مکی عہد نبوت میں مدینہ کے اہم دعوتی و تبلیغی مراکز

پروفیسر محمد اکرم ورک

بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد مدینہ منورہ میں اسلام انتہائی سرعت کے ساتھ پھیلا۔بالخصوص حضرت مصعبؓ بن عمیرکے خوبصورت اور دلکش اسلوبِ دعوت کی بدولت انصار کے دونوں قبائل اوس وخزرج کے عوام اور اعیان واشراف جوق درجوق اسلام میں داخل ہونے لگے اور ہجرت عامہ سے دوسال قبل ہی وہاں مساجد کی تعمیر اور قرآن کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوچکا تھا۔ حضرت جابرؓ کابیان ہے :

لقد لبثنا بالمدینۃ قبل أن یقدم علینا رسول اللّٰہ ﷺ سنتین، نعمر المساجد ونقیم الصلوٰۃ۔ (۱)

’’ہمارے یہاں رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے دوسال پہلے ہی ہم لو گ مدینہ میں مساجد کی تعمیر اور نماز کی ادائیگی میں مشغول تھے‘‘۔

اس دوسالہ درمیانی مدت میں تعمیر شدہ مساجد میں نماز کی امامت کرانے والے صحابہ کرامؓ ہی معلم کی خدمات بھی انجام دیتے تھے۔اسی دوران مدینہ منورہ میں تین مستقل درس گاہیں بھی قائم ہوچکی تھیں اور ان میں باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری تھا۔چونکہ اس وقت تک صرف نماز ہی فرض ہوئی تھی اس لیے قرآن مجید کے ساتھ عموماً نماز کے احکام ومسائل اور مکارمِ اخلاق کی تعلیم دی جاتی تھی۔یہ تینوں درس گاہیں اس طرح اہل مدینہ کی دینی ضروریات کو اس انداز میں پورا کررہی تھیں کہ شہر مدینہ اور اس کے انتہائی کناروں اور آس پاس کے مسلمان آسانی سے وہاں تعلیم حاصل کرسکتے تھے۔

پہلی درسگاہ قلبِ شہر میں مسجدِ بنی زریق تھی۔دوسری درسگاہ مدینہ کے جنوب میں تھوڑے فاصلے پرِ قبا میں تھی اور تیسری درس گاہ مدینہ کے شمال میں کچھ فاصلے پر ’’نقیع النحصمات‘‘نامی علاقے میں تھی۔ ان تین مستقل تعلیمی مراکز کے علاوہ انصار کے مختلف قبائل اور آبادیوں میں قرآن اور دینی احکام کی تعلیم جاری تھی اور ان کے معلم ومنتظم انصار کے رؤسا اور بااثر حضرات تھے ۔مکہ مکرمہ میں ضعفا ومساکین نے سب سے پہلے دعوتِ اسلام پر لبیک کہا اور سردارانِ قریش کے مظالم اور جبروتشدد کانشانہ بنے۔جبکہ مدینہ منورہ کے مسلمانوں کامعاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ یہاں سب سے پہلے سردارانِ قبائل نے برضا ورغبت اسلام قبول کیا اور دعوتی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لیا۔بالخصوص قرآن مجید کی اشاعت اور تعلیم کامعقول انتظام کیا۔قبل از ہجرت مدینہ میں جو درس گاہیں تعلیم قرآن کا مرکز تھیں، ان کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے:

درس گاہِ مسجد بن زریق

مدینہ منورہ میں تعلیم قرآن کا اولین مرکز اور درس گاہ مسجد بنی زریق تھی۔ ابنِ قیمؒ لکھتے ہیں:

فاول مسجد قرئ فیہ القرآن بالمدینہ مسجد بنی زریق (۲)

