قرآنِ کریم نے موجودہ بائبل کی تصدیق نہیں کی
پادری کے ایل ناصر کی فریب کاریوں کے جواب میں

حافظ محمد عمار خان ناصر

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو سراسر سچائی اور حقانیت پر مبنی ہے اور دنیا کے کسی بھی مذہب اور گروہ کے حقیقت پسند افراد کے لیے قرآن کریم کے بیان کردہ حقائق سے انکار ممکن نہیں ہے۔ قرآن کریم سے قبل بھی مختلف انبیاء کرام علیہم السلام پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتابیں نازل ہوئی ہیں جن میں بڑی اور مشہور تین ہیں: تورات، زبور اور انجیل۔ یہ کتابیں بھی قرآن کریم کی طرح سچی تھیں لیکن آج اپنی اصل صورت میں نہیں پائی جاتیں کیونکہ ان کے ماننے والوں نے ان میں لفظی و معنوی تحریف کر کے ان کی شکل و صورت کو بگاڑ دیا اور آج ان کے نام پر جعلی اور فرضی کتابیں عیسائیوں کے پاس ’’بائبل‘‘ کے نام سے موجود ہیں۔

ان کتابوں کے ضمن میں ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ یہ سب کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے سچے پیغمبروں پر نازل ہوئی تھیں اور ان میں بیان کردہ امور حقیقت اور سچائی سے عبارت تھے لیکن آج ان میں تحریف ہو چکی ہے اور وہ بعینہٖ محفوظ نہیں رہیں۔ علاوہ ازیں قرآن کریم کے نزول کے ساتھ ہی ان کتابوں کے احکام منسوخ ہو چکے ہیں اور قابلِ عمل نہیں رہے۔ قرآن کریم نے اسی معنی میں ان کتابوں کی تصدیق کی ہے لیکن بعض مسیحی علماء قرآن پاک کی طرف سے کتب سابقہ کی تصدیق کو غلط معنی پہنا کر موجودہ بائبل کو صحیح اور قرآن کریم کی تصدیق شدہ ثابت کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ چنانچہ مسیحی پادری صاحبان کے اس گینگ کے معروف سرغنہ ڈاکٹر کے ایل ناصر نے اپنی کتاب ’’تصدیق الکتاب‘‘ میں جہاں مرزا ناصر احمد کے چیلنج کا جواب دیا ہے وہاں اس مسئلہ پر بھی سعیٔ لاحاصل کی ہے اور قرآن کریم کی آیات کی خودساختہ تعبیر و تشریح کی ہے، جبکہ اس غیر دیانتدارانہ روش کو خود مسیحی علماء نے بھی ناپسند کیا ہے۔

چنانچہ پادری ناصر صاحب کے ایک ہم نوا وکلف اے سنگھ صاحب رقم طراز ہیں:

’’تبلیغِ دین یہ نہیں ہے کہ دوسروں کے مسلّمات و عقاید یا کتب مقدسہ کی بلاتحقیق من مانی تفسیر کی جائے بلکہ یہ کہ اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کی جائیں۔ بے شک اپنے مذہب کی صداقت و تائید کے لیے دیگر کتب سماوی سے حوالے دینا جائز تو ہے لیکن درست تفسیر اور درست نیت کے ساتھ یہی مذہب کا مقصد ہے اور یہی تبلیغِ دین۔‘‘ (رسالہ ’’فارقلیط ص ۷)

اس عبارت میں وکلف صاحب نے وہ جاندار اصول بیان کیا ہے جس پر پادری صاحبان عمل پیرا نہیں ہو سکتے اور یہی رویہ کے ایل ناصر نے اپنی مذکورہ کتاب میں اپنایا ہے جیسا کہ آگے چل کر معلوم ہو گا۔ ہم ان کے پیش کردہ دلائل میں سے بعض ضروری دلیلوں کا جائزہ لینے سے قبل مندرجہ ذیل امور کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں:

