قرآنی متن کے حوالے سے مستشرقین کا زاویہ نگاہ

محمد فیروز الدین شاہ کھگہ

محمد فیروزالدین شاہ کھگہ (لیکچرر: نیشنل یونیورسٹی FAST، لاہور)

حافظ محمد سمیع اللہ فراز (لیکچرر: ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان، لاہور)


جب ہم قرآنی متن کی تحقیق وتوثیق کے حوالے سے مستشرقین کے علمی کام کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت وحی کی اصل روح کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں۔ اس کی وجوہات میں ان کے پہلے سے طے شدہ مقاصد کارفرماہوں یا اسلام کے مصادر کا حقیقی فہم حاصل کرنے کی عدمِ صلاحیت، بہرحال ان کی تحقیقی نگارشات میں دیانت دارانہ رویوں کے برعکس مصادرِ اسلامیہ کو مشکوک قرار دینے کے جذبات کا عکس نظر آتا ہے۔

مستشرقین کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ مسلمانوں کے نزدیک قرآن کی کیا حیثیت اور قدرو قعت ہے، اور جب تک یہ کتاب روئے زمین پر رہے گی، فوزوفلا ح کے راستے ان کے لیے کھلے رہیں گے۔ وہ کسی وقت بھی اس کی راہنمائی میں پوری دنیا کو مغلوب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا اس مصدر کو اس انداز اور پیرایہ میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے کہ یہ اپنی صحت وحفاظت کے معیار کے لحاظ سے دیگر کتبِ سماویہ ہی کے ہم پلہ نظر آنے لگے۔ 

اس سلسلے میں مستشرقین نے مسلمانوں کے ذہنوں میں قرآن کے بارے میں شکو ک وشبہات پیدا کرنے کی غرض سے دو بنیادی قسم کے اعتراضات کو اپنی تحقیقات کا مرکز ومحوربنایا۔ اول، قرآن کی جمع وتدوین اور دوم، قرآن کی قراء ات کا اختلاف۔ قرآنی متن کی توثیق و عدمِ توثیق کے حوالے سے یہ دونوں اعتراضات بالکل اساسی اہمیت کے حامل ہیں، کیونکہ ان دونوں کا تعلق قرآنی متن اور الفاظ سے ہے۔ الفاظ ہی معنی اور مفہوم تک رسائی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر الفاظ ہی کی صحت میں تذبذب پیدا ہو جائے تو معنی ومرادکی قطعیت ایک بے معنی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ 

قرآنِ کریم کی حفاظت کے لیے اختیار کردہ تدابیر، زمانۂ نبوت میں تدوینِ قرآن کی راہ میں حائل رکاوٹیں، ترتیب اور مندرجات کے اعتبار سے مصحفِ صدیقی کا دیگر صحابہ کے قرآنی نسخوں سے اختلاف، حضرت عثمانؓ کی طرف سے مصحفِ صدیقی پر اعتماد کے اسباب، بعض حلقوں کی طرف سے مبینہ طور پر مصحفِ عثمانی کا انکار، قرآن کی جمع وتدوین کا کام حضرت زیدؓ کے سپرد کرنے کی وجوہات اور عبد الملک بن مروان کے دور میں نصِ قرآنی میں چند ترامیم اور تبدیلیوں کا تذکرہ، اور ان جیسے بیسیوں اعتراضات ہیں جو مستشرقین نے حفاظت قرآن سے متعلق اٹھائے ہیں۔ اسی طرح ظاہری طور پر قراء ات کا اختلاف بھی خصوصی طور پر ان کی توجہ کا مستحق رہا ہے۔ ڈاکٹر محمد حسین علی الصغیر کے تجزیے کے مطابق مستشرقین نے جس فہم اور مزاج کو لے کر قرآنی مسائل پر طبع آزمائی کرنے کی کوشش کی ہے، وہ اس فہم وفراست سے بہت بعید ہے جس کے ساتھ مسلمانوں نے ان مسائل کا حل پیش کیا ہے۔ مستشرقین کے ہاں کتابیات کی معلومات اورتاریخی واقعات کی اصلاح وتصحیح زیادہ اہمیت کی حامل اور قابلِ تحقیق ہے۔ وہ وحیِ قرآنی میں شکوک وشبہات اور کتابت وتدوینِ قرآن کو ایک دقیق علمی الجھن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔(۱)

زیر نظر میں ہم قرآن کریم کے متعلق استشراقی فکر کے اساسی تصورات اور دعووں اور ان کے فکری منہج وماخذ کی ایک جھلک پیش کریں گے۔ 

تھیوڈر نولڈیکے (Theodor Noldeke)

