اسلام، مسلمان اور مغربی ذرائع ابلاغ

ایم جے اکبر

اسلام اور مسلمانوں، خاص طور پر توانائی کی دولت رکھنے والے مسلم ممالک پر ایک زبردست فکری یلغار جاری ہے۔ پراپیگنڈے کی ایک آندھی ہے جس میں الزامات بڑی شاطرانہ مہارت سے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات عوامی ذرائع ابلاغ کے واسطے سے بری طرح پھیلائے جا رہے ہیں۔ ان الزامات کا جواب حقائق کی وضاحت اور عقل وحکمت کے ساتھ دیا جانا ضروری ہے۔ اس بحث میں ہم کو اس وقت شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب ہم خود سپردگی کی حد تک جھک کر دفاعی انداز اختیار کرنے لگتے ہیں، یا عقل وہوش کھو کر رد عمل اور جوش کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں، لیکن ہمیں جان لینا ہوگا کہ ہمارے لیے ان دونوں کے بیچ کا راستہ ہی اصل راستہ ہے اور اس پر چلنا کوئی بہت مشکل بھی نہیں۔

مسلمانوں اور امریکیوں کے درمیان ایک دوسرے کے عقیدہ ومذہب کے متعلق حساسیت کا پایا جانا فطری ہے، اس لیے کہ موجودہ دنیا میں یہی دو قومیں اپنے عقیدے پر پختہ یقین رکھنے والی قومیں ہیں۔ چرچ کے ادارے کی طرف سے کرائے جانے والا ایک سروے اسی سال کے شروع میں سامنے آیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ساٹھ فی صد امریکی روزانہ عبادت کرتے ہیں۔ ستر فیصد کہتے ہیں کہ امریکی صدر کو مذہب پر پختہ یقین رکھنے والا ہونا چاہیے۔ اکسٹھ فی صد اسقاط حمل پر اس لیے پابندی لگانے کے حق میں ہیں کہ یہ مذہبی اخلاقیات کی رو سے غلط ہے۔ میرے پاس مسلمانوں کے بارے میں اس طرح کے اعداد وشمار نہیں ہیں۔ یقیناًمسلمانوں میں دین داری کا رجحان اس سے کم نہیں ہے، بلکہ اس سے زیادہ ہے۔ کسی بھی مسلم ملک کا صدر یا وزیر اعظم یہ چاہتا ہے کہ وہ جمعہ کی نماز میں ضرور نظر آتا رہے۔ امریکہ کے برخلاف یورپ اپنا مذہب عقل پرستی اور اس کے بعد اٹھنے والی مذہب بیزار تحریکوں اور کمیونزم کے سیلاب میں کب کا بہا چکا ہے۔ یورپ میں مارکس اور لینن کی تحریکیں ایسا زور پا گئی تھیں کہ انھوں نے آدھے ایشیا سے بدھ اور کنفیوشس کے مذہب کو اور آدھے یورپ سے عیسیٰ مسیح کے مذہب کو بے دخل کر دیا۔

مذہب انسانی عقل پر مبنی نہیں ہوتا۔ مذہبی ایمان کا تعلق روحانی احساسات، اخلاقی شعور اور عقیدے پر پختگی سے ہوتا ہے۔ اسلام اکیلے خالق، اللہ کے جمال وجمال کے سامنے سرنگوں ہونے کا نام ہے۔ ایک مسلمان کہتا ہے کہ ہم اگرچہ یہ جان سکتے ہیں کہ ہم کیسے پیدا ہوتے ہیں، مگر ہمارے پاس خود یہ جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں کہ ہم کیوں پیدا ہوتے ہیں یعنی ہماری پیدایش، موت اور سارے وجود کی غرض وغایت کیا ہے۔ ایک مسلمان اس پر ایمان رکھتا ہے کہ موت سے پہلے بھی زندگی ہے اور اس کے بعد بھی۔ اسی عقیدے کی مظہر یہ مشہور دعا ہے : انا للہ وانا الیہ راجعون (ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے)۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کسی خاص عبارت کو توڑ مروڑ کر اس کے سیاق وسباق سے کاٹ کر اس مقصد کے تحت پیش کیا جاتا ہے کہ ایک خاص مذہب اور اس کے ماننے والوں کو ایک خوف ناک صورت میں دکھایا جائے۔ مغرب میں خود کش حملوں کو حقارت آمیز مضحکہ کا موضوع بنایا جاتا ہے۔ بجائے اس کے کہ یہ سوچا جائے کہ (اکثر اوقات) یہ جبر وظلم سے آخری درجے تک تنگ آ جانے کے بعد ایک بے چین چیخ ہوتی ہے، اس کے بجائے اسلامی عقیدے کا اس طرح مذاق اڑایا جاتا ہے کہ ’’خود کش حملہ کرو اور حوروں سے جا ملو، عیش کے مزے لوٹو۔‘‘ حالانکہ اسلامی ہدایات کا سرسری مطالعہ بھی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مرنے کے بعد ایسا مادی جسمانی وجود باقی نہیں رہے گا اور یہ دنیا کی زندگی کی ضروریات اور حظ ومسرت کے احساسات آخرت کی زندگی کے احساسات سے مختلف ہیں، لیکن یہاں جان بوجھ کر اسلامی نصوص کی غلط تشریح کی جاتی ہے اور اس کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبہ قربانی، خصوصاً جان کی قربانی کے سرچشمے یعنی آخرت پر یقین اور جنت کے شوق کا مذاق اڑایا جائے اور اس کو بے وقوفوں کا خواب قرار دیا جائے۔ میڈیا کے ذریعے اسلام کو بری طرح بدنام کیا جا رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے زمانے کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔

یہ ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف الزامات کی یہ بارش ۱۱؍۹ کے حملوں سے بہت پہلے سے جاری ہے۔ یہ کہنا غلط ہے کہ یہ سب بس رد عمل ہے۔ ہنٹنگٹن نے تہذیبی تصادم سے متعلق اپنی کتاب ۱۱؍۹ سے سات سال پہلے شائع کی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تقریباً سارے ہی مسلم ممالک نے افغانستان اور کویت کی جنگو ں میں امریکہ کا ساتھ دیا تھا۔ امریکہ کے نو قدامت پسندوں (Neo-cons) کی تحریک کو سارا الزام دے کر خاموش بیٹھ جانا غلط ہے۔ ہم کو جواب دینا ہوگا۔

مغربی میڈیا کی کچھ خبروں پر اعتماد کیجیے تو یہی تاثر پیدا ہوگا کہ خود کش حملے مسلمانوں کی ایجاد ہیں۔ خودکش مہمیں ہمیشہ سے جنگ کا حصہ رہی ہیں اور ان بہادروں کو جو اپنی جان آخری حد تک خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہو جائیں، بڑا احترام کا رتبہ دیا جاتا رہا ہے۔ ابھی حال میں ایک مبصر نے (مشہور برطانوی روزنامہ) گارڈین میں لکھا ہے کہ سامسن (Samson) دنیا کا سب سے مشہور خود کش مشنری تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپانی ایئر فورس نے کامیکاز (Kamikaze) کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اس وقت امریکہ کی طرف سے اس پر جو تبصرہ آیا تھا، وہ دلچسپ بھی تھا اور ایسا سچا بھی کہ اس کی سچائی آج بھی باقی نظر آ رہی ہے۔ ایڈمرل ولیم فریڈرک ہالسے (William Fredrick Halsey 1884-1959) جو امریکن تھرڈ فلیٹ کا کمانڈر تھا، اس نے کہا تھا: ’’یہ وہ چیز ہے جس سے ہم بالکل آشنا نہیں۔ امریکن جو جینے کے لیے لڑتے ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ کچھ لوگ مرنے کے لیے لڑتے ہیں۔‘‘ اس امریکی بہادر پر ایسا ہی ایک حملہ ہوا تھا۔

جاپانی کامیکاز (Kamikaze) کو خود کشی نہیں کہتے تھے۔ وہ اس کو بزدلوں پر اخلاقی فتح کہتے تھے۔ وہ اپنے پائلٹوں سے کہتے تھے: سارے غموں، دکھوں کو چھوڑ کر جنت میں داخل ہو جاؤ۔ یہ موت نظر آتی ہے مگر حقیقی زندگی تک لے جاتی ہے۔ وائس ایڈمرل تاکیرو دانسی نے رجزیہ انداز میں کہا تھا:

زندگی ایک کلی کی مانند ہے

مسکراتی ہے، پھر اس کی پنکھڑیاں بکھر جاتی ہیں

کیا کوئی خوشبو کو ہمیشہ باقی رہنے والا تصور کر سکتا ہے؟

غیر علانیہ جنگ میں خود کش حملوں کا سب سے موثر استعمال تامل ٹائیگرز نے کیا ہے جو ہندو ہیں۔ ایک ایسے ہی حملے میں ہمارے ایک وزیر اعظم (راجیو گاندھی) کی جان گئی۔ مگر حقائق مسخ کر کے دنیا کی رائے عامہ کو ا س طرح گمراہ کیا گیا ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے کہ ’’دہشت گردی‘‘ اسلامی عقائد کی پیداوار ہے۔ یہ بدترین اتہام ہے۔

ہم کو ۱۱؍۹ اور لندن حملوں کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ اور جذباتی رد عمل کی فضا کو سامنے رکھ کر بات کرنا ہوگی۔ میں خود کش حملوں سے متفق نہیں ہوں، مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سارے خود کش حملہ آور ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی، خاص طور پر جب کوئی غیر ملکی دشمن طاقت کسی علاقے پر قبضہ کر لے تو خود کش حملہ ایک نوجوان کی آخری درجہ بے چینی اور مایوسی کا اظہار ہوتا ہے۔ ہم کو ان مایوسیوں اور بے چینیوں کا علاج فراہم کرنا ہوگا۔ ہم کو ناقابل قبول ’’دہشت گردی‘‘ اور جائز جدوجہد اور مزاحمت میں فرق کرنا ہوگا۔ تاریخ کا کوئی دور مسائل اور نا انصافیوں سے خالی نہیں رہا۔ نا انصافیوں کے علاج کے لیے پرامن گفتگو کسی بھی ہوش مند آدمی کی ترجیح ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی مسلح جدوجہد یا خود کش حملے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

میں کچھ عرصہ قبل اگست کے وسط میں برلن ایک سیمینار میں شرکت کے لیے گیا۔ عنوان تھا ’’یورپ اور ماڈرن اسلام‘‘۔ میزبان اس پارٹی کے ممبر تھے جو اس ماہ کے آخر میں اقتدار میں آنے کی امید رکھتی ہے۔ یہ لوگ، ایسا محسوس ہوا، اسلام کے بارے میں متعصبانہ ذہن نہیں رکھتے بلکہ موجودہ حالات میں اسلام اور مغرب کے درمیان ناواقفیت کی جو خلیج حائل ہے، اس کو پاٹنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ کانفرنس میں فطری طور پر حجاب کا تذکرہ آیا، میں نے بحث کی کہ پوری مشرقی دنیا میں، مذہبی تفریق سے قطع نظر، سر پر دوپٹہ رکھنا عورت کی حیا کا لازمی تقاضا سمجھا جاتا ہے۔ میں نے کسی عیسائی کی بنائی ہوئی حضرت مریم کی کوئی تصویر ایسی نہیں دیکھی جس میں وہ ایک طرح کے حجاب میں نہ ہوں۔ساری کیتھولک ننیں سر پر ایک خاص طرح کا کپڑا رکھتی ہیں اور یہ عجیب حیران کن مگر سچی بات ہے کہ (جسم پر) ایک پٹکا (Thong) مہذب سمجھا جا رہا ہے اور اسکارف وحشیانہ!!

میں نے بار بار دہرایا جانے والا یہ طعنہ بھی سنا کہ مسلم معاشروں میں ابھی تک نشاۃ ثانیہ (Renaissance)نہیں آئی ہے۔ مجھے کہنا پڑا کہ نشاۃ ثانیہ کی اس کو ضرورت پڑتی ہے جو قرون مظلمہ (Dark Ages) سے گزرا ہو۔ چائنا، ہندوستان اور عثمانی خلافت کے زیر انتظام علاقوں میں قرون مظلمہ کا وہ تجربہ نہیں ہوا جو یورپ کو ہوا تھا۔ بغداد میں اس وقت سو کتابوں کی دوکانیں تھیں جب آکسفورڈ کے قیام میں ابھی دو سو سال باقی تھے۔ میرے اس طرح کے ریمارکس پر ایک صاحبہ نے کہا کہ ’’ایک مسلمان نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا۔‘‘ جب میں نے کہا کہ یہ ایک برہمن ہندو کا کام تھا تو ان کی حیرت کی انتہا نہیں تھی۔