’’مدینہ میں سب سے پہلے جس مسجدمیں قرآن پڑھا گیا، وہ مسجد بنی زریق ہے‘‘۔

اس درس گاہ کے معلم حضرت را فع ؓ بن مالک زرقی قبیلہ خزرج کی شاخ بنی زریق سے تھے۔ بیعتِ عقبہ اولیٰ کے موقع پر مسلمان ہوئے اور دس سال کی مدت میں جس قدر قرآن نازل ہوا تھا، رسول اللہﷺ نے ان کو عنایت فرمایاجس میں سورہ یوسف بھی شامل تھی۔ اپنے قبیلے کے نقیب اور رئیس تھے۔ انہوں نے مدینہ واپس آنے کے بعد ہی اپنے قبیلے کے مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم پر آمادہ کیا اور آبادی میں ایک بلند جگہ (چبوترے)پر تعلیم دینی شروع کی۔مدینہ میں سب سے پہلے سورہ یوسف کی تعلیم حضرت رافعؓ ہی نے دی تھی۔جب مکہ میں سورۃ طٰہٰ نازل ہوئی تو انہوں نے اسے لکھا اور مدینہ لے آئے اور بنی زریق کو اس کی تعلیم دی اور یہاں کے پہلے معلم ومقری یہی تھے۔ بعد میں اسی چبوترہ پر مسجد بنی زریق کی تعمیر ہوئی جو قلب شہر میں مصلی (مسجدغمامہ) کے قریب جنوب میں واقع تھی۔رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لانے کے بعد حضرت رافعؓ کی تعلیمی ودینی خدمات اور ان کی سلامتی طبع کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ (۳) اس درس گاہ کے استاد اور اکثر شاگرد قبیلۂ خزرج کی شاخ بنی زریق کے مسلمان تھے۔

قبا کی درس گاہ

دوسری درس گاہ مدینہ کے جنوب میں تھوڑے فاصلے پرمقامِ قبا میں تھی،جہاں بعد میں مسجد کی تعمیر ہوئی۔بیعت عقبہ کے بعد بہت سے صحابہ کرامؓ جن میں ضعفاء اسلام کی اکثریت تھی، مکہ سے ہجرت کرکے مقامِ قبا میں آنے لگے اور قلیل مدت میں ان کی اچھی خاصی تعدا د ہوگئی۔ ان میں حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ قرآن کے سب سے بڑے عالم تھے، وہی ان حضرات کو تعلیم دیتے تھے اور امامت بھی کراتے تھے۔یہ تعلیمی سلسلہ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری تک جاری تھا۔عبدالرحمنؓ بن غنم کا بیان ہے:

حدثنی عشرۃ من اصحاب رسول اللّٰہ ﷺ قالوا:کنا نتدارس العلم فی مسجد قبا اذ خرج علینا رسول اللّٰہ ﷺ، فقال: تعلّموا ماشئتم ان تعلّموا فلن یأجرکم اللّٰہ حتی تعملوا۔ (۴)

’’رسول اللہﷺ کے کئی صحابہ نے مجھ سے بیان کیا کہ ہم لوگ مسجد قبا میں علم دین پڑھتے پڑھاتے تھے۔اسی حالت میں رسول اللہ ﷺ ہمار ے پاس آئے اور فرمایا تم لوگ جو چاہو پڑھو،جب تک عمل نہیں کرو گے، اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اجروثواب نہیں دے گا‘‘۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبا کے مہاجرین میں متعدد حضرات قرآن کے عالم ومعلم تھے۔ان میں حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ سب سے زیادہ علم رکھتے تھے اور وہی امامت کے ساتھ تدریسی خدمت میں بھی نمایا ں تھے۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کابیان ہے:

لما قدم المہاجرون الاولون العصبۃ، موضع بقباء، قبل مقدم رسول اللّٰہﷺکان سالمؓ مولٰی ابی حذیفہؓ یؤم المہاجرین الاولین فی مسجد قباء وکان اکثرھم قرآنا۔ (۵)

