تحریکِ استشراق اور اس کے اہداف و مقاصد

حافظ محمد سمیع اللہ فراز

حافظ محمد سمیع اللہ فراز (ا یم فل علومِ اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور؛ مدرس مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، ریسرچ آفیسر سیرت سٹڈی سنٹر سیالکوٹ)

محمد فیروز الدین شاہ کھگہ (ا یم فل علومِ اسلامیہ، پنجاب یونیورسٹی لاہور، نسٹرکٹر فار اسلامک سٹڈیز اِن نیشنل یونیورسٹی (Fast) لاہور کیمپس)


استشراق (Orientalism) کی اصطلاح قدیم عربی لغات میں مفقود ہے اور موجودہ مفہوم میں بھی عربوں میں کبھی اس کا استعمال نہیں رہا، بلکہ یہ لفظ غیرمسلم مفکرین کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں ’استشراق ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ "Orient" بمعنی مشرق اور "Orientalism" کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم وفنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق (استشرق کے فعل سے اسمِ فاعل) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بتکلف مشرقی بنتا ہو (۱)۔ مستشرق ایک ایسے غیر مشرقی عالم کو کہتے ہیں جو مشرقی علوم، ادب اور معاشرت وغیرہ میں دلچسپی رکھتا ہو، تاہم’ زلفو مدینہ‘ کے دیے گئے معانی اور لفظ کے عام استعمال کی روشنی میں مستشرق کے مفہوم کی مزید تحدید بھی ہو سکتی ہے جس کے پیشِ نظرمستشرق مغرب کے ایک ایسے عالم کوکہا جاتا ہے جو اسلام، اسلامی تہذیب، اسلامی معاشرت اور اسلامی زبانوں میں دلچسپی رکھتا ہو(۲)۔

ایڈورڈ سعید (Edward Said) نے استشراق کو یورپین تہذیب وثقافت کا جزوِ لا ینفک قرار دیا ہے جو اس کے افراد کے تخیلات ،نظریات اور دیگر تمام پہلوؤں پر کسی نہ کسی طرح اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کے نزدیک استشراق کی تعریف میں زیادہ وسعت پائی جاتی ہے ۔ وہ اس کی وضاحت ان الفاظ میں کرتا ہے :

"Anyone who teaches, writes about, or researches the orient--and this applies weather the person is an anthropologist, sociologist, historian or philologist--either in its specific or its general aspects, is an orientalist, and what he or she says or does is orientalism."(3)

یعنی مسلمانوں کی تہذیب وثقافت کے کسی بھی شعبہ سے متعلق تحقیق کرنے والے کو مستشرق کہا جائے گا۔ ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب نے اپنی کتاب ’’رؤیۃ اسلامیۃ للاستشراق‘‘میں استشراق کی متعدد تعریفات ذکر کی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مغربی ممالک کے استعماری فکر کے حامل سکالرز،اپنی نسلی برتری کے نظریہ کی بنیاد پر مشرق پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے اس کی تاریخ ،تہذیب،ادیان،زبانوں،سیاسی اور اجتماعی نظاموں ،ذخائرِ دولت اور امکانات کاجو تحقیقی مطالعہ غیرجانبدارانہ تحقیق کے عنوان سے کرتے ہیں اسے استشراق کہا جاتا ہے۔(۴)

استشراق کی ذکر کردہ تعریفات کا حاصل یہ ہے کہ مغربی اہلِ کتاب ،مسیحی مغرب کی ’اسلامی مشرق‘ پر نسلی اورثقافتی برتری کے زعم کی بنیادپر مسلمانوں پر اہلِ مغرب کا تسلط قائم کرنے اور مسلمانوں کو اسلام کے بارے میں گمراہی اور شک میں مبتلا کرنے اور اسلام کو مسخ شدہ صورت میں پیش کرنے کی غرض سے مسلمانوں کے عقیدہ، ثقافت، شریعت، تاریخ،نظام اور وسائل وامکانات کا جو مطالعہ غیرجانبدارانہ تحقیق کے دعوی کے ساتھ کرتے ہیں، اسے استشراق کہا جاتا ہے۔(۵)

