پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اور فتنہ انکارِ سنت ۔ تفسیر ضیاء القرآن کی روشنی میں

پروفیسر محمد اکرم ورک

ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ (۱۹۱۸ - ۱۹۹۸) عالمِ اسلام کے ان نامور مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے متنوع موضوعات پر دادِ تحقیق دی ہے۔ اگرچہ انہوں نے کثیر موضوعات پر گرانقدر علمی مضامین اور مقالات رقم فرمائے ہیں، تاہم تفسیر، حدیث اور سیرت کے موضوعات پر آپ کے نوکِ قلم سے پھوٹنے والے چشمۂ فیض سے ایک زمانہ اپنی علمی پیاس بجھارہاہے ۔ تفسیر’’ ضیاء القرآن‘‘، ’’ ضیاء النبی ‘‘ اور حجیت حدیث پر ’’سنت خیر الانام ‘‘ وہ معرکہ آرا کتابیں ہیں جنہیں بجا طور پر آپ کی فکری زندگی کا نچوڑکہا جا سکتا ہے۔ 

حجیت حدیث کے موضوع پر پیر صاحب کی مستقل تصنیف ’’ سنت خیر الانام ‘‘موجود ہے ، نیز آپ نے ’’ضیاء النبیﷺ‘‘کی جلد ہفتم میں بھی تدوین و تاریخِ حدیث پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے، اس لیے جو احباب حجیت و تاریخِ حدیث پر پیر صاحب کے خیالات سے تفصیلی استفادہ کرنا چاہیں، انہیں یقینًا محولہ بالا کتب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاہم اس وقت ہمارے پیش نظر قارئین کو تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ کے ان مقالات کی طرف متوجہ کرنا ہے جہاں پیر صاحب نے مقامِ حدیث اور اہمیتِ حدیث کے بڑے اہم مباحث پر روشنی ڈالی ہے۔

موضوع پر براہِ راست گفتگو سے قبل ضروری ہے کہ برصغیر میں فتنہ انکارِ سنت کے آغاز وارتقا کا اختصار کے ساتھ جائزہ پیش کردیاجائے تاکہ قارئین اس ماحول سے متعارف ہوجائیں جن میں پیر صاحب نے تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ تصنیف فرمائی۔

برصغیر میں برطانوی غلبہ و اقتدار نے جہاں مسلمانوں کو آزادی جیسی عظیم نعمت سے محروم کردیا، وہاں ان کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو بھی بری طرح پامال کیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی میں مکمل شکست کے بعد بچے کھچے مسلمان قائدین واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کی اکثریت نے شکست کا واضح طور پر اعتراف کرلیا اور وقت کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ان لوگوں نے ایمان کی سلامتی کو ہر چیز پر ترجیح دی۔ چنانچہ یہ لوگ سیاست اور حکومتی معاملات سے لاتعلق ہوکر اپنے مدرسوں اور خانقاہوں میں مقید ہوگئے۔ دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت میں اپنی زندگیاں وقف کردیں اور مسلمانانِ ہند کو مغربی تہذیب وتمدن کی زہرناکیوں سے بچائے رکھنے کی جدوجہد میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔سچی بات تو یہ ہے کہ انہی ’’ بنیاد پرست ملاؤں‘‘کی وجہ سے برصغیر میں انگریز اسلام کو مکمل طور پر ختم نہ کرسکا، ورنہ ہمارا حشر بھی آج ترکی سے مختلف نہ ہوتا۔

دوسرے وہ لوگ تھے جنہوں نے شکست کے بعد اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرلی ، انگریز کے خلاف کسی نہ کسی انداز میں اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، ’’اسلام بطور نظامِ زندگی‘‘ کے نعرے کے ساتھ انگریز کے خلاف نبرد آزما رہے اور بالآخر اسلام کے نام پر پاکستان حاصل کرکے جزوی طور پر اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرلی۔

تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو انگریزی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کے سامنے نہ ٹھہر سکے اور ذہنی مغلوبیت کا شکار ہوگئے۔ اس گروہ نے قدیم مذہبی فکر و فلسفہ کو مسلمانوں کے زوال کا سبب قرار دیااور مسلمانوں کو ترغیب دی کہ وہ اقوامِ عالم میں اپنے مقام کی بحالی کے لیے انگریزی تہذیب وثقافت کو اپنائیں اور انگریزی علوم و فنون میں کمال حاصل کرلیں۔ سرسید احمد خاں (م ۱۸۹۸ ء) اس گروہ کے سرخیل ہیں۔نئے حالات میں اسلام کو ’’ قابل قبو ل ‘‘ بنانے کے لیے سرسید نے اسلام کی تشکیل جدید کا بیڑا اٹھایا تاکہ مسلمان ’’ ترقی ‘‘ کی رفتار میں زمانے کا ساتھ دے سکیں۔ اسلام کی من مانی تعبیر و تشریح میں چونکہ حدیثِ رسول سب سے بڑی رکاوٹ تھی، اس لیے حدیث کو ہدفِ تنقید بنایا جانے لگا۔ علمِ حدیث پر اعتراضات کا رجحان بالآخر ’’ فتنہ انکارِ سنت‘‘ کی تحریک میں تبدیل ہو گیا۔ سرسید نے سب سے پہلے عقل کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیر لکھی اور معجزات کے علاوہ کئی دیگر اسلامی عقائد کا حلیہ بگاڑنے کی کوشش کی۔ 

مولوی چراغ علی (م ۱۸۹۵ ء) ، حافظ محمد اسلم جیراج پوری (م ۱۹۵۵ء ) ، علامہ تمنا عمادی (م ۱۹۷۲) ، ڈاکٹر فضل الرحمن (م ۱۹۸۸ء)، علامہ حبیب الرحمٰن کاندھلوی( م ۱۹۹۱ء )، مولوی عبداللہ چکڑالوی اور خواجہ احمد الدین امرتسری جیسے لوگوں نے حدیثِ رسول کو عہدِ نبوی اور عہدِ صحابہ کی دینی تاریخ کامقام دیتے ہوئے حدیث کی حجیت کا کلی طور پر انکار کردیا، لیکن جس شخص نے فتنہ انکارِ سنت کو بامِ عروج تک پہنچایا، وہ علامہ غلام احمد پرویز (م ۱۹۸۵ء) ہیں۔ ’’مقامِ حدیث ‘‘ان کی مشہور کتاب ہے جس میں انہوں نے اپنے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

جن دنوں پیر صاحب ’’ ضیاء القرآن ‘‘ کی تصنیف میں مشغول تھے ، فتنہ انکارِ سنت کی حشر سامانیاں پورے عروج پر تھیں۔ چنانچہ پیر صاحب نے حجیتِ حدیث پر اپنی مستقل تصنیف کے باوجود تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ میں بھی جابجا اس فتنہ کے رد میں اپنا قلم اٹھایا۔ منکرینِ سنت نے حدیث کی حجیت پر جو بنیادی اعتراضات کیے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں :

۱۔ حدیث وحی نہیں ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی رائے اور اجتہادات پر مشتمل ہے۔

۲۔ جس حکمت کا قرآن میں جابجا ذکر آیا ہے، وہ قرآن سے علیحدہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

۳۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے مراد امامِ وقت یعنی مرکز ملت کی اطاعت ہے۔

ذیل کی سطور میں منکرینِ حدیث کے انہی اعتراضات کا تفسیر ’’ضیاء القرآن‘‘ کی روشنی میں ترتیب وار جائزہ لیا جائے گا۔