’’رسول اللہﷺ کے آنے سے پہلے مہاجرین اولین کی جماعت جب عصبہ آئی،جو قبا کی ایک جگہ ہے ،مسجدِ قبا میں ان لوگوں کی امامت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ کرتے تھے،وہ ان میں قرآن کے سب سے بڑے عالم تھے‘‘۔

حضرت سالمؓ جنگِ یمامہ میں مہاجرین کے علمبردار تھے،بعض لوگوں کو ان کی قیادت میں کلام ہوا تو انہوں نے کہا: 

بئس حامل القرآن انا (یعنی ان فررت)

اگر میں جنگ سے فرار ہوا توبرا حاملِ قرآن ہوں گا۔

اور غزوہ کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا دایاں ہاتھ کٹ گیاتو جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا اور وہ بھی زخمی ہوگیا تو بغل میں لے لیا اور جب زخمی ہوکر گرگئے تو اپنے آقا حضرت ابوحذیفہؓ کا حال دریافت کیا۔ جب معلوم ہوا کہ وہ شہید ہوگئے ہیں تو کہا کہ مجھے ان ہی کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ حضرت ابوحذیفہؓ نے سالمؓ کو اپنا بیٹا بنالیاتھا۔(۶)

ان تصریحات سے حضرت سالمؓ کے علم وفضل اور قرآن میں ان کے امتیاز کا بخوبی اندازہ کیاجاسکتاہے اور یہ کہ وہی قبا کی درسگاہ میں تعلیمی اور تدریسی خدمات انجام دیتے تھے۔رسول اللہﷺنے صحابہ کرام کو قرآن کے جن چار علما اور قاریوں سے قرآن پڑھنے کی تاکید فرمائی، ان میں سے ایک حضرت سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ بھی تھے۔(*۱)

یہاں حضرت ابو خیثمہ سعد بن خیثمہ اویسیؓ کامکان گویا مدرسہ قبا کے طلبہ کے لیے دارالاقامہ تھا ۔وہ اپنے قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے نقیب ورئیس تھے،بیعتِ عقبہ کے موقع پر اسلام لائے،مجرد تھے اور ان کا مکان خالی تھا،اس لیے اس میں ایسے مہاجرین قیام کرتے جو اپنے بال بچوں کو مکہ مکرمہ چھوڑ کر آئے تھے یا جن کی آل اولاد نہیں تھی۔اس وجہ سے ان کے مکان کو ’’بیت العزاب‘‘ یعنی کنواروں کا گھر کہاجاتا تھا۔رسو ل اللہﷺ ہجرت کے وقت قبا میں حضرت کلثوم بن ہدمؓ کے مکان میں فروکش تھے۔ اسی کے قریب حضرت سعد بن خیثمہؓ کا گھر تھا،رسول اللہﷺ وقتاً فوقتاً وہاں تشریف لے جاتے اور مہاجرین کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے۔ یہ مکان مسجدِ قبا سے متصل جنوبی سمت میں تھا اور یہیں دار کلثوم بن ہدمؓ بھی تھا۔(۷)

گویا اس درس گاہ کے استاد اور شاگرد دونوں مہاجرینِ اولین تھے تاہم مقامی مسلمان بھی اس میں شامل ہوتے تھے۔

درس گاہ نقیع الخصمات

تیسری درس گاہ مدینہ کے شمال میں تقریباً ایک میل دور حضرت اسعدؓ بن زرارہ کے مکان میں تھی جو حرہ بنی بیاضہ میں واقع تھا۔یہ آبادی بنو سلمہ کی بستی کے بعد ’’نقیع الخصمات‘‘نامی علاقے میں تھی۔یہ درس گاہ اپنے محلِ وقوع کے اعتبارسے پرکشش ہونے کے ساتھ اپنی جامعیت اور اپنی افادیت میں دونوں مذکورہ درس گاہوں سے مختلف اور ممتاز تھی۔ بیعتِ عقبہ میں انصار کے دونوں قبائل اوس اور خزرج کے رؤسا نے قبولِ اسلام کے بعد بارگاہِ رسالت ﷺ میں عرض کیا کہ مدینہ میں قرآن اور دین کی تعلیم کے لیے کوئی معلم بھیجا جائے تو ان کے اصرار پر آپ ﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو روانہ فرمایا۔

