پاکستان کا سیاسی کلچر ۔ ایک جائزہ

پروفیسر شیخ عبد الرشید

سیاسی کلچر کا مطالعہ کسی خاص قوم کے عمومی مزاج اور سیاسی رویوں کا مطالعہ ہے۔ سیاسی کلچر ان قواعد، تصورات، عقائد اور اجتماعی رویوں سے عبارت ہوتا ہے جن کا تعلق سیاسی طرز عمل سے ہو۔ اس میں ایسے تمام ادارے، طور طریقے، طرز عمل، رسوم ورواجات، عقائد واقدار اور اجتماعی تاثرات شامل ہیں جو کسی مخصوص معاشرے کی شناخت ہوں۔ ممتاز ماہرین سیاست گبریل آلمنڈ (Gabriel A. Almond) اور سڈنی وربا (Sidney Verba) سیاسی ثقافت کی تین جہتوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ اول، مسلمہ ثقافت جو سیاسی نظام سے متعلق علم اور احساسات کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ دوم، موثر ثقافت جو سیاسی نظام، مقاصد اور عقائد کے بارے میں احساسات، تعلق داریوں، الجھاؤ یا نا منظوری سے متعلق ہے۔ سوم، فیصلہ کن یا تشخیصی طاقت جو سیاسی نظام سے متعلق عوامی آرا اور سیاسی بصیرت کی عکاس ہے۔ مذکورہ تینوں قسم کے رویے مل کر سیاسی ثقافت کی تشکیل کرتے ہیں۔ آلمنڈ اسی بنیاد پر مثالی کلچر کی بات کرتا ہے جسے اس نے Parochial اور Participant سیاسی کلچر کا نام دیا ہے۔ تاہم یہ سب مثالی اقسام ہیں۔ عمومی سیاسی کلچر اس طرح کے نہیں ہوتے۔

جہاں تک پاکستان کے سیاسی کلچر کا تعلق ہے، مذکورہ جہتیں ا س کی وضاحت اور تجزیے میں بھی مفید دکھائی دیتی ہیں، مگر یہ بھی وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر سیاسیات کے روایتی دانش وروں کی بیان کردہ اقسام میں سے کسی پر بھی پورانہیں اترتا۔ سیاست، معاشرت ہی کی مرہون منت ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ Political culture reflects the ways people think and feel about politics. اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا سیاسی کلچر حصول پاکستان کے سنہری عہد کے تخیل پر مبنی خواہشات اور ظہور پاکستان کے بعد کی تلخ حقیقتوں کی متصادم نوعیت، اور جمہوری تصورات اور استبدادی حقیقتوں کے درمیان الجھن کی خصوصیت سے عبارت ہے۔ ہمارے سیاسی کلچر کا ایک پہلو یہاں معاشرے میں جمہوری تصورات پر یقین، برداشت، بھائی چارے، رواداری، اور پارلیمانی ادارو ں کے استحکام وغلبہ کی خواہش پر مبنی ہے جبکہ دوسرا پہلو تحکمانہ اور مستبد وقاہر حقیقتوں کا مظہر، مرکزیت، آمریت، اتحاد بذریعہ اسلام، عدم برداشت، انتہا پسندی، اختیارات پر ملٹری بیورو کریسی کے کنٹرول وقبضہ جیسے حقائق پر مبنی ہے۔