جرمن مستشرق نولڈیکے نے ’تاریخ القرآن‘ کے نام سے کتاب لکھی جس میں قرآن کریم کی تاریخی حیثیت کو متعین کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے متعدد مباحث کو موضوع بنایا گیا ہے۔نولڈیکے طبقۂ مستشرقین میں ایک پیش رَو کی حیثیت رکھتا ہے جس سے بعد کے مستشرقین نے بہت زیادہ استفادہ کیا ہے۔ بلاشیر نے اپنے تحقیقی اسلوب میں اسی سے راہنمائی حاصل کی ہے ۔ نولڈیکے نے اپنی کتاب میں قرآنی متن کے حوالے سے سورتوں کی ترتیب اور نسبتاً عمیق اور منفرد مباحث کو موضوع بنانے کی کوشش کی ہے۔ ابو عبد اللہ زنجانی(م۱۳۶۰ھ) نے تاریخِ قرآن پر مستشرقین کی اہم تالیفا ت میں سے اس کتاب کو مختلف پہلوؤں کی وجہ سے اہم قرار دیا ہے ۔(۲)

نولڈیکے نے تاریخ قرآن کی تحقیق میں اس موضوع سے متعلق پانچویں صدی ہجری کے عالم ابو القاسم عمر بن محمد بن عبد الکافی کی کتاب پر اعتماد کرتے ہوئے نزولِ قرآن کی تاریخ کا استقصا کیا ہے۔ نولڈیکے کے مطابق یہ کتاب God Lygd 674 Warnلائبریری میں موجود ہے۔ اس نے قرآنی متن کو مکی اور مدنی حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ابو عبد اللہ زنجانی نے پروفیسر نولڈیکے کو مذکورہ کتاب پر اعتماد کرنے اور ابراہیم بن عمر بقاعی کی کتاب ’’نظم الدرر وتناسق الآیاتِ والسور‘‘اور ابن ندیم کی ’’الفہرست‘‘ کی مدد سے فہارس تیار کرنے پر دادِ تحسین دی ہے ۔(۳)

قرآنی سورتوں کی ترتیب کا ذکر کرتے ہوئے نولڈیکے نے الفاتحہ کو نہ مکی سورتوں میں شمار کیا ہے اور نہ مدنی سورتوں میں۔ شاید اس نے اس معاملے میں توقف اختیار کیا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے۔ سورتوں کی ترتیبِ نزولی کا اعتبار کرتے ہوئے اس نے ابتدا سورۃ العلق سے کی ہے ،پھر سورۃ القلم اور پھر تاریخی لحاظ سے باقی سورتوں کی ترتیب قائم کی ہے۔ (۴)

نولڈیکے نے کتابت کو مختلف قراء اتِ قرآنیہ کے وجود میں آنے کا سبب قرار دیا ہے۔ اسی نظریہ کی توثیق بعد میں کارل بروکلمان نے کی اور یہ نظریہ زوروشور سے بیان کیا جانے لگا کہ مختلف قراء ات کا دروازہ دراصل کتابت سے کھلا ہے اور اسی بنیاد پر قراء ،قراء ات کی تصحیح میں منہمک نظر آتے ہیں(۵)۔ اس طرح بظاہر نولڈیکے وہ اولین مستشرق ہے جس نے قرآنِ کریم پر متن کے حوالہ سے اعتراضات کا باقاعدہ اور رسمی طور پر آغاز کیا(۶)۔ 

ریجس بلا شیر (Blachere)

بلا شیر ایک فرانسیسی مستشرق ہے جو ۱۹۰۰ء میں پیدا ہوا ،رباط (مراکش) میں تعلیم حاصل کی اور ۱۹۳۹ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں جامعہ سوربون میں پروفیسر متعین ہوا(۷)۔ بعض مآخذ کے مطابق بلاشیر فرانسیسی وزارتِ خارجہ میں بھی خدمات سرانجام دیتا رہا۔ نجیب عقیقی نے اس کی تالیفات کا ذکر کرتے ہوئے پانچ اہم کتابوں کے نام ذکر کیے ہیں :

۱۔ المتنبی: حیاتہ وآثارہ

۲۔ مقتبسات عن اشہر الجغرافیین العرب فی العصر الوسیط

۳۔ قواعد نشر وترجمۃ النصوص العربیۃ

۴۔ فرانسیسی زبان میں ترجمۂ قرآن جو ۱۹۴۷ء سے۱۹۵۲ء کے دوران میں تین جلدوں میں پیرس سے شائع ہوا۔ 

۵۔ معضلۃ محمد: یہ کتاب ۱۹۵۳ء میں منظرِ عام پر آئی ۔(۸)

