شیعہ سنی تعلقات اور متوازن رویہ ۔ ایک شیعہ عالم کے خیالات

ڈاکٹر یوگندر سکند

مولانا کلب صادق انڈیا کے ممتاز اثنا عشری شیعہ راہنما ہیں۔ ان کا تعلق لکھنو کے ایک ایسے علمی خانوادے سے ہے جس نے ماضی میں کئی علما پیدا کیے۔ ایک ممتاز عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔ طلبہ اور طالبات کے لیے ایسے تعلیمی ادارے قائم کر کے جن میں اسلامی کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی دی جاتی ہے، انھوں نے معاصر انڈیا میں علما کے لیے ایک نیا لائحہ عمل متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ ہندو مسلم مکالمہ کے ساتھ ساتھ شیعہ سنی اتحاد کے بھی کھلم کھلا داعی ہیں۔

شیعہ سنی تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی ضرورت جناب کلب صادق کی تقریر وتحریر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے۔ دوسرے بہت سے شیعہ علما کے برعکس، کلب صادق ماہ محرم میں امام حسین کی شہادت کی یاد میں منعقد ہونے والی مجالس کے موقع پر شیعہ سنی تعلقات میں بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایسا بالخصوص ان متعدد مجالس میں ہوا جو انھوں نے پاکستان میں منعقد کیں، جہاں شیعہ سنی تشدد پسندی نے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر لی ہے۔ ان کی مجلسوں میں بالعموم شیعہ اور سنی، دونوں طرح کے حاضرین شریک ہوتے ہیں۔ ان کے لیکچر وعظ وتبلیغ کے محدود مفہوم کے مطابق مخصوص شیعی نظریات کے ترجمان نہیں ہوتے۔ وہ قرآن پاک اور رسول اللہ ﷺ کی ان احادیث کا بار بار حوالہ دے کر، جو شیعہ اور سنی علما کے مابین متفقہ ہیں، معاصر حالات پر ان کا انطباق کرتے ہیں۔

کلب صادق نے انڈیا، پاکستان اور شمالی امریکہ میں مختلف مقامات پر جو متعدد مجالس منعقد کیں، ان میں سے بہت سی انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں اور یہ مضمون انھی پر مبنی ہے۔ کلب صادق بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مجالس کے دو بنیادی مقصد ہیں: ایک، سامعین کو معلومات بہم پہنچانا اور دوسرے، ان کی اصلاح کرنا۔ دوسرے لفظوں میں مجالس کا مقصد ایک تو اسلام کی صحیح تعلیمات کو لوگوں تک منتقل کرنا ہے اور دوسرا ان کے مطابق لوگوں کے عقائد اور اعمال کی اصلاح کرنا۔ کلب صادق کی مجالس عام طور پر معاصر اہمیت رکھنے والے موضوعات سے بحث کرتی ہیں، مثلاً شیعہ سنی کشمکش، ہندو مسلم تصادم، جدید تعلیم اور عورتوں کے حقوق وغیرہ۔ ان مجالس کا آغاز بلا امتیاز کسی مخصوص مسئلے سے متعلق قرآن مجید کی کسی آیت سے ہوتا ہے جس کی بعد میں تشریح کی جاتی ہے اور زیر بحث مسئلے کے ساتھ اس کا تعلق واضح کیا جاتا ہے۔ مجلس کا بڑا حصہ اس حصے پر مشتمل ہوتا ہے۔ دوسرے بہت سے شیعہ علما کی مجالس کے بر عکس، امام حسین اور اہل بیت کی مظلومیت کا تذکرہ کلب صادق کی مجالس کا محض ایک جزوی حصہ ہوتا ہے، اور بالعموم لیکچر کے کل وقت کے نصف حصے سے بھی خاصا کم وقت اس میں صرف ہوتا ہے۔