جمہور مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ حدیث بھی قرآن کی طرح وحی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ قرآن ایسی وحی ہے جس کے الفاظ اور مفہوم دونوں اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں، جبکہ حدیث ایسی وحی ہے جس کا مفہوم اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جبکہ الفاظ رسول ﷺ کے ہیں۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب ’’ سنت کی آئینی حیثیت ‘‘ میں اختصار کے ساتھ اس کے دلائل دیکھے جاسکتے ہیں۔منکرینِ حدیث نے جمہور علماء کے اس نقطہ نظرکو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور وہ وحی کی اس تقسیم کے قائل نہیں ہیں۔ حافظ محمد اسلم جیراج پوری لکھتے ہیں:

’’ بعض لوگوں نے وحی کی دو قسمیں کرڈالی ہیں،متلو اور غیر متلویا جلی اور خفی۔ ایک کو قرآن کہتے ہیں اور ایک کو حدیث، لیکن یہ ان کی محض خیالی اصطلاح ہے جس کو قرآن سے کوئی سرو کار نہیں۔‘‘  (ہمارے دینی علوم، ص ۹۴)

لیکن یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر کوئی اصطلاح عہد رسالت کے بعد متعارف ہوئی ہے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جس مفہوم پر وہ اصطلاح دلالت کررہی ہے، وہ بھی بعد کی پیداوار ہے ۔ مثلًا مختلف افعال کے لیے فرض ، واجب ، سنت ،مستحب ، حرام، مکروہ تحریمی اور مکروہ تنزیہی کی اصطلاحات فقہاء کرام نے عہد رسالت کے بعد متعارف کروائی ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب لینا کہ عہد رسالت میں افعال کی یہ درجہ بندی ہی موجود نہ تھی، بالکل غلط ہے بلکہ اس کی سادہ توجیہ یہ ہے کہ یہ درجہ بندی تو موجود تھی لیکن اس کے لیے یہ جامع و مانع اور نپی تلی اصطلاحات بعد میں مدون کی گئیں۔ بالکل یہی معاملہ وحی متلو اور وحی غیر متلو کی اصطلاحات کا بھی ہے۔ تاہم علامہ غلام احمد پرویز کا کہنا یہ ہے:

’’حدیث کے وحی خفی ہونے کا عقیدہ یہودسے مستعارلیا گیا ہے۔ اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘ (مقامِ حدیث ، ص ۲۷)

پیر صاحب جمہور علماء کے اس نقطہ نظر کے مؤید ہیں کہ حدیث بھی وحی ہی کی ایک صورت ہے، چنانچہ وہ سورۃ النجم کی آیت ’وماینطق عن الھوی ان ھو الاوحی یوحی‘ ( ۵۳ /۳،۴ ) سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ بعض علماء کی رائے ہے کہ ’ھو‘ کا مرجع صرف قرآن کریم نہیں بلکہ قرآن کریم ورجو بات حضور ﷺ کی زبان فیض ترجمان سے نکلتی ہے، وہ سب وحی ہے ۔ وحی کی دو قسمیں ہیں ۔ جب معانی اور کلمات سب منزل من اللہ ہوں، اسے وحی جلی کہتے ہیں جو قرآن کریم کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اور جب معانی کا نزول تو من جانب اللہ ہو لیکن ان کو الفاظ کا جامہ حضورﷺ نے خود پہنایا ہو، اسے وحی خفی یا وحی غیر متلو کہا جاتا ہے جیسے احادیثِ طیبہ۔‘‘ ( ضیاء القرآن ۵/۱۰، ۱۱) 