تاریخِ قرآنی کے حوالہ سے ،اس کی مشہورِ زمانہ کتاب ’’القرآن نزولہ تدوینہ‘‘ہے۔ اس کی دوسری جلد میں اس نے علومِ اسلامیہ میں تحقیقی مباحث پر قلم زنی کرتے ہوئے قرآن کے متعلق کذب بیانی سے کام لیتے ہوئے مغالطات اور شکوک وشبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے(۹)۔ اگرچہ بلا شیر کے متعلق اس کے اساتذہ کا خیال ہے کہ وہ ایک معتدل المزاج اور حقیقت پسند محقق ہے اور مستشرقین کی صف میں اس کا شمار انصاف پسند اور بالغ النظر فکر کے حامل گنے چُنے افراد میں ہوتا ہے (۱۰)، لیکن ڈاکٹر التہامی نقرہ کے بقول بلا شیر نے قرآن کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ اس نے نصِ قرآنی کی حفاظت کے متعلق دلائل سے قطع نظر یہ دعویٰ اختیار کیا کہ قرآن محمد کے زمانہ میں نہیں لکھا گیا تھا ۔ اس کے نزدیک نزولِ وحی کے وقت رسول اللہ ﷺپر شدتِ خوف کی حالت طاری ہو جاتی تھی، اس لیے یہ ممکن نہ تھا کہ آپ وحی کو لکھوا لیا کرتے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں اور مدینہ کے یہودیوں کے مابین، جو تحریر وکتابت کے تمام وسائل پر قابض تھے، شدید کشمکش تھی۔ ان مقدمات سے بلا شیر یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ دورِ نبوت میں قرآن کی مکمل تدوین نہیں ہو سکی اور محض حافظے کے بل بوتے پر قرآن کو کلی طور پر محفوظ کرنا ممکن نہ تھا۔ وہ اس خدشے کا بھی اظہار کرتا ہے کہ ممکن ہے قرآنی متن کے ساتھ وہ معمولی اضافہ جات بھی خلط ملط ہو گئے ہوں جنہیں بعد کے ادوار میں قرآن ہی کا حصہ سمجھ لیا گیا(۱۱)۔ 

بلاشیر کا یہ خیال کہ نبی ﷺ نے قرآن کو کتابتاً محفوظ کرنے کا کوئی اہتمام نہیں کیا، اور اس کی جو وجوہات اس نے بیان کی ہیں، محض فرضی خیالات ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس کے پاس اس بات کا نہ تو کوئی نقلی اور تاریخی ثبوت ہے اور نہ عقلی۔ آپ ﷺنے قرآنِ مجید کو مدون کرنے کا جو اہتمام کیا، وہ اس اہتمام سے کسی بھی طرح کم نہ تھا جو آپ ﷺنے یادداشت کے ذریعے سے قران کو محفوظ رکھنے کے لیے کیا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو ابتدا میں کتابتِ حدیث سے صرف اس لیے منع فرمایا تھا کہ تنہا قرآن ہی کے لیے وسائلِ کتابت کو استعمال میں لایا جا سکے اور حدیثِ نبوی قرآن کے ساتھ مختلط نہ ہو جائے(۱۲)۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺکا قول منقول ہے :

’’لا تکتبوا عنی غیر القرآن ومن کتب عنی غیر القرآن فلیمحہ وحدثوا عنی ولا حرج‘‘۔ (۱۳)
’’مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو ، جس نے مجھ سے قرآن کے علاوہ کچھ تحریر کیا ہے، وہ اسے مٹا دے ۔ البتہ میری باتیں میری طرف سے زبانی بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‘‘

مسلمانوں کے نزدیک بلا شیر ایک ایسا مستشرق ہے جس نے قرآنی نص کے حوالہ سے ایسے شبہات اور شکوک کو نئے سرے سے زندہ کیا جن میں قطعاً انصاف کی جھلک نظرنہیں آتی۔ جو شخص قرآنی مصدر کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ اس کو محمد نے کلیساؤں اور راہبوں سے اخذ کیا اور یہ کہ اس میں مذکور قصے کہانیاں دراصل جزیرہ عرب کے مشہور افسانے تھے، یہ اور اس کے علاوہ بہت کچھ بغیر دلیل وروایت بیان کرنے والے شخص کو انصاف پسندی اوراعتدال کا حامل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہماری رائے میں بلا شیر ایک متعصب مستشرق ہے ۔ وہ قرآنی فہم حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔خود اس نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ایک غیر عربی، قرآن کو سمجھنے میں تردد کا شکار ہو جاتا ہے(۱۵)۔

گولڈزیہر (Gold Zhir)

گولڈ زیہر ایک یہودی مستشرق ہے جو حدیث پر اعتراضات کے حوالہ سے شہرت رکھتا ہے۔ اس کی پیدائش ۱۸۵۰ء اور وفات ۱۹۲۱ء میں ہوئی(۱۶)۔ اس نے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب ’’مذاہب التفیسر الاسلامی‘‘(۱۷)کے پہلے باب کے ابتدائیہ میں قراء اتِ قرآنیہ کے ضمن میں سبعۂ احرف کی روایات کو موضوع اور من گھڑت قرار دیا(۱۸)۔اس کے اہم ترین اعتراضات تین ہیں:

۱۔  قرآنی متن دیگر تمام کتبِ سماویہ کے برعکس زیادہ اضطراب،تحریف اور عدمِ ثبات کا شکار ہوا۔ (۱۹)

۲۔ قراء ات کا اختلاف مصحف عثمانی کے رسم الخط کے نقطوں اور اعراب سے خالی ہونے کے سبب وجود میں آیا اور یہ تمام قراء ات انسانی اختراع ہیں۔ (۲۰)

۳۔ صحابہ کے مصاحف میں باہم کمی بیشی کا فرق موجود تھا، مثلاً حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓکے مصحف میں فاتحہ اور معوذتین نہ تھیں، جبکہ ابی بن کعبؓ کے مصحف میں سورۃ الخلع اور سورۃ الحفد کی اضافی سورتیں شامل تھیں۔ (۲۱)

