فروری ۲۰۰۵ء

موجودہ صورتحال میں دینی حلقوں کی ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

سوال: سب سے پہلے تو ہم آپ کو اپنے رسالہ ماہنامہ ’آب حیات‘ کی انتظامیہ کی جانب سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اب آپ اپنے خاندانی پس منظر کے حوالے سے کچھ بتائیں۔ جواب: ہمارا تعلق ضلع مانسہرہ، ہزارہ میں آباد سواتی خاندان سے ہے جس کے آباو اجداد کسی زمانے میں نقل مکانی کر کے ہزارہ میں آباد ہو گئے تھے۔ ہمارے دادا نور احمد خان مرحوم شنکیاری سے آگے کڑمنگ بالا کے قریب چیڑاں ڈھکی میں رہتے تھے اور زمینداری کرتے تھے۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفرا زخان صفدر صاحب دامت برکاتہم اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی مدظلہ العالی چھوٹے بچے تھے کہ ان...

علامہ اقبالؒ کی شخصیت اور ان کا فکر و فلسفہ ۔ مولانا سندھیؒ کے ناقدانہ خیالات کی روشنی میں

― پروفیسر محمد سرور

مولانا سندھی نے کہا: قرآن مجید یہود اور نصاریٰ کی بے راہ رویوں کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: اتخذوا احبارہم ورہبانہم اربابا من دون اللہ والمسیح ابن مریم وما امروا الا لیعبدوا الہا واحدا لا الہ الا ہو سبحانہ عما یشرکون (ٹھہرا لیا اپنے عالموں اور درویشوں کو خدا، اللہ کو چھوڑ کر اور مسیح مریم کے بیٹے کو بھی، اور ان کو حکم یہی ہوا تھا کہ بندگی کریں ایک معبود کی۔ کسی کی بندگی نہیں اس کے سوا۔ وہ پاک ہے ان کے شریک بتلانے سے) (سورۃ التوبہ آیت ۳۱)۔ مولانا فرمانے لگے کہ مسلمانوں میں پہلے شاہ پرستی آئی اور اس شاہ پرستی نے احبار (علما) ورہبان (درویش) پرستی...

اسلامی حکومت کا فلاحی تصور

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

سرد جنگ میں سرمایہ دارانہ بلاک کی فتح کے بعد اشتراکیت کے توسط سے آنے والے فلاحی تصور کی بنیادیں کھوکھلی ہونی شروع ہو گئی ہیں۔ اب ایک طرف دنیا بھر میں قومی اداروں کی نج کاری سے بے روزگاری میں شدت سے اضافہ ہو رہا ہے، امریکہ میں سوشل سکیورٹی سسٹم بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور دوسری طرف سیکولر ازم اور جمہوریت کی توسیع کے لیے اسی نوعیت کے تشدد اور عدم رواداری کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے خاتمے کے لیے ہی مذہبیت کے بالمقابل سیکولر ازم اور بادشاہت کے مقابلے میں جمہوریت کے تصور ات پروان چڑھے تھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے! اب سیکولر عدم رواداری اور...

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ اور فتنہ انکارِ سنت ۔ تفسیر ضیاء القرآن کی روشنی میں

