سارک کی سطح پر علماء کرام اور دانش وروں کی رابطہ کی تجویز

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

جنوبی ایشیا کی سطح پر سارک ممالک اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات کے درمیان رابطہ ومفاہمت اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے جو کام ہو رہا ہے، وہ جدید عالمگیریت کے ماحول میں ایک اہم علاقائی ضرورت ہے اور اس پس منظر میں مسلم علماء کرام اور دانش وروں کے درمیان رابطہ وتعاون کی ضرورت بھی شدت کے ساتھ محسوس کی جا رہی ہے۔

اس سلسلے میں ۸ ؍جون ۲۰۰۵ کو لندن میں ورلڈ اسلا مک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی رہایش پر مولانا موصوف، مولانا سید سلمان حسینی ندوی (آف لکھنو، انڈیا)، مولانا سلمان ندوی (ڈھاکہ) اور راقم الحروف نے باہمی مشاورت سے طے کیا کہ سارک کی سطح پر مسلم دانش وروں کا ایک فورم تشکیل دیا جائے جو نسل انسانی کی بہتری اور فلاح کے لیے اسلامی تعلیمات کی اشاعت وتعلیم، جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے مسائل پر باہمی مشاورت اور تبادلہ خیالات کے اہتمام، دینی مدارس کو جدید عالمی ماحول کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے، علمی مراکز اور حلقوں کے درمیان رابطہ ومفاہمت کے فروغ اور انسانی سوسائٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مساعی کے حوالے سے کام کرے گا اور اس سلسلے میں جدوجہد کی ضرورت کا احساس بیدار کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس مقصد کے لیے ندوۃ العلماء لکھنو کے مولانا سید سلمان حسینی ندوی کی سربراہی میں ایک رابطہ گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں راقم الحروف اور مدرسہ دار الرشاد میر پور ڈھاکہ کے پرنسپل مولانا محمد سلمان ندوی شامل ہیں۔ باہمی مشورہ سے دیگر ارکان کو بھی رابطہ گروپ میں شامل کیا جا سکے گا، جبکہ اسی سال دسمبر کے آخری ہفتے کے دوران میں ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں فورم کی تشکیل کو آخری شکل دی جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

حالات و واقعات