ابنِ اسحاق کی روایت کے مطابق بیعتِ عقبہ اولیٰ کے بعد ہی رسول اللہﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیر کو انصار کے ساتھ مدینہ روانہ فرمایا:

فلما انصرف عنہ القوم بعث رسول اللّٰہ ﷺ معھم مصعبؓ بن عمیر وأمرہ ان یقرءھم القرآن ویعلّمھم الاسلام، ویفقّھھم فی الدّین فکان یسمی المقرئ بالمدینۃ معصبؓ، وکان منزلہ علی اسعدؓ بن زرارۃ بن عدس ابی امامۃؓ۔ (۸)

’’جب انصار بیعت کرکے لوٹنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ مصعبؓ بن عمیرکو روانہ فرمایا اور ان کو حکم دیا کہ وہاں لوگوں کو قرآن پڑھائیں، اسلام کی تعلیم دیں اور ان میں دین کی بصیر ت اور صحیح سمجھ پیدا کریں۔چنانچہ حضرت مصعبؓ مدینہ میں ’’معلمِ مدینہ‘‘کے لقب سے مشہور تھے اور ان کا قیام حضرت ابو امامہ اسعدؓ بن زرارہ کے مکان پر تھا‘‘۔

حضرت مصعبؓ بن عمیر ابتدائی دور میں اسلام لائے۔نازونعمت میں پلے ہوئے تھے۔ جب ان کے مسلمان ہونے کی خبر خاندان والوں کو ہوئی تو انہوں نے سخت سزا دے کر مکان کے اندر بند کردیامگر حضرت مصعب بن عمیرؓ کسی طرح نکل کر مہاجرینِ حبشہ میں شامل ہوگئے۔ (۹) بعد میں جب قریش کے اسلام قبول کرنے کی افوہ پھیلی تو آپؓ مکہ واپس آئے اور پھرمدینہ کی طرف ہجرت کی۔(۱۰)

حضرت اسعدؓ بن زرارہ خزرجی نجاری بیعتِ عقبہ اولیٰ میں اسلام لانے والوں میں سے تھے۔اپنے قبیلے کے نقیب تھے،ایک روایت کے مطابق وہ’’ نقیب النقباء ‘‘بھی تھے۔ابن اسحاق کی روایت کے مطابق ان کا انتقال 1ھ میں اس وقت ہوا جب کہ مسجدِ نبوی کی تعمیر جاری تھی۔قبیلۂ بنو نجار کے لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے کسی نقیب کو مقرر فرمادیں ۔آپﷺ نے فرمایا:

انتم اخوالی وانا بما فیکم وانا نقیبکم۔ (۱۱)

’’تم لوگ رشتے میں میرے ماموں ہو۔ میں ان امور کی اصلاح کے لیے موجود ہوں جو تمہارے درمیان رونما ہوں اور میں تمہارا نقیب ہوں‘‘۔

ایک قول کے مطابق حضرت اسعدؓ بن زرارہ بیعتِ عقبہ اولیٰ سے قبل ہی مکہ جاکر مسلمان ہوگئے تھے، گویا وہ انصار مدینہ میں پہلے مسلمان تھے۔ (۱۲) یہ دونوں حضرات قرآن کی تعلیم اور اسلام کی اشاعت میں ایک دوسرے کے شریک تھے۔حضرت مصعبؓ بن عمیر قرآن کی تعلیم کے ساتھ اوس اور خزرج دونوں قبائل کی امامت بھی کرتے تھے اور جب ایک سال کے بعد بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر اہلِ مدینہ کو لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو ان کا لقب ’’مقرئ المدینہ‘‘یعنی معلمِ مدینہ مشہور ہوچکا تھا۔ (۱۳)

