سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت اور اس کی نگارش کا طریقہ و منہاج

مولانا محمد یحیی نعمانی

سیرت نبوی کے مطالعے کی اہمیت کے بیان میں اس سے زیادہ اور کسی بات کی ضرورت نہیں ہے کہ اس میں انسانی افراد اور جماعتوں کے لیے وہ کامل اور سد ا بہار نمونہ ہے جس کو اسی لیے تیار کیا گیا تھاکہ فرزندان آدم ہر حال میں اس سے اپنے لیے رہنمائی اور ہدایت کی روشنی حاصل کریں، خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ا سکا ہر پہلو لائق اقتدا، اور واجب اتباع ہے۔

اللہ کی قدرت اور نبوت محمدی کا اعجاز دیکھئے کہ محمد رسول اللہ کی نبو ت کے ۲۳؍سال کے مختصر عرصہ میں ذات نبوی علی صاحبہا السلام پر ان سارے حالات وکیفیات کا گذر ہوگیا جن سے قیامت تک کسی انسان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ فتح وشکست، غربت وامیری، شاہی وگدائی، خوشی ومسرت، غم واندوہ ،اقبال وادبار، عزت وبے عزتی، غلبہ ومغلوبیت ، سفر وحضر، تجارت ومزدوری، شادی وغمی ۔۔۔غرض وہ کون سی حالت ہے جو آپ پر نہ آئی ہو اور اس سلسلے میں آپ کا سنہرا نمونہ نہ ملتا ہو۔ آپ باپ بھی بنے شوہر بھی بنے،آپ نے رشتہ داریاں بھی کیں، تعلقات قائم کئے اور محبور ا توڑے بھی، آپ نے معاہدے کیے، آپ کو دھوکہ بھی دیا گیا اور آپ کے اوپر چھوٹے الزام بھی لگائے گئے، آپ کو نفاق کے موذی مرض کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کو ایسے وفادار دوست بھی ملے جنہوں نے مہر ووفا کے بے نظیر نقوش صفحۂ تاریخ پر ثبت کیے۔۔۔ایک عاشق رسول نے اس جامعیت کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے:

’’عجب دربار!! سلاطین کہتے ہیں: شاہی دربار تھاکہ فوج تھی، علم تھا، پولیس تھی، جلاد تھے، محتسب تھے، گورنر تھے، کلکٹر تھے، منصف تھے، ضبط تھا، قانون تھا۔ مولوی کہتے ہیں: مدرسہ تھا کہ درس تھا، وعظ، افتاتھا، قضا تھا، تصنیف تھی، تالیف تھی، محراب تھی، منبر تھا۔ صوفی کہتے ہیں:خانقاہ تھی کہ دعا تھی، جھاڑ تھا، پھونک تھا، ورد تھا، وظیفہ تھا، شغل تھا،۔۔۔ (چلہ) تھا، گریہ تھا ، بکا تھا، حال تھا، کشف تھا، کرامت تھی، فقر تھا، فاقہ تھا، زہد تھا، قناعت تھی، ۔۔۔مگر سچ یہ ہے کہ وہ سب کچھ تھا، کیوں کہ وہ سب کے لیے آیا تھا، آئندہ جس کو چلنا تھا، جہاں کہیں چلنا تھا، جس زمانہ میں چلنا تھا اسی کی روشنی میں چلنا تھا۔‘‘ (النبی الخاتم ص: ۱۰۱)

نبوت: انسانیت کی بنیادی ضروت

سیرت رسول کے مطالعے اور اس کی نگارش کا سب سے بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کے ہر فقرے اور ہر مرحلے پر یہ بات ظاہر ہو کہ یہ ایک نبیِ ہادی ﷺ کی سیرت ہے، اس مطالعے میں ہر وقت یہ شعور تازہ رہنا چاہئے کہ انسانیت کو نبوت کی کتنی اور کیونکر ضرورت ہے؟۔

انسان کے پاس جو حواس ہیں اور علم کے جو ذرائع ہیں وہ اس کو یہ نہیں بتلاسکتے کہ اس کو کس نے پیدا کیا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں ؟اس کا اپنی مخلوق سے کس قسم کار شتہ ہے؟ انسان کا اس کائنات میں کیامقام ہے؟ اس کا مقصد تخلیق کیا ہے؟ اس عالمِ زندگی کا کیا انجام ہے؟۔۔۔ اللہ کا نبی اللہ کی طرف سے براہ راست ان سارے سوالوں کے جواب لے کر آتا ہے۔۔۔۔ انسانوں کو اندر فتنہ وفساد کی جو فطری خرابیاں رکھی گئی ہیں، اور جو انسانی زندگی کو لگاتار مبتلا ئے آزمائش رکھتی ہیں، اخلاق کو تباہ کرتی ،آبادیوں کو اجاڑتی، تمدنوں کے فساد کا باعث ہوتی اور نفرت وہوس کی آگ بھڑکاتی ہیں، ان خرابیوں کی اصلاح کا صحیح اور کامیاب طریقہ اس علم ویقین کے ذریعہ ہے اور اس نسخے سے ہی ممکن ہے جو انبیاء علیہم السلام لے کر آتے ہیں۔

سیرت کے مطالعے اور اس کی نگارش کے وقت نبوت اور کار نبوت کی اہمیت اور انسانیت کی اس کے سامنے محتاجی کا اعلان ہونا چاہئے، سیرت کو اس طور پر دیکھا جائے اور پیش کیا جائے کہ وہ اس عالم گیر فساد کا تریاق ہے جس نے انسان کو خدا کی رحمت سے دور اور گمراہی کی تاریکیوں میں بھٹکا رکھا ہے۔ یہ بھی پیش نظر آتا رہے کہ کس طرح سارے علم وہنر کی ترقیوں اور وسائل کی بہتات کے باوجود معاصر دنیا کی عقلیں عالمی جاہلیتِ عظمیٰ کے علاج ،اور اس کے فساد کے انسداد میں ناکام ثابت ہورہی ہیں، ایسا نہیں ہے کہ وہ اس پر متفکر نہیں، مگر اس کے باوجو وہ جاہلیت کی یلغار کے سامنے ایک ایک کرکے مورچے ہار رہی ہیں، اور ایک ایک کرکے ظلم وفساد کو اخلاقی جواز عطا کرتی جارہی ہیں۔

اصلاح کی شاہ کلید

سیرت نبوی کا ایک اہم باب یہ بھی ہونا چاہئے کہ انسانی بگاڑ کے علاج کی وہ کون سی شاہ کلید تھی جو رسول اکرم ﷺ نے استعمال؟جس سے سارے عقد ے کھلتے چلے گئے۔

انبیاء علیہم السلام انسان کے علم وارادے کو شر سے موڑ کرخیر کی طرف لگاتے ہیں۔ وہ اس میں بھلائی کی محبت اور طلب پیدا کر تے ہیں۔ اپنی جماعت کے اندر وہ یہ احساس پیدا کردیتے ہیں کہ دنیا میں بھلائی اور نیکی کو فروغ دینا انکا فرض منصبی ہے۔انسان کے اندر غیر معمولی صلاحیتیں ہیں، مگر ہوس وطمع اور شیطان ان کو صرف ظلم وشر اور نفسانیت کی طرف لے کر چلتے ہیں، یہ انبیاء کا کارنامہ ہوتا ہے کہ وہ انسانوں کے اندر خدا طلبی کا وہ ذوق پیدا کرتے ہیں کہ ان کے لیے بھلائی کے راستے کی مشکلات آسان ہی نہیں لذیذ ہوجاتی ہیں، سیرت نبوی کا یہ عظیم ترین کارنامہ ہے اس کے بغیر ہم کسی بھی مطالعے کو مکمل نہیں کہہ سکتے۔

