مکاتیب

ادارہ

(۱)

مکرمی جناب مولانا عمار خان ناصر صاحب حفظکم اللہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ORE کی مطبوعہ چند کتب کی شکل میں آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ موصول ہوا۔ آپ کی اس نوازش کا بہت بہت شکریہ۔ ان میں بعض کتب سے استفادہ بھی کیا۔ حدود آرڈیننس کے بارے میں کتابچے کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اس کی بیشتر آرا تو ضرورت سے زیادہ جدت پسندی معلوم ہوئیں، البتہ زنا بالجبر، متضررہ عورت پر حد قذف جاری کرنے میں جلد بازی اور عورت کی گواہی کے بعض پہلو واقعی سنجیدہ غور وفکر کے متقاضی معلوم ہوتے ہیں۔ راقم الحروف کا اداریہ بھی چند ماہ پہلے ’’الصیانہ‘‘ میں اس موضوع پر چھپ چکا ہے۔

ماہنامہ ’’الشریعہ‘‘ نے دینی جرائد میں ایک مستحسن روایت قائم کی ہے کہ وہ ہر نقطہ نظر اس کے دلائل کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔ اللہ کرے ہمارے بعض حلقوں میں غیر منصوص مسائل میں بھی دوسرے کا نقطہ نظر نہ سننے بلکہ جلدی سے اس کی نیت پر حملہ آور ہونے کا جو رجحان پایا جاتا ہے، اس کا ’الشریعہ‘ کے اس طرز عمل سے کچھ علاج ہو جائے۔ البتہ ایک بات محسوس ہوتی ہے کہ احقر کے ناقص خیال میں ’’الشریعہ‘‘ محض ایک علمی وتحقیقی مجلہ نہیں ہے بلکہ دعوتی جریدہ بھی ہے۔ ایک خالص علمی وتحقیقی رسالے کا کام محققین کے نتائج بحث قارئین تک پہنچانا ہوتا ہے۔ ان پر مرتب ہونے والے اثرات سے انھیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ جبکہ ایک مشن رکھنے والے دعوتی رسالے یا کسی بھی داعی کو اپنی کہی ہوئی بات اور کیے ہوئے عمل- خواہ وہ بذات خود کتنا ہی صحیح ہو- پر مرتب ہونے والے اثرات کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ صحیح بخاری شریف کا باب ’’باب من ترک الاختیار الخ‘‘ تو ضرور جناب کے مدنظر ہوگا۔ امید ہے کہ ’’الشریعہ‘‘ میں چھپنے والے مضامین کا اس نقطہ نظر سے بھی جائزہ لیا جاتا ہوگا۔ مجھ جیسے کا آپ جیسے فرد اور گھرانے کو مشورہ دینا تو ’’حکمت بلقمان آموختن‘‘ والی بات ہوگی۔ مسجد اقصیٰ والے مسئلے میں بھی جناب نے جس نقطہ نظر کو دیانت داری سے درست اور برحق سمجھا، بڑی وضاحت کے ساتھ علمی اور تحقیقی انداز میں اسے بیان فرما دیا۔ میرا اندازہ ہے کہ اس موضوع پر مزید بحث نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہوگا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ’’الشریعہ‘‘ کی آواز کو دو بعد المشرقین لیکن ملت کا درد رکھنے والے حلقوں میں یکساں مقبول بنا کر اس سے پل کا کام لے لے۔

بندہ دعاؤں کا بہت محتاج ہے۔

والسلام

(مولانا مفتی) محمد زاہد

جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد

۱/۵/۱۴۲۵ھ

(۲) 

محترم عمار صاحب

السلام علیکم

مجھے آپ کے جریدے کی جانب سے جون کا شمارہ اور سابقہ کچھ شمارے موصول ہوئے۔ میں آپ کا نہایت ممنون ہوں۔ جواب دینے میں تاخیر کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ امید ہے آپ درگزر کریں گے۔

آپ نے جون کے شمارے میں میرا مضمون ترجمہ کر کے شائع کیا ہے، ’’قومی نصاب تعلیم کے فکری اور نظریاتی خلا‘‘۔ نہایت بامحاورہ اور خوب صورت ترجمہ ہے۔ میں خود بھی ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ ایک دفعہ پھر میری طرف سے شکریہ۔