گولڈزیہر کے خیال میں قرآن محمد ﷺکی دینی معلومات کا ملغوبہ ہے جس کا ماخذ دو عناصر تھے: ایک خارجی، اور دوسرا داخلی۔ اپنی کتاب ’’العقیدۃ والشریعۃ‘‘میں وہ رقم طراز ہے:

’’پیغمبر عربی ﷺکا پیغام ان منتخب معارف ومسائل کا ملغوبہ تھا جو آپ کو یہودی اور عیسائی حلقوں کے ساتھ گہرے تعلقات کے سبب حاصل ہوئے تھے۔ محمد ان نظریات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے اورانہوں نے سوچا کہ ان کے ذریعے سے وطن کے فرزندوں کے دل میں سچا مذہبی جذبہ بیدار کیا جاسکتا ہے ،اور یہ تعلیمات جو آپ نے بیرونی عناصر سے حاصل کی تھیں ،آپ ﷺکے خیال میں رضائے الٰہی کے اصول میں زندگی کی کشتی کو ایک نیا رُخ دینے کے لیے نہایت ضروری تھی۔ ان افکار سے آپ اس قدر متاثر ہوئے کہ یہ افکار آپ کے دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوگئے اور مضبوط بیرونی اثرات کے ذریعہ آپ نے ان نظریات کی کنہ اور حقیقت کا اس قدر ادراک کر لیا کہ یہی نظریات عقیدہ بن کر آپ کے دماغ میں جا گزیں ہو گئے اور انہی تعلیمات کو آپ وحیِ الٰہی سے تعبیر کرتے رہے‘‘۔(۲۲)

گولڈزیہر کے بقول دیگر کتبِ سماویہ کی بہ نسبت قرآنی متن میں زیادہ تحریفات واقع ہوئی ہیں اور وہ قرآن کو ان کتب کے مقابلہ میں زیادہ پُرنقص قرار دینے پر مُصر ہے۔ (۲۳) اس نے قراء ات کے وجود میں آنے کا سبب رسم الخط کے نقطوں اور حرکات سے خالی ہونے کو قرار دیا ہے اور اس کی پانچ سات مثالیں بھی ذکر کی ہیں، لیکن وہ ان بیسیوں مثالوں سے صرفِ نظر کرتا ہے جہاں رسم الخط کے محتمل الوجوہ ہونے کے باعث متن کو مختلف صورتوں میں پڑھے جانے کی گنجائش موجود تھیں، لیکن ان کو ایک ہی صورت میں پڑھا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قراء ات کا اختلاف اختراعی نہیں بلکہ نقل وروایت پر مبنی ہے۔ (۲۴) گولڈ زیہر نے موجودہ مصحفِ عثمانی کے ساتھ مصاحف صحابہ کے اختلافات کو کسی سند اور روایت کے بغیر ثابت تسلیم کر لیا ہے اور اس قدر بھی گوارانہیں کیا کہ مستند تاریخی روایات سے اس کا ثبوت فراہم کرے۔

گستاف لیبان (Gustave Lebon)

یہ ایک فرانسیسی مستشرق ہے جس نے گولڈ زیہر سے بھی پہلے ۱۸۸۴ء میں ایک کتاب ’’حضارۃ العرب‘‘ شائع کی(۲۵)۔ اس کتاب کے دوسرے باب کی دوسری فصل کو قرآنِ کریم کی تحقیق کے لیے مخصوص کیا گیا ہے ۔ اس فصل میں قرآن کی جمع وتدوین اور نظمِ قرآن کے متعلق خصوصیت سے تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ اس نے قرآن کو تورات اور انجیل کے قریب لانے کی بھرپور کوشش کی ہے اور ساتھ ہی وہ قرآنی مضامین کا ہندوستان کی مذہبی کتب سے بھی موازنہ کرتا ہے۔ وہ قرآن کے متعلق مسلمانوں کے تصورات ونظریات کو غلط قرار دینے کے ضمن میں عیسائیوں اور یہودیوں کی مسامحت ،دنیا میں سرعت کے ساتھ پھیلنے والی قرآنی تعلیمات اور امتِ مسلمہ میں قرآن کے ذریعہ اتحاد جیسے حقائق کو بڑی تنگ نظری سے پیش کرتا ہے(۲۶)۔ 

منٹگمری واٹ (W. Montgomary Watt) 

متن قرآنی کو محمد ﷺکی اختراع قرار دینے والوں میں منٹگمری واٹ مستشرقین کے ہاں سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ اس کے اعتراضات میں بھی دیگر مستشرقین کی طرح اسلام اور قرآن سے تعصب اور عناد کی بو موجود ہے۔ وہ افسانوی طرزِ استدلال کے ذریعے سے ایک مصنوعی ماحول تخلیق کرتا ہے اور اس نے نقلی دلائل وشواہد کے مقابلے میں ’’عقلی‘‘ امکانات سے استدلال کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ قرآن وسنت جیسے عظیم اور محکم مصادر کی تنقیص صرف امکانات کے ذریعے سے کرتا ہے ۔ مثلاً وہ وحی کا انکار کرتے ہوئے اس امکان کا اظہار کرتا ہے :

"What seems to man to come from outside himself, may actually come from his unconscious". (27)
’’شاید جو خیالات انسان کو خارج سے آتے دکھائی دیتے ہیں وہ درحقیقت اس کے اپنے ہی لا شعور کی پیداوار ہوتے ہیں‘‘۔