’استشراقیت‘ کی جس قدر بھی تعریفات ذکر کی گئی ہیں، ان سب میں مشرقی علوم کا درک حاصل کرنے کی قید لگائی گئی ہے لیکن ہمارے خیال میں تحریکِ استشراق اور مستشرقین کی تحدید جغرافیائی اعتبار سے نہیں ہو سکتی کیونکہ مستشرقین کا اصل ہدف اسلام اور اس کی تعلیمات ہیں، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں۔ اسی مفہوم کو دورِ جدید کے اکثر محققین علما نے اختیار کیا ہے ۔ چنانچہ ڈاکٹر ابراہیم الفیومی لکھتے ہیں کہ’’ مشرق سے مراد جغرافیائی مفہوم نہیں بلکہ اس سے مراد زمین کے وہ خطے ہیں جن پر اسلام کو فروغ حاصل ہوا، خواہ وہ بلادِ مشرق سے خارج ہوں‘‘(۶) البتہ دیگر تعریفات اس لحاظ سے درست قرار دی جا سکتی ہیں کہ اسلام اور اس کی تعلیمات کا اصل مرکز مشرق ہی ہے اور یہیں سے اسلامی تہذیب وثقافت نے جنم لیا۔ 

تحریکِ استشراق کے آغاز کی تاریخ ،درحقیقت دینِ اسلام کے وجود کے ساتھ ہی وقوع پذیر ہو گئی تھی تاہم "Orientalism"کی اصطلاح یورپین زبانوں میں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں رائج ہوئی۔تحریک استشراق کے آغاز کے متعلق ہمیں متعدد آرا ملتی ہیں۔ بعض محققین کی رائے میں اس کا آغاز نویں صدی عیسوی میں ہواجب ’اہلِ مالقہ‘ نے اسلامی ثقافت کو داغ دار کرنے کے لیے کلام ،ادب اوراحکامی کتب کا مطالعہ کرنا شروع کیا اور اس سلسلہ میں اچھا خاصا زرِ نقد صرف کیا(۷)۔ دوسری رائے کے مطابق اس تحریک کی ابتدا دسویں صدی میں اس وقت ہوئی جب ایک فرانسیسی ’جریردی ‘اور’الیاک ‘(1003-940)’اشبیلیہ‘ اور’ قرطبہ‘ کی جامعات میں علومِ اسلامیہ پر دسترس حاصل کرنے کے بعد 999ء سے 1003ء تک پاپائے روم کے عہدہ پر متعین رہا(۸)۔ بعض محققین کے نزدیک تحریکِ استشراق کا باقاعدہ آغاز تیرہویں صدی عیسوی میں ہوا جب الفونس دہم نے 1269ء میں’ مریسلیا ‘ میں تقابلِ ادیان کے حوالے سے ایک ادارہ ابوبکر رقوطی کے زیرِ نگرانی قائم کیا۔ اسی ادارے میں قرآن کا ہسپانوی زبان میں ترجمہ کیاگیا،اسی عہد میں فریڈرک دوم(شاہِ سسلی)نے بھی اسلامی موضوعات پر مشتمل کتب کے تراجم کرائے اور ان کو یورپ کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں میں بھیجا(۹)۔