حضرت اسعدؓبن زرارہ نے جمعہ کی فرضیت سے پہلے ہی مدینہ میں نماز جمعہ کااہتمام فرمایا۔نمازِ جمعہ کا اجتماع بنی بیاضہ کی جگہ ’’نقیع الخصمات‘‘میں ہوتا تھا۔ (۱۴)گویانقیع الخصمات کی یہ درس گاہ صرف قرآنی مکتب اور مدرسہ ہی نہیں تھی بلکہ ہجرت سے پہلے مدینہ میں اسلامی مرکز کی حیثیت رکھتی تھی۔حضرت مصعبؓ بن عمیر اوس وخزرج کے اس مشترکہ اجتماع کی امامت کیاکرتے تھے۔(۱۵) اسی لیے نماز جمعہ کے قیام کی نسبت بعض روایتوں میں ان کی طرف کی گئی ہے۔ (۱۶)

اگرچہ رسول اللہﷺ نے حضرت مصعبؓ بن عمیرکے ہمراہ ابن ام مکتومؓ کو بھی مدینہ روانہ فرمایا تھا لیکن چونکہ حضرت مصعبؓ بن عمیرکو خاص طور پر تعلیم کے لیے بھیجا تھا اس لیے اس درس گاہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں ابن امِ مکتومؓ کا تذکرہ نہیں آتا۔ ویسے بھی ابن امِ مکتومؓ نابینا ہونے کی وجہ سے محدود پیمانے پر ہی تبلیغی ودعوتی خدمات سرانجام دے سکتے تھے۔

’’نقیع الخصمات‘‘کی اس درس گاہ اور اسلامی مرکز کی وجہ سے مدینہ کے یہودیوں کے دینی وعلمی مرکز’’بیت المدراس‘‘کی حیثیت کم ہوگئی جہاں جمع ہوکر یہودِ مدینہ درس وتدریس ،تعلیم وتربیت اور دعا خوانی کے ذریعہ اپنی مذہبی سرگرمیاں جاری رکھتے تھے۔

اوس وخزرج یہودیوں سے بے نیاز ہوکر اپنے علمی ودینی مرکزسے وابستہ ہوگئے۔اسلام سے قبل اوس وخزرج میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت کم تھا اور اس معاملہ میں وہ یہودیوں کے محتاج تھے۔البتہ چند لوگ لکھنا جانتے تھے ۔ان میں رافع ؓ بن مالک زرقی،زیدؓ بن ثابت ،اسیدؓ بن حضیر،سعدؓبن عبادہ،ابیؓ بن کعب وغیرہ تھے۔ان میں سے اکثر نے ہجرت سے پہلے ہی اسلام قبول کرلیا اور وہ اب بڑی سرگرمی سے مسلمانوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہے تھے۔’’نقیع الخصمات‘‘کے مرکز سے ان کا خصوصی رابطہ تھا۔اس زمانے میں مدینہ منورہ کے مختلف علاقوں اور قبائل میں تدریسی وتعلیمی مجالس برپا رہتی تھیں۔خاص طور پر بنو نجار،بنو عبدالاشہل ،بنوظفر ،بنو عمرو بن عوف،بنو سالم وغیرہ کی مساجد میں علمی مجالس کا انتظام تھااور عبادہؓ بن صامت،عتبہؓ بن مالک،معاذؓ بن جبل ،عمرؓ بن سلمہ،اسیدؓ بن حضیراور مالکؓ بن مویرت ان کے امام ومعلم تھے۔ (* ۲)