نبی کا پیغام ودعوت

سیرت نبوی کو محض روایتی تاریخی پس منظر میں دیکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو واقعات وحوادث کا بیان سمجھ لیا جاتا ہے، جس میں خوش عقیدگی کے روغن کا اضافہ ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں بقول بعض معاصر علماء کے وہ ’واقعات کی کھتونی ‘بن کر رہ گئی ہے، حالانکہ نبی کی سیرت کی اصل اہمیت اس کی ہدایت ورہنمائی اور اس پیغام کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کے لیے وہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے، اسی کو وہ اپنی زندگی کا مشن بلکہ اوڑھنا بچھونا بنالیتا ہے، اسی کا فروغ اس کا مقصدِ زندگی ہوتا ہے، سیر ت کے مطالعے کے وقت فوکس اور توجہ اگر اس مشن اور پیغام سے ہٹی اور وہ کہیں پس منظر میں چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا مطالعہ تاریخ کی ورق گردانی بن کر رہ جائے گا، محمدرسول اللہ کے سیرت نگار کو حیات طیبہ کو اس طرح پیش کرنا چاہئے کہ اس کا سب سے نمایاں اور اہم عنصر ’’رسالت ونبوت‘‘ اور اس کی دعوت وپیغام کے تمام پہلو بھی اپنی عظمت ورعنائی اور معجزانہ شان کے ساتھ سامنے آجائیں۔

اسوۂ حسنہ

رسول اکرمؐ بحیثیت رسول، اللہ کے دین اور اس کے پیغام کے مبلغ بھی ہیں، اور انسانوں کے لیے کامل اور حسین ترین نمونہ بھی، آپ کی ذات اپنے اخلاق وصفات، مزاج وکردار، عادات ومعاملات، تمناؤں اور جذبات ہر چیز میں عملی نمونہ ہے، آپ کی شب روزکی زندگی کے بغیر اور آپ کے اعمال واخلاق کے بغیر بحیثیت رسول آپ کی سیرت نامکمل ہی رہے گی۔

یہ ایک عجیب واقعہ ہے کہ ہماری روایتی سیرت نگاری میں آپ کے خِلقی اوصاف کے بیان پر جو توجہ ہوتی ہے آپ کے اسوہ کے بیان پر اس سے بہت کم توجہ ہوتی ہے،دوسری طرف صحابہ کرامؓ کی حقیقت بینی اور بلندیِ ذوق ملاحظہ ہو کہ روایات کے ذخیرہ میں آپ کے دین اور پیغام اور اسوۂ حسنہ پر بلا مبالغہ ہزارہا ہزار روایات ہیں اور آپ کی خِلقی کیفیت پر روایات گنتی کی چند۔۔۔۔ سیرت نگاری نے اخیر زمانوں میں کافی ترقی کی ہے ، اور اب اسوۂ حسنہ سیرت کا ایک اہم جز بنتا جارہا ہے، مگر اس کو ابھی مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

نبوی مزاج کی خصوصیات

انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے جو دین لے کر آتے ہیں وہ محض خشک الفاظ کے سانچوں میں ڈھلا ہوا نہیں آتا، ایسا نہیں ہوتا کہ ان کو صرف واجبات وفرائض اور اوامر ونواہی کی ایک فہرست دے دی جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو کتاب وشریعت کے الفاظ کے ساتھ اس کی روح ومزاج کیفیات واحساسات، اور جذبات کی آئینہ دار زندگی کے ساتھ بھیجتے ہیں، یہ زندگی خود ان انبیاء کی ہوتی ہے، جو اس دین و شریعت کی اتنی صاف اور مفصل تشریح کرتی ہے کہ ان کا ہر پہلو اس کے آئینے میں مجلّیٰ ہوجاتا ہے۔

سیدنا محمد رسول اللہ کی زندگی نبوی مزاج کا آئینہ اور ان جذبات وکیفیات کا مجموعہ ہے جوبراہ راست نبوت کا خاص مقصود ہیں۔ اللہ تعالی نے جس طرح آخری دین کے اوامر ونواہی کو بحفاظت ہم تک پہونچایا ہے اسی طرح اس نے ان کیفیات کو بھی ہم تک بحفاظت پہونچایا ہے۔رسول اکرم ؐ کی زندگی پر ان کیفیات کا رنگ اس طرح چھایا ہوا تھا، کہ اگر سیرت نگار نے یا سیرت کا مطالعہ کرنے والے نے اس رنگ کو چھوڑ دیا تو سیرت کے صحیح خد وخال اور اس کی اسپرٹ اور روح سامنے نہیں آسکتے اور نہ مطالعۂ سیرت کا اصل مقصود پورا ہو سکتا ہے۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کیفیات کے جلی عناوین ہیں: خدا طلبی و تعلق مع اللہ، اللہ سے محبت اور اسکا خوف، اس پر توکل یقین، عشق وسرافگندگی،خدا مستی وبے خودی، عبودیت وتذلل، آخرت کا استحضار ویقین،زہد واستغنا، مخلوق خدا پر شفقت ورحمت، دلسزی ودردمندی،دین پر عزیمت و استقامت، اسکی راہ میں جدو جہد وجانبازی۔۔۔۔

شاید یہ کہنا غلط نہ ہو کہ ذات نبویکی یہ ربانی کیفیات سیرت نگاری کی بہت سی کو ششوں میں واضح طور پر نظر نہیں آتیں۔ اسکا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیرت کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے رسول اللہ ؐ کی سیرت کسی دوسریقومی مصلح وقائد کی سیرت سے زیادہ مختلف نہیں رہتی، وہ اس سے متأثر ہوسکتا ہے، عقیدت کا اظہار بھی کر سکتا ہے،مگر اس کے دل میں وہ ایمان پیدا نہیں ہو سکتا جو مطالعۂ سیرت کا گوہرِ مقسود ہے۔

تعبیرات واصطلاحات کی نزاکتیں

انسانی عقل وخرد اپنے ماحول اور تجربات کی روشنی میں پیغام رسانی کے لیے نئی نئی تعبیرات واصطلاحات اختیار کرتی ہیں۔ یہ اصطلاحات جس ماحول میں پیدا ہوتی ہیں اور پروان چڑھتی ہیں اپنے ساتھ وہ انکے اثرات جرور رکھتی ہیں۔کسی طرح وہ اپنے پس منظر سے آزاد نہیں ہوسکتیں۔انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے زمانوں میں اور ان سے پہلے دنیا میں مختلف اصلاحی اور فکری تحریکیں قائم ہو چکی تھیں، الگ الگ قسم کے اخلاقی اور الٰہیاتی فلسفے تھے، جنہوں نے اپنے اپنے زمانوں میں سکّہ جمایا تھا، مگر قرآن مجید کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انہوں نے اپنے دین کے حقائق کی تشریح اور اپنی دعوت کے لیے ان اصطلاحات اور تعبیرات کو مستعار لینا اور ان سے کام چلانا کبھی گوارہ نہیں کیا۔ اس کے بجائے ان کو اپنی پیغام رسانی کے لیے نہایت سادہ اورحقائق پر مبنی الگ اصطلاھات اور منفرد تعبیرات اللہ کی طرف سے دی گئی تھیں۔