امرِ اول

عیسائیوں میں دو فرقے مشہور ہیں: (۱) کیتھولک (۲) پروٹسٹنٹ۔اسی طرح یہودیوں میں ایک فرقہ اپنے مخصوص اعمال و عقائد کی وجہ سے معروف ہے یعنی فرقہ ’’سامریہ‘‘۔ پروٹسٹنٹ فرقہ اور عام یہودیوں کی بائبل ایک ہے اگرچہ تقسیم میں اختلاف ہے۔ اور کیتھولک بائبل میں سات کتابیں زائد ہیں جبکہ فرقہ سامریہ کی بائبل میں صرف سات کتابیں ہیں۔ یاد رہے کہ یہودی بائبل کے عہدنامہ جدید کو الہامی نہیں مانتے کیونکہ حضرت عیسٰیؑ کی نبوت کا انکارکرتے ہیں۔

اس وضاحت سے معلوم ہو جاتا ہے کہ بائبل اس وقت تین مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ اب یہ پادری صاحب ہی جانتے ہوں گے کہ نبی کریمؐ کے زمانے میں کونسی بائبل موجود تھی، قرآن نے کس کی تصدیق کی؟ واضح رہے کہ پادری صاحب کیتھولک بائبل میں موجود سات زائد کتابوں کے الہام کے قائل نہیں ہیں اور فرقہ سامریہ باقی یہود کی بائبل کی تحریف مانتا ہے۔ (بحوالہ الملل والنحل لابن حزم الظاہریؒ)

امرِ دوم

اہلِ کتاب اور اہلِ اسلام کے درمیان اصول تنزیل میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قرآن پاک کے مطابق تورات اسلام سے تختیوں پر لکھی لکھائی حضرت موسٰیؑ کو کوہِ طور پر ملی۔ انجیل کے بارے میں گو قرآن میں اس قسم کی تصریح نہیں ہے کہ وہ کس صورت میں ان کو ملی البتہ انجیل کے یکبارگی نازل ہونا قرآن سے معلوم ہوتا ہے جبکہ عیسائیوں کے نزدیک یہ اصول معتبر نہیں ہے۔ اسی بات کی وضاحت میں پادری برکت اے خان رقم طراز ہیں:

’’مسیحیوں کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آسمان پر سے لکھی ہوئی توریت کی کتاب، زبور کی کتاب، صحائف الانبیاء اور انجیل مقدس نازل ہوئی تھیں۔‘‘ (اصول تنزیل الکتاب ص ۹)

اور پادری طالب شاہ آبادی ’’سرچشمۂ قرآن‘‘ میں لکھتے ہیں کہ

’’ہم مسیحی کلامِ الٰہی کے کسی خاص زبان میں بصورت کتاب آسمان سے نازل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔‘‘ (بحوالہ سہ ماہی ’’ہما‘‘ لکھنو ۔ ص ۴ ۔ اکتوبر دسمبر ۱۹۶۷ء)

اور وکلف اے سنگھ صاحب فرماتے ہیں کہ

’’دراصل حضور المسیح پر کوئی انجیل ہی نازل نہیں ہوئی جیسا کہ اہل اسلام میں مشہور ہے۔‘‘ (رسالہ ’’غلط فہمیاں‘‘ ص ۳۰)

مسیحی علماء کے ان اقوال سے واضح ہو چکا ہے کہ عیسائی تورات کے بارہ میں قرآن کے اصولِ تنزیل کو تسلیم نہیں کرتے۔ اب پادری ناصر صاحب بتلائیں کہ کیا انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ ان کے پاس جو تورات ہے وہ وہی ہے جس کی تصدیق قرآن نے کی ہے؟ 

امرِ سوم

قرآن پاک اور موجودہ بائبل کے درمیان واقعات و عقائد اور بہت سے امور میں اختلاف ہے مثلاً‌:

(۱) قرآن کریم کی رو سے آدم علیہ السلام کو ان کی زلّت (لغزش) پر ان کی حیات میں ہی معافی مل گئی تھی جبکہ بائبل کہتی ہے کہ یہ گناہ اس وقت دھلا جب عیسٰیؑ المسیح نے سولی پر جان دے دی۔ 