پیر صاحب حدیث کے وحی ہونے پر استدلال کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’ کتب احادیث میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کا یہ واقعہ منقول ہے، وہ کہتے ہیں میرا دستور تھا کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے جو کچھ سنتا، وہ لکھ لیا کرتا ۔ قریش کے بعض احباب نے مجھے اس سے منع کیا اور کہنے لگے تم حضورﷺ کا ہر قول لکھ لیا کرتے ہو حالانکہ حضورﷺ بھی انسان ہیں۔ کبھی غصے میں بھی کوئی بات فرمادیا کرتے ہیں، چنانچہ میں نے لکھنا بند کردیا۔ بعد میں اس کا ذکر بارگاہِ رسالت میں ہوا اور میں نے سلسلہ کتابت بند کرنے کی وجوہ بیان کیں توحضورﷺنے ارشاد فرمایا ’اکتب والذی نفسی بیدہ ماخرج منی الا الحق‘ ۔ ’ اے عبداللہ، تم میری ہر بات لکھ لیا کرو۔ اس ذا ت کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے، میری زبان سے کبھی کوئی بات حق کے سوا نہیں نکلتی۔ ‘ ( ضیاء القرآن ، ۵/۱۰۔۱۱)

یہ واقعہ صحیحین کے علاوہ دیگر کتب صحاح میں بھی مروی ہے اور یہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی صحیح ہے ۔ اس لیے پیر صاحب کا اس حدیث سے استدلال دوہرے فوائد کا حامل ہے۔ ایک تو اس اعتراض کا رد ہوگیا کہ حدیث محض حضورﷺ کا ذاتی اجتہاد ہے اور دین سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور دوسرا اس اعتراض کا بھی رد ہو گیا کہ اگر حدیث بھی قرآن کی طرح دین ہے تو پھر آپﷺ نے اس کے لکھنے کا حکم کیوں نہ دیا۔ چنانچہ حضورﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرو نے احادیث کو بالالتزام لکھنا شروع کیا۔ احادیث نبوی پر مشتمل ان کی کتاب ’’صحیفہ صادقہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ان کا اپنا قول ہے کہ ’’ صادقہ ایک صحیفہ ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن کر لکھا۔‘‘ (محمدبن سعد، ’ الطبقات ‘، ۲/۴۰۸)

قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ تعالیٰ نے ’’الکتاب‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’ الحکمۃ‘‘ کے نزول کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکمت کا یہی وہ خزانہ ہے جو آپﷺ کو عطا فرمایا گیا اور جس کی روشنی میں آپ قرآن مجید کے اصولوں کو کھول کھول کر بیان اور اس کے مشکل مقامات کی توضیح فرماتے ہیں۔ نبوی دانش و حکمت کے مہکتے ہوئے پھول احادیثِ رسول کی صورت میں امت کے پاس محفوظ ہیں، جبکہ علامہ جیراج پوری لکھتے ہیں: 

’’حکمت کا مفہوم جو انہوں نے ( جمہور علماء) نے حدیث کو قرار دیا ہے، صحیح نہیں ۔ حکمت ایک عام لفظ ہے جس کے معنیٰ ہے دانائی کی باتیں ۔ خود قرآن کی صفت بھی حکیم ہے یعنی اس میں حکمت کی باتیں ہیں۔‘‘  ( ہمارے دینی علوم، ص ۹۲)

پیر صاحب سورۃ بقرہ کی آیت ۱۲۹ میں لفظ ’’ حکمت ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : 