آں حضرت ؐ سے پہلے تحریف شدہ یہودیت و نصرانیت کے علاوہ حکمت وفلسفہ یونان وہند اور فارس ومصر وروما پر چھائے ہوے تھے،ہر ذہین آدمی ان سے متأثر ضرور تھا۔ مگر نبوت محمدی نے انسانی زندگی کی پیچیدہ گتھیوں کے کھولنے اورانسان کے لیے صحیح اور متوازن طرز زندگی کی تشریح میں ایمان، احسان، تزکیہ، عبادت، تقوی ، خشیت، آخرت ، رسالت، نبوت ، وحی ، علم، عدل، انصاف، مواسات وہمدردی اوراخلاق جیسی اصطلاحات استعمال کیں۔

رسول اللہؐ کی سیرت اور آپ کے پیغام کی تشریح کے لیے نہ قدیم فلسفی واجتماعی اصطلاحات موزوں تھیں اور نہ عصر حاضر کے ازموں اور سیاسی و اجتماعی تحریکوں کی اصطلاحات۔ ماضی قریب اور معاصر لٹریچر میں سیرت نبوی کے سلسلے میں جمہوریت، اشتراکیت اور سوشلزم وغیرہ کی اصطلاحات بعض لوگوں نے فراخ دلی کے ساتھ استعمال کی ہیں۔ہر کچھ دنوں کے بعد کوئی نیا ازم، یا فلسفہ دنیا پر فیشن کی طرح چھا جاتا ہے، پھرجب وہ مسائل کو حل کرنے کے بجائے انتشار و عدم توازن اور انفرادی و اجتماعی مسائل کو مزید بڑھا کر رخصت ہوتا ہے تو کوئی نیا ازم دنیا پر مسلط کر دیا جاتا ہے،اور اسکا یسا پرو پیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ دنیا کے سارے مسائل کا حل اسی میں نظر آنے لگتا ہے۔ اس فضا سے ہم بھی متأثر ہو جاتے ہیں، کسی کو رسو ل اللہ ؐ کی دعوت میں جمہوریت کی صدا سنائی دینے لگتی ہے، تو کوئی اسکو ایک موزوں اشتراکی تحریک کہنے لگتا ہے، کوئی سوشلسٹ اصطلاحات میں رسول اللہ کی اقتصادی اصلاحات بیان کرتا ہے، تو کوئی آں حضرت ؐ کے پیغام کو اشرافیہ کے اقتدار اور ملوکیت کے خلاف قومی بغاوت کا نام دیتا ہے، یہاں تک کہ بعض مستند علماء بھی جو سیرت کا اس کے اصل تناظر میں مطالعہ کرتے ہیں آں حضرتؐ کو جمہوری لیڈر اور آپ کی اصلاحات کو جمہوری یا سوشلسٹ اصلاحات کہہ جاتے ہیں۔

انصاف کی بات یہ ہے کہ ان تعبیرات کا پیرہن، نبوی پیغام کے لیے قطعاناموزوں ہے، انبیاء علیہم السلام اللہ کی طرف سے ’دین‘ لے کر آتے ہیں۔ ان کا کام انداز وتبشیر ہوتا ہے، ہدایت وتزکیہ ان کا طریقہ کار اور انسانوں کو اپنے خدا سے جوڑنا اور اس کی رحمتوں سے فیضیاب کرانا ان کا مشن ہوتا ہے، ان کا پیغام نہ کسی فاسد تمدن کاردعمل ہوتا ہے، اور نہ کسی ظالم اقتصادی وسیاسی نظام کے خلاف عوامی جذبے کا اظہار، وہ صرف وحی ونبوت کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اس کے لیے یہی تعبیرات زیادہ صحیح اور موزوں ہیں۔

حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ کے سیرت طیبہ کے بیان اور آپ کے پیغام کی تعبیر وتشریح میں نہایت احتیاط کرنی چاہیے، اور اس کے لیے وہی اصطلاحات وتعبیرات باقی رکھنی چاہییں جو خود آپؐ نے اپنی احادیث میں اور آپ کو سب سے زیادہ جاننے اور سمجھے والے صحابہ کرام نے استعمال کی ہیں، نیز سیرت طیبہ کے بیان کا جو عمومی رنگ اور فضا ہو وہ اسی رنگ اور فضا سے بالکل ہم آہنگ ہونی چاہیے جس کا قرآن اور حدیث رسول کا گہرا مطالعہ کرنے والا مشاہدہ کرتا ہے۔

قدیم سرمایۂ سیرت پر ایک نظر

جامع اور متوازن سیرت نگاری اور تجزیاتی مطالعے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے پاس سیرت پر جو مواد موجود ہے اس کی نوعیت پر نظر ہو، یہ بھی معلوم ہو کہ کسی عہد میں اس فن کی داغ بیل پڑی؟ وہ کس ماحول میں تیار ہوا؟ جس زمانے میں وہ پروان چڑھا اس کے رجحانات کیا تھے؟ یہ بھی تفصیل سے معلوم ہو کہ اس سرمایے کے اپنے مآخذ کیا ہیں؟ ان کی استنادی حیثیت اور مرتبہ کیا ہے؟ اور اس کی جانچ پر کھ کے کیا اصول ہیں؟۔

جہاں تک سیرت کے مآخذ کی درجہ بندی اور ان کے تاریخی وروایتی استناد کا تعلق ہے، یہ ایک طویل موضوع ہے۔ ہمارے ہندوستانی مؤلفین میں علامہ شبلی اور ان کے بعد کے کئی محققین نے اپنی کتب سیرت کے مقدموں میں اس پر تفصیل سے بحث کی ہے، بہت کم ہی ضروری مباحث ایسے ہیں جو ان کے یہاں نہیں ملتے، لہذا اس سر مایے سے متعلق کچھ متفرق ضروری باتیں عرض کی جارہی ہیں۔

۱۔ یہ بات خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ اولین سیرت نگاروں نے وسیع معنی میں سیرت طیبہ کے تمام پہلوؤں کا احاطہ اپنا مقصود نہیں بنایا تھا، ان کی توجہ کا اصل مرکز یہ چند پہلو تھے۔: (۱) رسول اکرم کی قبل بعثت زندگی خاص طورپر خاندانی پس منظر، ولادت، ورضاعت، وغیرہ۔ (۲) بعثت کے بعد کے اہم واقعات وحوادث، خاص طور پر مکی معاشرے کی سیاسی صورت حال (۳) مدنی عہد میں خاص طور پر غزوات وسرایا اور سیاسی آویزشیں، اس صورت حال کا اندازہ کرنے کے لیے صرف اس بات پر غور کرنا کافی ہوگا کہ فن سیرت کا نام ’’علم السیرۃ‘‘ کے بجائے ’’علم المغازی‘‘ رکھا گیا، شاید بلکہ غالبا اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ان حضرات نے ان پہلووں کو خاص طور پر محفوظ کرنا چاہا جن کو محدثین کرام اپنے موضوع بحث سے کسی حد تک خارج سمھتے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے جمع وتدوین اور بحث وتحقیق کے دائرے میں صرف آں حضرت کے تشریعی ارشادات، احکام وقضایا، مواعظ وخطبات اور سنن وفرائض کی ادائیگی کے طریقے اور حقائق دین وایمان سے متعلق روایات کو ہی رکھا تھا۔