نصابِ تعلیم

ان درس گاہوں کے نصابِ تعلیم کے حوالے سے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس وقت تک عبادات میں صرف نماز فرض ہوئی تھی لہٰذا یہاں پر زیادہ تر نماز کے احکام ومسائل، قرآن اور اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی اور اسی طرح وہ اخلاقیات جن پر بیعتِ عقبہ میں رسول اللہ ﷺ نے انصار کے مردوخواتین سب کو بیعت کیاتھا،کی تعلیم دی جاتی تھی۔ عبادۃؓ بن صامت اس بیعت کے بارے میں بیان کرتے ہیں: 

بایعنا رسول اللّٰہﷺ لیلۃ العقبۃ الاولٰی علی ان لا نشرک باللّٰہ شیءًا، ولا نسرق، ولا نزنی، ولا نقتل اولادنا، ولا نأتی ببھتان نفتریہ من بین ایدینا وارجلنا، ولا نعصیہ فی معروف۔ (۱۷)

’’ہم نے بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی بیعت اس چیز پر کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کوشریک نہیں کریں گے ،نہ چوری کریں گے ،نہ زنا کریں گے، نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گے ،نہ کسی پر بہتان لگائیں گے اور نہ رسول اللہ ﷺ کی معروف میں نافرمانی کریں گے‘‘۔

چنانچہ ان درس گاہوں میں قرآن کی تعلیم کے ساتھ انہی اخلاقی امور کی تعلیم وتربیت دی جاتی تھی۔رسول اللہﷺ نے جس وقت حضرت مصعبؓ بن عمیر کو اہل مدینہ کے ساتھ روانہ فرمایا تو ان کویہ حکم دیا تھا:

ان یقرء ھم القرآن، ویعلّمہم الاسلام، ویفقّھہم فی الدین۔ (۱۸)

’’ان کو قرآن پڑھائیں،اسلام کی تعلیم دیں،اور ان میں دین کی سمجھ پیدا کریں‘‘

اس مدت میں جس قدر قرآن نازل ہوچکا تھا، ان درس گاہوں میں اس کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی اور عام طور پر آیات و سور زبانی یاد کرائی جاتی تھیں۔انصارنے بیعتِ عقبہ میں جن باتوں کااقرار کیاتھا، ان پر عمل کی تلقین وتاکید کی جاتی تھی۔چنانچہ اس درس گاہ کے ایک طالب علم حضرت براءؓ بن عازب کا بیان ہے :

فما قدم حتی قرأت (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ) فی سور من المفصّل۔ (۱۹)

’’رسول اللہﷺ کی تشریف آوری سے پہلے ہی میں نے سورۃ الاعلیٰ سمیت ’’طوال مفصل‘‘(*۳) کی کئی سورتیں یاد کرلی تھیں‘‘۔

رسول اللہ ﷺجب مدینہ تشریف لائے تو انصار نے حضرت زیدؓ بن ثابت کو بڑے فخر سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیااور عرض کیا:

یارسول اللّٰہﷺ! ھذا غلام من بنی النجار معہ مما انزل اللّٰہ علیک بضع عشرۃ سورۃ، فأعجب ذالک النبیﷺ۔ (۲۰)

’’اے اللہ کے رسولﷺ!اس لڑکے کا تعلق بنو النجار سے ہے۔ جوکلام آپﷺ پر نازل ہوا ہے، اس کو اس میں سے دس سے زائد سورتیں یاد ہیں۔رسول اللہ ﷺنے یہ سن کر خوشی کا اظہار فرمایا‘‘۔

یہ درس گاہیں دن رات،صبح وشام کی قید سے آزاد تھیں اور ہر شخص ہر وقت ان سے استفادہ کرسکتاتھا۔


