سوڈان میں غروب آفتاب

محمد اظہار الحق

سنیچر تھا اور مارچ کی پانچ تاریخ۔ صبح کا وقت تھا جب ڈاکٹر حسن الترابی اپنے دفتر میں بے ہوش ہوگئے۔ انہیں فوراً خرطوم کے رائل انٹرنیشنل ہسپتال میں لے جایا گیا۔ پھر دل کا دورہ پڑا اور سوڈان کا یہ فرزند، جس نے صرف اپنے خطے میں نہیں، پورے عالم اسلام میں بلکہ پوری علمی اور سیاسی دنیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کیا تھا، اپنے پروردگار کے حضور حاضر ہوگیا۔ ہم سب نے لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے!

حسن الترابی سوڈان کے صوبے کسالہ میں 1932ء میں پیدا ہوئے۔ خرطوم یونیورسٹی سے قانون میں ڈگری حاصل کی۔ پھر انگلستان جا کر پڑھتے رہے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری سوربون یونیورسٹی پیرس سے لی۔ عربی ان کی مادری زبان تھی۔ انگریزی، فرانسیسی اور جرمن روانی سے بولتے تھے۔ صدر جعفر نمیری نے انہیں اٹارنی جنرل مقرر کیا۔ سیاسی کیریر ان کا تلاطم خیز رہا۔ مخالفین نے الزام لگایا کہ صدر حسن البشیرنے سوڈان کو ’’پولیس سٹیٹ‘‘ بنایا تو حسن الترابی نے اس کا ساتھ دیا۔ وہ جہادیوں کے بھی حامی رہے۔ کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے ہوئے تو حسن الترابی نے ان حملوں کو ’’'قابل فہم‘‘ قرار دیا۔ ان کا یہ قول بہت مشہور ہوا کہ ’’اگر آپ جبر اور ظلم کا مقابلہ کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں تو انہیں حریت پسند اورانقلابی کہتے ہیں۔ نہ پسند کریں تو یہی حریت پسند ''دہشت گرد‘‘ بن جاتے ہیں!‘‘

خلیج کی جنگ چھڑی تو سعودی امریکی اتحاد کی شدید مخالفت کی۔1990۔91ء میں ’’عرب اینڈ اسلامک کانگریس‘‘ بنائی اور پورے عالم اسلام سے شیعہ اور سنی تنظیموں کو اکٹھا کیا۔ ان میں پی ایل او اور حزب اللہ بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر ترابی نے سیاسی علمی اور قانونی سفر میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ تین سال لیبیا میں جلا وطن رہے۔1992ء میں اوٹاوا( کینیڈا) کے ہوائی اڈے پر ایک سوڈانی نے، جو سیاسی مخالف تھا، ڈاکٹر صاحب پر چاقو سے حملہ کیا۔ یہ شخص کراٹے کا ماہر تھا اور بلیک بیلٹ جیتے ہوئے تھا۔ حملہ شدید تھا۔ حملہ آور نے سمجھا کہ وہ ختم ہوگئے۔ انہیں روبصحت ہونے میں بہت وقت لگا۔مگر ڈاکٹر حسن الترابی کا اصل کارنامہ ان کا وہ موقف ہے جو مسلمانوں کو پیش آنے والے گمبھیرمسائل پر انہوں نے فقہی اور علمی اعتبارسے پیش کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک متنازع میدان تھا۔ اس پر بہت لے دے ہوئی۔ کفر کے فتوے لگے۔تاہم مجموعی طور پر مسلمانوں نے خاص طور پر وہ جو غیر مسلم ملکوں میں قیام پذیر تھے، ان کے موقف کو سراہا۔

