کا خاتمہ کر کے اتحاد بین المسلمین اور مملکت خداداد پاکستان میں نفاذ اسلام چاہتے ہیں تو اپنی لیڈر شپ متحدہ مجلس عمل سے مطالبہ کریں کہ وہ صوبہ سرحد میں جہاں ان کو اقتدار حاصل ہے، ضیاء الحق کے دور میں آئین کی دفعہ ۲۲۷ میں وضاحتی نوٹ کے نام پر کی گئی ترمیم کو منسوخ کرانے کے لیے سرحد اسمبلی سے ایک قرارداد منظور کرائیں جس طرح حسبہ بل اسمبلی سے منظور کروایا تھا۔ اس کے بعد قومی اسمبلی میں بھی اس ترمیم کو منسوخ کرانے کے لیے بل پیش کریں جو فوراً منظور ہو جائے گا۔ یہیں سے ہماری نیتوں کا پتہ چل جائے گا کہ یہ جو نفاذ شریعت، نظام مصطفی کے نعرے گزشتہ ساٹھ سال سے فضا میں گونجتے رہے ہیں، ان میں کتنی صداقت ہے اور کتنی سیاست۔ یہ اس لیے کہ فرقہ واریت کو ختم کیے بغیر اسلامی نظام کا نفاذ ممکن نہیں۔ یہ بات قرآن میں لکھ دی گئی ہے۔ 

’’جو اللہ تعالیٰ کے نازل فرمائے ہوئے احکام کے مطابق حکم نہ دیں، تو ایسے ہی لوگ کافر ہیں، فاسق ہیں۔‘‘ (مائدہ ۴۴، ۴۵، ۴۷) 

باقی جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔

ان تلخ حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے اس عاجز کم علم کی رائے یہ ہے کہ یہ شریعت بل، نفاذ شریعت کونسلیں اور حسبہ بل سب بے کار وبے معنی ہیں، جب تک ملک میں دین کے حوالے سے فکری ونظریاتی ہم آہنگی نہ ہو۔ فرقہ واریت اتحاد ملی کے لیے زہر قاتل ہے اور یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس نے مسلم امہ میں عموماً اور پاکستانی معاشرہ میں خصوصاً ایک ناسور کی شکل اختیار کر رکھی ہے جس میں سے ہر وقت زہریلا مواد بہتا رہتا ہے۔ اگر اس کا تدارک نہ کیا گیا تو ہمارا مذہبی ومعاشرتی جسم اس کی لپیٹ میں آ کر گل سڑ جائے گا اور ہماری موت واقع ہو جائے گی۔ 

کرنے کا کام یہ ہے کہ پہلے فرقہ واریت کی خلیج کو پاٹا جائے۔ میرے ممدوح جناب محترم مولانا زاہد الراشدی صاحب اور جناب محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب تمام مسالک کے علماء کرام سے رابطہ کریں اور کسی مقام پر مسلمان کی تعریف کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سیمینار منعقد کروائیں اور اس میں تمام مسالک کے علماء کرام کے علاوہ دیگر صاحبان علم وقلم، دانش وروں، سیاست دانوں کو اس موضوع پر اظہار خیال کی دعوت دیں۔ علماء کرام کو دین سے محبت ہے اور اب وہ بہت سے سرد وگرم حالات سے گزر چکے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ اب انھیں معروضی حالات اور زمینی حقائق کا ادراک حاصل ہو چکا ہوگا اور وہ یقیناًمسلم کی تعریف کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ اس کے بعد شیعہ سنی اور دیگر تمام تنازعات خود بخود ختم ہو جائیں گے، لیکن اس کے لیے محکم اساس کا ہونا از بس ضروری ہے۔ مجھ کم علم، عاجز کے نزدیک یہ اساس محکم قرآن کریم کے علاوہ کہیں اور سے نہیں مل سکتی اور وہ یہ ہے: 

’’اے رسول! جس نے امت کے اندر فرقہ بنایا، تو ان میں سے نہیں۔‘‘ (انعام ۱۶۰، الروم ۳۱، ۳۲) 