ابن اسحاق دوسری صدی میں اپنی مغازی ترتیب دے چکے تھے، موسی بن عقبہ بھی ان کے ہم عصر تھے، انہوں نے اس فن کی طرح جن بنیادوں پر ڈالی وہ اسی پر قائم رہا، ابن سعد اور طبری جیسے مورخین نے بھی عہد نبوی کی تاریخ کے لیے ان ہی بنیادوں کو استعمال کیا، ابن قیم کی زاد المعاد اور چند دوسری کو ششوں کے استثناء کے ساتھ فن سیرت جدید دور (یعنی چودھویں صدی ہجری) سے پہلے ان خطوط پر ہی اپنا سفر طے کرتا رہا، محدثین کے حلقے نے اس پر شمائل اور دلائل نبوت کا اضافہ بھی کیا۔

۲۔ سیرت وتاریخ اسلام کی روایات جس زمانے میں جمع وتدوین کے مرحلوں سے گذر کر کتابی اور مرتب علمی انداز میں محفوظ کی جانے لگیں، یہ وہ زمانہ ہے جب امویوں کی شمشیر خار اشگاف نے چہار دانگ عالم میں تہلکہ مچا رکھا ہے، اور غلبہ و اظہار دین کا خدائی وعدہ پور اہوچکا ہے۔ اس فضا کا اثر تھا یا روایتی تاریخ نویسی کا قدیم انداز کہ سیرت نگاری پر ’’مغازی‘‘ کی فضا چھا گئی، اگر آپ سیر وتاریخ کے مآخذ دیکھیں اور حدیث وسنت کے ذخیروں سے اسلام کے روحانی اصلاحی اوراخلاقی کارناموں کو جمع نہ کریں تو یہ رسول اللہ کی نہایت نامکمل سیرت ہوگی، جس میں آپ ایک تحریک کے بانی، ایک فاتح،یا ایک مصلح اور فرمانروا زیادہ نظر آئیں گے، ایک نبی وصاحب وحی اور مکمل بشری نمونہ کی تصویر کم بنے گی، آپ کو پورا عہد مدنی غزوات کے ارد گرد طواف کرتا نظر آئے گا، او رعہد مکی کی اتنی کم تفصیلات ملیں گی کہ بے اختیار تاریخی مآخذ کی تنگ دامانی کا شکوہ کرنے کو دل چاہے گا۔

فن سیرت کے قدیم مآخذ پر ’’مغازی‘‘ کی چھائی ہوئی فضا کو اور اس عہد کے عمومی ماحول کو سامنے ضرور رکھنا چاہئے، اور کوشش کرنی چاہیے کہ اصل واقعہ اور اس ماحول کے زیر اثر کی گئی اس کی تشریح وتوضیح جو راوی اور مورّخ خود کرتا ہے دونوں کے درمیان فر ق کیا جائے۔

۳۔ فن حدیث اورفن سیرت کی روایات کے درمیان ایک اہم فرق بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے، علماء اسلام نے حدیث کو براہ راست دین کا حصہ اور وحی ربانی سمجھ کر جمع کیا، اور اس کے لیے وہی احتیاط برتی جو اس کا حق تھی ۔ احتیاط کے پیش نظر ایک ایک روایت کو الگ الگ بیان کیا، ان کے درمیان تاریخی یافنی ترتیب وتسلسل قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی، بیان میں کم ازکم اپنے فہم وفکر کو اثر انداز ہونے کا موقعہ دیا، جو راوی نے خود سنا وہ بیان کیا، اپنی طرف سے اسباب وعلل کے بیان سے پرہیز کیا۔ پھر اس فن کے ناقدوں نے اس کو دسیوں کسوٹیوں پر پرکھا، داخلی وخارجی ذرائع استعمال کیے، اصل واقعے کے بیان میں کہیں کسی سے کوئی تسامح ہوا تو اس کو بھی پکڑا، راوی نے کہیں تشریح وتوضیح کے طور پر اپنی طرف سے کوئی بات شامل کردی تھی (جس کو محدثین کی اصطلاح مین ادراج کہتے ہیں) تو اس کو مختلف روایات کے مطالعے کے ذریعہ اس کو بھی الگ کیا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے برخلاف سیرت و تاریخ کی روایات میں ایسا نہیں ہوسکا، ابتدائی سیرت نگاروں نے تاریخی تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے الگ الگ روایات کو باہم ملایا بھی، اپنے قیاس سے اس کی تفسیر اور اسباب ومحرکات بھی بیان کیے۔ ظاہر بات ہے علماء اسلام کے نزدیک تاریخی واقعات کی وہ اہمیت نہیں تھی جو ان کی شریعت اور دینی واجبات کی تھی، اس لیے اس سرمایہ کو فن حدیث کے ’’صرّافوں‘‘ نے اپنے سخت معیاروں پر جانچا بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ روایات واخبار جو محدثین کی کتابوں میں تاریخ وسیرت سے متعلق موجود ہیں، خود محدثین نے ان کی اس طرح جانچ پرکھ نہیں کی ہے جس طرح وہ احکام شریعت کی روایات کی کیا کرتے تھے۔ ہمارے سرمایۂ حدیث میں احکام کی روایات پر ناقدین حدیث نے نقد وتحقیق کے اصول زیادہ سختی سے برتے اور باریک بینی سے استعمال کیے ہیں، دیگر روایات میں انہوں نے اتنی باریک بینی سے کام نہیں لیا، اس لیے یہ بات ظاہر ہے کہ دونوں کا درجہ ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔

۴۔ مسلمانوں نے روایات حدیث وتاریخ کی تنقید کے لیے جو منفرد نظام ایجا د کیا وہ بجا طور پر ان کی علمی تاریخ کا ایک درّبے بہا اور قابل صد فخر کارنامہ ہے، جس سے ممکنہ حد تک کسی تاریخی روایت کی جانچ کی جاسکتی ہے، اور اس کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رائے قائم کی جاسکتی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ عام طور پر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ سیرت نبوی کی روایات کی جانچ ان اصولوں پر نہیں کی جاسکتی۔ عموما اس کی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ یہ اصول نہایت سخت ہیں، اور ان کی معقولیت وافادیت فن حدیث میں اس لیے تھی کہ اس پر عقائد وایمانیات اور حلال وحرام کا دار ومدار تھا، سیرت نبوی تو محض تاریخی واقعات وحوادث کے قسم کی چیز ہے، اس لیے اس کی روایات کو اتنے سخت اصولوں پر کسنے کی ضرورت نہیں۔

لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو صورت حال اس سے مختلف نظر آئے گی، سیرت نبوی کا تعلق براہ راست ہمارے مرکز ایمان یعنی رسول اللہ کی ذات سے ہے، سیرت ہمارے لیے گویا وہی مقام رکھتی ہے جو ابتدائے اسلام کے لوگوں کے لیے ذات نبوی کا تھا، سیرت پوری کی پوری دین ہے،اس میں کمزور روایتیں قدم قدم پر ہماری عقیدت کا امتحان لیں گی۔