روزنامہ الشرق الاوسط، دنیا کا معروف ترین عربی روزنامہ ہے۔ اس کا اجراء لندن سے 1978ء میں ہوا تھا۔ اب یہ چار براعظموں کے چودہ شہروں سے شائع ہوتا ہے اور پوری دنیائے عرب میں مقبول ہے۔ اپریل 2006ء میں اسی نے جدید مسائل پر ڈاکٹر صاحب سے ایک تفصیلی انٹرویو لیا۔ اس انٹرویو کے مندرجات، قدرے اختصار کے ساتھ، قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم ان کے موقف سے اتفاق کریں۔ یہ بھی لازم نہیں کہ اختلاف برائے اختلاف ہو۔ مقصد جدید مسائل کے حوالے سے ذہنی وسعت اور قوت برداشت پیدا کرنا ہے اوراس احساس کو اجاگر کرنا ہے کہ اسلام ہر زمانے میں قابل عمل ہے۔


سوال: مسلمان عورت اور نصرانی یا یہودی لڑکے درمیان شادی کے معاملے میں آپ کا فتویٰ بہت متنازع ہوا ہے۔ کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ شادی شدہ عورت اسلام قبول کرنے کے بعد غیر مسلم شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہے؟

جواب: پہلے تو اسی مسئلے کو اجتہاد کے نقطہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔ آج کے مسلمان ، عورت کے حوالے سے قابل اعتماد اسلامی قوانین کی پروا نہیں کرتے اور اپنی بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں غورو فکر نہیں کرتے۔ یہ فتویٰ اس صورت حال کے پیش نظر دیا گیا تھا جو مسلمان کمیونٹی کو امریکہ میں پیش آ رہی ہے۔ ایک امریکی عورت قبول اسلام کے لیے ایک اسلامی مرکز میں گئی۔ اسے بتایا گیا کہ وہ قبول اسلام کے بعد شوہر کے ساتھ نہیں رہ سکتی، خواہ اسے غیر معمولی مالی قیمت ادا کرنی پڑے یا بچوں کو بھی چھوڑنا پڑے۔ ان حضرات نے بالکل نہیں سوچا کہ ابھی تو وہ پہلا قدم اٹھا رہی تھی اور یہ کہ اس رویہ سے عورتیں مسلمان ہونے سے گریز کریں گی۔فتویٰ دینے سے پہلے مجھے خاصی تحقیق کرنا پڑی اور فقہ کی اکثر وبیشترکتابیں دیکھنا پڑیں۔ تمام فتوے جنہوں نے مسلمان عورت اور غیر مسلم مرد کی شادی کو منع کیا تھا، ان زمانوں کے تھے جب مسلمانوں اور غیر مسلموں میں جھگڑے اور لڑائیاں ہورہی تھیں۔ دوسری طرف قرآن اور سنت میں ایسی شادیوں کے خلاف مجھے ایک لفظ بھی نہ ملا۔

اس خاص واقعہ کے حوالے سے میرا موقف یہ تھا کہ وہ عورت مسلمان ہونے کے بعد اپنے غیر مسلم شوہر کے ساتھ ہی رہتی اور شوہرکے قبول اسلام کی وجہ بن جاتی۔ مسلمان ہونے والی باقی عورتوں کے خاندان بھی پیروی کرتے۔ مجھے اس موقف کے بعد بہت اعتراضات موصول ہوئے۔ کچھ نے مجھے کافر بھی قراردیا۔ لوگوں نے اسے عزت اور بے عزتی کا مسئلہ بنالیا۔ حالانکہ زیادہ امکان یہی تھا کہ شوہر بھی مسلمان ہو جاتا۔ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کا مفاد بھی اسی میں تھا۔ مسلمان اقلیتوں کو جو ''اہل کتاب‘‘ کے ملکوں میں رہ رہی ہیں خود اس مسئلے پر غور کرنا چاہیے اور خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا مناسب ہے کیونکہ صورت حال کا سامنا انہی کو ہے۔ وہ اس نتیجے پر ہی پہنچیں گی کہ انہیں اہل کتاب سے شادیاں کرنے کے لیے بیٹیوں کو اجازت دے دینی چاہیے کیونکہ قوی امکان یہ ہے کہ وہ شوہروں کو اپنے راستے پر لے آئیں گی!