میری حضرت مولانا زاہد الراشدی اور ڈاکٹر محمد امین صاحب کے علاوہ دیگر تمام مسالک کے علماء کرام سے دست بستہ التجا ہے کہ وہ قرآن کریم کی ان آیات پر غور وتدبر فرمائیں اور انھیں اس مسئلہ میں بنیاد بنائیں۔ ہم کب تک باہمی ضد کی وجہ سے منتشر اور بھٹکتے پھرتے رہیں گے اور اسلام دشمن قوتوں کا ایک ایک کر کے نوالہ بنتے چلے جائیں گے؟ اس عاجز کم علم کی تمام مذہبی وسیاسی قیادت، اہل علم وقلم اور ملک کے تمام دانش وروں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ اٹھیں اور آگے بڑھ کر جس قدر جلد ممکن ہو، اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں مولانا زاہد الراشدی اور ڈاکٹر محمد امین صاحب کی مساعی جمیلہ میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ گو کہ یہ مسائل صدیوں پر محیط ہیں لیکن خلوص نیت، جذبہ صادق اور اللہ اور اس کے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو تو کوئی مشکل کام نہیں۔ ایک نہ ایک دن ہم اپنے ہاتھوں سے لگائی ہوئی آگ پر قابو پانے میں ضرور کام یاب ہو جائیں گے۔ 

(آفتاب عروج 

مکان 11/9-W۔ گوجر روڈ۔

سیٹلائیٹ ٹاؤن۔ چنیوٹ)

(۲)

گزشتہ ایک برس سے ماہنامہ الشریعہ میں مختلف حضرات شیعہ سنی مسئلے پر اپنی اپنی رائے کا اظہار فرما رہے ہیں۔ اسی سلسلے کا ایک مضمون مئی ۲۰۰۵ کے شمارے میں ’’شیعہ سنی تنازع اور اس کا پائیدار حل‘‘ کے زیر عنوان نظر سے گزرا جس میں فاضل مضمون نگار محترم ڈاکٹر محمد امین صاحب نے تکفیر شیعہ سے متعلق شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے موقف پر تنقید کی ہے۔ شیعیت سے معمولی واقفیت رکھنے والا آدمی بھی دیکھ سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے حقائق سے کھلم کھلا انحراف کی راہ اختیار کی ہے۔ حافظ عبد الرشید صاحب نے جولائی کے شمارے میں ڈاکٹر صاحب کے اعتراضات کے مسکت اور مدلل جواب دیے ہیں جنھیں پڑھ کر ایک خالی الذہن آدمی بھی حقیقت حال سے آگاہی حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم ڈاکٹر صاحب کے مضمون کے ایک نکتے پر حافظ عبد الرشید صاحب نے روشنی نہیں ڈالی۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

’’جہاں تک تکفیر شیعہ کا تعلق ہے، ہمارے علم کے مطابق یہ اہل سنت کا کوئی متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے، بلکہ غالباً یہ کہا جا سکتا ہے کہ جمہور اہل سنت کا موقف یہ ہے کہ اہل تشیع کا نقطہ نظر غلط ہے۔ چلیے اسے گمراہی کہہ لیجیے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کی یہ وضاحت اہل سنت کے موقف کی ہرگز ترجمانی نہیں کرتی۔ یہاں ہم اسلامی تاریخ کے مقتدر علماء کرام، محدثین عظام اور رؤساے امت کے صرف چند حوالہ جات نقل کریں گے جن سے یہ واضح ہوگا کہ تکفیر شیعہ کا مسئلہ اہل سنت کے ہاں ایک متفق علیہ اور اجماعی مسئلہ ہے۔

۱۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: 

’’اگر میں اپنے شیعوں کو جانچوں تو یہ زبانی دعویٰ کرنے والے اور باتیں بنانے والے نکلیں گے اور اگر ان کا امتحان لوں تو سب مرتد نکلیں گے۔‘‘ (روضہ کلینی ص ۱۵۷، بحوالہ احسن الفتاویٰ ۱/۸۴)