سادہ الفاظ میں پاکستان کا سیاسی کلچر جمہوری خواہشات اور استبدادی حقیقتوں کے درمیان جھولتا ہوا منافقانہ رویے کی کھونٹی کے سہارے کھڑا نظر آتا ہے۔ جمہوریت بابائے قوم کے کردار اور تحریک پاکستان کے راہنما اصولوں میں سے تھی، اس لیے آج بھی یہ مختلف سماجی وسیاسی گروہوں میں موجود ہے۔ جدوجہد پاکستان کے زمانے کے ادب پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے لکھاری، نقاد، ادیب اور شاعر اپنی تحریروں میں خبردار کرتے ہیں کہ اگر جمہوریت پسند اشرافیہ اور سماجی گروہ ناکام ہو گئے تو آمرانہ قوتیں غالب آ جائیں گی، مگر آزادی کے بعد جمہوری تصور نے استحکام اور تسلسل حاصل نہ کیا۔ استبدادی حقیقتوں اور آمرانہ حکومتوں نے پاکستان معاشرے میں جمہوری روح کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں جس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی بے چینی اور سیاسی کلچر میں تضادات کے ظہور کی صورت میں نکلا۔ نہ فوج عوام کی توقعات پرپورا اتری اور نہ ہی سول حکمران۔ ہر دور حکومت میں لوگوں میں بے اطمینانی، پست ہمتی، اندیشے اور خدشے پرورش پاتے رہے۔ اس سے وطن، حکومت اور سیاسی نظام سے متعلق عوام میں بے پروائی وسرد مہری کے عوامل ظاہر اور نمایاں ہوئے۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان ایک تغیر پذیر معاشرے کا حامل ہے اور ایسے معاشروں میں سیاسی کلچر عام طور پر غیر مستقل مزاج ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود جو چیز حوصلہ افزا ہے، وہ یہ کہ جمہوری روایات واقدار کی کمزوری کے باوجود جمہوری تصورات وخواہشات یہاں کے سیاسی کلچر میں قابل ذکر حد تک موجود ہیں۔ مشہور مصنف C. Clapham نے اپنی کتاب Third World Politics: An Introduction میں ترقی پذیر معاشروں اور ممالک کے سیاسی کلچر میں تضادات کے حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ تیسری دنیا کے سیاسی کلچر امرا اور عوام میں موجود سیاسی خلیج کی غمازی کرتے ہیں جو عموماً تضاد پر منتج ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی ریاست اور معاشرے کے بہت کمزور سیاسی تعلق کے بھی عکاس ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی اطمینان اور اعتماد مختلف حکومتوں کی کارکردگی کے ساتھ مختلف رہا۔ آئن ٹالبوٹ (Ian Talbot) کا کہنا ہے کہ اپنی تاریخ کے بیشتر حصہ میں پاکستان ایک قومی شناخت کی تلاش میں سرگرداں رہا ہے۔ یہاں علاقائی، پاکستانی (قومی) اور مذہبی تشخص اس طرح سے گندھے ہوئے ہیں کہ شناخت کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔ پانچ دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ سوال جواب طلب ہے کہ آیا پاکستان مسلمانوں کے لیے ایک خطہ زمین ہے یا یہ مسلمان قوم کے لیے ایک اسلامی ریاست کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ زبان اور مذہب کثیر قومی معاشرے میں یک جہتی ویگانگت کا جواز فراہم کرنے کے بجائے شناختوں کے تضاد کو تیز تر کر دینے کا باعث بن گئے۔ مرکزیت کی طرف مائل ریاستی ڈھانچوں نے بھی اس احساس کو اجاگر کیا کہ اوپر سے زبردستی نافذ کر دیے جانے والے پاکستانی نیشنلزم کا اصل مقصد ریاست کو پنجابی قالب میں ڈھالنا ہے۔ وہ پیچیدہ وجوہات جن کی بنا پر پاکستانی ریاست ثقافتی تنوع کو بظاہر اپنانے اور جگہ دینے میں ناکام رہی ہے، اس سلسلہ میں تین نکات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اختلاف کو سیاسی مسئلے کے بجائے امن وامان کا مسئلہ تصور کر لینے کا رجحان، مطلق العنان حکومتوں کے تسلسل کے نتیجے میں عوامی قوتوں کی بیخ کنی کی پالیسی، اور قومی امور کو نمٹانے میں پنجاب اور پاکستان کے دیگر صوبوں کے کرداروں میں عدم توازن اور عدم یکسانی۔