وہ اس امکان کا بھی اظہار کرتا ہے کہ ممکن ہے کہ محمد(ﷺ)پر برس ہا برس کے ماحولیاتی عوامل کے اثرات سے ان کے جذبات کی دنیا اس قدر منفعل ہو گئی ہو کہ وہی جذبات ابھر کر ’’وحی‘‘کی صورت میں ظاہر ہوگئے ہوں۔ (۲۸) 

مستشرقین کا مقصد چونکہ تشکیک پیداکرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ ایسے شوشے چھوڑنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے جن کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہوتی۔ مثلاً منٹگمری واٹ نے بیل(Bell)کے حوالہ سے لکھا ہے:

"From an early point in his Prophetic career, ..Muhammad thought of the separate revelations he was receiving as constituting a single Qur'an. After he had been a year or tow in Medina, however, he thought of them as constituting The Book which it was his task to produce."(29)
’’قرآن اور الکتاب دوعلیحدہ چیزیں ہیں ۔اپنے منصبِ نبوت کے ابتدائی ایام میں محمد (ﷺ)کا خیال یہ تھا کہ آپ پر جو وحی نازل ہو رحی ہے، اس کا مجموعہ ’قرآن‘ کی شکل میں ظاہر ہوگا، لیکن مدینہ میں ایک یا دو سال قیام کے بعد آپ کو ’الکتاب‘ مرتب کرنے کا خیال آیا جس کو اپنی امت کے سامنے پیش کرنا آپ کی ذمہ داری تھی‘‘۔

منٹگمری واٹ اور بیل (Bell)کے یہ تصورات محض قرآن کریم کو محرَّف قرار دینے کے بنیاد فراہم کرتے ہیں الکتاب اور قرآن کے اس فرق میں جو ضرب مخفی ہے اس کے مطابق قرآن کے بغیر کسی تحریف اور تبدیلی کے محفوظ رہنا مشکوک ہو جاتا ہے اور یہی مستشرقین کا مقصد اور منتہائے تحقیق ہے ۔

منٹگمری نے عبد اللہ بن مسعودؓ کے مصحف میں معوذتین نہ ہونے کے مسئلہ کو بہت اچھالا ہے ۔ اس کے نزدیک ابن مسعودؓان سورتوں کو قرآن کا جز نہیں مانتے تھے(۳۰)۔ اسی طرح خلافتِ صدیقی میں جمعِ قرآن کی روایات پر بھی منٹگمری نے متعدد اعتراضات کیے ہیں۔

منٹگمری کی کتب کے مآخذ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ موصوف نے اپنی تحقیقی نگارشات میں زیادہ تر ’اہرمینس‘،رچرڈبیل،بہل(Bull)،کائتانی ، گولڈزیہر، جیفری، کینس، نکلسن، نولڈکے اور ٹوری کے علاوہ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام سے استفادہ کیا ہے۔ اس کے مآخذ میں بخاری کا ذکر ضرور ملتا ہے، لیکن اس سے مدد فرانسیسی ترجمہ کے ذریعے سے لی گئی ہے۔ اسی طرح قرآنِ مجید کو رچرڈبیل کے ترجمہ سے سمجھا گیا ہے۔ (۳۱)

ڈی۔ایس۔ مارگولیتھ (D.S. Morgoliouth) 

ڈی ۔ایس مارگولیتھ ایک ایسا مستشرق ہے جو نصوصِ قرآنیہ اور ذخیرۂِ احادیث میں سے خصوصیت سے ان نصوص واحادیث کو اپنا مستدل بناتا ہے جن سے بظاہر قرآن مجید کی حفاظت میں تشکیک پیدا کرنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔مثلاً وہ مسندِ احمد کی ایک روایت ذکر کرتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ آیات گم ہو گئی تھیں(۳۲)۔

مسندِ احمد میں یہ روایت اس طرح مذکور ہے:

’’عن عائشۃ زوج النبی ﷺ قالت: لقد انزلت آیت الرجم ورضعات الکبیر عشراً فکانت فی ورقۃ تحت سریر فی بیتی فلما اشتکی رسول اﷲ ﷺ تشاغلنا بامرہ ودخلت دویبۃ لنا فاکلتہا‘‘
’’حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رجم کی آیت اور بالغ کے لیے دس رضعات (سے حرمت رضاعت ثابت ہونے) کی آیات نازل ہوئیں تھیں۔ یہ آیات میرے گھر میں چارپائی کے نیچے ایک کاغذ پر لکھی ہوئی پڑھی تھیں۔ جب آنحضرت ﷺکو (مرضِ وفات کی )تکلیف شروع ہوئی تو ہم آپ کی دیکھ بھال میں لگ گئے ۔ہمارا ایک پالتو جانور آیا اور اس نے اس کاغذکو کھالیا‘‘۔ 