شیعہ سنی اتحاد کے حوالے سے کلب صادق کا پیغام، جیسا کہ ان کی مجالس میں بیان ہوتا ہے، قرآن سے ماخوذ دلائل پر مبنی ہے۔ وہ شعوری طور پر شیعہ اور سنی مکاتب کے مابین اعتقادی اختلافات کے ذکر سے گریز کرتے ہیں اور اس کے بجائے مسلمانوں کے اتحاد پر زور دینے کے لیے بار بار قرآن مجید کا حوالہ دیتے ہیں۔ ایک مجلس میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیعہ اور سنی ۹۷ فی صد عقائد میں باہم متفق ہیں اور ان متفق علیہ عقائد پر ہی مسلمان مکاتب فکر کے باہمی افہام وتفہیم اور برداشت (Ecumenism) کی بنیاد رکھی جانی چاہیے۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ وہ تمام لوگ جو ایک خدا، حضرت محمد ﷺ اور قرآن مجید پر یقین رکھتے ہیں، اور جو ایک ہی کلمہ شہادت (لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ) زبان سے ادا کرتے ہیں، انھیں دیگر اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے مسلمان شمار کرنا چاہیے۔ وہ شیعہ اور سنی مکاتب کے مابین اور اسی طرح ہر ایک گروہ کے اندر پائے جانے والے ذیلی فرقوں کے مابین موجود اختلافات کی نفی نہیں کرتے لیکن انھیں اصرار ہے کہ یہ اختلافات نسبتاً غیر اہم ہیں اس لیے ان اختلافات کے باوجود انھیں ایک دوسرے کو مسلمان تسلیم کرنا چاہیے۔ وہ اپنے سامعین کو یاد دلاتے ہیں کہ سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور دوسرے مختلف القاب جو مختلف معاصر گروہوں نے اختیار کر رکھے ہیں، قرآن مجید میں مذکور نہیں۔ اس میں تو بس ’سچے اہل ایمان‘ کو ’مسلم‘ تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان کی رائے میں مسلمانوں کو، مختلف فرقوں کے ساتھ وابستگی کے باوجود، ایک دوسرے کو لازماً مسلمان تسلیم کرنا چاہیے۔

کلب صادق کی مجالس میں قرآن مجید کی ان مکرر تاکیدات کا حوالہ، بالخصوص شیعہ سنی کشمکش کے تناظر میں، اکثر دیا جاتا ہے جن میں اہل ایمان کو متحد رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کلب صادق قرآن کے حوالہ سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے مابین پھوٹ ڈالنا اور تصادم پیدا کرنا شرک جیسے کبیرہ گناہ کے برابر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شرک، کفر سے بھی بدتر ہے اور وہ واحد گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ ان کے نزدیک قرآن مجید کے اس ارشاد کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ امت کے مابین تقسیم کے نتیجے میں مسلمان محض ایسے انسانوں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں جو اسلام کے مستند ترجمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور راہنمائی کا مصدر وماخذ بن کر قرآن کی جگہ خود سنبھال لیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر فرقہ واریت کے نتیجے میں خدا کی جگہ انسان سنبھال لیتے ہیں جو کہ شرک کی ایک صورت ہے۔ چنانچہ ان کا استدلال یہ ہے کہ مختلف فرقوں کے وہ راہنما جو دوسرے مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں، حقیقتاً ’شرک‘ کے مرتکب ہیں، جو کہ کفر سے بھی کہیں بدتر جرم ہے۔

کلب صادق کی نظر میں شیعہ سنی کشمکش حقیقت میں ایک سیاسی مسئلہ ہے نہ کہ مذہبی۔ ان کا اصرار ہے کہ شیعہ اور سنیوں کی اکثریت عملاً ایک دوسرے کو مسلمان تصور کرتی اور پرامن بقائے باہم پر یقین رکھتی ہے۔ دوسری طرف شیعہ سنی منافرت کو بھڑکانے میں امت کے دو دشمنوں، یعنی امریکا اور ملاؤں کے گہرے مفادات وابستہ ہیں۔ وہ تہذیبوں کے تصادم کے حوالے سے سموئیل ہنٹنگٹن کے مشہور نظریے کے حوالہ دیتے ہیں جس کا دعویٰ ہے کہ اقوام مغرب کے تسلط کو آج اسلام کی صورت میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور اس کو ختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر باہمی تقسیمات کو فروغ دیا اور فرقہ وارانہ کشمکش کو بھڑکایا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا کردار بھی، جنھیں وہ حقارتاً ’’ملا‘‘ کہتے ہیں، اگر اس سے زیادہ نہیں تو اس کے برابر مجرمانہ ضرور ہے۔ وہ ’علما‘ اور ’ملا‘ کے مابین واضح فرق قائم کرتے ہیں۔ وہ اس پر زور دیتے ہیں کہ حقیقی ’علما‘ بے حد تعظیم کے مستحق ہیں کیونکہ وہ اسلام کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ لیکن انھیں اصرار ہے کہ ’’ملا‘‘ محض نیم پختہ مولوی ہوتے ہیں جو ہر وقت دنیا کے حقیر مفادات کی خاطر اپنے ضمیر اور دین ومذہب کا سودا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے ’’ملا‘‘ اسلام کی پوری تاریخ میں موجود رہے ہیں اور ان کا آغاز یزید جیسے جابر حکمران کے دربار کے چیف جسٹس سے ہوا تھا جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس نے یزید کے کہنے پر امام حسین کے قتل کے حق میں ایک فتویٰ جاری کیا جس پر اسے بیش بہا انعام واکرام سے نوازا گیا۔