اپنے دیگر مسلم بھائیوں کی طرح مجھ پر یہ آوازے کسے گئے کہ تمہارا دین بس ’’جہاد‘‘ ہے ، اور کچھ نہیں۔ میں اپنے دین کے بنیادی اصولوں کے بارے میں کوئی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کرتا۔ اسلام ایک امن کا دین ہے، مگر وہ یہ جانتا اور مانتا ہے کہ کبھی کبھی حالات ایسے ہوتے ہیں کہ جنگ آپ پر تھوپ دی جاتی ہے۔ اسلام جائز اور ناجائز جنگ کے درمیان فرق کرتا ہے۔ جہاد نا انصافی کے خلاف جنگ ہے۔ جہاد کے واضح قوانین ہیں۔ حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں، بچوں او ر بے قصوروں کو مت قتل کرو ، یہاں تک کہ پھل دار پیڑ تک کو کاٹنے سے منع کیا گیا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر جنگ جہاد نہیں ہے۔

برلن کے سیمینار کا عنوان (’’یورپ اور ماڈرن اسلام‘‘) ہی نہایت بے معنی اور غلط تھا۔ اسلام میں کچھ ایسا نہیں کہ اس کو ماڈرن، قرون وسطیٰ کا یا قدیم کہا جا سکے۔ اسلام ایک ہی ہے۔ اسلام، اسلام ہے۔دوسری بات یہ کہ یورپ ایک جغرافیائی خطے کا نام ہے اور اسلام ایک دین ہے۔ دونوں کے درمیان تقابل کیسا؟ مغرب اور وسط ایشیا کا آپ تقابل کر سکتے ہیں۔ مغرب اور جنوبی ایشیا میں آپ تقابل کر سکتے ہیں،مگر یہ کیسا تقابل کیا جا رہا ہے؟ ہاں، اسلام اور عیسائیت میں آپ تقابل کر سکتے ہیں۔ مغرب کا اسلام سے موازنہ کرنے کے پیچھے یہی تعصب آمیز ذہنیت چھپی ہوئی ہے کہ ’مغرب‘ نام ہے روشن خیالی، ترقی اور جدید زمانے کی ہر اچھائی کا، اور اسلام نام ہے ظلمت پسندی، رجعت پسندی اور زوال وانحطاط کا۔ یہ خیال کہ اسلام ایک وحشیانہ مذہب ہے، صلیبی جنگوں کے باقی ماندہ اثرات میں سے ہے جس کی جڑیں مغرب کی فکر میں ابھی تک باقی ہیں۔

مختلف مسلم قوموں کو جب اسلام کے نام سے جانا جاتا ہے اور ان کی ساری تہذیب وتاریخ کو اسلام کہا جاتا ہے تو یہ مختلف کلچروں اور تاریخوں کو ایک بے معنی وحدت میں خلط ملط کرنے کی بے نتیجہ حماقت ہوتی ہے۔ انڈونیشیا کی حالیہ ترقی اور سیاسی وسماجی ارتقا کا کوئی تعلق مراکش کی ترقی سے نہیں ہے۔ یہ باور کرنا کہ اسلام بعض قوموں کے غریبی اور مطلق العنانی میں پھنسے ہونے کا سبب ہے، حقائق کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

اسی طرح ’’اسلام اور جمہوریت‘‘ بھی ایک بے معنی بات ہے۔ اسلام ۱۴۰۰ سال پرانا دین ہے۔ جمہوریت کی عمر کتنی ہے؟ بس امریکہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی جمہوریت دو سو سالہ ہے۔ امریکہ کا دستور انفرادی اور اجتماعی آزادی کا زبردست نمونہ ہے، مگر اس ’’شاندار‘‘ جمہوریت کا حال یہ ہے کہ ایک نسل پہلے تک یہ جمہوریت گورے کے لیے الگ تھی، کالے کے لیے الگ۔ یہ تو ۱۹۶۵ء کے حق رائے دہی کے قانون کے بعد مسی سپی جیسی ریاست میں کالوں کا ووٹنگ لسٹ میں باقاعدہ اندراج ہوا ہے جس کے نتیجے میں ان کا تناسب جو ۱۹۶۴ء میں محض سات فی صد تھا، بڑھ کر ۱۹۶۸ء میں ستر فی صد ہو گیا۔ امریکہ کی آزادی کے تین سال بعد فرانس نے آزادی، مساوات اور اخوت کا اعلان ووعدہ کیا، مگر اس سلسلے میں دستور اور نظام کی سطح پر کچھ بھی ایک صدی کے بعد کیا جا سکا۔ جمہوریت کے سب سے بڑے وکیل برطانیہ میں بیسویں صدی میں ہی سب کو حق رائے دہی مل سکا۔ مشرقی یورپ میں اب آ کر ہر بالغ کو رائے دہی کا حق مل رہا ہے۔ ایک ارب چینیوں نے آج تک جمہوریت نہیں دیکھی۔ کیا کسی علمی ادارے نے کنفیوشس ازم اور جمہوریت پر کوئی سیمینار کیا ہے؟