اصل حقیقت یہ ہے کہ روایت میں جن آیات کا ذکر ہوا ہے، وہ منسوخ التلاوت ہوچکی تھیں۔ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کے منسوخ التلاوت ہونے کی قائل ہیں کیونکہ کاغذ پر لکھ کر یہ آیات رکھنا محض ایک یادگار کے طور پر تھا، ورنہ اگر یہ آیات جو حضرت عائشہؓ کو یاد تھیں، اگر ان کے نزدیک قرآن کریم کا جز ہوتیں تو وہ انھیں قرآن کریم کے نسخوں میں درج کروانے کی کوشش کرتیں، لیکن انہوں نے ساری عمر ایسی کوشش نہیں کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خود حضرت عائشہؓ کے نزدیک یہ آیات ایک علمی یادگار کی حیثیت رکھتی تھیں اور قرآن کریم کی دوسری آیات کی طرح ان کو مصحف میں درج کروانے کا کوئی اہتمام ان کے پیشِ نظر بھی نہیں تھا۔ اس سے قرآنِ کریم کی حفاظت پر کوئی حرف نہیں آتا (۳۴)۔ 

ڈی ۔ایس مارگولیتھ نے قرآن میں کمی بیشی اور نقائص ثابت کرنے کے لیے جو اعتراضات کیے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنحضرتﷺایک مرتبہ کچھ آیات بھول گئے تھے۔ چونکہ قرآن لکھا نہیں ہوا تھا، اس لیے آیات کی تعداد میں کمی بیشی واقع ہونا ممکن تھا۔ ڈی ۔ایس مارگولیتھ نے امام بخاری کی جانب یہ منسوب کیا ہے کہ وہ قرآنی آیت الا المواد فی القربی (۳۵) کے بعد ’’الا ان تصلوا ما بینی و بینکم من القرابۃ‘‘ کو قر بھی آن کا جز مانتے تھے اور اس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ امام بخاری ایک ایسے جملے کو قرآن کریم کا جز مانتے ہیں جو اس وقت قرآن میں موجود نہیں ہے، حالانکہ ہر شخص صحیح بخاری اٹھا کر دیکھ سکتا ہے کہ امام بخاری نے باب کے عنوان میں یہی جملہ نقل کیا ہے جو قرآن کریم میں موجود ہے پھر اس کی تشریح میں حضرت ابن عباسؓ کی وہ روایت نقل کی ہے جس میں آیت ’’الا المودۃ فی القربیٰ‘‘ کی تفسیر پوچھی گئی جس کے جواب میں آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا کہ’’ان لا ان تصلوا ما بینی وبینکم من القرابۃ‘‘۔ خود جملے کی نوعیت سے صاف واضح ہے کہ یہ قرآنی آیت کی تفسیر وتشریح ہے اور اس کا یہی مطلب مسلم شارحین نے سمجھا ہے (۳۶) لیکن مارگولیتھ امام بخاری کی طرف اس قول کے آیتِ قرآنی ہونے کو منسوب کرنے پر مُصر ہے۔ (۳۸)

جان برٹن (John Burton) 

مشہورِ زمانہ مستشرق جان برٹن بھی نصِ قرآنی کو موضوعِ بحث بنانے والے مستشرقین میں قابلِ ذکر ہے ۔اس نے "The Collection of the Qur`an"کے نام سے کتاب لکھی جس میں قرآن کی جمع وتدوین اور علومِ قرآنیہ میں سے علم الناسخ والمنسوخ پربڑی تفصیلی بحث کی ہے ۔جان برٹن نے یہ کتا ب اپنے رفیق Dr. J. Wansbrough کے تعاون سے لکھی ہے (۳۹)۔

جمع وتدوین پر متفرق اعتراضات کے ضمن میں جان برٹن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں قرآن مجید کے تحریری شکل میں موجود ہونے کا انکار کیا ہے اور اس ضمن میں لکھا ہے کہ :

"Its collection was not undertaken until sometimes after the death of the prophet".(40)
’’قرآن کی جمع وتدوین کا کام حضور ﷺکی وفات کے کچھ عرصہ بعد ہی شروع کیا گیا‘‘۔

اسی ذیل میں وہ چند روایات کا سہارا لیتے ہوئے یہ نظریہ ا ختیارکرتا ہے کہ قرآن کی اسی غیر تکمیلی حالت کی بنا پر اس کاتواتر بھی متاثرہوا ہے۔ (۴۱) چنانچہ حضرت زیدؓ سے مروی روایت میں اُن کے الفاظ ’’فقدت آیۃ‘‘( یعنی میں نے سورۂِ توبہ کی آخری آیت کو نہ پایا) کو بنیاد بنا کر جان برٹن نے قرآن کے نامکمل اور محرّ ف ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ 

حضرت زیدؓ کی روایت رقم کرنے کے بعد لکھتا ہے:

ُ"all these elements predispose one to an expectation that the edition prepared by Zaid might be incomplete"....."The Qur'an texts which come down to us from `Umar's day are unquestionably incomplete".(42)
’’یہ تمام شواہد اسی رجحان کو تقویت دیتے ہیں کہ زید کا تیارہ کردہ متن نامکمل تھا۔ قرآن کے وہ متن جو عمر کے دور سے ہم تک پہنچے ہیں، بلاشبہ نامکمل ہیں۔‘‘