پاکستانی سیاست کافی متلون رہی ہے جس میں نئی وفاداریاں اور اتحاد تسلسل کے ساتھ وجود میں آتے رہتے ہیں اور مخصوص حالات کے پیش نظر سیاسی وابستگیوں میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ نظریات یا جماعتی اداروں کے بجائے شخصیتیں ہمارے سیاسی کلچر میں کلیدی حیثیت کی حامل ہیں۔ بلاشبہ ملک کی سیاست شخصیات ہی کے گرد گھومتی ہے۔ ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمارے یہاں سیاست اور خاص طور پر انتخابی سیاست پر چند با اثر خاندانوں کا قبضہ ہے جو انتخابی سیاست پر خرچ ہونے والے زر کثیر کو سرمایہ کاری تصور کرتے ہیں۔ اگست ۱۹۴۷ء سے ہی جمہوری تصورات اور آمرانہ قوتوں کے درمیان کشمکش شروع ہو گئی تھی۔ ایک طبقہ تو فوجی حکومتوں کو خوش آمدید کہنے کی سیاست کرتا ہے۔ فوج اور بیورو کریٹ کے حامیوں نے انتشار اور کسی بھی اخلاقیات سے مبرا صورت حال میں بارہا مداخلت کر کے حالات کو مزید ابتر کر دیا۔ وطن عزیز میں نصف سے زیادہ عرصہ فوجی حکومتیں رہیں۔ باقی عرصہ میں بھی فوجی عہدے داران ہی پس پردہ رہتے ہوئے نام نہاد جمہوری حکومتوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح کنٹرول کرتے رہے اور آہستہ آہستہ طویل فوجی حکمرانی کے زیر سایہ جمہوریت پسندی، سیاسی اقدار، معیار اور رویے پس پشت چلے گئے۔ شاید اسی وجہ سے فروری ۱۹۹۷ء میں انتخابات سے کچھ پہلے کونسل آف ڈیفنس اینڈ نیشنل سکیورٹی (CDNS) کا قیام عمل میں لا کر اقتدار کے ڈھانچے میں فوج کے کردار کو رسمی شکل دینے کی کوشش کی گئی اور اب تو مستقل نیشنل سکیورٹی کونسل بنا دی گئی ہے۔ آئن ٹالبوٹ کے خیال میں یہ جمہوریت میں پنہاں تصور آزادی کو پابند سلاسل کرنے کی سعی تھی۔ ملک میں فوج کے متحرک سیاسی کردار کی وجہ سے ہی کچھ سیاسی دانش ور پاکستان کے لیے پریٹورین اسٹیٹ (Praetorian State) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ عائشہ جلال جیسے لکھاری تو اس ملک کی پولیٹیکل اکانومی کو بھی پولیٹیکل اکانومی آف ڈیفنس کا نام دیتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس ہندوستانی پولیٹیکل اکانومی کو پولیٹیکل اکانومی آف ڈیویلپمنٹ کہا جاتا ہے۔ ایک اور منفی خصوصیت پاکستان میں غیر نمائندہ اداروں کا بہت زیادہ طاقت اور اہمیت اختیار کر جانا ہے۔ اس کے باعث ملک میں جائزیت (Legitimacy) کا بحران بھی نظر آتا ہے۔ سیاست میں نسلی گروہوں کی موجودگی بھی نمایاں ہو گئی ہے جن کے راہنما بغیر ہچکچاہٹ اور تامل کے پاکستانیوں کو پنجابیوں کا قیدی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں شناخت کی سیاست کو بھی استقلال حاصل ہے۔

