مکاتیب

ادارہ

(۱)

محترم جناب ابو عمار زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم

ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا اگست ۲۰۰۴ء کا شمارہ وصول ہوا۔ بے حد شکریہ

آپ کا اداریہ ’’کلمہ حق‘‘ بے حد پسند آیا۔ دینی مدارس کے علمی وتحقیقی کام کو اجاگر کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں دور حاضر کے مسلمان معاشروں کے لیے ان مدارس نے جو مثبت کردار ادا کیا ہے، وہ بھی تجزیاتی مطالعے کا متقاضی ہے۔ مدارس نے بعض خدشات کے تحت ’’حفاظت دین‘‘ کی جو پالیسی اختیار کی تھی، اب بہت سے مدارس اس دور سے باہر نکل رہے ہیں۔ ضرورت ہے ان کی اس جدوجہد سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے۔ بے حد خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے مقالے میں ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ ممکن ہو تو اس مقالے کو روزنامہ اخبارات میں بھی اشاعت کے لیے بھجوائیں۔

کبھی گوجرانوالہ آنا ہوا تو آپ سے شرف ملاقات کی کوشش بھی کروں گا۔

والسلام۔نیاز مند

محمد خالد مسعود

(چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان)


(۲)

مکرمی ومحترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں نے اپنے گزشتہ خط میں جس تلخ نوائی کا اظہار کیا تھا، اس کا بنیادی مقصود آپ کو اپنے ان جذبات کے متعلق ذاتی طور پر آگاہ کرنا تھا جو میں حافظ عمار ناصر کے مذکورہ مقالہ کے متعلق محسوس کرتا ہوں، اسی لیے عام قارئین کی طرح خط کے آخر میں، میں نے اس کی اشاعت کی درخواست ہرگز نہیں کی تھی اور میں بجا طور پر یہ خیال کرتا تھا کہ کسی حد تک سخت تنقید پر مبنی اس خط کو قابل اشاعت نہیں سمجھا جائے گا۔ مگر اگست ۲۰۰۴ء کے ’الشریعہ‘ میں اس خط کو مدیر صاحب کی قینچی کے معمولی زخم کے بغیر من وعن شائع شدہ دیکھ کر مجھے جس قدر خوشگوار حیرت ہوئی، اس کا اظہار نہ کرنا بھی بخل کے مترادف سمجھتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ میں اسے آپ کی صحافیانہ وسعت ظرفی کے علاوہ آخر اور کیا نام دوں؟

مولانا محترم! مجھے آپ کی علمی رفاقت کا دعویٰ تو ہرگز نہیں ہے، البتہ اگر میں یہ کہوں کہ کچھ عرصہ تک مجھے آپ سے ’ہم کاری‘ کا شرف ضرور حاصل رہا تو شاید یہ بات حقیقت سے بعید نہ ہوگی۔ اسلامک ہیومن رائٹس فورم کے پلیٹ فارم پر مغرب کے انسانی ونسوانی حقوق کے ملحدانہ تصور سے لے کر قانون توہین رسالت کے تحفظ اور رد قادیانیت جیسے بہت سے موضوعات ہیں جن پر اس پلیٹ فارم پر ہونے والی مشترکہ جدوجہد میں راقم بھی آپ جیسے اہل علم حضرات کے ساتھ شریک کار رہا ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھ کر جب سوچتا ہوں تو اسے محض اپنی بدقسمتی سمجھتا ہوں کہ مجھے ’مسجد اقصیٰ‘ کے متعلق ’الشریعہ‘ میں شائع ہونے والے مضامین پر اس شدت سے تنقید کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کاش کہ ہم فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی تولیت اور حق ملکیت کے متعلق بھی وہ فکری اشتراک قائم رکھ سکتے جس کا اظہار دیگر متعدد موضوعات میں شامل حال رہا ہے۔

مولانا صاحب، مجھے یہ جان کر افسوس ہوا ہے کہ عزیزی حافظ عمار ناصر نے اپنے طویل مقالہ کو کتابی شکل میں شائع بھی کرا دیا ہے۔ کاش کہ وہ ایسا نہ کر پاتے۔ مجھے معلوم نہیں ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے ان کے علمی سفر کو کس قدر مہمیز ملے گی، مگر میں ایک بات یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے اس مشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا جس کے لیے آپ نے زندگی بھر کاوش فرمائی ہے۔ مسجد اقصیٰ اور مسئلہ فلسطین جیسے امت مسلمہ کے حساس معاملات کے متعلق اس طرح کے متنازع فیہ اور قابل اعتراض مواد کی آپ جیسے علمی خانوادے کی طرف سے ایسی بے باکانہ اشاعت ہر اعتبار سے قابل افسوس ہے۔