جان برٹن اور دیگر مستشرقین کا یہ نظریہ حضرت زیدبن ثابتؓ کے قول کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے ۔ قولِ زیدؓ کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے یہ آیت لکھی ہوئی کسی کے پاس نہ پائی ۔ اس سے یہ ہر گز مراد نہیں کہ سورۂِ توبہ کی آیات ،حضرت ابو خزیمہؓ اور سورۂِ احزاب کی آیت حضرت خزیمہ بن ثابت انصاریؓ کے علاوہ دیگر صحابہؓ کو یاد بھی نہ تھیں۔

جان برٹن نے اپنی کتاب میں مصاحف کے متعلق اچھی خاصی تفاصیل ذکر کی ہیں۔ وہ اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ صحابہ کرام سے منسوب مصاحف ہوں یا بڑے شہروں میں پائے جانے والے دیگرقرآنی نسخے یا پھر انفرادی طورپر بعض حضرات سے منسوب مختلف قراء ات، سب کی سب بعد کے ماہرینِ لسانیات کی ایجاد ہیں۔ (۴۳)

واضح رہے کہ جان برٹن جن روایات کا سہار الے کر قرآن اور اس کی قراء ات کے بارے میں تمہیدات باندھ کر نتائج اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے نزدیک صرف وہی قراء ات وروایات اسلامی ورثہ میں قابلِ اعتماد ہیں جو اس کی مخصوص فکر سے ہم آہنگ ہیں۔ جو اس کے برعکس روایات ہیں، وہ ان کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہی مزاج ہمیں تقریباً تمام مستشرقین کے یہاں ملتا ہے جو حقیقی معنوں میں علم وتحقیق کے میدان میں ان کے جانبدارانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔

جارج سیل (George Sale)

جارج سیل ایک مشہور مستشرق ہے۔ اس نے قرآن کا انگریزی ترجمہ کیا ہے جو اہل مغرب کے لیے ایک علمی وثیقہ کا درجہ رکھتا ہے ۔اس نے قرآن کو حضور ﷺکی تصنیف ثابت کرنے کے لیے عہد نامہ قدیم کے موضوعات سے اس کے مستفاد ہونے کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں درج قصے کہانیاں بائبل کے برخلاف قرآن میں حقائق کی صورت میں بیان کی گئی ہیں۔ (۴۴) اس اعتراف کے باوجود کہ قرآن ہی بائبل کے مندرجات کی ایک شکل ہے، جارج سیل قرآن کو دیگر صحفِ سماویہ کے مقابلہ میں کمتر درجہ دیتا ہے ۔اس نے قرآن کے متعلق یہ نظریہ قائم کیا ہے:

"Muhammad was really the author and chief Contriver of the Koran beyond dispute".(45)
’’یقیناًمحمد ہی قرآن کے مصنف اور مخترع تھے اور یہ بات شک وشبہ سے بالا تر ہے‘‘۔

ڈاکٹر پریڈیاکس (Dr. Prideakux) نے قرآن کے مصادر ومآخذ کو متعین کرنے میں جو تفصیلات اور امکانات ذکر کیے ہیں، ان کا جائزہ لیتے ہوئے جارج سیل نے خود ہی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ تفصیلات اور بیانات قابلِ اعتماد نہیں ہیں، اس طرح محمد (ﷺ)کے قرآن کے مصادر ومراجع کو حتمی طور پر متعین نہیں کیا جاسکتا(۴۶)۔ براہِ راست قرآن کی حیثیت پر اعتراضات کے علاوہ جارج سیل نے اس کے متن خصوصاً قراء اتِ قرآنیہ اور مصاحف کے متعلق بھی مختلف نظریات اختیار کیے ہیں ۔ اس نے،بائبل کی طرح، مصاحفِ عثمانیہ اور قراء ات کوبھی قرآن کے مختلف نسخے Versions قرار دیا ہے۔ 

آرتھر جیفری (Arthur Jeoffery) 

آرتھر جیفری آسٹریلوی نژاد امریکی مستشرق ہے جس نے قرآن حکیم کے دیگر پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف قراء ات کو بھی موضوعِ بحث بنایا ہے۔ آرتھر جیفری کے تحقیقی کاموں میں نمایاں ترین کام’’ کتاب المصاحف‘‘کی تحقیق وتخریج اور اس سے ملحق "Materials of the History of The Text of The Qur`an"میں مصاحفِ صحابہ کو مصحفِ عثمانی کے بالمقابل متوازی قرآنی نسخے قرار دینے کی کوشش ہے۔ اس نے قرآن حکیم کی تدوین اور اس کی مختلف قراء ات کے مضامین پر مشتمل دومزید مسودات بعنوان مقدمتان فی علوم القرآن بھی مدون کیے(۴۸)۔

جیفری نے تقریباً چھ ہزار ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جو کہ مصحفِ عثمانی سے مختلف ہیں۔ اس نے قراء ات کے یہ سارے اختلاف تفسیر،لغت،ادب اور قراء ات کی کتابوں میں سے جمع کیے ۔ اس کام کے لیے ابن ابی داؤد کی مذکورہ کتاب’’المصاحف‘ ‘اس کا بنیادی مآخذ رہی۔ (۴۹)