اگرچہ پاکستان کا ظہور ایک نئی شناخت کے ساتھ ہوا، مگر بعد ازاں اس کے سیاسی کلچر پر نو آبادیاتی دور کی سیاست کے اثرات بھی نمایاں رہے ہیں۔ آئن ٹالبوٹ پانچ نمایاں اثرات کا ذکر کرتا ہے۔ پہلا اثر علاقائی تشخص اور مسلم نیشنلزم کا متصادم رشتہ ہے جو تحریک پاکستان کے دوران میں بھی خصوصاً بنگال اور سندھ میں کچھ زیادہ ڈھکا چھپا نہ تھا۔ دوسرا اثر اسلام اور مسلم نیشنلزم میں نہایت ہی گنجلک اور الجھاؤ پر مبنی رشتہ ہے۔ تیسرا نمایاں اثر سیاسی عدم رواداری اور تعصب سے عبارت وہ کلچر تھا جیسے یونس صمد اپنے ایک تحقیقی مقالے "Reflections on Partition: Pakistan's Perspective" میں عدم برداشت کے سیاسی کلچر سے زیادہ سنگین صورت حال قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کے ادوار میں غلبہ پانے کا رجحان برقرار رہا۔ مسلم لیگ نے کانگرس اور پنجاب میں اپنے مضبوط حریف یونینسٹ پارٹی کے خلاف جدوجہد کے دوران اپنا شعار بنا لیا تھا۔ نو آبادیاتی دور کی چوتھی وراثت جسے یہاں کی مقتدر ہستیوں نے اپنے پلو سے باندھ رکھا، بالواسطہ حکمرانی کا اصول یعنی زمینداروں، قبائلی سرداروں، راجہ مہاراجوں کے ذریعے حکومت وانتظامی امر کو چلانا جو کہ نوآبادیاتی دور کا خاصہ تھا۔ انگریز حکمرانوں نے ان سرداروں اور صوفی پیروں کو سرپرستی کے ایک وسیع جال میں جکڑ رکھا تھا، البتہ انہوں نے یہ امر یقینی بنائے رکھا کہ ان کے حلیفوں کو زرعی کمرشلائزیشن اور نمائندہ اداروں کی ترقی ونمو سے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو۔ او رپانچواں اثر ان متنوع تاریخی روایات سے متعلق ہے جو پاکستان کے ورثے میں آئیں۔ مثال کے طور پر سندھ میں ۱۹۳۰ کے عشرے میں ہی بیرونی یا غیر سندھی آباد کاروں سے متعلق رویہ یا قومی شعور تھا۔ بلوچستان کا مسئلہ، سرحد میں علاقائیت، پنجاب کے اندر علاقائیت ولسانیت وغیرہ۔ لہٰذا پاکستان میں ریاست کا متنازعہ قومی تشخص، غیر متوازن ترقی، نوکر شاہی کے آمرانہ اطوار اور ناتواں سول سوسائٹی اور طاقت ور فوج میں موجود عدم توازن، یہ سب نوآبادیاتی دور کے اثرات بھی رکھتے ہیں۔ ان اثرات کے حامل سیاسی کلچر میں آہستہ آہستہ استبدادیت، سیاسی مرکزیت، سماجی انتشار، تحمل مزاجی، عمرانی ومعاشرتی تضادات نمایاں ہوتے ہو گئے۔ مشہو رمصنف M. Kamrava اپنی کتاب "Politics and Society in Third World" میں تجزیے کے بعد رقم طراز ہیں کہ مذکورہ خصوصیات کے حامل سیاسی کلچر کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ایسے ممالک میں لوگوں کی سیاسی سوچ پر یا تو مایوسی کا غلبہ ہو جاتا ہے یا پھر انتہا پسندی کا۔ پاکستان کے متضاد سیاسی کلچر میں بھی آمرانہ وتحکمانہ رجحانات، تشدد، دہشت گردی، انتہا پسندی، عدم برداشت جیسی مشکلات نے فروغ پایا۔ دوسرے، مقتدر حلقوں اور عوامی طبقوں کے مابین سماجی اور سیاسی عدم اعتماد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ باہمی اعتماد پاکستانی معاشرے کے اجتماعی رویوں اور انفرادی اطوار سے بھی غائب ہو گیا۔ یہی بد اعتمادی وسیاسی بے یقینی سیاسی زعما، مفاداتی گروہوں، فوج اور بیورو کریسی کے باہمی تعلق سے بھی نمایاں ہوتی ہے۔ اسی لیے ماہرین عمرانیات وسیاسیات نے پاکستان کی ریاست وسیاست پر مختلف لیبل لگائے ہیں۔ اسے کوئی کچھ قرار دیتا ہے تو کوئی کچھ اور۔ مثلاً جمال نقوی "Inside Pakistan" میں پاکستان کو Over Developed State کہتا ہے۔ S.H. Hashmi اسے Bureaucratic Polity یعنی نوکر شاہی سے مغلوب اکائی کہتا ہے۔

K. L. Kamal نے کتاب کا نام ہی Pakistan the Garrison State رکھا ہے یعنی فوجی غلبہ کی حامل ریاست۔ کمال اظفر بھی پاکستان کو فوجی ریاست ہی کا نام دیتا ہے۔ کئی ماہرین یہاں تحکمانیت (Authoritarianism) کے حوالے سے نشان دہی کرتے ہیں۔ مشہور ماہر عمرانیات حمزہ علوی ریاست اور معاشرے کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے اور فرق کو بونا پارٹزم (Bonapartism) کے پیمانے سے جانچتا ہے۔ بعض مفکرین کے نزدیک یہاں کے سیاسی کلچر میں جواز کی کمی اور امرا کو درپیش یہ خوف کہ نسلی، لسانی اور زیریں (Subaltarn) قوتیں ریاست کی تشکیل کو درہم برہم کر دیں گی۔ یہی یہاں کا بنیاد ی مسئلہ ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قومیتی وگروہی تحریکوں سے نپٹنے کے لیے پاکستان کے سیاسی مقتدر طبقے نے جبر واستبداد پر مبنی پالیسیاں اپنائی ہیں اور افہام وتفہیم سے ہمیشہ گریز کیا ہے، چنانچہ ماہرین سیاسیات کا خیال ہے کہ پاکستان کے سیاسی کلچر میں تصادم بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ۸۰ اور ۹۰ کی دہائی میں ذرا بہتری رہی اور ہمارے ہاں بھی اتھارٹی کی جائزیت کا تصور ابھرا۔ سیاسی مفکر Ronald Inglehart نے امریکن پولیٹکل سائنس ریویو کے دسمبر ۱۹۸۹ کے شمارے میں اپنے ایک آرٹیکل "The Renaissance of Political Culture" میں لکھا کہ 

"Interpersonal trust and commitment to democratic order are a pre-requisite for the development of Pluralistic Culture."