آنحضورﷺکے معاصر یہودونصاریٰ کی مخالفت کے بعد سب سے پہلے جس نے اسلام کے خلاف اس تحریک کا آغاز کیا، وہ ساتویں صدی عیسوی کا ایک پادری جان(John)تھا جس نے آنحضورﷺکے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں گھڑیں اور لوگوں میں مشہور کر دیں تاکہ آپ ﷺکی سیرت وشخصیت ایک دیومالائی کردار سے زیادہ دکھائی نہ دے۔’ جان آف دمشق‘ کی یہی خرافات مستقبل کے استشراقی علما کا ماخذومصدربن گئیں۔ اس نے حضرت زینب بنت جحشؓ اور زید بن حارثہؓکے واقعہ کو ایک افسانہ بنا دیا،یہی افسانے یورپ میں کلاسیکل موضوعات بن گئے اور آج تک مستشرقین کے محبوب موضوعات ہیں۔ جان آف دمشق کے بعد عیسائی دنیا کے بیسیوں عیسائی اور یہودی علما نے قرآنِ کریم اور آنحضورﷺکی ذاتِ گرامی کو کئی سو سال تک موضوع بنائے رکھا اورایسے ایسے حیرت انگیز افسانے تراشے جن کا حقیقت کے ساتھ دور کابھی واسطہ نہ تھا۔ ان ادوار میں زیادہ زور اس بات پر صرف کیاگیا کہ آپﷺاُمّی نہیں بلکہ بہت پڑھے لکھے شخص تھے، تورات اور انجیل سے اکتساب کر کے آپﷺنے قرآنی عبارتیں تیار کیں۔بہت بڑے جادوگر ہونے کے ساتھ ساتھ آپﷺ (العیاذباللہ)حددرجہ ظالم، سفاک اور جنسی طور پر پراگندہ شخصیت کے حامل تھے۔ فرانسیسی مستشرق کاراڈی فوکس(Carra de Vaux)نے آنحضورﷺکی ذاتِ گرامی کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’محمد ایک لمبے عرصے کے لیے بلادِ مغرب میں نہایت بری شہرت کے حامل رہے اورشاید ہی کوئی اخلاقی برائی اور خرافات ایسی ہو جو آپ کی جانب منسوب نہ کی گئی ہو‘‘۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اسلام کی آمد سے کم و بیش سات آٹھ سوسال بعد تک مغربی ممالک میں اسلام کے خلاف نفرت ناکافی اور ادھوری معلومات کی بنیاد پر ہی پنپتی رہی۔ مثال کے طور پرگیارہویں صدی عیسوی کے آواخر میں Song of Rolandجو پہلی صلیبی جنگوں کے دوران ہی وضع کیاگیا اور بہت مشہور ہوا،اسی طرح کی بیہودہ باتوں پر مشتمل تھا(۱۰)۔ 

مستشرقین کے علمی مصادر ،اس تحریک کے آغاز اور اہداف ومقاصد کے متعلق قطعاً خاموش ہیں ۔غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح مستشرقین اپنے مقاصد کو پوشیدہ رکھنے کی حکمتِ عملی پر کاربند ہیں اسی طرح وہ اپنے نام کی بھی تشہیر نہیں چاہتے ۔ یہ تحریک صدیوں مصروفِ عمل رہی لیکن اس تحریک کا کوئی باضابطہ نام نہ تھا۔ آربری کہتا ہے کہ ’’Orientalistکا لفظ پہلی مرتبہ 1630ء میں مشرقی یایونانی کلیسا کے ایک پادری کے لیے استعمال ہوا‘‘۔روڈنسن کہتا ہے کہ’’ Orientalismیعنی استشراق کا لفظ انگریزی زبان میں1779ء میں داخل ہوااورفرانس کے کلاسیکی لغت میں اس کا اندارج 1838ء میں ہواحالانکہ عملی طور پر تحریکِ استشراق اس سے کئی صدیاں پہلے وجود میں آچکی تھی اور پورے زوروشور سے مصروفِ عمل تھی‘‘(۱۱)۔

تحریکِ استشراق کے معرضِ وجود میں آنے کا سب سے بنیادی محرک دینی تھالیکن اس کے ساتھ ساتھ سیاسی اور اقتصادی محرکات بھی کسی نہ کسی طریقہ سے شامل رہے ہیں۔مولانا ابو الحسن علی ندوی نے اس کے چار محرکات کا تذکرہ کیا ہے :

۱۔ استشراق کا سب سے بڑا مقصد مذہبِ عیسوی کی اشاعت وتبلیغ اور اسلام کی ایسی تصویر پیش کرنا ہے کہ مسیحیت کی برتری اور ترجیح خود بخود ثابت ہو اور نئی نسل کیلئے مسیحیت میں کشش پید اہو۔