SDPI رپورٹ پر پروفیسر انعام الرحمن صاحب کا تبصرہ پڑھا۔ اختلاف کا حق محفوظ رکھتے ہوئے میں یہ کہوں گا کہ آپ لوگوں کا رویہ صحت مندانہ اور صاحبان فہم کے شایان شان ہے۔ ہمارے نظریات اپنی جگہ، لیکن معروضی انداز میں ایک دوسرے کے خیالات پر تبصرہ Intellectual discourse کی بنیاد ہے۔

میں آپ کی اور آپ کے جریدے کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔

احقر

(ڈاکٹر) خورشید حسنین

شعبہ طبیعیات۔ قائد اعظم یونیورسٹی

اسلام آباد

(۳)

بسم اللہ الرحمن الرحیم 

محترمی مولانا زاہد الراشدی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بہت عرصہ سے چند گزارشات آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا، بوجوہ ایسا نہ کر سکا۔ جولائی ۲۰۰۴ء کا ’الشریعہ‘ دیکھا تو بلا اختیار یہ سطور لکھنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں۔ ’الشریعہ‘ کا تازہ شمارہ کسی حد تک ان فکری فرو گزاشتوں کا ’کفارہ‘ کہا جا سکتا ہے جن کا ارتکاب عزیزی عمار خان گزشتہ چند ماہ سے کسی ضمیر کی خلش کے بغیر حد درجہ جوش وخروش کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ مولانا حبیب نجار نے یہودی مذہبی پیشوا اسرائیل ڈیوڈ کے مسئلہ فلسطین کے متعلق خیالات کو عربی اخبار ’المستقبل‘ سے نقل کر کے قابل تعریف کام کیا ہے۔ حق بات یہ ہے کہ ڈیوڈ اسرائیل پہلے یہودی ربی نہیں ہیں جنہوں نے مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمان کے صہیونی دعویٰ کو غلط قرار دیا ہے۔ تورات کی تعلیمات کے سچے پیروکار یہودی عالموں کی ایک کثیر تعداد یہی رائے رکھتی ہے مگر عمار ناصر جیسے تازہ واردان بساط قلم ان کی نگارشات سے یکسر بے بہرہ ہیں اور اپنی اس لاعلمی کو امت مسلمہ کے عادلانہ موقف کی تردید کے لیے بنیاد وجواز ٹھہرانے میں انہیں نہ اسلامی حمیت باز رکھ سکتی ہے اور نہ ہی تحقیق ودانش کے خود ساختہ بلند دعوے !!

مجھے معلوم نہیں ہے کہ عزیزی عمار ناصر نے فلسطین اور بیت المقدس پر یہودیوں کا حق ’ثابت‘ کرنے کے لیے جس قلمی جدوجہد کا مظاہرہ کیا، اس کے پس پشت کسی ’علمی ذہنیت‘ کے طفلانہ اظہار کا وقتی جوش کار فرما تھا یا پھر وہ غیر شعوری طور پر ایک گروہ کے عزائم کی تکمیل کے لیے آلہ کار بننے پر آمادہ ہوئے۔ دلوں کے حال تو خدا جانتا ہے مگر ان کے مضامین ہر اس مسلمان کی دل آزاری کا باعث بنے ہیں جو امت مسلمہ کا ذرہ سا درد بھی اپنے اندر رکھتا ہے۔ یہ بات بے حد قابل افسوس ہے کہ آپ نے صاحبزادہ موصوف کے شر انگیز خیالات کی حوصلہ شکنی کی بجائے الٹا تائید فرما کر اس کی پیٹھ ٹھونکنا ہی مناسب سمجھا۔ آپ نے اپنے ایک اداریے میں عمار ناصر کے مضامین پر کی جانے والی تنقید کو محض ’طعن وتشنیع‘ کہہ کر صاحبزادے کی ناپختہ تحقیق کو بلند پایہ علمیت کا رنگ چڑھانے کی پدرانہ کاوش بھی فرمائی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ’طعن وتشنیع‘ کی ترکیب کا روئے نگارش راقم کی ان معروضات کی طرف تھا جو ’محدث‘ میں شائع ہوئیں۔ کاش کہ آپ جان سکتے کہ آپ کے متعلق قائم کردہ حسن ظن کو آپ کی ان تحریروں سے کس قدر نقصان پہنچا ہے۔ تحریک ختم نبوت سے وابستہ ایک عالم دین نے اس کے بعد آپ کا تذکرہ جن الفاظ میں فرمایا، اس کو اسلامی اخلاقیات بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی!!