اس قسم کے بے ضمیر ملا شیعہ اور سنی، دونوں گروہوں میں ملتے ہیں۔ دوسرے تمام مسلمان گروہوں کو کافر قرار دینے اور ان کے خلاف تشدد کو بھڑکانے میں ان کا گہرا مفاد پوشیدہ ہوتا ہے کیونکہ صرف اس صورت میں وہ اسلام کے حقیقی ترجمان ہونے کے اپنے دعوے کو تسلیم کروا سکتے ہیں۔ وہ جتنا زیادہ چیخیں چلائیں گے اور دوسرے مسلمان گروہوں کے خلاف جس قدر زیادہ پرتشدد حملے کریں گے، اتنی ہی حمایت انھیں میسر آتی چلی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ان کی طاقت اور دولت میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ ان کا کاروبار عام مسلمانوں کی جہالت کی وجہ سے ترقی پاتا ہے کیونکہ عوام کو حقیقی دنیا اور اسلامی تعلیمات سے انجان رکھنے میں ہی ان کی بقا کا راز مضمر ہے۔ چنانچہ کلب صادق کے نزدیک علم ایک فوری اور خاص ضرورت ہے، خاص طور پر شیعہ سنی اتحاد کو پروان چڑھانے کے لیے۔ یوں لکھنو میں ان کے زیر انتظام چلنے والے ادارے یونٹی کالج میں شیعہ اور سنی دونوں طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ .......

کلب صادق شیعہ اور اہل سنت کے مابین اہم اعتقادی اختلافات کی موجودگی کی نفی نہیں کرتے، نہ ہی وہ شیعہ فہم اسلام کے ساتھ اپنی وابستگی کا انکار کرتے ہیں، اگرچہ بعض نکات پر ان کی رائے روایتی شیعہ علما سے مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ان کی رائے یہ ہے کہ تمام مسلمان گروہ اپنے اپنے طریقے پر اسلام کو سمجھنے کا حق رکھتے ہیں لیکن وہ اس پر اصرار کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ دوسرے نقطہ ہائے نظر کے بارے میں رواداری بھی پائی جانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے فہم کے ساتھ وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اظہار کے لیے پرامن مکالمے اور علمی انداز کو اختیار کرتا ہے، نہ کہ دوسروں کے خلاف تشدد کی آگ بھڑکانے یا ان کے بارے میں تکفیری فتوے جاری کرنے کا۔ یہ ’’ملاؤں‘‘ کا طریقہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ ملاؤں نے جان بوجھ کر مختلف مسلمانوں گروہوں کے مابین ایک دیوار کھڑی کر رکھی ہے، اس لیے شیعہ اور سنی، دونوں کے ہاں ایک دوسرے کے بارے میں انتہائی مسخ شدہ تصورات رائج ہیں۔ وہ مختلف فرقوں کے علما سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھیں کیونکہ صرف اس طریقے سے باہمی غلط فہمیوں کا ازالہ ممکن ہے۔ تاہم شیعہ سنی مکالمہ صرف علما کی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ کلب صادق تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کے لیے اور پھر سنی مسلمانوں کے اندر دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی مکاتب فکر کے لیے الگ الگ مسجدوں کا نظام بھی ختم ہونا چاہیے اور تمام مسلمانوں کو مل کر مشترک مساجد میں نماز ادا کرنی چاہیے۔ اس سے مختلف گروہوں کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کا موقع ملے گا اور اس کے نتیجے میں غلط تصورات اور شکوک وشبہات کے ازالے میں خاصی مدد ملے گی۔ 

کلب صادق اپنے پاکستانی سامعین کے سامنے انڈیا کے مسلمانوں کی مثال پیش کر کے انھیں اس کی پیروی کی اکثر تلقین کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے برخلاف، انڈیا میں شیعہ سنی کشمکش بالکل عنقا ہے، تاہم وہ یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اس میں اس حقیقت کو بھی خاصا دخل ہے کہ انڈیا میں مسلمان اقلیت ہیں اور انھیں جارحانہ مسلم دشمن ہندتوا کی طرف سے خطرے کا سامنا ہے۔ وہ انڈیا کے متعدد سنی علما کے ساتھ اپنے قریبی ذاتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں اور انھیں سنی حلقوں میں جو احترام حاصل ہے، اس کی بھی بات کرتے ہیں۔ یہ کوئی خالی خولی بڑھک نہیں، کیونکہ کلب صادق کو حقیقتاً انڈیا کے سنی راہنماؤں میں ایک باعزت مقام حاصل ہے جس کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ کئی سال تک سنی اکثریت کے حامل آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انڈیا میں ایسا ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان یا دنیا کے کسی اور ملک میں شیعہ سنی اس طریقے پر نہ چل سکیں۔ 

(islaminterfaith.org)


آراء و افکار