ہاں!جو راویتیں خالص تاریخی نوعیت کی ہیں تو ان کو واقعات کا تسلسل قائم رکھنے کے لیے اور اس عہد کی تصویر کو مکمل کرنے کے لیے ضرور استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ یہ روایتیں اسلام کے ان اصولوں سے کسی درجہ میں بھی نہ ٹکرائیں جو قرآن اور قوی ترین روایتوں سے ثابت ہوتے ہیں، ان روایتوں کا لازمی طور پر اس معجزانہ حد تک کے پاکیزہ کردار اور اعلیٰ اخلاق کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے جس کا رسول اسلام حامل تھا اور جس کی یقینی گواہی صحیح کتب حدیث کا ایک ایک صفحہ دیتا ہے۔

۵۔ شاید یہ خیال بھی زیادہ صحیح نہیں کہ کتب حدیث کے ذخیزہ میں سیرت نبوی اور عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق روایات بہت کم ہیں، واقعہ یہ ہے کہ حدیث کی کتابوں میں عہد نبوی کے تاریخی پہلووں سے متعلق بہت مواد ملتا ہے، اور بسا اوقات تو اس کی نوعیت بڑی اہم اور غیر معمولی ہوتی ہے، کبھی کبھی ان میں ایسے پہلو ریکارڈ ہوجاتے ہیں جن کا کوئی سراغ تاریخ وسیر کی کتابیں نہیں دیتیں۔ یہ روایتیں حدیث کی تمام کتابوں میں بکھری ہوتی ہیں، ان کو جمع کرنا ایک لمبا کام ضرورہے۔ مگر اب لوگ کرنے لگے ہیں۔عربی اور اردو میں دو الگ محققین نے بخاری ومسلم کی ان روایات کو جمع کیا ہے جو تاریخی نقطہ نظر سے سیرت نبوی سے متعلق ہیں۔ مسند احمد کی فقہی ترتیب ’’الفتح الربانی‘‘ کی تیرہویں اور بیسویں، اکیسویں اور بائیسویں جلد میں سیرت سے متعلق نہایت وافر سرمایہ موجود ہے۔ سیرت کے معروف ماہر اور مورّخ ڈاکٹر اکرم ضیا ء عمری کے زیر نگرانی متعدد محققوں نے سیرت کے الگ الگ عہدوں اور ابواب سے متعلق حدیث وتاریخ کی روایات جمع کی ہیں، اور ان کی محدثین کے اصول کے مطابق جانچ کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ کام جامعہ اسلامیہ (مدینہ منورہ) کے پی ایچ ڈی اور ایم اے کے مقالات کی شکل میں تقریبا مکمل ہوچکا ہے،۔کچھ چیزیں طبع ہوچکی ہیں اور کچھ منتظر طباعت ہیں۔

عہد جاہلی

رسول اللہ کی بعثت سے پہلے کازمانہ جاہلی کہلاتا ہے، سیرت نبوی کے پس منظر کے طور پر یہ زمانہ بھی زیر بحث آتا ہے، خاص طور پر عربوں کی ماقبل اسلام تہذیب ومعاشرت دل چسپی کا موضوع بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔بعثت محمدی سے پہلے عربوں کی زندگی کورے کاغذ کی طرح تھی، قبائلی زندگی جو تمدن کے نقش ونگار اور تکلفات سے پاک تھی۔ عربوں کے علاوہ دنیا کی مختلف قوموں نے تمدن وتہذیب اور مذاہب وادیان کی وادیوں میں مختلف راہیں نکالی تھیں۔ مختلف قوموں نے فلسفہ وحکمت اور تمدن وحکومت کے پر رعب نقوش قائم کیے تھے، بہت سی منظم حکومتیں قائم تھیں، علم کی مسندیں آراستہ اور فنون کی بزمیں سجی ہوئی تھیں، مگر سب کا قبلہ غلط تھا اور شر کے رخ پر تھا، اور سب کا سب قرآن کے الفاظ میں’’بر وبحر کے عالمی فساد‘‘ کا مصداق تھا۔

عرب دنیا سے الگ اپنی صحرائی بدویانہ زندگی میں مست تھے۔ مگر یہ تصور غلط ہے کہ وہ اسلام سے پہلے محض فساد وظلم کا مجموعہ اور خیر ونیکی سے عاری تھے، شاید رسول اللہ کے کارنامے کی عظمت بیان کرنے کی نیت سے غالبا بے شعوری طو رپر اکثر یہی تصور قائم کرلیا جاتا ہے۔

عرب بے پڑھ لکھے تھے، تمدن کی رنگینیوں سے دور، اور فلسفے کی موشگافیوں سے ناواقف تھے، ان کو اپنے امی ہونے کا اور کتاب شریعت سے تہی دامن ہونے کا اعتراف تھا۔ مگر ان کی اس کمی نے ان کو فطرت سے قریب اور نفسیاتی واخلاقی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھاتھا۔ وہ مشرک تھے، مگر ان کے اندر دین ابراہیمی کے باقی ماندہ اثرات تھے۔ ان میں بلا کی اخلاقی خوبیاں تھیں، سچائی اور وفاداری میں فرد، عزم وخودداری میں یکتا، اور سادگی وشہامت اور غیرت وہمت ان کی قومی صفات تھیں۔

ان کی یہ خوبیاں ہی تھیں جن کی وجہ سے ان کا اس نبوت کے لیے انتخاب عمل میں آیا جس کی مخاطب پوری انسانی برادری تھی۔ آپؐ سے پہلے انبیاء ؑ اپنی اپنی قوموں میں آتے تھے، اس لیے کسی قوم میں نبی آنا عام حالات میں اس بات کی علامت نہیں ہوتا تھا کہ وہ قوم دوسری قوموں سے بہتر ہے۔مگر آں حضرتؐ کی بعثت عالمی تھی، اور آپؐ کے پیغام کو عربوں (بنی اسماعیل) کے واسطے سے پوری انسانیت تک پہنچنا تھا، اور وہی آپ کے دین کے سارے عالم کے لیے معلّم قرار پائے تھے۔اس لیے بنی اسماعیل کا اس عظیم کام کے لیے انتخاب خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ کچھ خاص امتیازی صفات کے حامل تھے۔

خود رسول اللہ نے اس کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے بنی اسماعیل کا اور ان میں سے بنو کنانہ کا اور ان میں سے قریش کا انتخاب فرمایا، پھر ان میں سے بنی ہاشم اور میرا انتخاب فرمایا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ اللہ نے مجھے مخلوق کی بہتر جماعت میں پیدا فرمایا، پھر اس جماعت کے بہتر قبیلے میں مجھے رکھا۔۔۔ (سنن ترمذی باب فضل النبیؐ)۔

ایک معاصر سیرت نگار کو عربوں کی ان خوبیوں کو ان کی جاہلی تاریخ وادب کے خزانوں سے نکال کر لانا چاہیے، اور اس بات کا ثبوت پیش کرنا چاہیے کہ کیوں عرب اس امانت کے لیے زیادہ موزوں تھے۔

