اکتوبر ۲۰۰۴ء

موجودہ صورتحال میں اہل علم ودانش کی ذمہ داری

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

رابطہ عالم اسلامی کی سالانہ کانفرنس ۱۸ سے ۲۰ ستمبر تک مکہ مکرمہ میں منعقدہوئی۔ پہلے سے علم ہوتا تو اس میں بطور مبصر یا اخبار نویس تھوڑی دیر کے لیے حاضری کی کوئی صورت نکالنے کی کوشش کرتا اس لیے کہ ۱۸ ستمبر کو میں جدہ میں تھا، لیکن ۱۹ ستمبر کو جب میں سعودی عرب میں ایک ہفتہ گزار کر لندن کے لیے روانہ ہو رہا تھا تو اخبارات میں اس کانفرنس کے آغاز کی خبر پڑھی۔ یہ کانفرنس ہر سال ہوتی ہے اور اس میں دنیا بھر سے رابطہ کے ارکان اور مدعوین شرکت کرتے ہیں۔ رابطہ عالم اسلامی مسلمانوں کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے، اس حوالہ سے کہ اس کی سرگرمیاں پورے عالم اسلام...

تحریکِ استشراق اور اس کے اہداف و مقاصد

― حافظ محمد سمیع اللہ فراز

استشراق (Orientalism) کی اصطلاح قدیم عربی لغات میں مفقود ہے اور موجودہ مفہوم میں بھی عربوں میں کبھی اس کا استعمال نہیں رہا، بلکہ یہ لفظ غیرمسلم مفکرین کا وضع کردہ ہے جس کے لیے عربی میں ’استشراق ‘کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ لفظ "Orient" بمعنی مشرق اور "Orientalism" کا معنی شرق شناسی یا مشرقی علوم وفنون اور ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ہیں۔ مستشرق (استشرق کے فعل سے اسمِ فاعل) سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو بتکلف مشرقی بنتا ہو (۱)۔ مستشرق ایک ایسے غیر مشرقی عالم کو کہتے ہیں جو مشرقی علوم، ادب اور معاشرت وغیرہ میں دلچسپی رکھتا ہو، تاہم’ زلفو مدینہ‘ کے دیے گئے معانی...

امت مسلمہ کو درپیش چند فکری مسائل

― حافظ سید عزیز الرحمن

امت مسلمہ آج جن مسائل سے دوچار ہے، ان سے کون ذی شعور شخص ناواقف ہوگا؟ اس حوالے سے جذبات، تاثرات، تحریریں اور پھر مذاکرات اور کانفرنسوں کے ذریعے تجاویز اور آرا وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن یہ صورت حال جس قدر گھمبیر، پیچ در پیچ الجھاؤ سے دوچار اور ہمہ جہت قسم کی ہے، اس اعتبار سے شاید غور وفکر کا حق ابھی تک ادا نہیں ہو سکا جس کا قرض اس امت کے ذمہ باقی ہے اور معاملے کی نوعیت کے پیش نظر ان امور کے بارے میں مزید غور وفکر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری اور فوری ضرورت ہے۔ یہ امور اپنی اہمیت کے پیش نظر اور موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس امر کا تقاضا...

متشددانہ فتویٰ نویسی : اصلاح احوال کی ضرورت

― ادارہ

(۱) از دار الافتاء دار العلوم اسلامیہ چار سدہ: سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اکثر لوگ قمیص میں کالر لگواتے ہیں۔ سنا ہے کہ یہ کالر نصاریٰ کے ساتھ مشابہت ہے۔ کیا یہ واقعی ممنوع ہے؟ الجواب بعون الملک الوہاب: بے شک کالر لگانا مشابہت بالنصاریٰ میں داخل ہے اور ناجائز ہے۔ (امداد الاحکام ج ۴ ص ۲۳۵) (ماہنامہ ’النصیحۃ‘ ۔ دار العلوم اسلامیہ چارسدہ، اگست ۲۰۰۴، ص ۳۴)۔ (۲) محترم ڈین کلیہ مطالعات اسلامیہ وشرقیہ، پشاور یونیورسٹی۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ پروفیسر عبد اللہ سے آپ کی دانش گاہ کے افتاء سیل...