مولانا محترم! ’الشریعہ‘ آپ کی ادارت میں شائع ہونے والا ایک علمی مجلہ ہے۔ اس میں شائع کیے جانے والے مضامین کے انتخاب کا آپ کو پورا حق ہے۔ مجھ جیسا کوئی بھی مضمون نگار ’الشریعہ‘ میں اپنے مضمون کی اشاعت کو اپنا حق قرار نہیں دے سکتا۔ اس کے باوجود بھی میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ماہنامہ ’محدث‘ میں حافظ عمار ناصر کے مقالہ پر میری جو مفصل تنقید شائع ہوئی تھی، اسے آپ اگر ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں شائع فرما دیتے تو ’الشریعہ‘ کے قارئین کو شاید تصویر کا دوسرا رخ دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا۔ اگرچہ حافظ عمار ناصر نے اپنی جانب سے میری چند معروضات کے متعلق نام لیے بغیر اپنی طرف سے وضاحتیں پیش کر دی تھیں، مگر یہ ’وضاحتیں‘ قاری کے ذہن میں اس تاثر کے ابلاغ کے لیے قطعی طور پر ناکافی ہیں جو ہم پہنچانا چاہتے ہیں۔ اس موضوع پر کتاب شائع کرنے سے قبل اگر یہ مضمون ’الشریعہ‘ میں شائع کر دیا جاتا تو اس موضوع کے متعلق قارئین کو دونوں پہلو دیکھنے کا موقع میسر آجاتا اور شاید اس سے کسی حد تک توازن بھی قائم رہتا۔ اسی طرح ’میک موہن/حسین خط وکتابت‘ اور کنگ کرین کمیشن کی سفارشات جن کا تذکرہ الشریعہ کے اگست کے شمارے میں ڈاکٹر رضی الدین سید نے کیا ہے، کے متعلق تفصیلات کی اشاعت بھی ضروری تھی۔

مکرمی! ’دینی مدارس میں تحقیق وتصنیف کی صورت حال‘ کے عنوان سے ’الشریعہ‘ کا اداریہ بے حد فکر انگیز ہے۔ مجھے آپ کے تجزیہ سے مکمل اتفاق ہے۔ البتہ اس معاملے کے ایک پہلو پر آپ روشنی ڈالتے تو مناسب تھا۔ وہ یہ ہے کہ ہمارے دینی مدارس کو جس طرح کا مواد (Stuff) مل رہا ہے، اس سے کسی بلند پایہ تحقیق کی توقع رکھنا عبث ہے۔ دیوبند کے ابتدائی مدرسہ کو اگر اس طرح کا ہی مواد ملتا تو اس سے شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ، مولانا اشرف علی تھانویؒ ، سید حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا انور شاہ کشمیریؒ جیسے نابغہ روزگار کا نکلنا شاید ممکن نہ ہوتا۔

میرا جی چاہتا ہے کہ میں ’الشریعہ‘ کے مضامین کے متعلق تفصیل سے اظہار خیال کروں، مگر اس کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھتا ہوں۔ آج صرف شیعہ عالم جناب کلب صادق کے خیالات پر مبنی مضمون پر مختصر تبصرہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ موصوف نے ’علما‘ اور ’ملا‘ کی جو خود ساختہ تعریف فرمائی ہے، وہ قابل عمل نہیں ہے۔ شیعہ سنی اتحاد کے متعلق ان کے نظریات قابل تعریف ہیں، مگر انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جب تک اثنا عشری شیعہ حضرات ملا باقر صدر جیسے متعصب شیعہ علما کے خیالات سے براء ت کا اظہار نہیں کرتے، اس وقت تک شیعہ سنی اتحاد کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ اگر اہل تشیع خلفاے راشدین کے متعلق محض ’تفضیل‘ تک محدود رہتے اور ’تسبیب‘ سے باز رہتے تو شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان اختلاف کی وہ صورتیں کبھی رونما نہ ہوتیں جو آج ہم دیکھتے ہیں۔ اس رائے کے باوجود شیعہ سنی فسادات کے خاتمہ کے لیے کی جانے والی ہر کوشش کو قابل تعریف سمجھتا ہوں۔