(۲) قرآن مجید کے نزدیک حضرت موسٰیؑ سے قتل کا فعل عمدً‌ا صادر نہیں ہوا تھا جبکہ بائبل کہتی ہے کہ انہوں نے پہلے ادھر ادھر چیک کیا کہ کوئی اور تو نہیں ہے اس کے بعد اس کو قتل کر کے ریت میں چھپا دیا۔

(۳) قرآن پاک میں نص صریح ہے کہ حضرت عیسٰیؑ مصلوب یا مقتول نہیں ہوئے جبکہ چاروں اناجیل کے آخر میں ’’واقعہ تصلیب‘‘ مذکور ہے۔ اس لحاظ سے قرآن پاک کو بائبل کا مصدق نہیں ہونا چاہیئے، حالانکہ پادری صاحب ابھی تک اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں۔

امرِ چہارم

قرآن حکیم کی تعلیم سراسر اخلاقی ہے اور بے حیائی اور گندگی سے بالکلیۃ محفوظ ہے۔ نہ تو اس میں انبیاء علیہم السلام کے کردار پر کوئی کیچڑ اچھالا گیا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے بارے میں ناقابلِ قبول اور رذیل تصور دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بائبل اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ یہاں ہم نمونے کے طور پر چند واقعات کے حوالجات تحریر کرتے ہیں:

  • حضرت نوح ؑ کا شراب پی کر ڈیرے میں برہنہ ہونا۔ (پیدائش ۹ : ۲۰، ۲۱)
  • حضرت لوط ؑ کا اپنی دو بیٹیوں سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۱۹ : ۳۱ تا ۳۸)
  • حضرت داؤدؑ کا اپنی پڑوسن سے زنا کرنا۔ (۲ ۔ سموئیل ۱۱ : ۲ تا ۵۲)
  • حضرت سلیمانؑ کی بت پرستی۔ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۱ تا ۶)
  • حضرت ہوسیعؑ کا خدا کے حکم سے ایک کنجری سے جماع کرنا۔ (ہوسیع ۱ : ۲، ۳)
  • حضرت سمسونؑ کا اجنبی شہر میں ایک کسبی کے ساتھ شب باشی کرنا۔ (قضاۃ ۱۶ : ۱، ۲)
  • حضرت یعقوبؑ کے لڑکے یہودا کا اپنی بہو سے زنا کرنا۔ (پیدائش ۳۸ : ۱۵ تا ۱۸)
  • خدا کا ملول ہونا۔ (پیدائش ۶ : ۶)
  • خدا کا کشتی میں ہار جانا۔ (پیدائش ۳۲ : ۲۳ تا ۳۲)
  • خدا کا میدانِ جنگ میں شکست کھانا۔ (قضاۃ ۱ : ۱۹)
  • خدا کا کرایہ پر استرا لے کر داڑھی مونڈنا۔ (یسعیاہ ۷ : ۲۰)
  • خدا کا لڑکی کو پالنا اور اس پر عاشق ہونا۔ (حزقی ایل ۱۶ : ۱ تا ۴)
  • خدا کی دو بدکار عورتوں سے یاری۔ (حزقی ایل ۲۳ : ۱ تا ۲۱)
  • خدا کی کمزوری و بیوقوفی (کرنتھیوں ۱ : ۲۵)

یہ تمام حوالہ جات بائیبل کے تقدس کے ڈھول کا پول کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ تو گویا پادری ناصر نے یہ دعوٰی کر کے کہ قرآن کریم بائبل کا مصدق ہے قرآن پاک پر صریح بہتان لگایا ہے۔

امرِ پنجم

قرآن پاک کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ یہ لفظ بہ لفظ صحیح اور اصلی حالت میں بغیر کسی تغیر و تبدل کے ہم تک پہنچا ہے اور اس کی کوئی سورت یا آیت یا کوئی لفظ یا حرف ضائع نہیں ہوا۔ اس کے برعکس بائبل میں مختلف مقامات پر چند ایسی کتابوں کا ذکر ملتا ہے جو گم شدہ ہیں اور آج نہیں پائی جاتیں۔ یہاں پر ان کی کتابوں کی فہرست دی جاتی ہے۔

