طالبان کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد کا متن

ادارہ

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغانستان پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کا متن درج ذیل ہے: اقوام متحدہ کے منشور کے باب ہفتم پر عمل کرتے ہوئے : ۱۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل کریں جو بالخصوص بین الاقوامی دہشت گردوں اور ان کی تنظیموں کو پناہ دینے اور تربیت دینے سے روکتی ہے ۔ اس قرارداد کے تحت طالبان اس بات کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں کہ ان کے زیر کنٹرول علاقے کو دہشت گردی کی تنصیبات اور کیمپوں کے لیے یا دوسرے ملکوں یا ان کے شہریوں کے دہشت گردوں کی کارروائی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ طالبان مقدمات میں ماخوذ بین الاقوامی دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی بین الاقوامی کوششوں میں تعاون کریں۔ ۲۔ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ طالبان بلاتاخیر قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے پیراگراف نمبر کی پابندی کریں جو انہیں پابند کرتی ہے کہ وہ اسامہ بن لادن کو اس ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں وہ مقدمے میں ماخوذ ہیں یا ایسے ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں سے اسامہ کو ایسے ملک میں پہنچایا جا سکے یا ایسے ملک کے حکام کے حوالے کریں جہاں انہیں گرفتار کر کے موثر طو رپر مقدمہ چلایا جا سکے۔ ۳۔ مزید مطالبہ کیا جاتا ہے کہ طالبان اپنے زیر کنٹرو ل علاقے میں دہشت گردوں کو تربیت دینے والے کیمپوں کو بند کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ یہ مطالبہ بھی کیا جاتا ہے کہ ان کیمپوں کو بند کرنے کی تصدیق اقوام متحدہ سے کرائی جائے۔ یہ تصدیق اقوام متحدہ کو ذیل کے پیراگراف ۱۹ کے تحت رکن ممالک سے حاصل ہونے والی معلومات اور ایسے دیگر ذرائع سے کی جائے جو اس قرارداد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ۴۔ تمام رکن ممالک کو ان کی اس ذمہ داری سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے پیراگراف ۴ کے تحت اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ۵۔ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ تما م ممالک: (اے) قرارداد نمبر ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے تحت قائم کردہ کمیٹی (جسے آئندہ ’’کمیٹی‘‘ کہا جائے گا) کے نشان زدہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں میں بشمول اپنے شہریوں، وفاقوں، اپنے جھنڈے والی گاڑیوں، طیاروں کے ذریعے ہتھیاروں اور ہر قسم کی متعلقہ اشیاء بشمول اسلحہ، گولہ بارود، فوجی گاڑیوں، فوجی آلات، پیرا ملٹری سامان اور ان کے سپیئر پارٹس کی براہ راست یا بالواسطہ فراہمی، فروخت ، منتقلی کو روکیں گے۔ (بی) کمیٹی طالبان کے جن علاقوں کی نشاندہی کرے گی ان میں اپنے شہریوں، اپنے علاقوں سے طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کے مسلح افراد کی فوجی سرگرمیوں سے متعلق معاملات میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر فنی مشوروں، معاونت یا تربیت فراہم، منتقل یا فروخت کرنے سے روکیں گے۔ (سی ) طالبان کو ملٹری یا متعلقہ سیکورٹی معاملات میں مشورہ دینے کے لیے افغانستان میں کنٹریکٹ یا کسی دوسرے انتظام کے تحت موجود اپنے افسران، ایجنٹوں، مشیروں اور فوجیوں کو واپس بلالیں گے اور اس معاملے سے متعلق دوسرے ملکوں کے شہریوں سے بھی ملک سے چلے جانے کے لیے کہیں گے۔ ۶۔ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ پیراگراف ۵ کے تحت عائد اقدامات کا اطلاق ا س غیر مہلک فوجی سامان پر مبنی امداد یا تربیت پر نہیں ہوگا جس کا مقصد صرف انسانیت کی بھلائی اور حفاظت ہوگا اور جس کے لیے کمیٹی پیشگی طو پر منظوری دے چکی ہوگی اور اس بات کی توثیق کی جاتی ہے کہ پیراگراف نمبر ۵ کے تحت عائد پابندیوں کا اطلاق اقوام متحدہ کے اہلکاروں، میڈیا کے نمائندوں اور انسانی بنیاد پر کام کرنے والے رضا کاروں کی جانب سے صرف ذاتی استعمال کے لیے افغانستان کو بھیجے جانے والے حفاظتی کپڑوں، بشمول فلیگ جیکٹوں اور فوجی ہیلمٹوں پر نہیں ہوتا۔ ۷۔ تمام ممالک نے طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنے پر زور دیا تاکہ طالبان مشنوں میں عملے کی تعداد اور سطح اور عہدوں کو کم سے کم حد تک رکھا جائے اور عملے کے جو ارکان باقی رہ جائیں ان کی اپنے علاقے میں نقل وحرکت کو کنٹرول یا پابند کیا جائے۔ بین الاقوامی تنظیموں میں طالبان مشنوں کے سلسلے میں میزبان ملک اگر ضروری سمجھتے ہوں تو ا س پیراگراف پر عملدرآمد کے لیے متعلقہ تنظیموں سے مشورہ کریں۔ ۸۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک مزید اقدامات کریں گے: (اے) اپنے ممالک میں طالبان کے تمام دفاتر مکمل اور فوری طور پر بند کر دیں گے۔ (بی) اپنے ممالک میں آریانہ افغان ایئر لائنز کے تمام دفاتر فوری طور پر بند کر دیں گے۔ (سی ) اسامہ بن لادن اور ان سے متعلق افراد اور ان کے فنڈز اور دیگر مالیاتی اثاثے بلاتاخیر منجمد کر دیں گے جن کا تعین کمیٹی نے کیا ہے۔ ان میں القاعدہ تنظیم اور اس کے فنڈز جو اسامہ بن لادن یا ان سے متعلق افراد کی ملکیت یا زیر کنٹرول سے بالواسطہ یا بلا واسطہ حاصل ہوتے ہیں اور اسامہ یا ان سے متعلق ادارے بشمول القاعدہ تنظیم شامل ہیں۔ کمیٹی سے درخواست کی گئی کہ وہ رکن ممالک اور علاقائی تنظیموں کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر ایسے افراد اور اداروں کی جن کا تعین اسامہ بن لادن کے ساتھیوں کی حیثیت سے کیا گیا ہے اور جو القاعدہ تنظیم میں ہیں، ایک تازہ ترین فہرست تیار کرے۔ ۹۔ یہ مطالبہ کیا گیا کہ طالبان افیون اور دیگر غیر قانونی منشیات کی تمام سرگرمیاں بند کر دیں اور افیون کی غیر قانونی کاشت کے حقیقی خاتمے کے لیے کام کریں جن کی رقم دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال ہوتی ہے۔ ۱۰۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک اپنے شہریوں اور اپنے علاقوں سے افغانستان کے زیر کنٹرول علاقے میں کسی بھی شخص کو جس کا تعین کمیٹی نے کیا ہے، کیمیکل ایسیٹیک اینہائیڈ رائیڈ کی فراہمی، منتقلی اور فروخت کی روک تھام کریں گے۔ ۱۱۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام ممالک کسی بھی طیارے کو کمیٹی کے تعین کردہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقے کے لیے پرواز کرنے، اپنی علاقائی حدود پر سے گزرنے یا وہاں سے آنے والے طیارے کو اپنے ملک میں لینڈ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جب تک ایسی کسی مخصوص پرواز کے لیے کمیٹی نے انسانی ضرورت کی بنیاد پر منظوری نہ دے دی ہو۔ ان میں مذہبی فرائض مثلا ادائیگی حج یا ایسی وجوہ کے لیے چلنے والی پروازیں جو تنازع افغانستان کے پرامن حل کو تقویت دیتی ہوں یا طالبان کی جانب سے اس قرارداد یا قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کی تعمیل میں مدد دیتی ہوں، شامل ہیں۔ ۱۲۔ کمیٹی افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والی تنظیموں اور سرکاری ریلیف ایجنسیوں کی فہرست رکھے گی۔ ان میں اقوام متحدہ اور ا س کی ایجنسیاں اور بین الاقوامی ریڈ کراس وغیرہ شامل ہوں گی۔ پیراگراف ۱۱ کے ذریعے سے لگائی گئی پابندیوں کا طلاق متذکرہ بالا فہرست میں شامل تنظیموں اور سرکاری ریلیف ایجنسیوں کی طرف سے یا ان کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پروازوں پر نہیں ہوگا۔ کمیٹی فہرست پر باقاعدگی سے نظر ثانی کرتی رہے گی۔ جن نئی تنظیموں اور ریلیف ایجنسیوں کا نام شامل کرنا مناسب ہوگا وہ شامل کرے گی اور ان کے نام خارج کر دے گی جن کے بارے میں وہ فیصلہ کرے گی کہ وہ انسانی مقاصد کے بجائے کسی اور مقصد کے لیے پروازیں چلا رہی ہیں یا چلا سکتی ہیں۔ ان تنظیموں اور سرکاری ایجنسیوں کو فوری طور پر مطلع کر دیا جائے گا کہ ان کی یا ان کی طرف سے پروازوں پر پیراگراف ۱۱ کا اطلاق ہوگا۔ ۱۳۔ طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ امدادی اداروں کے افراد اور امداد کی ان کے زیر کنٹرول علاقے میں ضرورت مند افراد تک رسائی محفوظ اور بلا رکاوٹ ہو۔ طالبان اقوام متحدہ اور اس سے ملحق انسانی امدادی تنظیموں کے ارکان کی حفاظت، سلامتی اور آزادانہ نقل وحرکت یقینی بنانے کی ضمانت دیں۔ ۱۴۔ تمام ریاستوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان کے نائب وزیر اور اس سے اوپر کے عہدے داروں ، اس کے برابر عہدے کے مسلح افراد اور طالبان کے دوسرے سینئر مشیروں اور اہم شخصیات کو اپنے علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے گزر کر کہیں جانے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ماسوائے اس کے کہ وہ انسانی ہمدردی کے کسی مقصد سے، حج جیسے مذہبی فریضے کی ادائیگی کے لیے یا افغان تنازع کے پرامن تصفیے کی خاطر مذاکرات کے لیے یا قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) پر عمل درآمد کے سلسلے میں کہیں جا رہے ہوں۔ ۱۵۔ کمیٹی کے مشورے سے سیکرٹری جنرل سے درخواست کی جاتی ہے کہ (اے) ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی جائے جو قرارداد کی منظوری کے ساٹھ دن کے اندر کونسل کو سفارشات پیش کرے کہ رکن ملکوں کی اپنے قومی ذرائع سے حاصل کردہ اور سیکرٹری جنرل کو فراہم کردہ معلومات کے علاوہ اور کس کس طرح پیراگرافس ۳ اور ۵ کے مطابق ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی اور دہشت گردی کے تربیتی کیمپوں کے بند کرنے کی نگرانی کی جا سکتی ہے۔ (بی) متعلقہ رکن ملکوں سے رابطہ کر کے اس قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے ذریعے لگائی گئی پابندیوں پر عمل کرائیں اور بات چیت کے نتائج سے کونسل کو مطلع کریں۔ (سی) موجودہ اقدامات پر عملدرآمد اور عملدرآمد میں مشکلات کے بارے میں رپورٹ دیں۔ انہیں مستحکم کرنے کے لیے سفارشات اور اس سلسلے میں رکاوٹ بننے والے طالبان کے اقدامات کا جائزہ پیش کریں۔ (ڈی) وہ اس قرارداد اور قراراداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے تحت اقدامات سے پیدا ہونے والی انسانی سطح کی پیچیدگیوں کا جائزہ لیں اور اس قرارداد کی منظوری کے نوے دن کے اندر سفارشات پیش کریں اور اس کے بعد ان اقدامات کی مدت ختم ہونے سے ۳۰ دن پہلے تک باقاعدگی کے ساتھ جامع رپورٹس دیتے رہیں۔ ۱۶۔ کمیٹی سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) میں بیان کردہ ٹاسک کے علاوہ مندرجہ ذیل کام سنبھال کر اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ (اے) رکن ممالک اور علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر وہ طیاروں کے طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان میں داخل ہونے اور اترنے کے مقامات کی فہرست مرتب کرے، اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے اور فہرست کے مشمولات سے رکن ممالک کو مطلع کرے۔ (بی) رکن ممالک اور علاقائی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر پیراگراف ۸ (سی) کے مطابق ایسے افراد اور ہستیوں کی فہرست مرتب کرے اور اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے جن کااسامہ بن لادن سے تعلق ہے۔ (سی ) پیراگرافس ۶ اور ۱۱ میں بیان کردہ استثنایات کے لیے درخواستوں پر غور کر کے ان پر فیصلہ کرے۔ (ڈی) اس قرارداد کی منظوری کے ایک ماہ کے اندر پیراگراف ۱۲ کے مطابق افغانستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے والی منظور شدہ تنظیموں اور سرکاری امدادی ایجنسیوں کی فہرست تیار کرے اور اسے اپ ڈیٹ کرتی رہے۔ (ای) ان اقدامات پر عملدرآمد سے متعلق اطلاعات کو عام ذرائع ابلاغ اور جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عام کرے۔ (ایف) اس بات پر غور کرے کہ ا س قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے ذریعے عائد کردہ اقدامات پر مکمل اور موثر عملدرآمد پر زور دینے کے لیے کمیٹی کے چیئرمین اور دوسرے ارکان کا علاقے کے رکن ملکوں کا ایک دورہ مناسب ہے۔ (جی) کمیٹی وقتا "فوقتا "اس قرارداد اور قرارداد ۱۲۶۷ (۱۹۹۹) کے بارے میں ملنے والی اطلاعات اور ممکنہ خلاف ورزیوں کے بارے میں رپورٹیں اور اقدامات کو موثر اور مضبوط کرنے کے لیے سفارشات بھیجتی رہے۔ ۱۷۔ تمام رکن ممالک اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی اداروں سمیت تمام علاقائی اور بین الاقوامی ادارے قرارداد کی شقوں پر سختی سے عملدرآمد کریں اگرچہ پیرا گراف نمبر پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکورہ اقدامات کے نفاذ کی تاریخ سے قبل ان اداروں اور افغانستان کے درمیان کوئی بین الاقوامی معاہدہ یا مفاہمت ہی موجود کیوں نہ ہو ،انہیں کوئی اجازت نامہ اور لائسنس ہی کیوں نہ جاری کیا گیا ہویا ان پر کسی طرح کے فرائض کی بجا آوری لازم ہی قرار کیوں نہ دی گئی ہو۔ ۱۸۔ تمام ممالک ایسے افراد اور اداروں کے خلاف اپنے دائرۂ اختیار کے اندر رہتے ہوئے کی جانے والی کارروائی سے آگاہ کریں جو پیراگراف پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکور اقدامات کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہوں اور ان پر مناسب جرمانے عائد کریں۔ ۱۹۔ رکن ممالک کمیٹی کے اہداف کے حصول کے لیے اس سے مکمل تعاون کریں اور کمیٹی کو قرارداد کے نفاذ کے لیے جو اطلاعات درکار ہوں، وہ فراہم کریں۔ ۲۰۔ تمام ممالک قرارداد کے نفاذ کے ۳۰ یوم کے اندر کمیٹی کو آگاہ کریں کہ انہوں نے قرارداد کے موثر نفاذ کی خاطر کیا اقدامات کیے ہیں۔ ۲۱۔ سیکرٹریٹ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ حکومتی اور عوامی ذرائع سے قرارداد کی ممکنہ خلاف ورزی کے بارے میں موصول ہونے والی اطلاعات کمیٹی کو جائزہ لینے کے لیے بھیجیں۔ ۲۲۔ پیراگراف پانچ، آٹھ، دس اور گیارہ میں مذکور اقدامات قرارداد کی منظوری کے ایک ماہ بعد ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق رات ایک بجے نافذ ہو جائیں گے۔ ۲۳۔ پابندیوں کا نفاذ ایک سال کے لیے ہے۔ اس کے بعد کونسل فیصلہ کرے گی کہ آیا طالبان نے پیراگرف ایک، دو، تین پر عملدرآمد کیا ہے یا نہیں اور یہ کہ مزید اتنی ہی مدت کے لیے پابندیوں میں انہی شرائط کے ساتھ توسیع کی جائے یا نہیں۔ ۲۴۔ اگر طالبان ایک سال سے کم عرصہ میں ہی شرائط پوری کر دیتے ہیں تو سیکورٹی کونسل نافذ کیے گئے اقدامات واپس لے لے گی۔ ۲۵۔ کونسل اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے موجودہ قرارداد اور ۹۹ء میں منظور ہونے والی قرارداد نمبر ۱۲۶۷ کے اہداف حاصل کرنے کی خاطر مزید پابندیوں کے نفاذ پر بھی غور کرے گی۔ (بشکریہ جنگ لاہور، ۲۱ دسمبر ۲۰۰۰ء)

عالم اسلام اور مغرب