کچھ ’’حزب التحریر‘‘ کے بارے میں

مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ان دنوں برطانیہ کے قومی ذرائع ابلاغ میں ’’حزب التحریر‘‘ کا تذکرہ چل رہا ہے اور ۷ اگست ۱۹۹۴ء کو ویمبلے کانفرنس ہال لندن میں حزب التحریر کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ’’بین الاقوامی خلافت کانفرنس‘‘ کے حوالہ سے مختلف امور زیر بحث ہیں۔ اس کانفرنس میں برطانیہ بھر سے ہزاروں مسلمانوں نے شرکت کی جن میں یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات نمایاں تھے جس سے یہ تاثر عام ہوا کہ حزب التحریر کو برطانیہ کے پڑھے لکھے مسلمانوں میں گہرا اثر و رسوخ حاصل ہے۔ اسی وجہ سے سیاسی و مذہبی حلقوں میں حزب التحریر سنجیدہ گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے اور سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ مذہبی حلقوں میں بھی اس کے عقائد اور اس کے راہ نماؤں کی مختلف تحریرات پر روایتی انداز میں تبصرہ ہو رہا ہے۔

برطانیہ میں حزب التحریر کے امیر ایک فلسطینی عالم دین الشیخ عمر بکری محمد ہیں جو اچھا علمی ذوق رکھتے ہیں اور ’’اصول الدین‘‘ کے متخصص استاذ ہیں۔ لندن میں ’’شریعہ کالج‘‘ کے نام سے ایک تعلیمی ادارہ انہوں نے قائم کر رکھا ہے جس میں نوجوانوں کو بطور خاص ’’اصول دین‘‘ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ خود شافعی المذہب ہیں لیکن دوسرے فقہی مذاہب کے اصول و جزئیات پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ میری ان سے متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں، پہلی ملاقات کا انتظام گزشتہ سال لندن میں سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کے نوجوان نے کیا تھا جن کا خلافت کے احیاء و قیام کے لیے جوش و جذبہ اور محنت قابل رشک ہے۔ اس ملاقات میں الشیخ عمر بکری محمد سے یہ معلوم کر کے مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ حزب التحریر کے بانی الاستاذ تقی الدینؒ النبہانی ہیں۔ استاذ نبہانی کے لٹریچر سے میں اس سے قبل متعارف تھا اور ان کی متعدد تصانیف میری نظر سے گزر چکی تھیں۔ بلکہ جس دور میں ماہنامہ الشریعہ گوجرانوالہ کا ایک حصہ عربی میں شائع کیا جاتا تھا، استاذ نبہانی کے ایک دو مضمون ان کی کتابوں سے ہم نے نقل بھی کیے۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ استاذ نبہانی کون بزرگ ہیں، کہاں کے رہنے والے ہیں، زندہ ہیں یا فوت ہو چکے ہیں، لیکن ان کے طرز تحریر سے میں متاثر تھا کیونکہ انہوں نے اسلام کے اصول و احکام کو اس اسلوب میں پیش کیا ہے جو آج کی ضرورت ہے اور جس سے جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے ذہنوں میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کر کے اسے اسلام کی خدمت کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں شیخ عمر کے ساتھ میری پہلی ملاقات حزب التحریر سے ذہنی قرب کا باعث بنی۔ الاستاذ تقی الدینؒ النبہانی کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئیں کہ وہ فلسطین کے رہنے والے تھے، شافعی المذہب تھے اور عالم اسلام میں خلافت اسلامیہ کا احیاء و قیام ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن تھا، اور یہ افسوسناک خبر بھی کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

الشیخ عمر بکری محمد کے ساتھ اس کے بعد متعدد ملاقاتیں ہوئیں جن میں وہ بیشتر سوالات اور خدشات زیر بحث آئے جو خود میرے ذہن میں پیدا ہوگئے تھے یا بہت سے احباب نے حزب التحریر کے بارے میں مجھ سے ذکر کیے تھے۔ اہل علم میں اختلاف رائے کی گنجائش ہر وقت ہوتی ہے لیکن دیانت داری کی بات یہ ہے کہ ان ملاقاتوں میں ہونے والی طویل گفت و شنید کے بعد مجھے کوئی ایسا وزنی خدشہ یا سوال نظر نہیں آتا جسے حزب التحریر کی مخالفت یا اس کے خلاف محاذ آرائی کی بنیاد بنایا جا سکے۔