حافظ عمار ناصر ابھی اہل شباب میں سے ہیں، مگر ان کی رائے سے شدید اختلاف کرنے کے باوجود ان کے اسلوب نگارش اور قلمی جمال کی تعریف بادل نخواستہ بھی کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خدا کرے ان کا قلم امت کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے ان کی مرہم کاری کا ذریعہ بنے۔ انہوں نے اب تک اپنی خداداد تصنیفی استعداد کا جن موضوعات کے لیے استعمال کیا ہے، اسے نعمت خداداد کا کوئی اچھا مصرف کہنا ذرا مشکل ہے۔

آخر میں، میں آپ کی خدمت میں چار سدہ سے شائع ہونے والے ایک مجلہ کے مدیر صاحب کا خط ارسال کر رہا ہوں جو اس نے ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں میرا خط پڑھ کر مجھے تحریر کیا ہے۔ میری ان صاحب سے ذاتی شناسائی ہے اور نہ میں نے ان کے میگزین کے اس شمارے کے علاوہ کچھ دیکھا ہے جو انہوں نے مجھے ارسال کیا ہے۔ نجانے کتنے ایسے صاحبان علم ہیں جن کے خیالات آپ تک نہیں پہنچ پاتے۔

والسلام

دعاؤں کاطالب

محمد عطاء اللہ صدیقی

۹۹۔جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور


(۳)

محترم جناب محمد عطاء اللہ صدیقی صاحب

السلام علیکم

امید ہے بخیریت وعافیت ہوں گے۔

’الشریعہ‘ کے گزشتہ ایک شمارہ میں مولانا عمار ناصر کا بے سروپا دلائل پر مبنی مسجد اقصیٰ کی تاریخ کا مقابلہ پڑھا جس میں مسجد اقصیٰ کو اسرائیل کی جھولی میں پھینکنے کے لیے عمار خان ناصر کے قلم نے خوب زور لگایا تھا جس پر کچھ لکھنے کا خیال تھا مگر دار العلوم کے شش ماہی امتحانات اور دیگر مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہوتی جا رہی تھی کہ گزشتہ شمارہ الشریعہ میں حقیقت پر مبنی آپ کا مدلل تنقیدی جواب پڑھا۔ دل خوشی سے لبریز ہوا کہ حق لکھنے والوں کی کمی نہیں، ورنہ عمار خان کی داد کے لیے بہت سے خطوط الشریعہ کے صفحات پر نظروں سے گزرے۔ آپ کی بے باک لکھائی اور حق وصداقت پر مبنی تحریر سے سخت متاثر ہوا، اس لیے آپ سے رابطہ کر کے اپنے دار العلوم کا رسالہ جاری کیا۔ امید ہے قبول فرمائیں گے۔

’مصباح الاسلام‘ آپ کا اپنا پرچہ ہے۔ آپ اس کے لیے مضامین ارسال کرتے رہیں تو یہ ہمارے لیے بڑا اعزاز ہوگا۔ علاوہ ازیں رسالہ پڑھنے کے بعد مفید آرا اور تاثرات پر مبنی تحریر روانہ کریں تاکہ اہل ادارت کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔واجرکم علی اللہ

دعاؤں میں یاد رکھیں۔

والسلام

سید عنایت اللہ شاہ ہاشمی

مدیر اعلیٰ مصباح الاسلام چارسدہ


(۴)

18-08-2004

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بگرامی خدمت محترم علامہ زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

جس درد مندی کے ساتھ آپ اسلامی تعلیمات، عقائد واقدار کے تحفظ اور فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، وہ لائق صد احترام ہے۔ آپ کے مضامین شمارہ جون، جولائی ۲۰۰۴ء پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ’’اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا چارٹر اور ہمارے دینی مراکز کی ذمہ داری‘‘ میں آپ نے انتہائی جامع اور خوب صورت انداز میں دینی مدارس کو بھولا ہوا سبق یاد دلانے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح ’’جدید معاشرے میں مذہبی طبقات کے کردار‘‘ میں بھی آپ نے مذہبی تنظیموں کے انتہا پسندانہ، فرقہ وارانہ اور شدت پسندانہ رجحانات کی مذمت کر کے اعلیٰ خدمت انجام دی ہے۔