یعنی سیاسی حکم سے پیدا ہونے والا باہمی اعتماد ومعاہدہ سیاسی کلچر کی ترقی کے لیے لازمی شرط ہے۔ ایک ایسا سیاسی کلچر جس میں اختلاف رائے احترام کے ساتھ برداشت کیا جائے۔ سیاسی شرکت وباہمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے، وہی جمہوریت کے لیے پائیدار راہ ہموار کرتا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں باہمی اعتماد اور جمہوری اداروں سے کمٹمنٹ ہمیشہ کمزور رہی۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے پروفیسر سجاد نصیر نے ۶ جولائی ۱۹۸۵ کو روزنامہ ڈان میں اپنے ایک مضمون Politics of Dissent میں لکھا کہ

A political culture in which dissent is tolerated and respected, political participation and associational activity are encouraged, is likely to pave the way for the democratic order. Unfortunately, in Pakistan political culture, interpersonal trust and commitment to democratic institutions have both remained rather weak. This is primarily because dissent has been treated as a non functional category in our political vocabulary.

بلاشبہ جب تک اختلاف کو ایک پسندیدہ عمل سمجھ کر قبول اور برداشت نہیں کیا جاتا، جمہوری رویے، روایات اور اقدار فروغ نہیں پا سکتے۔ لوگوں کا جمہوری ڈھانچے پر اعتماد صرف اختلاف کی سیاست سے ابھرتا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کے سیاسی کلچر کی تشکیل کرنے والے بڑے عوامل کا مختصر جائزہ بھی ضروری ہے۔ اسے تین جہتوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔

روایتی سماجی وسیاسی ڈھانچہ

پاکستان کے سیاسی وسماجی ڈھانچے پر جاگیرداروں کا غلبہ ہے۔ ہر انتخابی نتیجے میں واضح ہوا کہ شہری حلقوں سے تو شاید پروفیشنل کاروباری حضرات میدان سیاست میں آتے رہے، مگر دیہی اور قبائلی علاقوں پر زمین داروں اور سرداروں کا ہی کنٹرول رہا۔ دیہی علاقوں میں وڈیروں نے تبدیلی اور جدیدیت کو متعارف کروانے کے بجائے اختیارات وطاقت سے لطف اندوز ہونا ہی پسند کیا۔ یہ زمیندار بڑھتے ہوئے سیاسی شعور کے بجائے لگان داری پر انحصار کرتے ہیں جو ان کے لیے ووٹ بینک کا کام بھی کرتے ہیں۔ ان مزارعوں کی سماجی، معاشی اور سیاسی زندگی بندگی کے گرد گھومتی ہے۔ اس نظام میں انفرادیت کی کوئی حیثیت نہیں۔ شناخت محض ایک درمیانے ایجنٹ کی ہوتی ہے جسے حقارت انگیز اصطلاح میں ’’چمچہ‘‘ کہا جاتا ہے، جو خود طاقت ور نہیں ہوتا لیکن طاقت پر کنٹرول رکھنے والوں تک رسائی رکھتا ہے۔ یہ ڈھانچہ جاتی تعلق دو طرح کے اختیاراتی طریقوں کو رواج دیتا ہے۔ پہلا طریقہ گروہ بندی ہے۔ زمیندار زعما ایک ہی طرح کی سماجی بنیادوں کی بجائے گروہ بندی میں تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ تضاد عمومی اور پر پیچ ہوتا ہے۔ سیاسی خاندان شعوری طور پر گروہ بندی کو ابھارتے ہیں۔ جیسے سندھ میں مخدوم، پیر، سید اپنے اپنے گروہوں کے راہنما ہیں۔ پنجاب میں لغاری، قریشی اور ٹوانے نہ صرف جاگیردار خاندانوں سے ہیں بلکہ گروہی لیڈروں کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ اس طرح بلوچستان اور سرحد میں معاشرے کے قبائلی طرز کے باوجود قبائلی لیڈر سیاسی راہنما ہی ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں گروہ بندی، ٹریڈ یونینز ودیگر تنظیموں میں منتقل ہوئی ہے۔ یہ گروہی تضادات انتشار کو جنم دیتے ہیں، لیکن یہ اختیار یا طاقت کو تقسیم نہیں کرتے۔ یہ دل چسپ تضاد نہ ختم ہونے والا ہے۔ دو سرا طریقہ اختیاراتی مرکزیت واستبدادیت کا ہے۔ وڈیرے صرف دولت کو ہی کنٹرول نہیں کرتے بلکہ اختیارات پر بھی قابض ہیں۔ دیہی نظام میں روایتی اختیار پر جاگیرداروں، پیروں، وڈیروں کی نگرانی ہوتی ہے۔ یہ اپنے مزارعوں اور مریدوں کی سرپرستی کرتے ہوئے معاون کا رشتہ قائم رکھتے ہیں، یہاں تک کہ شہری گروہ اس اصول کو اپنا لیتے ہیں۔ سیاسی راہنماؤں کا انداز زمینداروں سے مختلف نہیں ہوتا۔ یہ اختیاراتی طریقہ ہے جو مغلیہ عہد سے شروع ہوا۔ غیر منقسم ہندوستان میں برطانوی آقاؤں نے اسے مضبوط کیا اور اب تک قائم ہے۔