حجیت حدیث اور اسلامی حدود کے حوالے سے ایک بحث

― چوہدری محمد یوسف ایڈووکیٹ

مکرمی جناب مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ۔ سلام مسنون! آپ کی جانب سے قاری ہونے کا اعزاز بحال فرمانے پر شکر گزار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ میرا یہ اعزاز آپ کے کرم ہی سے باقی رہ سکتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے قضیے کے بارے میں سلسلہ مضامین میری دلچسپی سے باہر ہے۔ اس کے باوجود میں نے اسے پوری دلچسپی سے پڑھا ہے۔ اس پر آنے والے تبصرے اور جوابات بھی شوق سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ سب کچھ کافی ذہن کشا ہے۔ خوشی کا باعث یہ بات ہے کہ عزیزم محمد عمار خان صاحب کے اسلوب بیان میں علمی سطح، شائستگی، شستگی، دقت نظر، جدید وقدیم کا امتزاج ایسی خوبیاں ہیں کہ اگر مبالغے کی...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب۔ السلام علیکم۔ ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا اگست ۲۰۰۴ء کا شمارہ وصول ہوا۔ بے حد شکریہ۔ آپ کا اداریہ ’’کلمہ حق‘‘ بے حد پسند آیا۔ دینی مدارس کے علمی وتحقیقی کام کو اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں دور حاضر کے مسلمان معاشروں کے لیے ان مدارس نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے، وہ بھی تجزیاتی مطالعے کا متقاضی ہے۔ مدارس نے بعض خدشات کے تحت ’’حفاظت دین‘‘ کی جو پالیسی اختیار کی تھی، اب بہت سے مدارس اس دور سے باہر نکل رہے ہیں۔ ضرورت ہے ان کی اس جدوجہد سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ بے حد خوشی ہوئی کہ...

بین المذاہب کانفرنس برائے عالمی امن و عدل اجتماعی

― پروفیسر حافظ منیر احمد

جون ۲۰۰۴ میں اوسلو (ناروے) میں پہلی بین المذاہب کانفرنس منعقد ہوئی جس میں گورنمنٹ آف ناروے اور نارویجن چرچ کی دعوت پر مولانا محمد حنیف جالندھری (جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان) کی قیادت میں پاکستان کے مقتدر مسیحی ومسلم مذہبی راہنماؤں کے ایک وفد نے شرکت کی۔ وفد کے دیگر ارکان میں مولانا مفتی منیب الرحمن (چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی)، مولانا فضل الرحیم (نائب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور)، مولانا ریاض حسین نجفی (نائب صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان)، بشپ سموئیل عزرایاہ، مولانا عبد المالک (ایم این اے)، مولانا عبید اللہ خالد، محمد سعید...

بین المذاہب کانفرنس : چند تاثرات

― پروفیسر میاں انعام الرحمن

اس وقت کی دنیا میں بدامنی اور نا انصافی کا چال چلن ہے اور مختلف مفاداتی گروہ اپنے منفی مقاصد کے حصول کے لیے تشدد ، جبر اور ظلم و ستم کی راہ اپناتے ہوئے ان مقا صد کے گرد الہیاتی تقدس کا لبادہ لپیٹ رہے ہیں۔ اکیسویں صدی کی دنیا میں مذہب کے نام پر تشدد اور ظلم وستم کے بڑھتے ہوئے اسی رجحان کو بھانپتے ہوئے مذہبی حلقوں نے مذہب کی اصل ا سپرٹ کے فروغ کے لیے باہمی تعاون کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قاری محمد حنیف جالندھری اور بشپ آف رائے ونڈ کی کاوشوں سے ۱۶ ستمبر ۲۰۰۴ء کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں بین المذاہب کانفرنس برائے امن و عدل اجتماعی منعقد...