شمارہ جون ۲۰۰۴ء میں محترم پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کے دونوں مضامین بھی اعلیٰ تحقیقی کاوش کا خوب صورت نمونہ ہیں۔ اپنے مضمون ’’SDPI کی رپورٹ کا ایک جائزہ‘‘ میں محترم پروفیسر صاحب نے مکمل غیر جانب داری برتتے ہوئے نہایت مدلل اور خوب صورت انداز میں مذکورہ رپورٹ کے مثبت اور منفی پہلو اجاگر کیے ہیں۔ ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ لکھ کر پروفیسر صاحب نے فکر وعمل اور شعور وآگہی کے ایسے در وا کرنے کی کوشش کی ہے جس سے ہمارا ’’مذہبی طبقہ‘‘ ناآشنا ہے۔ جس طرح جھوٹ کو بنیادی قباحت قرار دے کر انہوں نے اس کے سماجی، معاشرتی اثرات کو واضح کیا ہے، کیا ہمارا مذہبی طبقہ اس کا ادراک رکھتا ہے؟امت کو تقسیم کر کے ٹولیوں میں بانٹنے اور کافر کافر کی مہم میں ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کی اپروچ (Approach) کو جس طرح ہمارے مذہبی طبقے نے رائج کر رکھا ہے، اس سوچ وانداز فکر کو واضح کرنے کے لیے کیا پروفیسر صاحب ’’ابلیسیت زدہ‘‘ دینی ادراک کا لفظ استعمال کر کے کچھ غلط کہہ گئے ہیں؟ اسلام کے ’اجتماعیت‘ کے تصور کی نفی کرنے والے کیا اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ کے بلاشرکت غیرے مستحق نہیں ہیں؟ ہمارے مذہبی سکالرز کب تک اپنی بد صورتی کا الزام آئینے کو دیتے رہیں گے؟ 

تحریر اور تقریر میں ہمیں وہ انداز اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو عامۃ الناس کے شعور تک رسائی حاصل کرے، نہ کہ محض جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے مخصوص مفادات مقصود ہوں۔ مگر ہمارا مذہبی طبقہ مکمل سنجیدگی کے ساتھ اس حقیقت کو سمجھتا ہے کہ معاشرے کو باہمی اتحاد اور اخوت ومساوات کا درس دینے سے ان کے انتہائی ذاتی مفادات پر ضرب آتی ہے۔ اس لیے کون سی امت اور کیسا اتحاد؟ کیا ہمارا مذہبی طبقہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتا سکتا ہے کہ اس نے دین اسلام کے ذریعے امت کو جوڑنے کا کتنا کام کیا ہے؟ کیا وہ اجتماعیت کے تصور کی نشوونما کا دعویٰ کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

محترم پروفیسر صاحب خود بھی ایک اعلیٰ علمی وادبی اور مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ علماے حق کی ان کوششوں اور خدمات کے بھی معترف ہیں جو وہ برصغیر پاک وہند میں دین اسلام کی اشاعت اور فروغ کے لیے انجام دے چکے ہیں یا دے رہے ہیں۔ پروفیسر صاحب اور دوسرے بہت سے اہل شعور کا مخاطب وہ مخصوص گروہ ہیں جو اسلام کے نام پر ذاتی خواہشات اور مفادات کا مکروہ دھندا کر رہے ہیں، جن کا وجود فرقہ پرستی، تعصب، باہمی نفرت اور عدم مساوات سے قائم ہے۔

مولانا محمد یوسف اور جناب محمد احسن ندیم اپنے تنقیدی مضامین میں پروفیسر صاحب کے انتہائی جامع اور مدلل مقالے کا مکمل احاطہ کرنے سے قاصر رہے۔ البتہ ’فقیہ اور عالم‘ کی وضاحت مفصل ہے۔ وہ ’فقیہ اور عالم‘ کی رائج اور عام فہم تشریح کے بجائے ان الفاظ کے لغوی اور لفظی معنوں میں الجھ کر باقی ماندہ مضمون کی افادیت کو نظر انداز کر گئے۔ مولانا محمد یوسف نے گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ کے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر اس کو سبھی علمی اداروں کے اخلاقی زوال کا نام دینے کی سعی لاحاصل کی ہے۔ اس میں وہ کالج اور مدرسہ کا باہم تقابل کرتے نظر آتے ہیں، حالانکہ پروفیسر صاحب کے مضمون میں اشارۃً بھی ایسا رویہ نظر نہیں آتا۔

اسی مضمون میں ایک جگہ پر مولانا محمد یوسف نے نہایت بے باکی سے مذہبی طبقہ کی کمزوریوں کو تسلیم بھی کیا ہے۔ مولانا صاحب ’’اجتہاد‘‘ کے حوالے سے فرماتے ہیں:

’’اس بات کا اعتراف کرنے میں ہمیں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ا س حوالے سے مذہبی طبقوں کی کارکردگی ادھوری اور ناقص ہے۔ آج بالفرض حکومت وریاست اور معاشرے کے تمام امور کی باگ ڈور مذہبی طبقے کو سونپ دی جائے تو ان کا علمی وفکری ہوم ورک اس درجے کا نہیں کہ دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں صورت حال کو بدل ڈالیں۔‘‘