نو آبادیاتی رویے

زمیندار زعما مکمل طور پر خود مختار نہیں ہوتے۔ ان کی سرپرستی نوکر شاہی کی اشرافیہ کرتی ہے۔ اس سرپرستی نے دیہی سطح پر زمینداروں کے مقام کو بلند کیا ہے۔ بیورو کریٹ اشرافیہ اس سرپرستی سے دوہرا عمل انجام دیتی ہے۔ ایک طرف یہ حکومتی افسران کے اختیار کو مستحکم کرتے ہیں تو دوسری طرف ان لوگوں کے مقام کو بڑھاتے ہیں جو حکومتی سرپرستی حاصل کرتے ہیں۔ اس طرح استبدادیت پاکستان ذہن وافکار میں پختہ ہو گئی ہے۔ استبدادی تحکم نے سرایت کرنے والے عنصر کے طور پر ترقی کی ہے۔ عام خیال ہے کہ حکومتی اختیار نے زمیندار زعما کے اختیار کو بڑھایا ہے جبکہ غریب انصاف سے محروم ہوتا چلا گیا ہے۔ تاہم بیورو کریسی کا غلبہ یکساں نہیں رہا۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں بیورو کریسی نے زمینداروں پر وسیع اثر قائم کیا مگر ستر کے عشرے میں زمینداروں نے سیاسی اثر پھر حاصل کر لیا۔ ۸۰ کی دہائی کے وسط میں ہی جمہوری پالیسی سے زمیندار دوبارہ اپنی برتری کا دعویٰ کرنے لگے۔ اس کشمکش کے باوجود یہ نظر آتا ہے کہ جاگیردار مسلسل جدوجہد کرتے ہیں،جمہوریت کی وکالت کرتے ہیں اور جمہوری عمل میں داخل ہو جاتے ہیں۔ ۸۰ کی دہائی میں ایم آر ڈی اس کی نمایاں مثال ہے۔ یہ بھی دل چسپ پہلو ہے کہ آزادی سے پہلے بیورو کریٹ اور زمین دار زعما کے درمیان تعلق زیادہ تھا مگر بعد میں فوجی زعما نے ان کے درمیان پیچیدگی پید اکی ہے۔ فوج کے سیاسی کردار اور آمرانہ مزاج نے پاکستان کے سیاسی کلچر میں استبدادیت کو رواج دیا ہے۔

اسلام کا کردار

ہمارے سیاسی عقائد پر اسلام کا اثر بہت گہرا ہے۔ اسلام نے پاکستانی اقدار کے ڈھانچے کی تخلیق میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ Stanley Kochanek اس حوالے سے کہتا ہے:

Two most important influences on the political culture of Pakistan are Islam and the folk milieu of the Traditional order.