(۱) کتاب عہد نامہ موسٰیؑ (خروج ۲۴ : ۷)

(۲) کتاب جنگ نامہ موسٰیؑ (گنتی ۲۱ : ۱۴)

(۳) کتاب السییر (۲۔ سموئیل ۱ : ۱۸ ۔ ویشوع ۱۰ : ۱۳)

(۴) کتاب یاحو پیغمبر بن ضانی (۲۔ تواریخ ۲۰ : ۳۴)

(۵) کتاب شمعیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۱۲ : ۱۵)

(۶) کتاب اخیاہ نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۷) کتاب ناتن نبی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۸) کتاب مشاہدات عید و غیب بینی (۲۔ تواریخ ۹ : ۲۹)

(۹) کتاب اعمال سلیمانؑ (۱۔ سلاطین ۱۱ : ۴۱)

(۱۰) کتاب مشاہدات یسعیاہ (۲۔ تواریخ ۳۲ : ۳۲)

(۱۱) کتاب اشعیاء بن عاموس (۲۔ تواریخ ۲۶ : ۲۲)

(۱۲) سموئیل نبی کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹، ۳۰)

(۱۳) سلیمانؑ کی زبور (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲، ۳۳)

(۱۴) کتاب خواص نباتات و حیوانات سلیمانؑ کی (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)

(۱۵) کتاب اقبال سلیمان (۱۔ سلاطین ۴ : ۳۲)

(۱۶) جادو غیب بین کی تاریخ (۱۔ تواریخ ۲۹ : ۲۹)

(۱۷) مرثیہ ہرسیاہ (۲۔ تواریخ ۳۵ : ۲۵)

(ماخوذ از ’’نوید جاوید‘‘ ص ۱۳۷ و ۱۳۸)

ہم پادری صاحب سے یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتے ہیں کہ یہ کتابیں کہاں گئیں اور کیوں گم ہوئیں اور نبی کریمؐ کے زمانے میں یہ بھی مروّج تھیں یا نہیں؟ اور کیا قرآن پاک نے ان کی تصدیق بھی کی ہے یا نہیں؟ چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ

(۱) یقرؤن الکتٰب من قبلک۔ (یونس ۹۴)۔ ترجمہ: ’’پڑھتے ہیں کتاب تجھ سے پہلے والی‘‘۔ میں الکتاب سے مراد (پوری) بائبل ہے اور اس سے موجودہ بائبل کی آنحضرت[ کے زمانے میں موجودگی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ قراءت موجودہ و حاضر کتاب کی ہوتی ہے۔ (ملخصًا)

اس آیت میں ’’الکتاب‘‘ سے مراد پادری صاحب نے جو بائبل یعنی توریت، صحائف، زبور، اناجیل اور خطوط وغیرہ لیا ہے وہ غلط ہے، آیت کے سیاق و سباق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہاں الکتاب سے مراد صرف توریت ہے نہ کہ ساری بائبل۔

(۲) کے ایل ناصر صاحب نے قرآن کریم کی آیت ’’من اھل الکتاب امۃ قائمۃ یتلون آیات اللہ‘‘ کو نقل کر کے ’’آیات اللہ‘‘ سے مراد بائبل لیا ہے اور کہا ہے کہ ’’امۃ قائمۃ‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو مراقبہ میں قابلِ نمونہ تھے۔ جبکہ اس آیت میں آیات اللہ سے مراد قرآن پاک ہے اور امۃ قائمۃ ایمان لانے والے اہلِ کتاب کو کہا گیا ہے، اور پادری صاحب نے حسبِ عادت تحریفِ معنوی کرتے ہوئے اس آیت کی غلط تفسیر کی ہے۔