میرے ذہن میں سب سے بڑا خدشہ یہ تھا کہ حزب التحریر کا فکری دائرہ کیا ہے اور کیا وہ اہل سنت کے مسلمہ فقہی مکاتب فکر سے ہٹ کر کسی نئے خودساختہ مذہبی مکتب فکر کی داعی تو نہیں ہے؟ اس کے جواب میں شیخ عمر کا کہنا ہے کہ وہ اہل سنت سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے تمام فقہی مذاہب کا احترام کرتے ہیں، خود شافعی المذہب ہیں اور فقہی مذاہب کی پیروی کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ البتہ نئے پیش آمدہ مسائل اور دورِ جدید کی مشکلات کے حل کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ فقہی مذہب کے طے کردہ اصولوں کی روشنی میں قرآن و سنت سے ان مسائل کا حل براہ راست استنباط کیا جائے۔ وہ اجماع صحابہؓ کو حجت سمجھتے ہیں او رخبرِ واحد کو بھی اعتقادات کے علاوہ باقی امور میں حجت مانتے ہیں۔

میرے ذہن میں دوسرا خدشہ خلافت کے قیام کے لیے ان کی جدوجہد کے طریق کار کے بارے میں تھا۔ کیونکہ اس وقت عالمی صورتحال اور عالم اسلام کے حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی بھی ایسی تحریک ملت اسلامیہ کے مفاد میں نہیں ہے جو مخالف قوتوں کی بیداری اور ہوشیاری میں اضافہ اور مسلمانوں کی قوت کے بلاوجہ ضیاع کا باعث بنے۔ مگر یہ معلوم کر کے اطمینان ہوا کہ کام کو آگے بڑھانے کی ترتیب ان کے ذہن میں بھی کم و بیش وہی ہے جو گزشتہ تجربات کے پیش نظر خود میرے ذہن میں قائم ہو چکی ہے۔ وہ یہ کہ پہلے اہل علم اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ کو ذہنی اور فکری طور پر خلافت کے قیام کے لیے تیار کیا جائے اور ان کے ذہنوں میں خلافت کے احیاء کی صورت میں جو خدشات مغرب کے ذرائع ابلاغ نے مسلسل پراپیگنڈہ کے ذریعے پیدا کر دیے ہیں انہیں دور کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی رائے عامہ کو مسلم ممالک میں موجود و مسلط کافرانہ نظاموں کے خلاف منظم کیا جائے اور مسلمانوں کی پرامن اجتماعی قوت کے ساتھ کسی مناسب مقام پر خلافت کے احیاء کی طرف پیش رفت کی جائے۔

یہ تو تھے میرے ذاتی خدشات جن کا ذکر میں نے شیخ عمر سے دوٹوک طور پر کیا اور ان کے جوابات سے میں اس حد تک ضرور مطمئن ہوں کہ اگر کسی مسئلہ پر اختلاف موجود بھی ہے تو وہ اہل سنت کے مسلمات کے دائرہ سے باہر نہیں ہے اور باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل کو طے کرنے اور مشترکہ مقاصد کے لیے مل جل کر آگے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔

اب میں ان خدشات و سوالات کی طرف آتا ہوں جو مختلف مذہبی حلقوں کی طرف سے حزب التحریر کے اعتقادات کے بارے میں اٹھائے گئے ہیں اور بعض مقامات پر اس سلسلہ میں اشتہارات بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں الشیخ عمر بکری محمد کے ساتھ ایک خصوصی ملاقات کا اہتمام کیا گیا جو ۳ ستمبر ۱۹۹۴ء کو اسلامک سنٹر اپٹن پارک لندن کے خطیب مولانا قاری عبد الرشید رحمانی کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اس ملاقات میں قاری صاحب موصوف کے علاوہ ورلڈ اسلامک فورم کے سیکرٹری جنرل مولانا محمد عیسیٰ منصوری، جامع مسجد ویمبلڈن پارک لندن کے خطیب مولانا کلام احمد اور مولانا قاری محمد شریف بھی شامل تھے۔ ملاقات میں شیخ عمر نے ان سوالات کے جوابات دیے جو بعض مذہبی حلقوں کی طرف سے ان کے بارے میں کیے جا رہے ہیں اور ان بیشتر اعتراضات کو بے بنیاد قرار دیا جو حزب التحریر کے حوالہ سے سامنے لائے جا رہے ہیں۔