مولانا محترم! عمار ناصر نے اپنے طویل مضامین میں زیادہ تر ان حوالہ جات اور خیالات کو جگہ دی ہے جو صہیونی تحریک کے پھیلائے ہوئے ہیں۔ موصوف حقیقی یہودیت اور صہیونیت کے درمیان تاریخی فرق کا ادراک کرنے سے قاصر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے طویل مقالہ میں فری میسن تحریک کا عدم تذکرہ بھی ان کی یہودی تاریخ کے محض صہیونی رخ سے آگاہی کا پول کھولتا ہے۔

مجھے معلوم نہیں ہے کہ عمار ناصر کی انگریزی زبان سمجھنے کی استعداد کس قدر ہے، مگر اس فرنگی زبان میں فری میسن تحریک اور صہیونی فریب کاریوں کا ایک وسیع ذخیرہ موجود ہے جس کے سرسری مطالعہ ہی سے مسئلہ فلسطین کے تاریخی وسیاسی پس منظر کے بارے میں جانا جا سکتا ہے۔ کسی مسئلے کے متعلق من چاہے یک طرفہ اعداد وشمار کا انبار لگا کر اسے ’علمی تحقیق‘ کا نام دیا جا سکے تو مجھے بھی عمار ناصر کے مضامین کو ’علمی تحقیق‘ ماننے میں تامل نہ ہوگا۔

محترمی! یہودی ربی ڈیوڈ کے یہ الفاظ ’’اس جگہ پر مسلمانوں کا حق ہے۔ تورات کے حکم کے مطابق یہودیوں کو اس مقام کی ملکیت کا حق تو کجا، ان کا اس میں داخلہ بھی ممنوع ہے۔‘‘ (الشریعہ) آپ کے لیے چشم کشا نہیں ہیں؟ عمار ناصر نے اپنے غلط موقف کی تائید میں جو خون پسینہ بہایا ہے، اس سے یہ توقع کرنا تو شاید عبث ہوگا کہ وہ اپنے علمی پندار سے ذرا اوپر اٹھ کر فراخ دلی سے اپنے موقف سے رجوع کرے، مگر آپ نے جس انداز میں اس کے موقف کی تائید کی، اس سے دست بردار ہونا مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ میری طرح بہت سے افراد جو آپ کی علمی سرگرمیوں کے معترف رہتے ہیں، آپ کا تازہ موقف سننے کے لیے بے تابانہ اشتیاق رکھتے ہیں۔

میری یہ تلخ معروضات ’الشریعہ‘ کے عالمانہ صفحات پر جگہ پانے کی شاید مستحق نہ سمجھی جائیں اور نہ ہی میں اس ضمن میں درخواست کرنا مناسب سمجھتا ہوں، البتہ اتنی سی خواہش ضرور ہے کہ آپ کے دل میں اگر یہ کچھ جگہ پا سکیں تو ممنون کرم ہوں گا۔

والسلام

فقط، خیر اندیش

محمد عطاء اللہ صدیقی

۹۹/جے، ماڈل ٹاؤن، لاہور

(۴)

محترم ومکرم جناب عمار خان ناصر صاحب

السلام علیکم!