(۳) سورہ نساء کی آیت ’’اٰمنوا باللہ ورسولہ والکتٰب الذی نزل علٰی رسولہ والکتٰب الذی انزل من قبل‘‘ کو نقل کر کے کہتے ہیں کہ بائبل پر ایمان لانا ضروری ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کتنی ضروری ہے۔ لیکن پادری صاحب نے غور نہ کیا کہ یہاں ’’الکتٰب‘‘ سے مراد اگرچہ تمام انبیاء کی کتابیں ہیں لیکن نزول کا لفظ بھی ساتھ مذکور ہے جس سے اہلِ اسلام کا وہ عقیدہ ظاہر ہوتا ہے جس کا پادری برکت صاحب نے سختی سے انکار کیا ہے یعنی توریت کا لکھی لکھائی خاص زبان میں نزول۔

(۴) سورہ مائدہ کی آیت ۶۸ یوں ہے ’’یا اھل الکتٰب لستم علٰی شیء حتٰی تقیموا التورٰۃ والانجیل‘‘ اس آیت کی وجہ سے پادری صاحب کا یہ استدلال باطل ہو جاتا ہے کہ ’’الکتٰب‘‘ سے مراد قرآن پاک میں بائبل ہے کیونکہ یہاں اہلِ کتاب کے مقابلے میں تورات اور انجیل کا لفظ لایا گیا ہے یعنی کتاب سے مراد توریت و انجیل ہے نہ کہ موجودہ بائبل، اور انجیل بھی وہ جو ایک تھی نہ کہ چار مختلف انجیلیں۔

یہ وہ آیات تھیں جن سے پادری صاحب نے بائیبل کا حضور[ کے زمانہ میں موجود و مروّج ہونا ثابت کیا ہے اور آپ نے دیکھا کہ انہوں نے بعض آیات کی تفسیر میں فاش غلطیاں کیں۔ ان کے علاوہ بھی انہوں نے متعدد آیات نقل کی ہیں۔ قرآنی آیات کو نقل کرنے کے بعد انہوں نے چند احادیث نقل کی ہیں جن سے انہوں نے بائیبل کا آنحضرتؐ کے زمانے میں موجود ہونا ثابت کیا ہے، آئیے ذرا ان پر بھی نظر ڈال لی جائے۔

پادری صاحب موصوف نے مشکٰوۃ شریف کے حوالہ سے صحیح بخاری کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں ہے کہ اہل کتاب تورات کو عبرانی میں پڑھتے اور عربی میں اس کی تفسیر کرتے تھے۔

ہمارے نزدیک اس آیت سے موجودہ بائبل کا اس زمانے میں وجود کا استدلال کرنا جہالت ہے اور پادری صاحب خود بھی اس کتاب کے ص ۴۲ پر یہ تفسیر فرما چکے ہیں کہ تورات سے مراد پانچ صحیفے ہیں یعنی پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثناء اور مسیحیوں کے نزدیک ان پانچ صحائف کو بائبل نہیں کہا جاتا۔ اسی طرح مشکٰوۃ ہی میں یہ روایت ہے کہ حضورؐ نے یہود و نصارٰی کے تورات و انجیل کے پڑھنے کی طرف اشارہ کیا ہے، اور دوسری حدیث یہ ہے کہ حضرت عمرؓ نے آنحضرتؐ کے سامنے تورات پڑھی تو حضورؐ ناراض ہوئے۔ جبکہ پادری صاحب ان احادیث سے جن میں توراۃ کا لفظ ہے یہ استدلال کر رہے ہیں کہ عبرانی بائبل اور عربی بائبل ہی موجود تھی۔ اور اسی طرح تورات سے مراد بائبل لیتے ہوئے انہوں نے چند آیات نقل کی ہیں جن میں خدا کی جانب حضرت موسٰیؑ کو کتاب دینے اور ان پر نازل کرنے کا ذکر ہے۔ اسی طرح وہ آیات بھی ذکر کی ہیں جن میں زبور اور انجیل کے بارے میں اتارنے اور انبیاء کو دینے کا تذکرہ ہے۔ الغرض پادری صاحب کی یہ کتاب غلطیوں اور خرافات کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے ص ۵۱ تک تو قرآنی آیات کے بیان اور ان کی من مانی تفسیر کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس سے آگے انہوں نے چند روایات و اقوال کو نقل کر کے اپنے زعم میں چونکا دینے کی کوشش کی ہے۔