’’ حکمت سے کیا مراد ہے؟ اس کے سمجھنے سے ایک بہت بڑے فتنے کا اصولی رد ہوجائے گا ۔ حکمت کہتے ہیں ’’وضع الاشیاء علی مواضعھا‘‘ ہر چیز کو اپنے محل اور موقع پر رکھنا ،یہاں ’الحکمۃ‘ کا لفظ مذکور ہے۔ اس سے مراد احکام قرآن کی ایسی تفصیل اور ان کا ایسا بیان ہے جسے جاننے کے بعد انسان ان احکام کی ایسی تعمیل کر سکے جیسے قرآن نازل کرنے والے کا منشا ہے۔ اور نبی کے فرائض میں صرف یہی نہیں کہ قرآن سکھا دے بلکہ اس کا صحیح بیان اور تفصیل بھی سکھائے تاکہ قرآن پر اللہ کی منشا کے مطابق عمل ہو سکے اور اسی حکمت یعنی بیانِ قرآن کو سنتِ نبوی کہا جاتا ہے۔ دوسری متعدد آیات میں اس امر کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ حکمتِ قرآن یعنی اس کا بیان نبی کا ذاتی اجتہاد نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جاتی ہے ۔ مثلًا ارشاد ہے ’’وانزل اللہ علیک الکتاب والحکمۃ‘‘  اللہ تعالیٰ نے آپ پر اے نبیﷺ کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔ اس سے ثابت ہوا کہ جیسے قرآن کی اطاعت فرض ہے، اس طرح صاحبِ قرآن کی سنت پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہو گیا جو سنت کو نبی کریمﷺ کی ذاتی رائے خیال کرتے ہیں اوراس پر عمل کرنا ضروری یقین نہیں کرتے ہیں۔‘‘ (ضیاء القرآن ، ۱/۹۵)

اس اقتباس سے درج ذیل حقائق نکھر کر سامنے آتے ہیں : 

۱۔ ’الحکمت‘ سے مراد قرآن کا بیان اور تفسیر ہے ۔

۲۔ قرآن کا بیان یعنی حدیث اور سنتِ رسولﷺ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے۔

۳۔ حکمت یعنی قرآن کا بیان نبی کا ذاتی خیال یا اجتہاد نہیں بلکہ وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے نازل شدہ ہے۔

۴۔ حکمتِ قرآن ( حدیثِ نبوی) پر بھی عمل کرنا قرآن ہی کی طرح فرض ہے۔

منکرینِ سنتِ کے نزدیک رسول اللہ کا دینی مقام و مرتبہ بقول حافظ اسلم جیراج پوری صرف یہ ہے:

’’ پیغاماتِ الٰہی کو لوگوں کے پاس بے کم و کاست پہنچا دینا۔ اس حیثیت سے آپﷺ کی تصدیق کرنا اور آپﷺ کے اوپر ایمان لانا فرض کیا گیا ۔یہ پیغمبری آپﷺ کی ذات پر ختم ہوگئی۔‘‘ (ہمارے دینی علوم، ص ۹۴)

لہٰذا قرآن کی تشریح و تعبیر میں آپ ﷺ کے بیانات آپ کی زندگی تک ہی معتبر ہیں۔ اب امت کے لیے احادیثِ رسول کی کوئی تشریعی حیثیت نہیں، یہ محض عہد رسالت اور عہد صحابہ کی دینی تاریخ ہے ۔ حافظ اسلم جیراج پوری دوسرے مقام پر لکھتے ہیں:

’’الغرض حدیث کا صحیح مقام دینی تاریخ کا ہے، اس سے تاریخی فائدے حاصل کیے جاسکتے ہیں لیکن دین میں حجت کے طور پر وہ پیش نہیں کی جاسکتی۔‘‘ (ہمارے دینی علوم، ص ۱۰۳)

