تعارف و تبصرہ

ادارہ

بیت العلم کراچی کی مطبوعات

برصغیر کے دینی مدارس میں رائج نصاب اور طریقہ تعلیم کی اصلاح کے مختلف پہلو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے اہل علم کے ہاں بحث ومناقشہ کا عنوان ہیں۔ اس سلسلے میں جہاں علوم عالیہ کی تدریس کا معیار بہتر بنانے اور نصاب میں نئے مضامین کی شمولیت کے مسائل زیر بحث ہیں، وہاں یہ نکتہ بھی بجا طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ تعلیم وتدریس کو ایک زندہ، موثر اور مفید عمل بنانے کے لیے نہ صرف جدید تعلیمی نظریات وتجربات پر مبنی طریقہ تدریس کو رائج کرنا ضروری ہے، بلکہ تعلیمی مواد کو آسان اور قابل فہم زبان میں مرتب کرنا اور نصابی کتابوں کو تعلیمی نفسیات اور جدید طباعتی معیار کے مطابق خوب صورت اور دل کش پیرایے میں پیش کرنا بھی اصلاح کے عمل کا ناگزیر تقاضا ہے۔ 

یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اصلاح کی ضرورت کا احساس رکھنے والے اصحاب فکر کی کاوشوں اور ان کے تعاون سے مختلف اشاعتی اداروں کی جانب سے نصابی کتابوں کو جدید تدریسی وطباعتی معیار پر پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں ایک نمایاں نام بیت العلم کراچی کا ہے جس کی مطبوعات میں سے اس وقت درج ذیل کتب ہمارے سامنے ہیں:

  • ’المنطق المنہجی للمبتدئین‘ (سید شریف کے رسائل صغریٰ، اوسط اور کبریٰ کا سلیس عربی میں ترجمہ)
  • ’تسہیل المنطق‘ (مفید تمرینات اور جداول پر مشتمل علم منطق کا ایک مفید رسالہ)
  • ’مرآۃ النحو‘ (نحو کے مشہور رسالے ’’الضریری‘‘ کی تسہیل باضافہ تمرینات )
  • ’تفہیم مصطلح الحدیث‘ (علم حدیث کی انواع اور اصطلاحات کا تعارف اور توضیحی مثالیں )
  • ’اصول الحدیث للامام السرخسی‘ (’اصول السرخسی‘ سے حدیث سے متعلق اصولی مباحث کا انتخاب) 
  • ’تیسیر علوم الحدیث للمبتدئین‘ (مبتدی طلبہ کے لیے علوم حدیث کا تعارف اور اطلاقی مثالیں)
  • ’تیسیر اصول الفقہ‘ ( آسان پیرایے میں اصول فقہ کے مباحث اور بعض جگہ منہج احناف و متکلمین کا تقابل )
  • ’اصول الفقہ للمبتدئین‘ (مبتدیوں کے لیے آسان اسلوب میں حنفی اصول فقہ کے مباحث )
  • ’تسہیل اصول الشاشی‘ (درسی کتاب ’اصول الشاشی‘ کے مباحث کی تسہیل باضافہ تمرینات)
  • ’طریق الوصول الی علوم البلاغۃ‘ (شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے رسالہ ’’میزان البلاغۃ‘‘ کی آسان عربی زبان میں شرح، اور مثالوں کے ذریعے سے اسالیب بلاغت کی تشریح وتوضیح )
  • ’البلاغۃ الصافیۃ‘ (درسی کتاب ’’مختصر المعانی‘‘ کی تسہیل وتہذیب اور مفید تمرینات کا اضافہ)
  • ’توضیح الفرائض السراجیۃ‘ (درسی کتاب ’’سراجی‘‘ کی تسہیل، اور جداول وتدریبات کے ذریعے سے مسائل وراثت کی وضاحت)
  • ’تلخیص شرح العقیدۃ الطحاویۃ‘ (صدر الدین علی بن علی بن محمد کی شرح العقیدۃ الطحاویۃ کی تلخیص اور جگہ جگہ موضوع کی مناسبت سے اہم مباحث کا اضافہ )