مصحفِ عثمانی کے مقابلے میں دیگر صحابہ اور تابعین کے مختلف قراء ات پر مبنی نسخوں اور روایتوں کوپیش کرتے ہوئے جیفری نے اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کیا ہے کہ مصحفِ عثمانی سے اختلاف کرنے والے مصاحف جن صحابہ سے منسوب ہیں، وہ سب حضرت عثمانؓ کے تشکیل کردہ مصاحف کی تائید وتوثیق کرنے والے تھے اور بعض تو اس کمیٹی کے براہِ راست رکن تھے، مثلاً حضرت ابي بن کعبؓ جمعِ قرآنی میں شریک تھے اور حضرت علیؓ نے اس عظیم کام کی خوب تائید وتوصیف کی۔ (۵۰) 


حواشی

(۱)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۸۵

(۲)نفس المصدر:ص۸۸

(۳)زنجانی،تاریخ القرآن:ص۴۹تا۶۱

(۴)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۹۰

(۵)بروکلمان،تاریخ الادب العربی،۱؍۱۴۰

(۶) 

Noldeke, (Theoder), Geshichte des Qor`ans, p.1 to end, 

(۷)بلاشیر، القرآن نزولہ تدوینہ ترجمتہ وتاثیرہ، (تمہید المترجم ص۹و۱۰)، مترجم: رضا سعادۃ

(۸)نجیب العقیقی، المستشرقون ،۱؍۳۱۶تا۳۱۸

(۹) القرآن نزولہ تدوینہ ترجمتہ وتاثیرہ،۲؍۱۶۷تا۱۷۶

(۱۰)التہامی نقرہ، القرآن والمستشرقون،ص۳۱تا۴۰

(۱۱)مرجعِ سابق

(۱۲)مرجعِ سابق

(۱۳)مسلم بن حجاج القشیری،الجامع الصحیح، 

(۱۴)محمد الغزالی، دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد متاع المستشرقین، ص۱۳

(۱۵)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۹۱

(۱۶)زرکلی،خیر الدین ،الاعلام،۱؍۸۴

(۱۷)گولڈزیہر،مذاہب التفسیر الاسلامی

(۱۸)نفس المصدر:ص

(۱۹)نفس المصدر:ص۴

(۲۰)نفس المصدر:ص۸و۹

(۲۱)نفس المصدر:ص۱۶تا۲۱

(۲۲)گولڈزیہر،العقیدہ والشریعۃ فی الاسلام،ص۱۲

(۲۳) مذاہب التفسیر الاسلامی:ص۵۳

(۲۴)الشلبی،عبد الفتاح،رسم المصحف والاحتجاج بہ فی القراء ات،ص۳۵

(۲۵)یہ کتاب عادل زعیتر کی تعریب کے ساتھ مطبع عیسیٰ البابی الحلبی ،قاہرہ مصر سے 1884ء میں شائع ہوئی۔ 

(۲۶)علی الصغیر،المستشرقون والدراسات القرآنیہ:ص۸۶

(۲۷)

Watt Montgomery, Muhammad The Prophet and Statesman, p.17 

(۲۸)نفس المصدر:ص۱۳

(۲۹)

Watt Montgomery, Muhammad at Mecca, p.80 

(۳۰)

Watt Montgomery, Muhammad The Prophet and Statesman, p.41

(۳۱)’’محمد ایٹ مکہ پر ایک نظر‘‘،ترجمہ: سید صباح الدین عبدالرحمن ،بحوالہ معارف اعظم گڑھ،ص۲۰۸

(۳۲)تقی عثمانی ،علوم القرآن،انسائیکلو پیڈیا ریلیجن اینڈ ایتھکس،Vol. 10, p. 543

(۳۳)احمد بن حنبل،مسند احمد،حصہ زوائد،مسنداتِ عائشہ،۶؍۲۶۹

(۳۴)تقی عثمانی ،علوم القران،ص۲۲۰

(۳۵)الشوری:۲۳

(۳۶)تقی عثمانی ،علوم القرآن،انسائیکلو پیڈیا ریلیجن اینڈ ایتھکس،Vol. 10, p. 543

(۳۷)بخاری محمد بن اسماعیل،الجامع الصحیح، کتاب التفسیر،سورۂِ حم عسق،۲؍۷۱۳

(۳۸)تقی عثمانی ،علوم القران،ص۲۲۰

(۳۹)

John Burton, The Collection of the Qur`an, p.VII 

(۴۰)نفس المصدر:p.126 

(۴۱)نفس المصدر:p.127 

(۴۲)نفس المصدر:p.119 

(۴۳)نفس المصدر:

Wans Brough, Quranic Studies, Vol.31, p.44-46,  p.204

(۴۴)

George Sale, The Koran, p.49 

(۴۵)نفس المصدر:p.50 

(۴۶)مرجعِ سابق

(۴۷)

(۴۸)

M.A.Chaudhary, Orientalism on Variant Readings of the Qur`an: The Case of Arthur Jeffery, p.170

(۴۹)نفس المصدر:p.171 

(۵۰) ابن ابی داؤد،کتاب المصاحف،ص۱۲


قرآن / علوم قرآن

(نومبر ۲۰۰۵ء)

Flag Counter