۲۔دینی محرک کے علاوہ سیاسی عنصر بھی قابلِ غور ہے جس کا مرکزی نقطہ مشرق میں مغربی حکومتوں اوراقتدارکے ہراول دستہ (Pioneer) کی موجودگی اورمغربی حکومتوں کو علمی کمک اوررسد پہنچانا ہے۔نیزان مشرقی اقوام وممالک کے رسم ورواج ،طبیعت ومزاج، طریقِ ماندوبود اورزبان وادب بلکہ جذبات ونفسیات کے متعلق صحیح اورتفصیلی معلومات باہم پہنچاناہے(۱۲)۔

۳۔ استشراق کا اہم محرک اقتصادی طور پرمضبوط ہونا ہے۔متعدد مغربی لوگ اس فکر کی ترویج میں اپنا کردار ادا کرکے مشرقیات اوراسلامیات کی کتابیں تحریر کرتے ہیں جن کی یورپ اور ایشیا میں بہت بڑی منڈی ہے۔ اس ذریعہ سے وہ ناشرین سے ایک پیشہ وَر مستشرق کی حیثیت سے بہت سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں(۱۳)۔

۴۔ ان مقاصد کے علاوہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض فضلا مشرقیات واسلامیات کو اپنے علمی ذوق وشغف کے ماتحت بھی اختیار کرتے ہیں اور اس کے لیے دیدہ ریزی،دماغ سوزی اور جفاکشی سے کام لیتے ہیں جس کی داد نہ دینا ایک اخلاقی کوتاہی اورعلمی ناانصافی ہے۔ ان کی مساعی سے بہت سے مشرقی واسلامی علمی جواہرات ونوادر پردۂِ خفا سے نکل کر منصہ شہود پر آئے۔متعدد اعلیٰ اسلامی مآخذ اور تاریخی وثائق ان کی محنت وہمت سے پہلی مرتبہ شائع ہوئے۔اس علمی اعتراف کے باوجود مستشرقین عمومی طور پر اہلِ علم کا وہ بدقسمت اوربے توفیق گروہ ہے جس نے قرآن وحدیث ، سیرتِ نبوی،فقہِ اسلامی اور اخلاق وتصوف کے سمند ر میں بار بار غوطے لگائے اوربالکل خشک دامن اورتہی دست واپس آیا بلکہ اس کا عناد ،اسلام سے دوری اورحق کے انکار کا جذبہ اوربڑھ گیا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے نزدیک نتائج ہمیشہ مقاصد کے تابع ہوتے ہیں(۱۴)۔

مستشرقین اسلامی علوم میں تحقیق کے دوران اپنے اساسی مقاصد کو قطعاً نظرانداز نہیں کرتے ،وہ اسلامی ثقافت وتاریخ کو اس کے مقامِ رفیع سے گرانے ،عیب دار کرنے اور اس کی اصل صورت اورحقیقت کو دھندلا کرنے میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہیں تاکہ یورپ میں عیسائی معاشرہ اسلامی تعلیمات سے متاثر نہ ہونے پائے۔ مستشرقین کے پیش نظر جہاں یورپ میں دخولِ اسلام کی شرح میں اضافہ اورمسیحی معاشرے کے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اس کوقبول کرنے کے متعلق خوف وہراس اورخدشات کے بادل سایہ فگن ہیں، وہاں چند اہم اورمرکزی اہداف بھی ہیں جن کو سمجھنے کے بعد ہم یہ رائے قائم کرنے میں بالکل حق بجانب ہوں گے کہ مستشرقین اس نام نہاد تحقیق کے پردہ میں اسلام اور اہلِ اسلام میں فتنہ وفساد اورفکری وذہنی انتشار پیدا کرنے کے درپے ہیں۔ ساتھ ہی ہم پر اہلِ استشراق کے قرآن اوراس کی قراء ات کے متعلق کیے گئے اعتراضات کی حقیقت بھی واضح ہوگی جن کا علمی زاویوں سے دور کا بھی تعلق نہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مستشرقین اسلام میں طعن اورعیوب تلاش کرنے اوراس کے حقائق کی تحریف کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں تاکہ وہ مسیحی دنیا کو یقین دلا سکیں کہ اسلام ایک منتشر، متنازعہ اورجامد دین ہے ۔ اس میں لچک(Flexibility)نہیں اور نہ ہی یہ تہذیبِ حاضر اورتقاضوں کا ساتھ دے سکتا ہے ۔ انہی عنوانات سے وہ مسلمانوں کے قلوب وعقائد پر بھی دستک دیتے ہیں اورمتعدد شکوک وشبہات پیدا کر کے ان کے دلوں میں مغربی تہذیب کی فوقیت اوردیگر پہلوؤں سے اپنے مذہبی، مشنری اورسیاسی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے فضا کو سازگار کرتے ہیں۔ غرض مستشرقین اسلام کی تعلیمات اورنبی پاک ﷺکی ذات میں دشمنی کی روح پیدا کر کے تجربات کرتے ہیں اور اسلام کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ گویا یہ ایک ایسا جامد دین ہے جو زمانہ کے ارتقائی مدارج کا ساتھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا(۱۵)۔