(غیر مسلم عورت کے قبول اسلام پر شوہر کو نہ چھوڑنے کے متعلق ''یورپی کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ‘‘ نے بھی وہی فتویٰ دیا ہے جو حسن الترابی نے دیا۔ اس کونسل میں لبنان، سوڈان، سعودی عرب، ماریطانیہ، کویت اور یو اے ای کے علاوہ مغربی ملکوں کے ممتاز علماء بھی شامل ہیں۔ معروف فقیہ یوسف القرضاوی بھی کونسل کے ممبر ہیں)۔

سوال: آپ نے ایک اور متنازع بات بھی کہی کہ گواہی میں مرد اور عورت برابر ہیں؟

جواب: بھائی ، میری بات سنے اور سمجھے بغیر، فیصلہ نہ کیجیے۔ جس آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے، اس میں قرضے کو ضبط تحریر میں لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس میں حکم ہے کہ ایک لکھنے والا ہو اور معاہدے کی تصدیق کے لیے گواہ ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’عورتوں میں سے ایک بھول نہ جائے‘‘، یہ نہیں فرمایا کہ وہ یقیناًبھول جائے گی۔ ایک اور مقام پر کلام پاک میں دو انصاف پسند گواہوں کی بات کی گئی ہے جو کسی کی موت پر گواہی دیں گے۔ یہاں جنس کی تخصیص ہی نہیں کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ خاندان میں کسی کی موت کے وقت زیادہ امکان یہ ہے کہ خواتین اس وقت پاس ہوں گی۔ یہاں مردوں اور عورتوں کی گواہی کے لیے ایک ہی معیار ہے۔

بہت سے لوگوں کو معلوم ہی نہیں کہ گواہی دینے کی کئی صورتیں ہیں۔ جیسے معاہدے کی تصدیق ، یا جج یا وکیل کے سامنے شہادت دینا! آج کے عہد میں بہت سی خواتین وکالت میں اور بزنس میں نام پیدا کر رہی ہیں۔ بہت سے مرد ان کا مقابلہ ہی نہیں کرسکتے۔ ابتدائے اسلام میں بزنس اور تجارت میں خواتین ناتجربہ کار تھیں! یہ اب جج پر منحصر ہے کہ وہ کس کو گواہ کے طور پر قبول کرتا ہے۔

سوال: کیا آپ نے فتویٰ دیا ہے کہ عورت نماز پڑھا سکتی ہے؟

جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ منع کس نے کیا ہے؟ یہ تو آپ لوگوں کا رواج اور روایات تھیں جو عورت کو نماز گھرپر پڑھواتی رہیں نہ کہ مسجد میں۔ یہ قرآن اور حدیث کا حکم تو نہ تھا! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ تھیں جو مردوں کو نماز پڑھاتی رہیں۔ اگر کوئی خاتون نیک ہے تو اسے نماز پڑھانی چاہیے اور اگر کسی کا خیال اسے دیکھ کر کسی اور سمت بھٹک جاتا ہے تو اسے بیمار (ذہنیت کا)سمجھنا چاہیے! مرد کے نماز پڑھاتے وقت ہم کیا اس کی سفید داڑھی یا بدصورت چہرہ دیکھ پاتے ہیں؟ ہم یہ سنتے ہیں کہ وہ کہہ کیا رہا ہے۔ عالم فاضل اور نیک خواتین کا بھی یہی معاملہ ہونا چاہیے۔

سوال: امام مہدی کی آمد پر بھی آپ کے خیالات مختلف ہیں؟

جواب: اس ضمن میں کئی احادیث ہیں! تاہم میں مسلمانوں پر زور دیتا ہوں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے امام مہدی کا انتظار کرنے کے بجائے خود بھی کچھ کریں۔ وہ منتظر ہیں کہ امام مہدی تشریف لائیں گے اور عدل قائم کریں گے۔ وہ خود کسی قوت اور حرکت سے محروم ہیں! یہ تو موسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں والی بات ہوئی جنہوں نے پیغمبر سے کہا کہ آپ جا کر لڑائی کریں، ہم تو یہیں ٹھہریں گے۔ میں مسلمانوں سے کہتا ہوں کہ آپ سب ان شاء اللہ مہدی ہیں!

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

اخبار و آثار

(اپریل ۲۰۱۶ء)

تلاش

Flag Counter