زمانۂ قبل بعثت

رسول اکرم ؐ کی ولادت اور رضاعت کے زمانے کے بہت سے محیر العقول واقعات سیرت کی کتابوں میں روایت کیے جاتے ہیں، اگر یہ قابل اعتماد ذرائع سے اور صحیح روایات سے ثابت ہوں تو بسر وچشم قبول کیے جائیں۔ مگران کی بہت بڑی اکثریت بلکہ سوائے چند کے تمام نہایت کمزور اور بے اصل قسم کی روایتیں ہیں۔ بہت سے لوگ یہ کہہ کر ان کو قبول کرلیتے ہیں کہ فضائل ومعجزات کے باب میں ضعیف روایتیں قبول کرلی جاتی ہیں۔ مگر یہ کم علم محسوس کرتا ہے کہ ان روایتوں کی حیثیت محض ’’ضعیف‘‘ روایات کی نہیں ہے، بلکہ اکثر روایتیں نہایت کمزور اور ’’واہی‘‘ قسم کی ہیں، اور محدثین کے جس اصول کا حوالہ دیا گیا ہے، وہ اتنی کمزور روایات یا ’’واہی وموضوع‘‘ روایات کے لیے نہیں ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حدیث کی عام معتبر کتابوں میں یہ روایات نہیں لی گئی ہیں۔ بلکہ یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان روایات کا اکثر حصہ ایسا ہے کہ اس کو اگر کوئی متقدمین کے عہد میں یہ کہہ کر روایت کرنے لگتا کہ میں تو سند بیان کر رہا ہوں لوگ راویوں کو جان کر خود ان کے بارے میں فیصلہ کرلیں گے، تو محدثین اس کو ہی ساقط الاعتبار یا کمزور قرار دے دیتے ۔ اسی لیے حدیث کی عام کتابوں میں ان روایتوں سے احتیاط برتی گئی ہے۔

بعض معاصراور ماضی قریب کے علماء نے یہ بات کہی ہے کہ حضور اکرم ؐ کی ولادت کے اور بچپن کے حالات ومعجزات اس لیے صحیح روایات میں ریکارڈ نہیں ہوسکے ،کہ مسلمانوں کی علمی بزم تو عہد مدنی کے آخری نصف میں آراستہ ہونی شروع ہوئی، ماقبل ولادت اور بچپن کے معجزات کو دیکھنے والے اس دور میں بہت کم بچے تھے، یہ بات تو حقیقت سے قریب تر ہے، مگر اسی سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر صحابہ کرام نے ان واقعات کو بیان کیا ہے (چاہے انہوں نے ان معجزات وواقعات کو خود دیکھا ہو، یا کسی اور اسے سنا ہو)بہر حال اگر صحابہ نے ان کو روایت کیا ہے تو یہ صرف نہایت کمزور راویوں کے یہاں کیوں ملتے ہیں، معتبر راوی ان کو روایت کیوں نہیں کرتے؟؟ اور اگر صحابہ کرام نے ان کو روایت کیا ہی نہیں ہے تو یہ کمزور راویوں کے پاس کہاں سے پہنچے؟؟۔

ایک اہم اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اگر یہ محیر العقول واقعات دینی اعتبار سے سیرت رسول کا ایک مفید وضروری عنصر ہوتے تو اللہ کی تقدیر میں یہ ضروری ہوتا کہ یہ قابل اعتماد ذریعے سے ہم تک پہنچتے، اس لیے کہ نبی آخر الزماں کی زندگی کا کوئی ایسا گوشہ جس کا تعلق آپ کی نبوت ورسالت سے ہو اور جس سے سیرت کے نبوی پہلو کو تقویت ملتی ہو وہ مکمل طور پر بے اصل روایات میں ہی پایا جائے، ایسا بہت بعید معلوم ہوتا ہے۔

بہر حال!کمزور روایتوں میں پائے جانے والے محیر العقول واقعات کے بکثرت بیان سے سیرت طیبہ پرایک دیو مالائی رنگ چھانے لگتا ہے، جو دین اور اس کی دعوت کے لیے مضر ہے۔ ہاں ما قبل ولادت اور بچپن اور جوانی کے جو معجزات اور آیات و دلائل معتبر روایوں اور قابل اعتماد ذرائع سے آئے ہیں ان کا بیان ضروری ہے۔

آں حضرتؐ نے بعثت سے پہلے ایک نہایت اعلی کردار کی شریفانہ زندگی گذاری تھی، مکی معاشرے میں آپ کا کردار واخلاق مسلم تھا، قرآن نے بھی مخالفین کو آپؐ کی بعثت سے پہلی زندگی کے حوالے سے غور وفکر کی دعوت دی تھی۔ ہمارے سیرت وحدیث کے سرمایے میں ایسی روایات موجود ہیں جو آپؐ کی امانت سچائی، راست بازی، عدل، ہمدردی وغم خواری، مکہ میں آپ کی معتبر شخصیت اور اعلیٰ درجہ کی روحانیت وخدا پرستی کا ثبوت فراہم کرتی ہیں۔ یہ روایتیں سیرت نگار کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

مکی عہد

جس طرح کسی بارعب وپر شکوہ وشوکت قلعے کی مضبوطی کا دار ومدار اس کی بنیاد پر ہوتا ہے، جو زمین میں چھپی ہوتی ہے، اسی طرح اسلام کے عظیم الشان قلعہ کا جو مرعوب کن منظر عہد مدنی میں نظرآتا ہے، اس کی مضبوطی کا راز عہد مکی میں چھپا ہوا ہے۔ سطحیت کے ساتھ کیا گیا مطالعہ ان عظمتوں کا راز حنین وتبوک کے میدانوں اور طائف واوطاس کی وادیوں میں دکھائے گا مگر نگاہ حقیقت بیں اور تحلیل وتجزیہ کے ساتھ کیا گیا مطالعہ اس کی جڑیں مکی عہد کی پر سوز دعوت، حکیمانہ تربیت، مؤ منانہ صبر واستقلال، اور مدبرانہ حکمت عملی میں ڈھونڈیں گے۔

مدنی عہد کی طرح مکی عہد کا اتنا مفصل ریکارڈ ہمارے حدیث وسیر کی دفتروں میں نہیں ہے، اس کے تاریخی اور سماجی اسباب بھی تھے، اس لیے یہاں ہم کو زیادہ گہرے تجزیے اور استنباط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ہمارے لیے اس عہد کی اہمیت اس اعتبار سے بڑھی ہوئی ہے کہ یہ دور سیرت نبوی کے اس وقت کا شاہد ہے جب مسلمان کمزور اور مغلوب تھے اور ایک غیر مسلم اقتدار کے تحت رہتے تھے، دعوت اسلامی کے راستے میں رکاوٹیں سخت اور بے شمار تھیں۔ پھر چند سالوں کے بعد ہی مدینہ کے افق سے اسلام کے غلبہ کا سورج طلوع ہوتا ہے، صدیوں تک اس کو زوال نہیں ہوتا، اسی روشن اور پُر بہاردن میں فکر اسلامی پروان چڑھتا ہے، مسلمان اپنے انفرادی اور اجتماعی رویّے طے کرتے ہیں، اپنی شریعت وقانون کے ضابطے متعین کرتے ہیں، ان کا پورا ذہنی سانچہ اسی غلبہ وعافیت کے دور میں تیار ہوتا ہے۔ تاآنکہ ۱۲؍صدیوں بعد یہ سورج غروب ہوتا ہے، اور اسی اندھیرے کی رات شروع ہوتی ہے جس میں رسول اللہ نے اپنے سفر کا مکہ سے آغاز کیا تھا۔