اسلام کے متعلق اوہام اورتشکیک پیدا کرنا مستشرقین کے اہم مقاصد میں سے ہے اور وہ اس مقصد کی تکمیل کے لیے مختلف اقدامات کرتے ہیں ۔متعدد مستشرقین کی ابحاث اسی نظریہ کانتیجہ معلوم ہوتی ہیں۔اس حوالہ سے ان کے چند نکات عام طور پر مروج ومشہور ہیں۔مثلاً اسلامی تعلیمات میں وقت کے تقاضوں کے مطابق اصلاح اورجد ت کی ضرورت ہے اور روایت پسندی،رجعت پسندی اوردقیانوسیت پرمبنی تعلیمات کو ترک کرنا پڑے گا۔اس سلسلہ میں وہ مغرب کے علمی اورسائنٹیفک انداز کو اپنانے کی ترغیب دیتے ہیں۔مستشرقین اسلام میں ایک ایسے اجتہاد کا تصور دیتے ہیں جو کتاب وسنت اوراجماعِ امت سے بالکل بے نیاز ہے ۔حدیث اورسنت کو عقلی دلائل کے ذریعہ غیر ضروری قرار دیا گیا ہے ۔اس صورتِ حال میں ظاہر ہے کہ دین کا جو نقشہ سنت کو خارج کر کے معرضِ وجود میں آئے گا، اس میں قرآن کو ذاتی اغراض کی خاطر من مانے معانی پہنائے جا سکیں گے(۱۶)۔

مولانا شمس الحق افغانی اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:

’’اب مستشرقین نے اسی نصب العین (تشکیک)کی تکمیل کے لیے حربی اورسیاسی میدانوں کو ناکافی سمجھ کر علمی میدان میں قدم رکھااوراستشراق کے اسلحہ سے مسلح ہوکر مسلمانوں کے یقین کو کمزور کرنے اور تشکیک کا زہر پھیلانے کے لیے اسلامی تحقیق کے نام سے لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے تصانیف لکھنی شروع کیں تاکہ اپنے مقصد میں اس راہ سے کامیاب ہو سکیں‘‘۔(۱۷)

اسلامی شریعت کے قوانین کو بھی مستشرقین نے بڑی غیر واقعی نظر سے دیکھا ہے۔ اس سلسلہ میں وہ ائمہ مجتہدین پر نقد کی غرض سے جدید دور کے مغرب پرست اورمغرب سے مرعوب افراد کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کو دین اسلام کے قوانین میں سختی اور غیر معقول زاویوں کی نشان دہی کرواتے ہیں اوراس پس منظر میں وہ یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ اسلام کے ان وضعی قوانین کو تبدیل کیا جائے جن میں دراصل امت کے لیے خیر اوربھلائی پوشیدہ ہے(۱۸)۔