جبکہ امت کے سوادِ اعظم کا ہمیشہ سے یہ مسلمہ عقیدہ رہا ہے کہ حضور ﷺ قرآن مجید کے شارح اور مفسر ہیں اور قرآن کی جو توضیح رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے سنتِ رسول کی شکل میں ہم تک پہنچی، وہ ہر رائے پر مقدم ہے ۔ اس لیے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بیان و وضاحت کی ذمہ داری آپ ﷺ پر عائد کی ہے ۔ چنانچہ پیر صاحب سورۃ النحل کی آیت ۴۴ : ’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون‘‘ کی تفسیر میں آپ ﷺ کے اسی مقام و حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اس آیت طیبہ سے واضح ہوا کہ ہمارے لیے نبی اکرمﷺ کی سنت کے اتباع کے بغیر کوئی چارہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کا صحیح علم اپنے رسول کو عطا فرمایا اور اس کے معانی و مطالب کے بیان ، اس کے اجمال کی تفصیل اور اوامر و نواہی کی وضاحت کا منصب فقط اپنے محبوبِ کریم ﷺ کو تفویض کیا ۔ قرآ ن کریم کی جو تفسیر و تشریح حضوراکرمﷺ نے فرمائی، وہی قابل اعتماد ہے ۔ کسی دوسرے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے فہم و خرد پر بھروسہ کر کے کسی آیت کی ایسی تاویل کرے جو ارشادِ رسالت مآبﷺ کے خلاف ہو۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں: 
فالرسول مبین عن اللہ عزوجل مرادہ مما اجملہ فی کتابہ من احکام الصلوۃ والزکوۃ وغیرہ ذلک مما لم یفصلہ۔‘‘ (ضیاء القرآن، ۲/۵۷۲، ۵۷۳)

قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر اللہ رب العزت نے نہایت واضح انداز میں تاکید کے ساتھ مومنوں کو حکم دیاہے کہ وہ اللہ کے رسولِ برحق کی اتباع ، اطاعت اور فرمانبرداری کو حرزِجاں بنائیں اور اس پیکرِ دلنواز کی اداؤں کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ گویا نبی ﷺکی اطاعت و فرمانبرداری قرآن سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ قرآن ہی کی بے شمار آیا ت کی تعمیل ہے اور آپﷺ کی پیروی سے انکار صرف سنت کا ہی انکار نہیں بلکہ بے شمار آیاتِ قرآنیہ کا بھی انکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ جمہور علماء کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اطاعتِ الہٰی سے مراد آیاتِ قرآنیہ کی اطاعت اور اطاعتِ رسول سے مراد احادیثِ نبویہ اور سنتِ رسولﷺ کی اتباع ہے، لیکن علامہ غلام احمد پرویز کا نقطہ نظر ملاحظہ فرمائیں:

’’ قرآن میں اطاعتِ رسول کے جو احکام ہیں، آپ کی ذات اور زندگی تک محدود نہیں ہیں بلکہ منصبِ امامت کے لیے ہیں ۔ قرآن میں جہاں جہاں اللہ و رسول کی اطاعت کاحکم دیاگیا ہے، اس سے مراد امامِ وقت یعنی مرکزِ ملت کی اطاعت ہے۔‘‘ ( مقامِ حدیث، ص ۸۳)

دوسری جگہ لکھتے ہیں :

’’ اطاعت صرف خدا کی، کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور کی اطاعت جائز نہیں ۔‘‘( مقامِ حدیث، ص ۴۰)

اطاعتِ رسول سے ’’ مرکز ملت‘‘ کی اطاعت مراد لینا ایک بالکل نیا نظریہ ہے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی اور جس کی بناپر سنتِ رسولﷺ سے انحراف لازم آتاہے، اس لیے پیر صاحب نے اطاعت و اتباعِ رسولﷺ کے مفہوم کو بڑے شرح و بسط سے واضح کیا تاکہ حق کی پہچان میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت ۳۱،۳۲ کی تفسیر میں اطاعت اور اتباع کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