اب ایک مرتبہ پھر امت کو اسی طرح کی حکمت علمی اور دعوتی تدریج کا راستہ ڈھونڈنا ہے جس پر رسول اللہ نے مکی عہد میں اور مدینہ کے ابتدائی عہد میں سفر کیا تھا، جس میں اصولوں پر عزیمت کے ساتھ جمنے کا بھی سبق ہے، کفر وایمان کی واضح حد بندی بھی ہے، اور بھرپور حکمت عملی کے ساتھ مخالف ماحول میں اپنے لیے گنجائش پید اکرنے اور رکاوٹوں کے بیچ سے راستہ نکالنے کی تدبیریں بھی۔

ایک طرف تو آپ کفر سے اسی طرح براء ت کا اظہار کرتے ہیں جس طرح سورۂ ’’الکافرون‘‘ میں آپؐ کو حکم دیا گیا تھا، دوسری طرف آپؐ بنو ہاشم سے خاص طور پر اور بنو عبد مناف کے خاندان سے عمومی طورپر نہیں اور کمزور مسلمانوں کی حفاظت میں مدد بھی لے رہے ہیں۔ مکہ کی قبائلی زندگی میں جو رسم ورواج اور عرف ہیں آپؐ اس کو بھی استعمال کررہے ہیں۔ مدینہ میں مشرک عناصر ور یہودی قبائل پر مشتمل ایک مشترک دستوری مملکت بھی تشکیل دے رہے ہیں جو قریشی خطرے کا مقابلہ متحد ہوکر کرے گی۔۔۔۔مکی زندگی میں آپ کو لچک اور صلابت کے حدود بھی ملیں گے اور عزیمت ورخصت کے اصول بھی، اور ان کے علاوہ ایسے بہت سے رہنما اصول ملتے چلے جائیں گے جو عہد حاضر میں ہمارے طرز عمل کی شرعی بنیاد ہوں گے۔

عہد مکی کے مطالعے میں اس دور کی دعوت کے عناصر کی تلاش ایک اہم موضوع بحث ہے، اس کے متعلق قرآن مجید میں بہت اہم مواد موجود ہے، جو اس پوری فضا کی نہایت مکمل اور مفصل تصویر کشی کرتا ہے جس میں اسلامی دعوت اپنا سفر طے کررہی تھی۔ قرآن مجید اس دور کی دعوت کے بنیادی عناصر بھی بیان کرتا ہے، اس وقت اس کے کیا دلائل دیے جارہے تھے؟ کس قسم کے اعتراضات اور شبہات پیش آرہے تھے؟ اس کو بھی واضح کرتا ہے، نیز اس کے بیانات کے بین السطور اور سلوٹوں میں یہ بھی پڑھا جاسکتا ہے کہ اس مخالفت بھری فضا کے کیا نفسیاتی اثرات اہل ایمان پر پڑتے تھے۔

عہدمکی کے مطالعے کے دوران رسول اللہ کے حکیمانہ طرز عمل کا گہرا مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے، جس میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جائے کہ آپؐ اس کثیر رخی مخالفت کا سامنا کس طرح کررہے تھے؟ کن شخصیتوں اور جماعتوں کو اللہ تعالٰی  نے آپ کے لیے ڈھال بنادیا تھا ؟ آپ کا ان شخصیتوں اور جماعتوں سے کس قسم کا رابطہ رہتا تھا؟۔

عہد مکی کا یک اہم باب ہجرت حبشہ ہے، ہجرت حبشہ کے دعوتی اور سیاسی پہلووں کو خاص طور پر اہمیت دینی چاہیے، یہ بات خاص طورپر نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ جنوبی اور مشرقی عرب کے قبائل فارسی حکومت کی سیاسی سرپرستی کے تحت تھے، اہل مکہ (اور اہل مدینہ) کے بھی کسری کے دربار سے تعلقات تھے، خود کسریٰ بھی ان علاقوں کے لوگوں کو اپنا محکوم جانتا تھا، اسی لیے جب اس کے پاس رسول اللہ کا خط پہنچا تو اس نے آمرانہ تکبر سے کہا: ’’یکتب الیّ ھذا وھو عبدی‘‘ (میرا غلام ہوکر مجھ سے اس طرح خطاب؟) اور اسی لیے اس نے اپنے یمن کے گورنر کو لکھا کہ وہ مدینہ دو آدمی (صرف دو) بھیج کر آنحضرت ؐ کو گرفتار کرواکر مدائن بھیج دے۔۔۔ اس پس منظر میں دیکھیے کہ رسول اللہ ؐ نے صحابۂ کرام کو حبشہ کی حکومت کے پاس بھیجا جو ایران کی ساسانی حکومت کی عالمی حریف سلطنت روما کے تابع اور اس کی ہم مذہب (عیسائی) تھی۔

حبشہ میں مسلمان ایک غیر مسلم حکومت کے ماتحت رہنے لگے ،جوان کو ان کی ذاتی زندگی میں مذہبی آزادی بھی دیتی تھی ،اور ان کی حفاظت بھی کرتی تھی، صحابہ کرام نے بھی اس حکومت سے وفاداری اور خیر خواہی کا ثبوت اس حد تک دیاکہ اس کے لیے اپنی فوجی خدمات تک پیش کیں۔۔۔۔ حبشہ میں مسلمانوں کا رویہ اور طرز عمل ہمارے سامنے حکمت عملی کے اہم دروازے کھولتا ہے، اسی طرح حضرت جعفرؓ کی نجاشی کے دربار میں کی گئی تقریر اسلامی دعوت وسیاست کا ایک شاہکار ہے۔

اہل علم وفکر کے لیے ایک سوال یہ بھی غور طلب ہے کہ وہ کون سی مصلحت تھی کہ جس کی خاطر مہاجرین حبشہ کو رسول اللہ نے امن وحفاظت اور آزادی کا وطن میسر ہونے کے بعدبھی اس وقت تک نہیں بلایا جب تک صلح حدیبیہ نہیں ہوگئی، یہ لوگ صلح حدیبیہ کے بعد جب عرب میں کوئی بڑی مخالفت نہیں رہ گئی تھی وہاں سے واپس ہوے اور فتح خیبر کے بعد آں حضرتؐ سے ملے۔

مکی دعوت کا ایک اہم باب موسم حج اور اس کے علاوہ رسول اللہ کی قبائل کے وفود سے ملاقات بھی ہے، جس میں آپ ان کو اسلام کی بھی دعوت دیتے تھے اور اپنے لیے پناہ اور حفاظت کی بھی فرمائش کرتے تھے۔

اس عہد کے مطالعے کا ایک اہم موضوع یہ ہے کہ مکہ والوں کی اور عام طورپر سارے عرب کی مخالفت کے کیا اسباب تھے؟ وہ اسلام دشمنی اور اس کار استہ روکنے کے لیے کیا کیا وسائل استعمال کرتے تھے؟ اسی طرح ایک نہایت اہم سوال جو بہت سے دلچسپ حقائق کو سامنے لائیگا، یہ ہے کہ کیا اہل مکہ اورقریش کے لیے کچھ ایسی اخلاقی رکاوٹیں یا قبائلی وخاندانی بندشیں تھیں جو عام طورپر ان کی مخالفت کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتی تھیں؟ راقم سطور کی نظر میں علامہ شبلی نعمانی وہ پہلے سیرت نگار ہیں جنہوں نے کسی حد تک یہ پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ قریش اور اہل مکہ اپنی مخالفت اور محاذ آرائی میں ان آخری حدوں تک کیون نہیں جاتے تھے جہاں تک جانے سے روکنے والی بظاہر کوئی مادی وجہ نہیں تھی؟راقم سطور کی ناقص نظر میں اس کا سبب آپسی قرابت داری اور خاندانی رشتوں کا پاس اور لحاظ تھا، جو عربوں کا قومی مزاج تھا، حتی کہ اگر بعض بدبخت اس مخالفت میں ان حدوں سے نکلنے کی کوشش کرنا چاہتے تھے تو بھی ان کو روکا جاتا تھا۔ رسول اللہ مکہ کے مخالفانہ اور خطرناک ماحول میں ایک طرف تو نہایت ثابت قدمی کے ساتھ اپنی دعوت پر جمے ہوئے تھے، دوسری طر ف آپ اپنی دعوت کی اور اپنے حامیوں کی حفاظت کے لیے مکی معاشرے کے اجتماعی نظام کو بھی استعمال کرتے تھے اور اس کے خیر کے پہلووں کی قدر کرتے تھے۔