سنتِ نبویہ کی صورت کودھندلا کرنے کی کوشش میں بھی کئی وسائل استعمال کیے گئے ہیں ۔ اس سلسلہ میں گولڈزیہر اور’ شاخت‘ اس قبیلہ کے زعما میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے سنت کے حوالے سے شبہات اٹھائے اوران کے بعد متعدد مستشرقین نے اس کو اپنا موضوعِ بحث بنایالیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سب انہی کے خوشہ چین تھے۔ احادیث پر شبہات کے ضمن میں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ گولڈ زیہر اورشاخت نے مصادرِ اسلامیہ کو سامنے رکھنے کی بجائے ’کتاب الاغانی‘،کتاب الحیوان اورقصے کہانیوں کی کتب کو احادیث کا مصدر مقرر کیا ہے اورشاید یہود ونصاریٰ اس سے بڑھ کر کچھ کر بھی نہ سکتے تھے۔ یہ مقام اِن شبہات کے بیان کرنے کا نہیں البتہ یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں ان کا ہدف صرف مسلمانوں کے ذہنوں میں جھوٹے اقوال وخیالات سے انتشار پیدا کرنا ہے، وگرنہ یہ اعتراضات حقائق ودلائل اوربراہین سے بالکلیہ عاری ہیں ۔

نبی کریمﷺکی شخصیت بھی ہمیشہ سے ہی کفار اوراعداءِ اسلام کی تنقید کا ہدف رہی ہے۔ ان کے بقول اللہ کے رسول ﷺبحیرہ راہب سے جب ملے توکچھ عرصہ ان سے دینی تعلیمات سیکھتے رہے۔دوسرا بنیادی اعتراض آپ کی شخصیت کے حوالے سے تعدد ازدواج کا ہے ۔ اس قضیہ کو بھی وہ آپ کی شخصیت میں طعن کا ذریعہ بناتے ہیں اوردین میں تشکیک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں(۱۹)۔

اسلامی تاریخ کی تحریف میں بھی مستشرقین نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اورجس سطح تک اس کی ثقافت اوربنیادوں کو حقیقی انداز سے بدل کر پیش کر سکتے تھے، اس میں انھوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخِ اسلامی کی مبادیات اور ا س کے متعلق غلط معلومات کو پھیلا کر وہ دراصل یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ انسانی تہذیب کی تاریخ میں اسلام کا کوئی کردار نہیں(۲۰)۔

حقیقت یہ ہے کہ مستشرقین کافی عرصہ سے اس مقصد کے حصول کے لیے تگ ودو کر رہے ہیں اوراسلام کے روشن زاویوں کودھندلا کرنے کے درپے ہیں تاکہ وہ بنیاد جو جمہورمسلمان علما نے قائم کی ہے، اس کو گرا دیا جائے اور اسلامی تاریخ کی ایک نئی بے معنی شکل پیدا کی جائے(۲۱)۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ امتِ مسلمہ عموماً اور علماءِ دین خصوصاً، مستشرقین اورملحدین ومتجددین کے ساتھ اس علمی محاربہ میں اپنے زاویۂ نگاہ کو وسعت دیتے ہوئے خالص علمی وتحقیقی رسوخ حاصل کریں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں سب سے بنیادی ذمہ داری مدارسِ عربیہ کی ہے کہ وہ مدارس میں بنیادی اسلامی مصادر کے تعارف کے ساتھ ساتھ’’ تحریکِ استشراق‘‘ کا تفصیلی مطالعہ اور جدید اصولِ تحقیق وتصنیف بھی شاملِ نصاب کریں کیونکہ مدارس کے طلبہ ، علومِ دینیہ کی قربت کی وجہ سے، تحریکِ استشراق کا مضبوط سدِ باب کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت کے اعتراف میں تامل نہیں ہونا چاہیے کہ مدارسِ دینیہ سے فارغ التحصیل طلبہ،تمام تر صلاحیتوں کے باوجود، مغرب سے اٹھنے والی کسی قسم کی شورش وتحریک کا جواب دینا تو کجا ،اس کے تعارف سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ ہمارے خیال میں،اولاًمدارسِ عربیہ کا نصاب تشکیل دینے والے ذی قدر علما اورثانیاً مدارس کے اکابر اساتذہ کو اس اہم حقیقت پر فوراً عمل درآمد کرتے ہوئے کم از کم آخری تین درجات (عالیہ،موقوف اوردورۂِ حدیث) کے طلبہ کے لیے ’’الاستشراق‘‘ کو لازمی قرار دینا چاہئے تاکہ ہم اسلامی اقدار کے حقیقی محافظ ثابت ہوسکیں۔ 