’’اتباع رسول اور اطاعت رسول کسے کہتے ہیں ؟ یہ بتا دینا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی لفظی ابہام راہِ سنت سے منحرف کرنے کا باعث نہ رہے ۔ امام ابوالحسن آمدی نے ’’ اتباع‘‘ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے : ’’الاتباع فی الفعل ھو التأسی بعینہ والتأسی ان تفعل مثل فعلہ علی وجھہ من اجلہ ‘‘ کسی کے فعل کے اتباع کا یہ معنیٰ ہے کہ اس کے اس فعل کو اس طرح کیاجائے جس طرح وہ کرتا ہے اور اس لیے کیا جائے کیونکہ وہ کرتا ہے۔ اورامام آمدی اطاعت کے مفہوم کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’ومن اتی بمثل فعل الغیر علی قصد اعظامہ فھو مطیع لہ‘ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی عزت و احترام کے باعث بعینہ اس کے فعل کی طرح کوئی فعل کرے تو وہ اس کا مطیع کہلاتا ہے ۔اتباع و اطاعت رسالت مآبﷺ کے متعلق جو حکم قرآن نے ہم کو دیا ہے، اس کی تعمیل کی صرف یہی صورت ہے کہ ہم حضورﷺ کے افعال کو بالکل اسی طرح ادا کریں جیسے حضورﷺ نے ادا فرمائے اور صرف اس لیے ادا کریں کہ یہ افعال اس ذاتِ اطہر و اقدس سے ظہور پذیر ہوئے ہیں جو جمال وکمال کا وہ پیکر ہے جس سے حسین تر اور جمیل تر چیز کا تصور تک ممکن نہیں۔ کاش ہم قرآن کے الفاظ کو اپنی من گھڑت تاویلات کا اکھاڑہ بنانے سے باز رہیں اور اس آیت کے آخر میں اتباع و اطاعتِ رسول ﷺ سے رو گردانی کرنے والوں کو جن الفاظ سے یاد کیا گیا ہے، اس پرغور کریں ۔ ‘‘( ضیاء القرآن، ۱/۲۲۳)

سورۃ النساء کی آیت ۵۹: ’یا ایھا الذین آمنوا اطیعواللہ واطیعوا الرسول واولی الامر منکم‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے پیر صاحب نے جس انداز میں اطاعتِ امیراور اطاعتِ رسول کے درمیان حد فاصل قائم فرمائی ہے، وہ بڑی ایمان افروز ہے اور اگر تعصب،ہٹ دھرمی اور انانیت کے دبیز پردے سدِراہ نہ ہوں تو کسی بھی سلیم الطبع انسان کے لیے آپ کے طرزِ استدلال کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ چنانچہ اطاعتِ رسول سے ’’ مرکز ملت‘‘ اورامامِ وقت کی اطاعت مراد لینے کے گمراہ کن عقیدے کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’اس آیت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرمﷺ کی اطاعت کے علاوہ مسلمان امرا اور حکام کی اطاعت کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کیونکہ حضور ﷺ نے اس دارِ فانی میں زیادہ دیر اقامت گزیں نہیں ہونا تھا اور حضورﷺ کے بعد امورِ مملکت کی ذمہ داری خلفاء راشدین اور امرا نے سنبھالنا تھی، اس لیے ان کی اطاعت کرنے کے متعلق بھی تاکید فرمائی ۔لیکن اطاعتِ رسول اور اطاعتِ امیر میں ایک بین فرق ہے ۔ نبی معصوم ہوتا ہے جملہ امور میں۔ خصوصًااحکامِ شرعی کی تبلیغ میں اس سے خطا نہیں ہو سکتی اس لیے اس اطاعت کا جہاں حکم دیا، غیر مشروط حکم دیا۔ مثلًا ’’ما آتاکم الرسول فخذوہ وما نھاکم عنہ فانتھوا‘‘  جو کچھ تمہیں رسول دے ، لے لو اور جس سے روکیں، رک جاؤ۔ رسول کا ہر حکم واجب التسلیم اور اٹل ہے، اس میں کسی کو مجال قیل و قال نہیں ۔ خلیفہ کا معصوم ہونا ضروری نہیں، اس سے غلطی بھی ہو سکتی ہے، اس لیے اس کی مشروط اطاعت کاحکم دیا کہ اس کے حکم کو خدا اور رسول کے فرمان کی روشنی میں پرکھو۔ اگر اس کے مطابق ہے تو اس پر عمل کرو، ورنہ وہ قابل عمل نہیں ۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے ’’لاطاعۃ للمخلوق فی معصیۃ اللہ‘‘  اس لیے حاکمِ وقت کی اطاعت کاحکم فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اگر تمہارے درمیان تنازع رونما ہوجائے تو اسے لوٹا دو اللہ اور اس کے رسول کی طرف، یعنی اس کے حکم کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لو۔ اگر اس کے مطابق ہے تو اس پر عمل کرو، ورنہ تم پر اس کی اطاعت فرض نہیں۔‘‘ ( ضیاء القرآن ، ۱/۳۵۶ ، ۳۵۷)