― پروفیسر محمد اکرم ورک

ضیاء الامت پیر محمد کرم شاہ الازہری رحمۃ اللہ علیہ (۱۹۱۸ - ۱۹۹۸) عالمِ اسلام کے ان نامور مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے متنوع موضوعات پر دادِ تحقیق دی ہے۔ اگرچہ انہوں نے کثیر موضوعات پر گرانقدر علمی مضامین اور مقالات رقم فرمائے ہیں، تاہم تفسیر، حدیث اور سیرت کے موضوعات پر آپ کے نوکِ قلم سے پھوٹنے والے چشمۂ فیض سے ایک زمانہ اپنی علمی پیاس بجھارہاہے ۔ تفسیر’’ ضیاء القرآن‘‘، ’’ ضیاء النبی ‘‘ اور حجیت حدیث پر ’’سنت خیر الانام ‘‘ وہ معرکہ آرا کتابیں ہیں جنہیں بجا طور پر آپ کی فکری زندگی کا نچوڑکہا جا سکتا ہے۔ حجیت حدیث کے موضوع پر پیر صاحب کی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مکرمی! السلام علیکم۔ ماہنامہ الشریعہ کا ماہ دسمبر ۲۰۰۴ کا شمارہ نظر سے گزرا۔ اس میں چھپنے والے مضامین دل کو اچھے لگے۔ ہر مضمون عمدہ اور معیاری تحقیق کا حامل ہے۔ دعا ہے کہ یہ سلسلہ جاری وساری رہے۔ امید ہے مزاج بخیر ہوں گے۔ والسلام۔ (ڈاکٹر) محمد سہیل عمر۔ ناظم اقبال اکادمی پاکستان۔ (۲) محترم ومکرم ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ سلام مسنون۔ الشریعہ کا جنوری ۲۰۰۵ کا شمارہ نظر نواز ہوا۔ میں جب ’’نوائے وقت‘‘ کے ادارہ میں تھا تو برادرم ارشاد احمد عارف کے پرچے سے استفادہ کرتا تھا، لیکن یہ سلسلہ کچھ بے ترتیب سا تھا۔ ضعیفی کے آزار کے باعث میں نے دفتر...

ثقافتی زوال کا رجائیہ نوحہ

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

’’چلو جگنو پکڑتے ہیں‘‘ کلیم احسان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے میں اس شعری روایت کی ’’ترفیع‘‘ جھلکتی ہے ، جو میرو ناصر کے ادوار سے گزر کر موسمِ گل کی حیرانگی میں رونما ہوئی اور خود اس مجموعے میں جا بجا بکھر گئی: ’’دل ہمارا اجاڑ بستی میں، ایک خالی مکان لگتا ہے‘‘۔ مریدِ میر، رفیقِ حزن کہتا جا رہاہے: ’’مرا دیوان ہوتا جا رہا ہے، کہ غم آسان ہوتا جا رہا ہے‘‘۔ ہو سکتا ہے بعض اصحاب کو اس سے اتفاق نہ ہو کہ شعروسخن کے دیپ ، خونِ جگر سے جلتے ہیں اور خونِ جگر ’’روحِ غم‘‘ ہے۔ کم از کم راقم کی نظر میں تو پر مسرت لمحوں کی اچھل کود ، ہوا کے اس...

پشاور فقہی کانفرنس / الشریعہ اکادمی میں فکری نشست

― پروفیسر حافظ منیر احمد

جامعۃ المرکز الاسلامی بنوں کے زیر اہتمام پانچویں سالانہ فقہی کانفرنس ۱۱، ۱۲ دسمبر ۲۰۰۴ بروز ہفتہ واتوار اوقاف ہال، چار سدہ روڈ، پشاور میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی افتتاحی نشست کی صدارت جامعۃالمرکز الاسلامی کے رئیس مولانا سید نصیب علی شاہ ایم این اے نے کی، جبکہ مہمانان خصوصی میں وزیر اعلیٰ سرحد جناب محمد اکرم درانی اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن شامل تھے۔ کارروائی کا آغاز قاری فیاض الرحمن علوی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا جس کے بعد کانفرنس کے داعی مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمی نے خطبہ استقبالیہ میں مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس...

تعارف و تبصرہ

― ادارہ

’’ارمغان حج‘‘۔ مولانا محمد اکرم ندوی ہمارے فاضل دوست ہیں۔ ندوۃ العلماء لکھنو سے علمی وفکری وابستگی رکھتے ہیں، آکسفورڈ میں ایک عرصہ سے مقیم ہیں اور آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز سے ریسرچ اسکالر کے طور پر وابستہ ہیں۔ علم حدیث ان کا خصوصی موضوع ہے اور علم حدیث کے اساتذہ کی تلاش، ان کی خدمت میں حاضری، ان سے استفادہ اور روایت حدیث کی اجازت حاصل کرنے کا خاص ذوق رکھتے ہیں۔ ان کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ کئی برسوں سے امت کی محدثات کے حالات جمع کرنے میں مصروف ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار کے قریب محدثات کے حالات قلم بند کر چکے...