مسجد اقصیٰ کے متعلق آپ کی علمی تحقیق کو سلام پیش کرتا ہوں۔ گوجرانوالہ پیپلز کالونی میں میری رشتہ داری ہے، اس لیے گاہے گاہے گوجرانوالہ شہر آنا جانا رہتا ہے۔ اب کے جب بھی میں گوجرانوالہ گیا تو آپ کے نیاز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔

سورہ اسرا کی پہلی آیت بے حد اہمیت کی حامل ہے لیکن بدقسمتی سے اس پر روایات کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ اس پر بھی تحقیق فرما کر ان پردوں کو ہٹائیں، جیسا کہ آپ نے مسجد اقصیٰ کے متعلق کی ہے۔ قرآن کریم کے موجودہ تراجم ایک ہی طرح کے ہیں، جن سے میرے جیسے کم علم کو ماسوائے عقیدت وعجز کے کچھ پلے نہیں پڑتا۔ ایک ترجمہ وتفسیر خواجہ احمد الدین امرتسری صاحب کا بھی ہے۔ وہ دوسرے علماء کرام سے مختلف ہے لیکن اس میں بھی مجھ کم علم کی دانست میں تاویل سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔ ممکن ہے درست ہی ہو۔ یقیناًآپ بھی اس ترجمہ سے واقف ہوں گے۔ اس میں انہوں نے ’اقصا المدینۃ‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ صحیح ہیں یا غلط، ان پر بھی آپ ہی روشنی ڈال سکیں گے۔ جن آیات قرآنی کا انہوں نے اس میں حوالہ دیا ہے، وہ کوشش کے باوجود تلاش نہیں کر سکا۔ شاید حوالہ غلط چھپ گیا ہو۔ یقیناًآپ بھی اس ترجمہ سے واقف ہوں گے، لیکن احتیاطاً اس کی فوٹو کاپی ارسال خدمت ہے۔

میں نے ایک دوست کے پاس دس بارہ صفحات پر مشتمل مختصر سا ایک کتابچہ (تقریبا 5X7 سائز کا) دیکھا تھا۔ اس میں اسی سورہ اسرا کی پہلی آیت کے متعلق مضمون تھا، جس میں اگر میں بھول نہیں گیا تو گجرات کے مشہور ومعروف عالم انور علی شاہ صاحب کے حوالے سے لکھا تھا کہ کسی زمانے میں مدینہ منورہ کا نام ’اقصیٰ‘ بھی رہا ہے۔ یہ بھی ایک تاریخی بات ہے۔ اس پر بھی آپ ہی تحقیق کر سکتے ہیں۔ میں نے وہ کتابچہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس دوست نے کتابچہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ البتہ ناشر کا پتہ میں نے نوٹ کر لیا تھا جو کہ منڈی بہاؤ الدین کے کسی بک ڈپو کی طرف سے شائع ہوا تھا۔ میں اس کتابچہ کی تلاش میں منڈی بہاؤ الدین گیا اور متعلقہ بک ڈپو کو تلاش کرتا رہا لیکن افسوس کہ اس میں کامیاب نہ ہو سکا۔ 

اس کتابچہ میں بھی اس سورہ اسرا کی پہلی آیت کو نبی کریم ﷺ کی مکہ مکرمہ (بیت الحرام) سے رات کے وقت اقصیٰ المدینہ کی طرف ہجرت بتائی گئی تھی جس میں اللہ تعالیٰ نے برکتیں اور نشانیاں رکھی تھیں۔ وہ نشانیاں اور برکتیں درج ذیل ہیں جو کہ تصوراتی نہیں، حقیقی ہیں:

۱۔ مکہ مکرمہ سے رات کے وقت مدینے کے لیے ہجرت۔

۲۔ اسی ہجرت کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور ان کے صحابہ رضوان اللہ علیہم ودیگر تمام مہاجرین کو پروانہ جنت عطا فرمایا (برکتیں)۔

۳۔ وہاں (مدینہ منورہ) پہنچنے کے بعد کفار ومشرکین سے خوفناک وخون ریز تصادمات (قدرت کی نشانیاں)۔

۴۔ فتح مکہ ایک عظیم واقعہ (برکتیں)۔

۵۔ آخر الامر دین اسلام کا تمکن وغلبہ اور اللہ کی کبریائی قائم ہوئی۔ مدینہ منورہ اسلامی حکومت کا دار الخلافہ بنا (برکتیں)۔

۶۔ نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی اسلامی مملکت کا دائرہ اختیار دس لاکھ مربع میل تک پھیل چکا تھا۔ (جس کے ارد گرد برکتیں)