یہ درست ہے۔ اسلام خاص طور پر سنی اسلام میں چرچ یا Priesthood کا کوئی تصور نہیں۔ تاہم تنظیمی اعتبار سے یہ اہم ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ علما کی نصیحت پر سنت اور اسلامی قوانین کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ یہ بات سماجی رویے اور مذہبی اقدار کو باقاعدہ کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسلامی ممالک میں حکمران طبقہ خود کو خدا کا نمائندہ سمجھتے ہوئے اپنی خواہش کی مکمل اطاعت کا مطالبہ کرتا ہے۔ اسلامی دنیا کا مشاہدہ کرنے والا P. J. Vatikiotis اپنی کتاب "Islam and the State' میں گیارہویں صدی سے اسلام کی واحد تھیوری کے حوالے سے رقم طراز ہے کہ:

"The only Political theory of Islam has been that of Passive obedience to any de facto authority, government by consent remains an unknown concept, autocracy has been the real and in the main only experience."

یہ بات پاکستان کے سیاسی کلچر میں تحکمانہ حکمرانی کی اطاعت وفرماں برداری میں بھی نظر آتی ہے۔ سنی مسلمان کا مزاج استبدادیت کی اطاعت کا مزاج رہا ہے۔ یہاں بھی سنی مسلمانوں کی اکثریت کے ملک میں مرضی ومنشا کی حکومت محض فریب نظر ہے۔ ڈاکٹر سعید شفقت کے خیال میں

Centralisation and the authoritarian tenets of Islam have been used as political instrument to promote authoritarianism and regimentation rather than encourage egalitarian, participatory and democratic tendencies.

اسلام کے ایسے استعمال کے ذریعے ہی حکمران طبقہ نے استبدادی رجحانات وعقائد کے ذریعے اپنے اختیارات میں اضافہ کیا۔ ۸۰ کی دہائی میں استبدادی قوتوں اور جمہوری خواہشات کے درمیان کشمکش شرو ع ہوئی جو ۱۲؍ اکتوبر ۱۹۹۹ کو ایک بار پھر فوجی حکمرانی پر منتج ہوئی۔ اس کے بعد سے دوبارہ یہ کشمکش جاری ہے۔ پاکستانی سیاسی تاریخ کے مطالعے سے بآسانی ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہاں حاکم استبدادیت پسند ہیں، جبکہ عوام ناخواندہ، غیر منظم، شعور مدنیت سے ناآشنا اور غیر جمہوری رویوں کے حامل ہیں، اس لیے یہاں سیاسی کلچر میں شراکتی جمہوریت وسیاست کا فروغ ممکن نہ ہو سکا۔

یہ کھلی حقیقت ہے کہ طویل فوجی آمریتوں نے پاکستان کے سیاسی کلچر کی نس سے جمہوری خواہشات نچوڑ لی ہیں ۔ سیاسی عمرانیا ت کی اصطلاحوں اور اقدار کی روشنی میں فوجی حکومتیں استبدادیت کو بڑھانے اور اختیارات کے استعمال میں خود غرضی کو فروغ دینے کا سبب بنی ہیں تو ساتھ ہی ساتھ جمہوری قدروں، روایات، رویوں اور معیارات کو کمزور کرنے کا سبب ہوتی ہیں، مگر ہمارے یہاں تو جمہوری اقدار کی ترقی کے حوالے سے سول حکمرانوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے کہ اکثر سول حکمران جائز راستوں سے آنے کے بجائے جی ایچ کیو کے سیاسی پولٹری فارم سے آنے والے رہنما تھے جن کی اپنی ٹانگیں کمزور تھیں۔ یہ شیور سیاست دان سول سوسائٹی کو مستحکم کرنے کی قوت واہلیت نہیں رکھتے تھے۔