امام رازیؒ کی تفسیر کبیر اور امام سیوطیؒ کی تفسیر درمنشور سے انہوں نے چند روایات کو نقل کیا ہے جن میں صراحت ہے کہ توریت و انجیل کے حروف و الفاظ بدلے نہیں گئے۔ یہ بھی پادری صاحب کی مغالطہ نوازی ہے کیونکہ مفسرین کسی آیت کی تفسیر میں جو کچھ نقل کرتے ہیں وہ سب ان کے نزدیک صحیح نہیں ہوتا۔ مفسرین کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی آیت کے ضمن میں جتنے اقوال ان کے علم میں ہوتے ہیں وہ سب نقل کر دیتے ہیں جو بعض اوقات متضاد بھی ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مفسر نے جو بات کسی آیت کی تفسیر میں نقل کی ہے وہ اس کے نزدیک صحیح بھی ہے۔ چنانچہ جناب محمد اسلم رانا اس کی وضاحت میں یوں لکھتے ہیں:

’’قرآن کریم کے قدیم مفسرین کسی مسئلہ پر لکھتے وقت موافق و مخالف دونوں اقسام کے اقوال بلا کم و کاست بیان کر دیتے تھے۔ وہ جس نظریہ کو درست سمجھتے اس کے دلائل زیادہ پھیلا کر لکھتے، بصورتِ دیگر اپنی رائے کا برملا اظہار آخر میں کرتے۔ تفاسیر میں غلط، صحیح، رطب، یابس، ہر قسم کے اقوال و آراء اور روایات مرقوم ہوتی ہیں۔ مفسر درج ضرور کرتا ہے لیکن ان سب کو صحیح نہیں سمجھتا۔‘‘ (طب و صحت ص ۱۴)

ہاں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کا ایک قول پادری صاحب نے نقل کیا ہے، وہ یہ ہے:

’’اما تحریف لفظی در ترجمہ توریت و امثال آں بکار می بردند نہ دراصل توریت پیش ایں فقیہہ ایں چنیں محقق شد و ھو قول ابن عباسؓ‘‘۔ (الفوز الکبیر ص ۷)

ترجمہ: ’’تحریف لفظی تو توریت اور اس جیسی دوسری کتابوں کے ترجمہ میں کرتے تھے نہ کہ اصل توریت میں، میرے نزدیک یہی محقق بات ہے اور یہ ابن عباسؓ کا قول ہے۔‘‘

پادری صاحب نے ترجمہ سے مراد تفسیر لیا ہے اور شاہ صاحبؒ کے قول سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ صرف تحریف معنوی کے قائل ہیں حالانکہ شاہ صاحبؒ کا یہ مسلک نہیں ہے کیونکہ وہ خود دوسرے مقام پر ارشاد فرماتے ہیں:

’’ضلالت ایشاں تحریف احکام توریت بود خواہ تحریف لفظی باشد خواہ تحریف معنوی و کتمان آیات و افترا بالحاق آنچہ ازاں بآں۔‘‘

ترجمہ: ’’یہود کی گمراہی کا بیان یہ ہے کہ یہ توریت کے احکام کی تحریف کرتے تھے خواہ تحریف لفظی ہو خواہ معنوی (یعنی دونوں طریقوں سے) اور آیات (یعنی احکام) چھپاتے تھے اور وہ چیز اس میں الحاق کرتے تھے جو اس میں سے نہیں ہے۔‘‘

اور آگے جا کر فرماتے ہیں کہ

’’جواب اشکال اوّل برتقدیر تسلیم آنکہ کلام حضرت عیسٰی باشد نہ محرف آنست کہ لفظ ابن در زمان قدیم بمعنی محبوب و مقرب و مختار بودہ است۔‘‘ (ص ۱۰)

ترجمہ: ’’پہلے اشکال کا جواب اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ بیٹے کا لفظ حضرت عیسٰیؑ ہی کا ہے اور محرف نہیں ہے، یہ ہے کہ بیٹے کا لفظ پرانے زمانہ میں محبوب، مقرب اور پسندیدہ کے معنی میں ہوتا تھا۔‘‘