عہد مدنی

ہجرت کا واقعہ غیر معمولی حد تک اہم اور سبق آموز ہے، اگر چہ آپ ؐ سے ابتداء نبوت میں ہی اس بات کا واضح خدائی وعدہ کرلیا گیا تھا کہ آپ کو اپنے مخالفوں پر واضح برتری حاصل ہوگی، اور آپ کا نبوی مشن مکمل ہوکر رہے گا، مگراس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان ساری احتیاطوں کا اور اپنی حدتک ان سارے وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیا جن سے اس عالم اسباب میں مخالفتوں کا مقابلہ کیا جاتا ہے، اور خطروں سے بچا جاتا ہے۔ ہجرت کے موقعے پر اگر چہ یہ یقین ہے کہ ’’ان اللہ معنا‘‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے، اور اس کا آپ حضرت ابوبکرؓ کو اطمینان بھی دلاتے ہیں کہ ہم کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، مگر اس کے باوجود آپ چھُپتے بھی ہیں اور بھاگتے بھی ہیں، اور ساری احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرتے ہیں۔

سیرت نبوی کے تجزیاتی مطالعے میں یہ بات بھی غور وطلب ہے کہ مدینہ اور اہل مدینہ میں وہ کون سی خاص بات تھی جو اس کے خداوندی انتخاب کا سبب بنی؟ یہ جستجو مدینہ کی نسبۃََ کافی محفوظ جغرافیائی پوزیشن (۱) ،آپ ؐ کا مدینہ میں نانیہالی رشتہ (۲)، مدینہ کے عرب قبائل کا سادہ ونرم مزاج اور خوئے وفا، جیسے اسباب تک پہنچائے گی۔ اس کے علاوہ ایک تاریخی سبب بھی سامنے آتا ہے جس کی طرف امت کی ذہین ترین خاتون ام المومنین حضرت عائشہ کی عقل رسا پہنچی ہے۔ اوس وخزرج کے درمیان کئی دہائیوں سے جنگوں کا جو طویل سلسلہ چلا آتا تھا، اس نے ان کو کسی نجات دہندہ کے استبقال کے لیے ذہنی طور پر تیار کردیا تھا، وہ نجات دہندہ اسلام ثابت ہوا (صحیح بخاری)۔

مدینہ منورہ میں منافقین کے مسئلہ سے کس طرح نمٹاگیا، نیز منافقین اور ان کے طریقۂ واردات کا مطالعہ بھی ایک اہم موضوع ہے۔

رسول اللہ جب مدینہ منورہ پہنچے تھے تو مہاجرین کی حیثیت ایک کمزور پناہ گزیں گروہ کی تھی، انصار کبھی کوئی بڑی طاقت نہیں تھے، مدینہ میں مشرک خاندانوں کے علاوہ یہودیوں کی ایک بڑی طاقت بھی تھی جو الگ الگ قبائل میں منقسم اور اپنا دفاعی نظام رکھتے تھے، سارا عرب قریش کا پیرو اور ان کی مذہبی قیادت کا معترف تھا، آپؐ نے مدینہ پہنچ کر ایک کثیر معاشرتی اور مختلف سماجی اور فوجی طاقتوں پر مشتمل ایک ریاست کی تشکیل کی، جس میں مذہبی گروہوں اور قبائلی اکائیوں کے درمیان باہمی اعتماد، آزادی اورمساوات پر مبنی تعاون ودفاع کا نظام قائم ہوا، پھر اطراف کے مشرک قبائل سے دفاعی معاہدے کیے گئے، جس میں کچھ نے حمایت کے معاہدے کیے، کچھ نے اطلاع رسانی کے، اور کچھ نے کسی حملے کی صورت میں غیر جانبدار رہنے کے۔ آپ نے مدینہ پہونچنے کے بعد تقریبا ڈیڑھ سال انہی مہموں میں اور ان مقاصد کی تگ ودو میں بسر کیا، اس سلسلے میں غزوۂ بدر سے پہلے کے سرایا اور مہمات کے مقاصد کی کھوج اور ان کی دریافت نہایت ضروری کام ہے، پتہ چلا نا چاہیے کہ ان میں کیا مقاصد حاصل کیے گئے۔

یہ دور بڑی اہمیت کا حامل ہے، اس میں کمزور مسلم ممالک کے لیے نبوی حکمت عملی کی روشنی ہے۔غزوات نبوی کے اسباب اور پس منظر سے متعلق مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اسلام کے عادلانہ قوانین کی روشنی میں اور صحیح روایات کی روشنی میں ان کا مطالعہ کیا جانا چاہیے، مدینہ میں جو اسلامی ریاست قائم ہوئی اس کی تنظیمات، شعبہ جات، اور طریق کار سے متعلق کام ابھی عام نہیں ہوئے ہیں، معاصر مورخین نے اس طرف توجہ کی ہے، ضرورت عمومی مطالعے کی ہے۔

سیرت نبوی کا ایک نہایت اہم موضوع وہ اخلاقی اور روحانی انقلاب ہے جو آپ ؐ کے ذریعہ دنیا میں آیا، جس کے بارہ میں ہر واقف کار دوست ودشمن کی شہادت ہے کہ دنیا میں کبھی اس سے زیادہ روح پرور بہارِ اخلاق وایمان نہیں آئی۔ سچی خدا پرستی ، عدل وانصاف، اور انسانوں کی محبت ونفع رسانی میں اس نسل کی مثال پیش نہیں کی جا سکتی جس کو محمد رسول اللہؐ نے تیار کیا تھا۔ یہ سیرت محمدی کا سب سے بڑا کارنامہ اور سب سے بڑا معجزہ ہے۔


حواشی

۱۔مدینہ کے مشرق ومغرب کی جانب ’’حرے‘‘ یعنی ناقابل عبور نوکیلے پتھر تھے، جنوبی طرف گھنے نخلستان، شمال مغرب میں ’’سلع‘‘ نامی پہاڑی اور شمال میں احد کا پہاڑ، اس طرح مدینہ تقریبا ۳چوتھائی گھرا ہوا تھا۔

۲۔عربوں میں بھانجے اور نواسے کار شتہ بڑی حمیت اور غیرت کا ہوتا تھا، بسا اوقات کوئی مظلوم اپنے نانیہالی رشتہ داروں کی مدد سے ہی خطروں کا مقابلہ کرتا تھا، ان کی قبائلی غیرت کے لیے یہ رشتہ اتنا حساس ہوتا تھا کہ وہ عام طور پر اپنا جان مال قربان کرکے بھی اس رشتہ کا پاس رکھتے تھے۔

آراء و افکار