مولانا صاحب کا یہ اعتراف حقیقت دراصل پروفیسر صاحب کے مضمون کا خلاصہ ہے۔ پروفیسر انعام الرحمن صاحب نے اسلام کی ترویج کے لیے آرٹ کے حوالے سے جن نکات کی نشان دہی کی ہے، اہل فکر کو ان نکات پر سنجیدہ بحث کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ تحقیق ورہنمائی کے چند مزید غنچے کھل سکیں۔

والسلام۔ مخلص

خالد منظور راجہ

گجرات


(۵)

محترم مولانا عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

فضلاے درس نظامی کے لیے ایک سالہ کورس کی اختتامی تقریب میں شرکت کے لیے آپ کا ارسال کردہ دعوت نامہ موصول ہوا۔ یاد آوری کا شکریہ، لیکن میں بعض وجوہ سے تقریب میں شامل نہ ہو سکا جس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ ان شاء اللہ کسی دوسرے موقع پر آپ حضرات سے ملاقات کے لیے حاضر ہو جاؤں گا۔

ماہنامہ ’الشریعہ‘ باقاعدگی سے موصول ہوتا ہے۔ تازہ شمارے میں جہاد کے حوالے سے استاذ گرامی کا اور ’’آئیے اپنا کتبہ خود لکھیں‘‘ کے زیر عنوان پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون بہت پسند آیا۔ میاں صاحب نے معاشرتی اور تمدنی زندگی میں شعور وآگہی کے فروغ اور ضرورت پر جو رائے اور تاثرات بیان کیے ہیں، وہ نہایت قابل قدر اور لائق احترام ہیں اور موثر انداز میں قارئین کو شعور وآگہی کی وادی میں داخل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ استاذ گرامی مولانا زاہد الراشدی نے اپنے مضمون میں مغربی دنیا اور اس کے ہم نواؤں کی طرف سے جہاد پر کیے جانے والے اعتراضات کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے اور انہی کے اپنے فکر وفلسفہ کی روشنی میں جواب دیا ہے کہ جب آپ اپنی فکر اور تہذیب وثقافت کے فروغ کے لیے طاقت کے استعمال کو جائز مانتے ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ بھی کر رہے ہیں تو اسلامی فکر وتہذیب کی بالادستی کے لیے جہاد پر آپ کا اعتراض بے جا ہے۔ 

میری طرف سے تمام حضرات کی خدمت میں سلام اور دعا کی درخواست ہے۔

(مولانا) عبد الحمید 

چار سدہ

14/09/04


(۶)

محترم جناب مدیر صاحب ماہنامہ ’الشریعہ‘ گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

محترم! آپ کے موقر رسالہ کے جون ۲۰۰۴ کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن صاحب کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ شائع ہوا ہے۔ ’الشریعہ‘ جیسے دینی اور علمی وفکری جریدے میں اس مضمون کا شائع ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے۔ افسوس در افسوس کہ مضمون نگار کے نزدیک مسلمان علما اور خاص طور پر فقہا ابلیسیت زدہ ہو چکے ہیں۔ ان کا دینی ادراک کو اس خطاب سے مرصع کرنا، مساجد کی اساس کو بھی اسی زمرہ میں شمار کرنا اور تصور خاتمیت کو عجیب انداز سے فقہ کے متصادم ٹھہرانا یہ سب کچھ اس بات کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہر فن کا ماہر سمجھتے ہیں، حالانکہ ایں خیال است ومحال است وجنوں۔ مسلمان ہو کر اور علما سے وابستہ ہو کر اور خاص کر شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت فیوضہم اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی صاحب دامت برکاتہم جیسے بزرگوں کی سرپرستی میں شائع ہونے والے رسالے میں اس طرح کا مضمون لکھنا جس میں ۱۴ سو سالہ تاریخ اور مذہبی روایت کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی گئی ہو، بہت ہی شنیع فعل ہے۔ ایسے رسالہ میں اس طرح کے مضمون کا شائع ہونا ہی نہایت تعجب خیز ہے۔ باقی اللہ تعالیٰ سمجھ بوجھ عطا فرمائے اور اکابر سے صحیح سمت پر تعلق استوار رکھنے کی توفیق اور اہل علم وفقہ کی قدر دانی نصیب فرمائے۔ آمین

دعا جو۔ بندہ محمد رفیق غفرلہ

مدرس مدینۃ العلوم ،مقام حیات ،سرگودھا


مکاتیب