مثلاً ایک اعتراض یہ تھا کہ حزب التحریر کے لوگ ’’عذاب قبر‘‘ کے منکر ہیں۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ غلط ہے کیونکہ وہ عذاب قبر کے قائل ہیں اور عذاب قبر سے پناہ کی دعا مانگتے ہیں، البتہ ان کے نزدیک عذاب قبر کا مسئلہ اعتقادی نہیں اخباری ہے، اس لیے وہ عذاب قبر کے منکر کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ اسے گنہگار سمجھتے ہیں۔

دوسرا اہم سوال یہ تھا کہ وہ سعودی حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں۔ اس کے جواب میں شیخ عمر نے کہا کہ وہ سعودی حکمرانوں سمیت کسی مسلم حکمران کو کافر نہیں کہتے سب کو مسلمان سمجھتے ہیں، البتہ وہ مسلم ممالک میں اس وقت جو نظائم رائج ہیں ان کو کافرانہ نظام قرار دیتے ہیں اور ان نظاموں کے خلاف جدوجہد کو دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔

ایک اور سوال یہ تھا کہ حزب التحریر والے غیر محرم خواتین کے ساتھ مصافحہ اور تقبیل کو جائز کہتے ہیں، اس کے جواب میں انہوں نے زوردار لہجہ میں لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھا اور کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کیونکہ وہ شافعی ہیں اور شوافع کے نزدیک تو عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس لیے وہ یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اور پھر یہ امور زنا کے مقدمات میں سے ہیں اس لیے ان کے جواز کی بات نہیں کہی جا سکتی۔

الغرض اس نوعیت کے متعدد سوالات تھے جو بعض حلقوں کی طرف سے حزب التحریر کے خلاف زبانی اور تحریری طور پر پھیلائے جا رہے ہیں لیکن شیخ عمر کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کے دوران ان میں سے کوئی اہم بات پایۂ ثبوت تک نہیں پہنچ سکی۔

اس موقع پر یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم دراصل فقہی و مسلکی محنت اور اجتماعی ملی مسائل کے لیے جدوجہد کے الگ الگ دائروں کا لحاظ نہیں کر پاتے اس لیے اکثر اوقات الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک فقہی اور مسلکی محنت کا تعلق ہے وہاں فقہ و مسلک کی بنیاد پر جس قدر حدود و قیود ضروری ہوں ان میں کوئی حرج نہیں، اور کسی بھی فقہ و مسلک کے لیے ان حدود و قیود کے بغیر محنت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ لیکن جہاں اجتماعی ملی مسائل مثلاً خلافت اسلامیہ کا احیاء، عالم اسلام کا اتحاد، ظالمانہ و کافرانہ نظاموں سے نجات، اور عالمی استعمار کے خلاف مشترکہ جدوجہد جیسے امو رکی بات آئے گی وہاں فقہی اور مسلکی حدود کو بہرحال نظر انداز کرنا ہوگا۔ اور اہل سنت کے تمام فقہی و اعتقادی مکاتب فکر احناف، شوافع، حنابلہ، مالکیہ، ظواہر، ماتریدیہ، اشاعرہ اور سلفیہ کا یکساں احترام کرتے ہوئے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ورنہ مسلم ممالک کو ظالمانہ و کافرانہ نظاموں سے نجات دلانے اور خلافت اسلامیہ کے قیام کے شرعی فریضہ کی تکمیل کی جدوجہد میں ہم اپنا کردار صحیح طور پر ادا نہیں کر سکیں گے۔

ان گزارشات کے ساتھ برطانیہ اور دیگر ممالک کے دینی حلقوں اور اہل علم سے گزارش کروں گا کہ وہ حزب التحریر کے بارے میں منفی ردعمل کا شکار نہ ہوں۔ اگر علمی اور دینی بنیاد پر کوئی اختلافی مسئلہ سامنے آئے تو اسے باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہی سلامتی کا راستہ ہے۔

مشاہدات و تاثرات

(اکتوبر ۱۹۹۴ء)

تلاش

Flag Counter