اب میں سورہ اسرا کی پہلی آیت کا ترجمہ پیش کرتا ہوں:

’’وہ ذات پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجد الحرام (یعنی کعبہ) سے مسجد اقصیٰ، جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں، لے گیا تاکہ اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے۔ بے شک وہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔‘‘

یہ ایک مروجہ عام ترجمہ (فتح محمد جالندھری) ہے۔ اس پر اگر تھوڑی سی توجہ اور غور کیا جائے تو اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر فرمایا ہے جس کا ترتیب کے ساتھ میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ مسجد اقصیٰ سے متعلق آپ کی تحقیق کے بعد سورہ اسرا کی پہلی آیت کی تعبیر وتشریح یہی بنتی ہے۔ 

مسجد اقصیٰ سے متعلق آپ کی اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد معاً میرے پردۂ خیال میں وہ کتابچہ اور اس کا مضمون سامنے آ گیا۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے محترم عمار خان ناصر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا جائے تاکہ وہ بذات خود اور دیگر علماء کرام بھی اس پر غور وفکر کر سکیں۔

نیاز آگیں

آفتاب عروج

(۵)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مکرمی آفتاب عروج صاحب

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

آپ کا مکتوب ملا۔ شکریہ

سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور ’المسجد الاقصیٰ‘ کے مصداق سے متعلق آپ کے استفسار کے جواب میں عرض ہے کہ مجھے اس باب میں کوئی شبہہ نہیں کہ اس سے بیت المقدس میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی تعمیر کردہ مسجد ہی مراد ہے۔ جن لوگوں نے محض اس کے لغوی معنی یعنی ’’دور کی مسجد‘‘ کو ملحوظ رکھتے ہوئے مکہ مکرمہ سے دور واقع کسی اور مسجد کو اس کے مصداق کے طور پر متعین کرنے کی کوشش کی ہے، انھوں نے آیت کے سباق کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ واقعہ اسرا سے گفتگو کا آغاز کر کے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ بیان کو آگے بڑھاتے ہوئے بنی اسرائیل کو تورات جیسی نعمت عطا کرنے اور پھر اس سے روگردانی کی پاداش میں ان پر مسلط کی جانے والی دو تاریخی تباہیوں کا ذکر کیا ہے۔ اسی ضمن میں آیت ۷ میں ہیکل سلیمانی کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے ’ولیدخلوا المسجد‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی زبان کے قاعدے کے مطابق اگر ایک مسلسل اور مربوط کلام میں ایک ہی لفظ دو مقامات پر معرفہ کی صورت میں استعمال ہوا ہو تو دونوں جگہ اس کا مصداق لازمی طور پر ایک ہی ہوتا ہے۔ اس اصول کی رو سے پہلی آیت میں ’المسجد الاقصی‘ اور ساتویں آیت میں ’ولیدخلوا المسجد‘ کا مصداق کسی طرح سے بھی الگ الگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 

جہاں تک سورۂ بنی اسرائیل کے موضوع اور مضامین کے ساتھ اس ’ابتدائیہ‘ کے تعلق کا سوال ہے، تو وہ بالکل واضح ہے۔ سورہ میں مشرکین مکہ اور یہود دونوں کو مشترک طور پر مخاطب بنایا گیا ہے اور اس ابتدائیہ میں دونوں کو ان کے انجام کی تصویر دکھا دی گئی ہے۔ یہود کو سابق سورہ، النحل کی آیت ۹۴ میں یہ وارننگ دی گئی تھی کہ اگر وہ دین حق کے خلاف اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے تو سرزمین عرب میں ان کو ایک عرصے سے باعزت اور پرامن زندگی گزارنے کا جو موقع میسر ہے، وہ ان سے چھین لیا جائے گا۔ (فتزل قدم بعد ثبوتہا وتذوقوا السوء بما صددتم عن سبیل اللہ) اسی دھمکی کو سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں زیادہ واضح صورت میں اور تاریخی شواہد کی تائید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کے محاسبہ کی یہی تفصیل بعینہ مشرکین کے لیے بھی سبق آموز ہے، کیونکہ اس میں یہ صاف اشارہ موجود ہے کہ جس طرح تورات سے انحراف اور بے دینی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ہیکل سلیمانی کی تولیت سے محروم کیا گیا، مشرکین بنی اسمٰعیل سے بھی مسجد حرام کی تولیت کا حق عنقریب بالکل اسی طرح چھین لیا جائے گا۔