۲۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے جماعت صحابہ کے لیے ترقی اور کامرانی کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے: لیغیظ بہم الکفار (الفتح ۲۹) ’’تاکہ اللہ ان کے ذریعے سے کفار کو غیظ ناک کرے‘‘۔ اس آیت کریمہ کی بنیاد پر امام دار الہجرۃ امام مالکؒ نے رافضیوں کو کافر قرار دیا ہے اور یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام سے بغض رکھے، وہ کافر ہے۔ علماء کی ایک کثیر تعداد نے امام صاحب کی تائید کی ہے۔ (تفسیر ابن کثیر۔ تفسیر روح المعانی) امام شافعی (۲۰۴ھ) نے بھی امام مالک سے اتفاق کرتے ہوئے روافض کو کافر کہا ہے۔ (الصواعق المحرقہ ص ۲۱۰)

۳۔ علامہ عبد اللہ بن ادریس الاردی (۱۹۲ھ) فرماتے ہیں:

’’شفعہ مسلمان کا حق ہے، رافضی کا نہیں کیونکہ رافضی مسلمان نہیں ہے۔ وہ کفار کی مثل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صحابہ کرام سے کفار بغض رکھتے ہیں۔ اور یہی معنی ہے امام احمدؒ کے اس قول کا کہ جو شخص حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عائشہ کو برا بھلا کہتا ہے، میں اسے اسلام پر نہیں سمجھتا۔‘‘ (الصارم المسلول ص ۵۷۰)

۴۔امام ابن حزم اندلسیؒ (۴۵۶ھ) کا فتویٰ یہ ہے:

’’پورا فرقہ امامیہ، ان کے متقدمین اور متاخرین سب اس کے قائل ہیں کہ قرآن بدل ڈالا گیا ہے۔ اس میں وہ کچھ بڑھا دیا گیا ہے اور شامل کر دیا گیا ہے جو اس میں نہیں تھا اور بہت کچھ کم کر دیا گیا ہے۔ بہت تبدیلی اور تحریف کر دی گئی ہے۔‘‘

مسیحیوں کے اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ رافضیوں کے بقول تمہارے نبی کے صحابہ نے قرآن میں تحریف کر دی، امام ابن حزم لکھتے ہیں: ان الروافض لیسوا من المسلمین (الملل والنحل ۲/۷۸، ۳/۱۸۱) کہ روافض مسلمانوں میں شامل نہیں ہیں۔

۵۔ قاضی عیاض مالکیؒ (۵۵۴ھ) فرماتے ہیں:

’’ہم ان غالی شیعوں کو اس قول کی وجہ سے قطعی کافر قرار دیتے ہیں کہ ان کے اماموں کا درجہ نبیوں سے اونچا ہے۔‘‘ (الشفاء ۲/۲۹۰)

۶۔ شیخ عبد القادر جیلانی لکھتے ہیں:

’’شیعوں کے تمام گروہ اس پر متفق ہیں کہ اماموں کا تعین اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ وہ معصوم ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ تمام صحابہ سے افضل ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علیؓ کو امام وخلیفہ نہ ماننے کی وجہ سے چند ایک کے سوا تمام صحابہ مرتد ہو گئے ۔ ان کا عقیدہ ہے کہ امام کو دنیا اور دین کی تمام چیزوں کا علم ہے۔ یہودیوں نے تورات میں تحریف کی۔ اسی طرح روافض بھی اپنے اس دعویٰ کی وجہ سے کہ قرآن میں تبدیلی کی گئی ہے، قرآن مجید میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں۔‘‘ (غنیۃ الطالبین ص ۱۶۴ تا ص ۱۶۲)

۷۔ امام فخر الدین رازی کا فتویٰ:

’’رافضیوں کی طرف سے قرآن میں تحریف کا دعویٰ اسلام کو باطل کر دیتا ہے۔‘‘ (تفسیر کبیر)

۸۔ شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کا فتویٰ:

’’عصر حاضر کے ان مرتدین سے اللہ کی پناہ! یہ لوگ کھلم کھلا اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، اس کی کتاب اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔ اسلام سے خارج ہیں ........ یہ حضرت صدیق اکبرؓاور ان کے ساتھیوں سے عداوت رکھنے والے ہیں اور اسی طرح کے مرتد اور کافر ہیں جیسے وہ مرتدین تھے جن سے صدیق نے جنگ کی تھی۔‘‘ (منہاج السنۃ ۲/۱۹۸ تا ۲۰۰)

مزید فرماتے ہیں:

’’اگر کوئی صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کو جائز سمجھ کر کرے تو وہ کافر ہے۔ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والا سزائے موت کا مستحق ہے۔ جو صدیق اکبر کی شان میں گالی بکے، وہ کافر ہے۔ رافضی کا ذبیحہ حرام ہے، حالانکہ اہل کتاب کا ذبیحہ جائز ہے۔ اور روافض کا ذبیحہ کھانا اس لیے جائز نہیں کہ شرعی حکم کے لحاظ سے یہ مرتد ہیں۔‘‘ (الصارم المسلول ص ۵۷۵)

۹۔ شیخ الاسلام ومفتی اعظم سلطنت عثمانیہ شیخ ابو السعود کا فتویٰ:

’’شیعوں سے جنگ جہاد اکبر ہے اور ان سے جنگ میں ہمارا جو آدمی مارا جائے، وہ شہید ہوگا۔ شیعہ اسلامی فرقوں سے خارج ہیں۔ ان کا کفر ایک سطح پر نہیں رہتا بلکہ بتدریج بڑھتا رہتا ہے۔ ہمارے گزشتہ علما کا اس پر اتفاق ہے کہ ان پر تلوار اٹھانا جائز ہے اور یہ کہ ان کے کافر ہونے میں جس کو شک ہو، وہ خود بھی کفر کا مرتکب قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ امام اعظمؒ ، امام سفیان ثوریؒ ، امام اوزاعیؒ کا مسلک یہ ہے کہ اگر یہ لوگ توبہ کر کے اسلام میں آ جائیں تو انھیں قتل نہیں کیا جائے گا اور امید کی جا سکتی ہے کہ دوسرے کافروں کی طرح توبہ کے بعد ان کی بھی بخشش ہو جائے گی، لیکن امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، امام لیث بن سعدؒ اور بہت سے ائمہ کبار کا مسلک یہ ہے کہ نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی اور نہ ان کے اسلام لانے کا اعتبار کیا جائے گا، بلکہ حد جاری کرتے ہوئے ان کو قتل کر دیا جائے گا۔‘‘ (رسائل ابن عابدین، ۱/۳۶۹)

۱۰۔ ملا علی قاری (۱۰۱۴ھ) کا فتویٰ:

’’ہمارے دور کے رافضی تمام اہل سنت والجماعت کی تکفیر کا اعتقاد رکھنے کے علاوہ اکثر صحابہ کرام کی تکفیر کرتے ہیں، لہٰذا بغیر کسی نزاع کے رافضی بالاجماع کافر ہیں۔‘‘ (مرقاۃ ۹/۱۳۷ بحوالہ ارشاد الشیعہ)

۱۱۔ شیخ احمد سرہندی (۱۰۳۴ھ) کا فتویٰ:

’’شیعہ کو کافر ٹھہرانا احادیث صحاح کے مطابق اور طریق سلف کے موافق ہے۔‘‘ (رد رفض ۳۹)

۱۲۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ (۱۱۷۶ھ) کا فتویٰ:

’’شیعوں کی اصطلاح میں امام معصوم ہوتا ہے۔ اس کی اطاعت فرض ہوتی ہے۔ اللہ کی طرف سے مخلوق کی ہدایت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ اس پر باطنی وحی آتی ہے۔ پس درحقیقت وہ ختم نبوت کے منکر ہیں، اگرچہ زبان سے حضور کو خاتم الانبیاء کہتے ہیں۔‘‘ (تفہیمات الٰہیہ ص ۲۴۴ بحوالہ بینات ص ۷۸)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے زمانے میں علماء کرام کی طرف سے شیعہ اثنا عشریہ کی تکفیر کے بارے میں ایک متفقہ فتویٰ جاری کیا گیا۔ اس فتوے پر مولانا سید حسین احمد مدنی نے بھی دستخط فرمائے تھے۔ مولانا عبد الماجد دریابادی نے اس فتوے کے بارے میں کچھ اشکالات لکھ کر مولانا تھانوی کی خدمت میں بھیجے جس کے جواب میں مولانا نے تفصیل سے تمام اشکالات کا جواب تحریر فرمایا اور فتوے کے ہر ہر جزو کی تصویب وتصدیق فرمائی۔ یہ سوال وجواب امداد الفتاویٰ جلد چہارم کے صفحہ ۵۸۴ تا ۵۸۷ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہاں ہم ان میں سے ایک سوال اور اس کا جواب نقل کرنے پر اکتفا کریں گے:

’’سوال ۷: حضرت حاجی صاحب کا جو مکتوب سرسید احمد کے نام تھا، مجھے اس قدر پسند آیا تھا کہ میں نے اہتمام کے ساتھ سچ میں شائع کیا تھا۔ پس میری فہم ناقص میں اسی کو معیار بنا لینا چاہیے اور اسی کے مطابق معاملہ تمام گمراہ فرقوں سے رکھنا چاہیے۔ یعنی نہ مداہنت، نہ اتنی مخالفت کہ ان میں اور آریوں عیسائیوں وغیرہ میں کوئی فرق ہی نہ رکھا جائے۔

جواب: لیکن اگر وہ خود ہی اپنے کو کافر بنائیں تو کیا ہم اس وقت بھی ان کو کافر نہ بنائیں؟ دنیا میں اپنے کو آج تک کسی نے کافر نہیں کہا بلکہ کوئی عیسائی کہتا ہے، کوئی یہودی۔ مگر چونکہ ان تمام فرقوں کے عقائد کفریہ دلائل سے ثابت ہیں، اس لیے ان کو کافر ہی کہا جاوے گا۔ تو مدار اس حکم کا عقائد کفریہ پر ٹھہرا۔ گویا اگر ایک شخص اپنے کو فرقہ شیعہ سے کہتا ہے اور کوئی عقیدہ کفریہ اس مذہب کے اجزا یا لوازم سے ہے تو اپنے کو اس فرقہ میں بتلانا بدلالت التزامی اس عقیدہ کو اپنا عقیدہ بتلانا ہے تو عدم تکفیر کی کیا وجہ؟ اور اگر ان کے یہاں یہ عقیدہ مختلف فیہ ہوتا، تب بھی اس کی تکفیر میں تردد ہوتا، لیکن یہ بھی نہیں اور جو اختلاف ہے، وہ غیر معتد بہ ہے جس کی خود ان کے جمہور رد کرتے ہیں۔ اس حالت میں اصل تو کفر ہوگا۔ البتہ کوئی صراحتاً کہے کہ میرا یہ عقیدہ نہیں ہے یا کوئی فرقہ اپنا لقب جدا رکھ لے مثلاً جو علما ان کے تحریف کے نافی ہیں، ان کی طرف اپنے کو منسوب کیا کریں، مثلاً اپنے کو صدوقی یا قمی یا مرتضوی یا طبرسی کہا کرے، مطلق شیعہ نہ کہے تو خاص اس شخص کو یا اس فرقہ کو اس عموم سے مستثنیٰ کہہ دیں گے، لیکن ایسے استثناؤں سے قانونی حکم نہیں بدلتا ہے۔ حرمت نکاح اور حرمت ذبیحہ قانونی احکام ہیں۔ اس پر بھی جاری ہوں گے، جب تک وہ فرقہ متمیز ومشہور نہ ہو جائے۔ خصوصاً جب تقیہ کا بھی شبہہ ہو تو خواہ سوء ظن نہ کریں، مگر احتیاطاً عمل تو سوء ظن ہی ایسا ہوگا۔ البتہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ وہ اس کے عقیدہ کے مطابق ہوگا۔ اگر کوئی ہندو توحید کا بھی قائل ہو اور رسالت کا بھی لیکن اپنے کو ہندو ہی کہتا ہو، گو کچھ تاویل ہی کرتا ہو تو اس کے ساتھ آخر کیا معاملہ ہوگا؟ یہی حالت یہاں کی ہے۔ ضلع فتح پور میں ہندووں کی ایک جماعت ہے جو قرآن اور حدیث پڑھتے ہیں اور نماز روزہ بھی رکھتے ہیں مگر اپنے کو ہندو کہتے ہیں۔ لباس اور نام سب ہندووں جیسے رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کو ہندو کہیں اور اپنا مشرب ظاہر نہ کریں تو کیا سامع کے ذمہ تفصیل واجب ہوگی کہ اگر ایسے عقیدہ کا ہے تو مسلمان؟‘‘

(حافظ محمد عثمان

متعلم مدرسہ اشرف العلوم گوجرانوالہ)

آراء و افکار

(اکتوبر ۲۰۰۵ء)

Flag Counter