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پادری صاحب حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی طرف جس بات کو منسوب کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ باقی رہی وہ عبارت جس میں ابن عباسؓ کا حوالہ ہے تو پادری صاحب کو یہ پتہ ہونا چاہیے کہ تورات جن الواح پر لکھی ہوئی اتری تھی ان میں تو تحریف ناممکن تھی یعنی ان میں الفاظ کی زیادتی اور کمی وغیرہ ممکن نہیں تھی، لہٰذا جب وہ اس کو دوسری زبانوں میں ترجمہ کرتے تھے تو تحریف لفظی کر دیا کرتے تھے اور یہی شاہ صاحبؓ کا مطلب ہے۔ پادری صاحب بتائیں کہ آپ کیتھولک کلیسا سے کیوں الگ ہوئے؟ کیونکہ ان کے پوپ اور پادری خود ہی سب کچھ کرتے تھے اور عوام کو کتاب مقدس پڑھنے سے روکتے تھے۔ آپ جو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اصل عبرانی بائبل ہے تو ہمیں عبرانی زبان کو صحیح طور سے سمجھنے والوں کی تعداد گنوا دیں۔ اور ابن عباسؓ کی طرف بھی وہ قول منسوب نہیں کیا جا سکتا جو پادری صاحب شاہ ولی اللہؒ کے قول سے اخذ کیے بیٹھے ہیں کیونکہ بخاری شریف میں عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنھم سے یہ روایت موجود ہے:

ان عبد اللہ بن عباس قال یا معشر المسلمین کیف تسألون اھل الکتاب عن شیء وکتابکم الذی انزل اللہ علّی نبیکم احدث الاخبار باللہ محضًا لم یثب وقد حدثکم اللہ ان اھل الکتاب قد بدّلوا من کتب اللہ وغیروا فاکتبوا بایدیھم الکتب قالوا ھو من عند اللہ لیشتروا بہ شفًا قلیلًا اولا ینھاکم ما جاءکم من العلم ان مسألتھم ولا واللہ ما رأینا اجلًا منھم یسألکم عن الذی انزل علیکم۔ (بخاری ج ۲ ص ۱۱۲۲)

تو اس حدیث میں صراحت ہے کہ ابن عباسؓ نے لوگوں کو منع کیا کہ وہ اہلِ کتاب سے کوئی سوال نہ کریں کیونکہ قرآن کے مطابق انہوں نے تحریف و تبدیلی کی۔

قارئین! اس جامع بحث میں ہم نے پادری کے ایل ناصر کے اس دعوٰی کا تاروپود بکھیر دیا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کا تصدیق کنندہ ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے پیش کردہ دلائل بھی جواب کے محتاج نہیں تھے لیکن ہم نے پادری صاحب کے پیش کردہ ضروری دلائل پر قلم اٹھایا تاکہ وہ خواہ مخواہ کی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ ہمارا مقصد قطعًا توریت و انجیل کی اہانت نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں ان کتابوں کو نور و ہدایت کے القاب دیے گئے ہیں لیکن جیسا کہ مقالہ سے واضح ہے کہ پادری صاحب کے اس زعم کو ہم نے توڑا ہے کہ قرآن پاک موجودہ بائبل کی تصدیق کرتا ہے اور اس سلسلے میں ہم نے خالصتًا انصاف سے کام لیا ہے، فللہ الحمد لٰی ذٰلک۔

مذاہب عالم

(جنوری ۱۹۹۰ء)

جنوری ۱۹۹۰ء

جلد ۲ ۔ شمارہ ۱

جہادِ افغانستان کے خلاف امریکی سازش
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

انکارِ حدیث کا عظیم فتنہ
شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر

قرآنِ کریم نے موجودہ بائبل کی تصدیق نہیں کی
حافظ محمد عمار خان ناصر

عورت کی حکمرانی کی شرعی حیثیت
مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اسلام میں خواتین کی ذمہ داریاں اور حقوق
مولانا قاری محمد طیبؒ

آپ نے پوچھا
ادارہ

تعارف و تبصرہ
ادارہ

Flag Counter