باقی رہا خواجہ احمد الدین صاحب کا یہ استدلال کہ چونکہ سورۂ بنی اسرائیل کے نزول کے وقت حضرت سلیمان علیہ السلام کی مسجد موجود نہیں تھی، اس لیے وہ اس کا مصداق نہیں ہو سکتی تو اس کی غلطی میں اپنے مضمون (الشریعہ، اپریل/مئی ۲۰۰۴ء) میں واضح کر چکا ہوں۔ ’مسجد‘ دراصل عمارت کو نہیں بلکہ اس قطعہ زمین کو کہتے ہیں جسے عبادت گاہ کے طور پر مخصوص کر دیا جائے۔ عمارت ایک اضافی اور ثانوی چیز ہے۔ اگر کسی وقت عمارت قائم نہ رہے تو بھی مسجد کی حیثیت سے اس قطعہ زمین کا تقدس اور احکام برقرار رہتے ہیں۔ 

امید ہے کہ یہ وضاحت باعث تشفی ہوگی۔ 

عمار ناصر

۱۸ جولائی ۲۰۰۴ء

(۶)

بخدمت جناب مکرمی علامہ زاہد الراشدی صاحب دامت برکاتہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

مزاج گرامی؟

اسلامی تعلیمات واخلاقیات کو خوب صورت انداز میں امت مسلمہ میں متعارف فرمانے کے لیے آنجناب کی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں۔ 

ماہنامہ ’الشریعہ‘ جون ۲۰۰۴ء کے شمارے میں پروفیسر میاں انعام الرحمن کا مضمون ’’دین اسلام کی معاشرتی ترویج میں آرٹ کی اہمیت‘‘ شائع ہوا تھا۔ موصوف نے اپنے مضمون میں علماء کرام پر تنقید اور خود کو مجتہد ثابت کرنے کے لیے جو کچھ تحریر کیا تھا، قارئین سے مخفی نہیں۔ مطالعہ کرنے کے بعد دل میں اس کا جواب تحریر کرنے کا پرجوش داعیہ تھا لیکن بعض نامساعد حالات اور مصروفیات کی وجہ سے تاخیر ہو گئی۔ اگلے شمارے میں جب مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم کا مکمل ومدلل جواب آیا تو دل ٹھنڈا ہو گیا۔ جناب نے جس طریق سے مجتہد صاحب کا جواب لکھا ہے، لائق صد تحسین بلکہ ہزار تحسین ہے۔ اللہ موصوف کی زندگی میں مزید برکت عطا فرمائے۔

مجھے میاں صاحب سے تو شکوہ ہے ہی کہ اس نے علماء کرام کی عزت اپنے بے بنیاد خیالات کے باعث تمام مسلمانوں کے سامنے لوٹی، لیکن مدیر ماہنامہ ’الشریعہ‘ سے بھی شکوہ ہے کہ آپ نے اس طرح علماء کرام کے دشمن اور بزعم خود مجتہد کا مضمون اپنے رسالے میں کس لیے شائع کیا۔ اس میں کون سا سرخاب کا پر لگا ہوا ہے کہ اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا؟ بہرحال میں مولانا محمد یوسف صاحب دامت برکاتہم کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ آپ نے علماء کرام کی نمائندگی کرتے ہوئے مجتہد صاحب کے اجتہاد کا جواب دیا اور مدیر ماہنامہ سے امید رکھتا ہوں کہ آئندہ ایسے بیانات ومضامین شائع کرنے سے گریز فرماویں۔ 

اللہ تعالیٰ علماء کرام کی عزت کو برقرار رکھے۔ آمین

(نوٹ) خط کو مکاتیب ماہنامہ ’الشریعہ‘ میں ضرور شائع کریں۔ شکریہ

والسلام۔ خیر اندیش

عبد الودود نعمانی

۱۲ جولائی ۲۰۰۴ء


مکاتیب