مذکورہ کتب میں سے بیشتر کے مولف ومرتب مولانا محمد انور بدخشانی ہیں جو دینی علوم وفنون کے ایک ماہر اور کہنہ مشق استاذ ہیں اور جامعہ بنوریہ کراچی میں سالہا سال سے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ پرانی درسی کتب کو تسہیل وتیسیر کے قالب میں ڈھالا ہے، اس سے نہ صرف متعلقہ علوم وفنون پر ان کی دسترس کا ثبوت ملتا ہے، بلکہ ترتیب وتدوین کے فن سے واقفیت کے ساتھ ساتھ خوش ذوقی اور سلیقہ مندی کے اوصاف بھی ان کتابوں سے نمایاں ہیں۔ عبارتوں کی پیرا گرافنگ، رموز اوقاف کے استعمال، مباحث کی تفہیم کے لیے مرکزی اور ذیلی سرخیوں کے اضافہ، آیات واحادیث، اشعار اور اقتباسات کے عام متن سے امتیاز، پرانے طریقے کے مطابق متن کے اوپر نیچے حواشی گھسیڑنے کے بجائے صفحے کے نیچے اندراج، کتاب کے مباحث اور مسائل کی ترقیم اور ترتیب وتدوین کے دیگر اصولوں کے استعمال نے ان کتب کو بلاشبہ ایک نیا رنگ دے دیا ہے اور درس وتدیس میں ان سے استفادہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سہل ہو گیا ہے۔ اگر آئندہ ایڈیشنوں میں مشکل الفاظ کی تشریح اور آیات واحادیث کی تخریج کا بھی اہتمام کیا جا سکے تو ان کتب کی افادیت یقیناًدوچند ہو جائے گی۔ 

مولانا موصوف اس خدمت پر مدارس کے پورے طبقے کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں اور توقع ہے کہ اپنی خداداد صلاحیت اور ذوق کو بروے کار لاتے ہوئے وہ اس میدان میں مزید کاوشیں کرتے رہیں گے۔ ہماری رائے میں اصل ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اس نوعیت کی جدید نصابی کتب کی تیاری کا اہتمام مجموعی تعلیمی وتدریسی ضروریات کے پیش نظر خود وفاق المدارس کے مرکزی نظام کے تحت ہو، تاہم اس کی غیر موجودگی میں مولانا بدخشانی اور ان جیسے دوسرے اہل علم اپنی انفرادی حیثیت میں جو خدمات انجام دے رہے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور مدارس میں ان کی محنت سے استفادہ کا اداراتی سطح پر اہتمام ہونا چاہیے۔

مذکورہ کتب بیت العلم، اے ۱۲۰، بلاک نمبر ۱۹، گلشن اقبال کراچی سے طلب کی جا سکتی ہیں۔

’’اشاریہ معارف القرآن‘‘

مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کی تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ دور حاضر کی متداول اور مقبول تفسیروں میں سے ایک ہے جس میں جمہور کے تفسیری مسلک کے دائر ے میں رہتے ہوئے عام فہم انداز میں قرآنی معارف کی تشریح اور متعلقہ فقہی مسائل کی وضاحت کی گئی ہے۔ ایک عرصہ سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ ’’معارف القرآن‘‘ میں پھیلے ہوئے ان علمی وفقہی اور تفسیری نکات کا ایک جامع اشاریہ مرتب کر دیا جائے تاکہ اہل ذوق کو مطلوبہ عنوانات پر کتاب سے مراجعت کرنے میں آسانی ہو۔ جامعہ عربیہ چنیوٹ کے استاذ مولانا مشتاق احمد صاحب نے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی راہنمائی میں بڑی محنت اور کاوش کے ساتھ اس ضرورت کو پورا کر دیا ہے جس پر وہ تمام مستفیدین کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ 

دو سو سے زائد صفحات پر مشتمل یہ اشاریہ صاف ستھری کمپیوٹر کمپوزنگ کے ساتھ ادارۃ المعارف کراچی نے شائع کیا ہے ۔

(عمار ناصر)

تعارف و تبصرہ