حواشی

(*۱) عن عبداللّٰہؓ بن عمرو قال سمعت النبی ﷺ یقول: ’’استقرء وا القران من اربعۃ: من ابن مسعودؓ وسالمؓ مولیٰ ابی حذیفۃؓ و ابیّؓ و معاذؓ بن جبل‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب فضائل اصحاب النبی ﷺ، مناقب سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ،ح:۳۷۵۸، ص:۳۲۔ ایضاً، کتاب المناقب، باب مناقب معاذؓ بن جبل، ح:۳۸۰۶، ص:۶۳۹۔ المسند، مسندعبداللہؓ بن عمرو، ح :۶۴۸۷، ۲/۳۴۸)

(*۲) ان معلومات کے لیے دیکھیے طبقات ابن سعد،سیرت ابنِ ہشام،سیرتِ حلبیہ،وفاء الوفا او رروض الانف وغیرہ 

(*۳) قرآن مجید کی ساتویں منزل یعنی سورۃ الحجرات سے سورۃ الناس تک کی سورتوں کو ’’مفصّل ‘‘کہتے ہیں ۔


حوالہ جات

(۱) وفا ء الوفا ، ۱/۲۵۰

(۲) زاد المعاد ، ۱/۱۰۰

(۳) اسد الغابہ ، تذکرہ رافع ؓ بن مالک ، ۲/۱۵۷۔ فتوح البلدان ، ص:۴۵۹

(۴) جامع بیان العلم ، باب جامع القول فی العمل بالعلم، ۲/۶

(۵) صحیح البخاری ، کتاب الاذان ، باب امامۃ العبدوالمولیٰ، ح :۶۹۲، ص:۱۱۳۔ ایضاً، کتاب الاحکام ، باب استقضاء الموالی واستعمالھم ، ح :۷۱۷۵، ص:۱۲۳۶۔ الاصابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲ / ۷

(۶) الاصابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲/۷۔ اسد الغابہ ، تذکرہ سالمؓ مولیٰ ابی حذیفہؓ ، ۲/۲۴۶

(۷) ابن ہشام ، حجرۃ الرسول ﷺ ، ۲/ ۱۰۶۔۱۰۷

(۸) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/ ۴۷۔۴۸

(۹)ایضاً ، ذکر الہجرۃ الاولیٰ الیٰ ارض الحبشہ ، ۱/۳۶۲

(۱۰) ایضاً، ذکر من عاد من ارض الحبشۃ لما بلغہم اسلام اہل مکہ ، ۱/۴۰۳

(۱۱) ابن ہشام ، المواخاۃ بین المہاجرین والانصار ، ۲/ ۱۲۱ 

(۱۲) اسد الغابہ ، تذکرہ اسعدؓ بن زرارہ، ۱/ ۷۱

(۱۳) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ ومصعبؓ بن عمیر ، ۲/ ۴۸ 

(۱۴) کنز العمال ، فضائل ابو امامہؓ ، ۱۳/ ۶۱۰ 

(۱۵) ابنِ ہشام،العقبۃ الاولیٰ ومعصبؓ بن عمیر،۲/۴۸

(۱۶) ابنِ ہشام،اول جمعۃ اقیمت بالمدینۃ،۲/۴۸ 

(۱۷) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/۴۷۔ المسند ، حدیث عبادہؓ بن صامت ، ح:۲۲۲۴۸،۶/۴۴۱

(۱۸) ابن ہشام ، العقبۃ الاولیٰ و مصعبؓ بن عمیر ، ۲/۴۷

(۱۹) صحیح البخاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب مقدم النبی ﷺ و اصحابہ المدینۃ ، ح :۳۹۲۵، ص:۶۶۲۔ ایضاً، کتاب التفسیر ، سورۃ سبح اسم ربک الا علٰی، ح : ۴۹۴۱، ص :۸۸۲۔ المسند، حدیث البراءؓ بن عازب ، ح :۱۸۰۴۱، ۵/ ۳۶۰

(۲۰) المسند ، حدیث زیدؓ بن ثابت ، ح :۲۱۱۰۸، ۶/ ۲۳۸


سیرت و تاریخ