سورۃ انفال کی آیت ۲۰کی تفسیر میں پیر صاحب منکرین سنت کو بڑے درد اور دل سوزی کے ساتھ دعوتِ فکر دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’اطاعتِ خدا اور اطاعتِ رسول ﷺ عقائدِ اسلامیہ اور شریعتِ بیضا کا سنگِ بنیاد ہے۔ اس کے بغیر نہ اسلامی عقائد کاپتہ چل سکتاہے اور نہ شریعت کا۔ ’’وانتم تسمعون‘‘ کے کلمات کتنے معنیٰ خیز ہیں ۔ یعنی اتنا تغافل کہ قرآنی آیات سننے کے باوجود بھی اطاعتِ خدا اور رسول میں کوتاہی! تعجب ہوتاہے ان لوگوں پر جو تعلیماتِ قرآنیہ کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اطاعتِ رسول کے منکر ہیں بلکہ اتباعِ قرآن کو ترکِ اطاعتِ رسولﷺ کی دلیل بناتے ہیں۔ وہ اپنی روش پر خود ہی نظر ثانی کریں ۔ کیاوہ قرآن سے اس کے نازل کرنے والے کی منشا کے خلاف تو استنباط نہیں کررہے ؟ کیا وہ اتنا بھی غور نہیں کرتے کہ اتباعِ قرآن تب ہی ہوسکتی ہے جب اس کے ہر حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا جائے اور اطاعتِ رسول کا حکم بھی قرآن کا ہی حکم ہے جو ایک بار نہیں، سینکڑوں بار دیا گیا ہے ۔ کیا وہ قرآن کے اس صریح حکم کی نافرمانی کرکے اپنے آپ کو قرآن کامتبع کہہ سکتے ہیں ؟آپ ہی اپنے ذرا طرزِ عمل کو دیکھیں۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔‘‘ (ضیاء القرآن، ۲/۱۳۸)

سورۃ النساء کی آیت ۸۰: ’’من یطع الرسول فقد اطاع اللہ‘‘ پر پیر صاحب کا مختصرمگرانتہائی بلیغ تبصرہ ملاحظہ فرمائیں :

’’ کتنا کھول کر بتا دیا کہ اللہ کا مطیع وہی ہے جو اس کے رسول کامطیع ہو، لاکھ کوئی دعویٰ کرے اطاعتِ الہٰی اور اطاعتِ قرآن کا، وہ جھوٹا ہے جب تک اللہ کے رسولِ کریمﷺ کی سنت کا پابند نہ ہو۔‘‘  (ضیاء القرآن، ۱/۳۷۰)

سطورِ بالا کے مطالعہ سے قارئین پر یہ بات واضح ہو گئی ہوگی کہ دینی امور میں رسول اللہ ﷺ کے اقوال و افعال ، وحی الٰہی کے تابع تھے، اس لیے اطاعتِ رسول کا مفہوم اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ حدیث و سنت کی نسبت جب رسولِ خدا کی طرف ثابت ہو جائے تو اس پر بھی قرآن کی طرح ہی عمل کرنا ضروری ہے ۔ پیر محمد کرم شاہ الازہری ؒ نے مختلف آیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے قارئین کے سامنے جو دلائل پیش کیے ہیں، اس سے ’’ضیاء القرآن ‘‘ کے قارئین پر حدیثِ رسول کی اہمیت و حجیت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ 


شخصیات