ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کا اجلاس

ادارہ

ورلڈ اسلامک فورم نے اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عالم اسلام کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اب تک کے طرز عمل اور کارکردگی کے بارے میں ایک ’’جائزہ رپورٹ‘‘ شائع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اقوام متحدہ کے تنظیمی ڈھانچے، مجموعی کارکردگی، عالم اسلام کے بارے میں طرز عمل اور اصلاحات کے مجوزہ خاکے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس سلسلے میں ورلڈ اسلامک فورم کا موقف اور تجاویز پیش کی جائیں گی۔ یہ فیصلہ ۲۰ جون ۲۰۰۵ کو ورلڈ اسلامک فورم کی مرکزی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا جو ابراہیم کمیونٹی کالج لندن میں فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ دیگر شرکا میں پاکستان سے فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی اور ڈھاکہ سے فورم کے نائب صدر مولانا محمد سلمان ندوی کے علاوہ مولانا مفتی برکت اللہ، الحاج عبد الرحمن باوا، مولانا عبد السبحان، مولانا عادل فاروقی، رانا محمد الطاف، حاجی غلام قادر، مولانا قاری محمد عمران خان جہانگیری، مولانا حسن علی، مفتی عبد المنتقم سلہٹی، مولانا مشفق الدین، مولانا بلال احمد، کامران رعد، ریاض الحق، شفیق احمد، مولانا نور العالم حمیدی، مولانا اشرف زمان، مولانا ابراہیم کاپودروی، شمیم بخاری، نجم العالم اور قاضی محمد لطف الرحمن بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے کہا کہ اب جبکہ اقوام متحدہ نئی اصلاحات کے ساتھ ایک عالمی حکومت کی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے، عالم اسلام کو اقوام متحدہ کے مجموعی کردار اور طرز عمل کا ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ جائزہ لے کر اپنے آئندہ طرز عمل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ جب اقوام متحدہ وجود میں آئی تھی، اس وقت ایک دو مسلم ممالک کے علاوہ اکثر مسلم ممالک غلام تھے، اس لیے مغربی ممالک نے اقوام متحدہ کا منشور اور تنظیمی ڈھانچہ یک طرفہ طور پر اپنے فکر وفلسفہ کی بنیاد پر طے کر دیا اور اس میں عالم اسلام کے عقائد اور ثقافت کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا۔ اسی طرح اپنے عملی کردار کے حوالے سے اقوام متحدہ بالادست اور حکمران ممالک کے مفادات کی محافظ ثابت ہوئی ہے اور ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ملکوں کے سوا کسی کو اقوام متحدہ کے فیصلوں میں اختیار کے درجے کی شرکت حاصل نہیں ہے جبکہ مزید اصلاحات میں بھی دوسرے ممالک کو شریک کرنے کی بات محض نمایشی ہے اور دراصل بالادست قوتیں اور امیر ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے دنیا پر اپنا کنٹرول مزید مستحکم کرنے اور اپنا فلسفہ وثقافت مسلط کرنے کی فکر میں ہیں۔ اس لیے اس صورت حال سے عالمی رائے عامہ اور دنیا بھر کے مسلم عوام کو آگاہ اور بیدار کرنا ضروری ہے اور اسی مقصد کے لیے ورلڈ اسلامک فورم نے ’’جائزہ رپورٹ‘‘ مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی ذمہ داری فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی کو سونپ دی گئی ہے جو مختلف دانش وروں اور ماہرین کے تعاون سے یہ رپورٹ مرتب کریں گے اور اگست کے آخر میں لندن میں ورلڈ اسلامک فورم کے سالانہ جنرل اجلاس میں یہ رپورٹ منظوری کے لیے پیش کی جائے گی اور اس کے بعد یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے لندن آفس کے علاوہ مسلم ممالک کے سفارت خانوں اور ذرائع ابلاغ کے لیے پیش کر دی جائے گی۔

ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا زاہد الراشدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں دینی حلقوں کو بیدار رکھنے کی ضرورت ہے اور علماء کرام کو اس سلسلے میں روایتی بے پروائی کو چھوڑ کر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آنے والے گلوبل دور میں اپنے ممکنہ کردار کا دنیا کے تمام طبقات سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں اور اس کے لیے تیاری کر رہے ہیں، مگر دینی حلقوں میں اس طر ف پیش رفت کے آثار بہت کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ورلڈ اسلامک فورم دینی حلقوں کو اسی خلا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہودیت اپنے سیاسی اور معاشی ایجنڈے کے ذریعے دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ مسیحیت کے دو حلقے متحرک ہیں۔ ایک حلقہ سیکولرازم کے فروغ کے عنوان سے مسلم امہ کو دین سے بے گانہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ دوسرا حصہ مسیحی مشنریوں کی صورت میں دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لیے تگ ودو کر رہا ہے۔ عالم اسلام کے دینی حلقوں کو ان سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیے اور اس ماحول میں اپنے کردار کے تعین اور ادائیگی کے لیے سنجیدگی کے ساتھ پیش رفت کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ گلوبلائزیشن کے نام پر دنیا کے معاشی وسائل پر قبضے اور سیاسی وعسکری بالادستی کے لیے امیر ممالک جس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، اس کے خلاف مزاحمت اور احتجاج کی فضا عالم اسلام کے بجائے تیسری دنیا کے غیر مسلم ممالک میں زیادہ پائی جاتی ہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ تو ہم خود اس سلسلے میں کوئی کردار ادا کر رہے ہیں اور نہ ہی اس میدان میں کام کرنے والوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، بلکہ ہمارے بیشتر دینی حلقوں کو سرے سے اس کا ادراک ہی نہیں ہے کہ گلوبلائزیشن کے نام سے کون کون سے حلقے کس کس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور ان کی پیش رفت کی صورت حال کیا ہے؟

پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا فداء الرحمن درخواستی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فکری بیداری کا جو کام یہاں لندن میں ہو رہا ہے، اس کا دائرہ دنیا کے دوسرے ممالک تک وسیع کیا جائے اور مختلف علاقوں میں اس قسم کے حلقے قائم کیے جائیں جو دینی حوالے سے مسلم علماء اور عوام میں فکری بیداری کے لیے کام کریں۔ انھوں نے کہا کہ فکر وعقیدہ کی اصلاح کی طرف اسلام نے سب سے زیادہ توجہ دلائی ہے اور اس کے ساتھ خلوص اور خیر خواہی کے جذبہ کی ضرورت ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ اپنے اسلاف اور بزرگوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس جدوجہد کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔

اجلاس میں برطانیہ میں مذہبی منافرت کی روک تھام کے حوالے سے پیش کیے جانے والے قانون کا جائزہ لیا گیا اورمختلف شرکا نے اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے قانون کی ضرورت کو تسلیم کرنے کے باوجود اس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے برطانیہ کی تمام مسلم جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ باہمی مشورہ کے ساتھ اس قانون کا جائزہ لیں اور مل بیٹھ کر اس کی ضرورت وافادیت اور تحفظات پر غور کرتے ہوئے مشترکہ موقف اختیار کریں۔

اجلاس میں گوانتانامو بے کے امریکی قید خانے میں قرآن کریم کی بے حرمتی کے افسوس ناک واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت امریکہ سے مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ قراداد میں او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں متحرک کردار ادا کرے اور قرآن کریم کی حرمت وتقدس کے تحفظ کے لیے اسلامیان عالم کے جذبات واحساسات کی نمائندگی کرے۔

اجلا س میں ایک قرارداد کے ذریعے او آئی سی کے اس مطالبہ کی حمایت کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلم ممالک کے لیے ایک نشست مخصوص کی جائے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ عالم اسلام کا حق ہے جس سے مسلسل غفلت برتی جا رہی ہے مگر او آئی سی کو صرف سلامتی کونسل کی ایک نشست کے مطالبے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کے پورے تنظیمی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظر ثانی کا بھی مطالبہ کرنا چاہیے، کیونکہ بنیادی تنظیمی ڈھانچے اور انسانی حقوق کے منشور پر نظر ثانی اور بنیادی تبدیلیوں کے بغیر اقوام متحدہ کے نظام میں غیر مشروط شمولیت عالم اسلام کے مفاد میں نہیں ہے اور اسلامی تعلیمات سے بھی مطابقت نہیں رکھتی۔

ورلڈ اسلامک فورم نے ایک اور قرارداد میں دنیا بھر کے دینی اداروں اور حلقوں اور خاص طور پر برطانیہ کے دینی مراکز سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ عالمی صورت حال اور بڑھتی ہوئی مشکلات ومسائل سے مسلمانوں کو باخبر کرنے کا اہتمام کریں، کیونکہ ہمارے بیشتر مسائل کی ایک بڑی وجہ ’’بے خبری‘‘ ہے، ا س لیے یہ ضروری ہے کہ دینی حلقے حالات سے باخبر رہتے ہوئے زمینی حقائق کی روشنی میں صحیح کردار ادا کریں۔


اخبار و آثار

(جولائی ۲۰۰۵ء)

Flag Counter