زبان اور علاقائیت

زبان صرف تبادلہ خیال اور تاثرات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک شناخت بھی ہے۔ پاکستان مختلف زبانوں کا مجموعہ ہے اور اس کی تمام علاقائی زبانیں ترقی کا یکساں معیار نہیں رکھتیں اور نہ ہی تمام لسانی گروہ علاقائی زبانوں کے معیار اور نسلی شناخت کو یکساں سمجھتے ہیں۔ یہ لسانی انسیت اور لسانی قومیت پنجاب میں کم ظاہر ہوئی تاہم سندھ میں مضبوط ہے۔ یہی حال سرحد اور بلوچستان کا ہے۔ ان لسانی شناختوں نے پاکستانی سیاسی کلچر کو منتشر بنا دیا ہے۔ ان لسانی تضادات کے جواب کے لیے کئی حکومتیں بنیں اور وقتاً فوقتاً متحد کرنے والی قوت اور سرکاری شناخت کے طور پر اسلام کو بھی بارہا استعمال کیا گیا۔ پاکستانی، سیاسی کلچر میں اسلام کے کردار کے حوالے سے دو گروہ ہیں۔ ایک کا خیال ہے کہ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا۔ اگر اسلام کے مرکزی کردار کو تسلیم کیا جائے تو یہ اس ملک کے تضادات اور نسلی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے متحد کرنے والی ایک قوت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ پاکستان کی تمام سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی بیماریوں کا علاج ہے۔ اسلام پر زور تمام حکومتیں دیتی رہی ہیں کہ یہ سرکاری نظریہ کے طور پر مرکزیت پر یقین رکھنے والی قوتوں کو تحفظ دیتا ہے۔ دوسرا گروہ پاکستان کو ایک ریاست تو مانتا ہے مگر یہ کہتا ہے کہ یہاں ایک سے زیادہ زبانیں اور کلچر ہیں۔ ان زبانوں اور ثقافتوں کو ان کی تاریخ، روایات اور معیارات کے مطابق ترقی کے مواقع ملنے چاہییں۔ نیز لامرکزیت اور زیادہ سے زیادہ صوبائی خود مختاری سے پاکستانی کلچر میں یک جائی وہم آہنگی بڑھے گی۔ اسی تضاد کے پیش نظر فیض نے کہا تھا کہ پاکستانی سیاسی کلچر کو عیاں کر کے قومی شناخت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس طے شدہ مرکز میں سب سے اندرونی دائرہ اسلام ہے۔ دوسرا دائرہ ہماری علاقائی ثقافت کا ہے۔ سب سے باہر والا دائرہ پاکستانی علاقہ، تاریخ اور عام ورثہ ہے۔ اگر ہم سیاسی کلچر اور قومی شناخت کو ان دائروں میں دیکھیں تو یہ ایک دوسرے کا دروازہ کھولتے ہیں۔ اس صورت میں سماجی اقدار، نسلی شناخت اور مذہبی خواہشات سے سیاسی رجحانات میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ اس سے جمہوری رویے اور سوجھ بوجھ کی نشو ونما ہوتی ہے۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ نو آبادیاتی روایتی طرز فکر، اسلام کے مقلدانہ کردار اور نسلی ولسانی عناصر نے پاکستان کے سیاسی کلچر پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہمارے ہاں ان مخلوط اثرات نے ایک طرف استبدادیت، مرکزیت، عدم برداشت اور کبھی نہ ختم ہونے والے جھگڑوں کو فروغ دیا تو دوسری طرف جمہوریت کے حوالے سے تصورات وخواہشات پیدا کیں، تاہم ہمارے سیاسی زعما اور عوام تقابلی سیاست اور جمہوری اداروں کے استحکام کی ضرورت سے آشنا ہیں۔ ہمارے سیاسی کلچر کا دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ہماری نصف صدی سے زاید کی تاریخ میں عوام مستبد حکمرانوں کی پیروی میں وقتی طور پر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور فوجی حکمرانوں کو تسلیم کر لیتے ہیں اور نئی قوت ونئی مضبوطی سے دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ جنرل مشرف کے آنے کے بعد بھی دیکھا گیا۔

ہر جمہوری کوشش سماجی آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر جوش پیدا کرتی ہے لیکن جب لوگوں کی توقعات ختم ہو جائیں تو سیاسی اشرافیہ اور سماجی گروہ طاقت حاصل کرتے ہیں۔ کیا جمہوری قوتیں آمرانہ قوتوں پر برتری حاصل کر سکتی ہیں؟ آج پاکستان کا سیاسی کلچر ابتدائی سطح پر ہے۔ یہ مختلف زعما، سیاسی راہنماؤں اور سماجی گروہوں کے درمیان سیاسی ناپختگی کا عکاس ہے۔ یہ اس ابتدائی سطح پر ہے جہاں پر استبدادی جواز، نسلی شعور، اور معاشی خلیج نے سیاست کے تضاد کو شدید کیا ہے۔ یہ پاکستانی راہ نماؤں کے مفاد میں ہے کہ افہام وتفہیم کے راستے تلاش کریں۔ سیاسی ماحول کی تشکیل کے لیے تدبر وفراست کی حوصلہ افزائی کر کے مخالفین کے درمیان نظریاتی اور مفاداتی تضادات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ جمہوری فہم وادراک ہی پاکستان معاشرے اور ریاست کو مضبوط کرے گا۔ پاکستان کے مستقبل اور کامیابی کا انحصار پاکستانی زعما یا اعیان پر ہے نہ کہ عوام پر۔ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔

پاکستان ۔ قومی و ملی مسائل