حواشی

(۱) شرف الدین اصلاحی، مستشرقین ،استشراق اوراسلام،ص۴۸تا۵۰،معارف دارالمصنفین اعظم گڑھ،۱۹۸۶ء

(۲) محمد یوسف رامپوری، تحریک استشراق،ص۳۴و۳۵،مجلہ دارالعلوم دیوبند،مارچ ۱۹۸۸ء___استشراق کے لغوی واصطلاحی مفہوم کی تفصیل کے لیے ڈاکٹر اکرم چوہدری کا مقالہ ’’استشراق ‘‘(۵۶۵و۵۶۶)ملاحظہ ہو۔

(۳) Edward Said, Orientalism: a Brief Definition, p.1, New York, Vintage, 1979

(۴) ڈاکٹر احمد عبد الحمید غراب، رویۃ اسلامیۃ للاستشراق،ص۷و۸، دارالاصالۃ للثقافۃ والنشر والاعلام الریاض،۱۹۸۸ء

(۵) نفس المصدر:ص۹

(۶) ڈاکٹر محمد ابراہیم الفیومی،الاستشراق رسالۃ الاستعمار،ص۱۴۴،دارالفکر العربی قاہرہ مصر، ۱۹۹۳ء

(۷) ڈاکٹر محمد احمد دیاب، اضواء علی الاستشراق والمستشرقین،ص۱۳،دارالمنار قاہرۃ مصر، ۱۹۹۹ء

(۸) مرجعِ سابق

(۹) نفس المصدر:ص۱۴

(۱۰) ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری،استشراق،ص۵۶۷،اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ،لاہور

(۱۱) پیر کرم شاہ الازہری،ضیاء النبی ؑ ،۶؍۱۲۰،مکتبہ ضیاء الاسلام، لاہور

(۱۲) مولاناسلمان شمسی ندوی،اسلام اور مستشرقین(ضمیمہ :ص۱۲ملخصاً)،الندوی ابوالحسن سید، الاسلامیات بین کتابات المستشرقین والباحثین المسلمین، ترجمہ اردو: فیروزالدین شاہ و حافظ سمیع اللہ فراز، تحت اشراف: ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری،جامعہ پنجاب لاہور،۲۰۰۳ء

(۱۳) نفس المصدر:ص۱۳

(۱۴) نفس المصدر:ص۱۴

(۱۵) علی حسنی الخربوطلی، المستشرقون،ص۸۳۔۔۔و۔۔۔عمرفروخ، التبشیر والاستعمارفی البلاد العربیۃ، ص۲۴و۲۵، مکتبۃ العصریۃ صیداء، بیروت،ط۴، ۱۳۹۰ھ

(۱۶) مولانا سلمان شمسی ندوی،اسلام اور مستشرقین(ضمیمہ :ص۲۲ملخصاً)

(۱۷) مولانا شمس الحق افغانی،علوم القرآن، ص۱۲۰،مکتبہ اشرفیہ لاہور

(۱۸) حسین محمدمحمد، الاتجاہات الوطنیۃ فی الادب المعاصر، ۱؍۵۹،موسسۃ الرسالۃ بیروت، س۔ن۔

(۱۹) حکیم محمد طاہر، السنۃ فی مواجہۃ الاباطیل، ۳۸؍۳۹۰، منشورات دعوۃ الحق، رابطۃ العالم الاسلامی مکہ، ۱۴۰۲ھ

(۲۰) انور الجندی، المستشرقون والسیرۃ النبویۃ، ص۹۷، مجلۃ البحث الاسلامی ، العدد الخاص عن الاستشراق، رمضان ۱۴۰۲ھ۔۔۔

مزید ملاحظہ ہو:ڈاکٹر عبد الستار فتح اللہ ، الغزوالفکری والتیارات المعادیۃللاسلام، ص۲۶، مکتبۃ المعارف الریاض،ط۲، ۱۳۹۹ھ

(۲۱) محمد غزالی، دفاع عن العقیدۃ والشریعۃ ضد مطاعن المستشرقین،ص۱۳و۱۴، دارالکتب الحدیثۃ مصر، ط۳، ۱۳۸۴ھ


آراء و افکار