اگر بہت سے ممالک آج غیر جمہوری ہیں تو اس کے اسباب مذہب میں نہیں بلکہ ان کی تاریخ میں ہیں جس میں استعماری عہد اور جدید زمانے کا استعمار شامل ہے۔ مسلمانوں کی کمیوں کے لیے اسلام کو قصور وار ٹھیرانا غلط ہے۔ یہ عیسائیت کا جرم نہیں کہ لاطینی امریکہ میں ایسے ڈکٹیٹر ہیں جو چرچ جاتے ہیں۔ اسلام مطلق العنانی کی ہمت افزائی نہیں کرتا بلکہ وہ جمہوری خیالات کی آبیاری کرتا ہے، مثلاً اجتماعی انصاف، مساوات اور رحم دلی کو وہ بنیادی اصول واقدار قرار دیتا ہے۔ وسیع النظر مسلم علما نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ اسلام جمہوری عقیدہ ہے۔ ۱۹۴۰ء میں مولانا آزاد نے کانگریس کا صدر منتخب ہونے پر تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اسلام نے ہندوستان کو جو عظیم تحفے دیے، ان میں جمہوری خیالات بھی ہیں۔‘‘

مغرب میں ایک مشہور کتاب تاریخ کے خاتمے (End of History) سے بحث کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انسانی تہذیب وافکار کا ارتقا امریکی تہذیب پر جا کر ختم ہوتا ہے، مگر عالم اسلام کی موجودہ حالت پر غور کرتے ہوئے میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ ایک ’’نئی تاریخ کی ابتدا‘‘ ہے۔ اس تاریخ کا آغاز ۱۹۱۸ء سے ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب سارا عالم اسلام غلامی کے شکنجے میں کسا ہوا تھا۔ سلطنت مغلیہ کے زوال کے ساٹھ سال بعد ۱۹۱۸ء میں عثمانی سلطنت کا چراغ بھی گل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے مسلمانوں کو مکمل طور پر غلام بنا دیا تھا۔ عرب قوم پرست مغرب کے آزادی کے وعدوں پریقین کیے ہوئے تھے مگر مغرب، جس کی قیادت اس وقت برطانیہ اور فرانس کر رہے تھے، ان کے نزدیک آزادی کا مطلب تھا تیل کی سیاست۔

جمہوریت یقیناًضروری ہے، مگر یہ مکمل خود مختاری اور آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکی نگرانی میں اگر آزادانہ الیکشن ہو بھی جائیں تو بھی کوئی ان کا اعتبار نہیں کرے گا۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا کہ قبضے اور تسلط کو آزادی کا نام دیا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے مصر پر یہی کہہ کر ۱۸۸۲ء میں قبضہ کیا تھا۔ یہ قبضہ ہمیشہ مال دار ملک پر ہی کیا جاتا ہے۔ رابرٹ کلائیو نے ۱۷۵۷ء میں ہندوستان کے شہر مرشد آباد پر قبضے کے بعد اس کو خوشحالی میں لندن جیسا بتایا تھا۔ یہ اس وقت کا حال ہے کہ ہندوستان میں اورنگ زیب کی وفات کے بعد تقریباً ایک صدی سے انارکی چلی آ رہی تھی۔ اس وقت ہندوستان دنیا کی صنعتی پیداوار کا ۲۳ فی صد پیدا کرتا تھا اور برطانیہ ۲ فی صد سے کم۔ آزادی کے وقت ۱۹۴۷ء میں یہ تناسب اس طرح تھا: برطانیہ ۲۳ فی صد اور ہندوستان ۲ فی صد سے کم۔ آزادی کے علم برداروں کے کارناموں پر اس سے زیادہ روشنی کس چیز سے پڑے گی؟

مگر ہمیں جاننا چاہیے! غصہ علاج نہیں ہے۔ علاج خود احتسابی ہے۔

(بشکریہ ماہنامہ ’الفرقان‘ لکھنو)


حالات و مشاہدات