وحدت ادیان: مکتب روایت کا موقف

مارٹن لنگز

مترجمین : ابرار حسین /عاصم رضا

پس منظر

زیرِنظر اردو ترجمہ کی تقریب یوں ہوئی کہ تقریباً پانچ برس قبل، ہم نے استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب سے مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ان سوالات کے جواب میں احمد جاوید صاحب نےہمیں مذکورہ مضمون پڑھنے کے لیے تجویز کیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کردی کہ ہو سکے تو آپ حضرات اس کا اردو میں ترجمہ بھی کردیں۔ یہ مضمون پہلی دفعہ 1976ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اکتوبر 2005ء میں اس کی دو سری اشاعت، جناب سہیل عمر صاحب کے زیر ِادارت، اقبال اکادمی لاہور کے مجلے اقبال ریویو میں ہوئی۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تعلق کے تناظر میں ادریس آزاد صاحب کی ایک تحریر کے نتیجے میں بحث کا ازسرنو آغاز ہوا۔کچھ دن قبل ہی ادریس آزاد صاحب کی تحریر بعنوان ’’نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات‘‘ دانش ویب گاہ پر شائع ہوئی ۔ استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب نے بھی اس سلسلے میں اپنا تحریری موقف بعنوان ’’ مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف‘‘ دانش ویب سائٹ پر شائع کروایا۔انہوں نے اپنی تحریر میں مارٹن لنگز کے اسی مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بدولت ہی وہ مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے وضاحت کے ساتھ روشناس ہوئے۔ظاہر ہے کہ وحدت ادیان کے ضمن میں مکتب روایت کے توثیقی موقف پر یہ بہت بنیادی حوالہ ہے کیونکہ اس باب میں یہ اہل روایت کے ایک رفیق کی طرف سے قلمبند ہونے والا ایک نمائندہ مضمون ہے۔اس حالیہ بحث کے پس منظر میں ہمیں یہ مناسب محسوس ہوتا ہے کہ مارٹن لنگز کے اس مضمون کا اردو ترجمہ افادہ عام کی غرض سے منظر عام پر لایا جائے تاکہ مکتب روایت کے نمائندوں کا وحدت ادیان بارے نکتہ نظر سامنے آسکے۔ زیرِ نظر ترجمہ اس سے پہلے جائزہ نامی ویب گاہ(Jaeza.pk) پر شائع ہو چکا ہے۔

جہاں تک زیرِنظر مضمون کے مشمولات کا تعلق ہے، تو اس حصے کو بطور خاص دقت نظر سے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے جہاں مارٹن لنگز نے قرآن شریف کی آیات سے وحدت ادیان کے حق میں استدلال کیا ہے۔مضمون کے یہ حصے تفسیر بالرائے کا شاہکار ہیں۔ہمارا مانناہے کہ مکتب روایت کے نمائندے اسماعیلی اصول تعبیر کی پیروی کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن شریف کی ماثورہ و غیر ماثورہ تفسیری روایت کو پس پشت ڈال کر وہ اس سےمن مانے باطنی معانی اخذ کرتے ہیں اور پھر جیسے چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں ان معانی کا انطباق کر لیتے ہیں۔ان کا یہ اخذوانطباق واضح طور پر تحریف فی القرآن کے زمرے میں آتا ہے۔ مختصراً، اس مضمون میں مارٹن لنگز نے واشگاف اندازسے وحدت ادیان کا اثبات کیا ہے۔ جب کہ مکتب روایت کے پاکستانی نمائندگان اب تک یہ تاثر دیتے آئے ہیں کہ وہ اسلام کو ہی واحد ذریعہ نجات سمجھتے ہیں۔تاہم ان میں سے اکثر روایت پسندوں کے 'شیخ' یعنی مارٹن لنگز بالکل ایسا نہیں سمجھتے۔

دھیان رہے کہ زیر نظر اردو ترجمے کے آخر میں دیے گئے حواشی بھی مارٹن لنگز ہی کے تحریر کردہ ہیں جب کہ آیات کریمہ سے متعلق حواشی کو ترجمہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔


مذہب میں راسخ العقیدگی کا ایک معیار یہ ہے کہ وہ درج ذیل حکم ِ ربانی کو بتمام و کمال پورا کرنے کے لیے موزوں وسائل فراہم کرے :

’’تم اپنے مالک و مختار خداوند کو چاہو قلب کے مکمل حضور، ذہن کی کامل یکسوئی، نفس کے پورے انہماک اور وجود کی تما م قوت کے ساتھ‘‘1۔

صاف دکھائی دیتا ہے کہ اِس (حکم ِ ربانی) کے ابتدائی کلمات ہی اس کا اہم ترین حصہ ہیں۔ قلب ِ روحانی ایمان کا خصوصی کارندہ ہے یقین، تعقل اور معرفت اس کے ارفع ممکنات ہیں۔ اِسے قلبِ روحانی اس لیے کہتے ہیں کہ یہ نفس کی جہت سے ویسا ہی مرکزی اور ناگزیر ہے جیسا کہ جسم کی جہت سے قلبِ طبعی۔ ایک طرف بعید از مرکز اجزاء کو اپنی طرف کھینچنے اور انہیں ایک مربوط کُل کی حیثیت سے باہم یکجا رکھنے کے لیے جب کہ دوسری طرف اُن اجزاء کی متفرق صلاحیتوں کے حدود اور احوال کے مطابق انہیں وہ کچھ بہم پہنچانے کی غرض سے جو اِس (قلبِ روحانی کو) وجود کے اُن منطقوں سے میسر آتا ہے جو اس سے برتروبالا ہیں، مرکز یعنی قلبِ روحانی کا عمل ہمیشہ جذب اور تنویر کا عمل ہوتا ہے۔ قلبِ روحانی کے مکمل حضور کو محبت میں صَرف کرنے کا مطلب ہے کامل محبت۔ ذہن اور نفس جو کہ خدا کے ساتھ محبت کے باب میں قلب پر ہی اپنا حتمی انحصار رکھتے ہیں اُن کا اِس حکم ِ ربانی میں الگ سے ذکر صرف اس لیے کیا گیا کہ ہبوطِ آدم کے لمحے میں اُن پر مرکز (یعنی قلبِ روحانی) کا غلبہ محض ایک امکانِ بعید میں ڈھل کر رہ گیا تھا اور اس لیے بھی کہ محبت ِ الہٰیہ کے ضمن میں حضور کی وہ اولین حالت جو اِسے خُلدِ بریں میں حاصل تھی اُس (حالت ) کی طرف روح کے سفرِ واپسیں میں نفس اور ذہن کی حرکتِ حُبی علّت کا کردار ادا کرتی ہے یا کم از کم ایسا محسوس ہوتا ہے، اگرچہ نفس و ذہن کی اِس حرکت ِ حُبی کا وجود احساس میں جاگزیں نہیں ہو سکتا جب تک اِسے روح کی اُس بیداریِ نو کے نتیجے کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے۔ تاثر و تاثیر پر مبنی زیرِ بحث سلسلہ، انسانی کاوش اور رحمتِ الہٰیہ کے باہمی تعامل سے متعلق ہے۔ تاہم تمام مذاہب، اسالیب ِ اظہار میں تفاوت کے باوجود ، اس نکتہ پر متفق ہیں کہ قلبِ روحانی یعنی تنزیہہ کے رخ پر ذہن یا نفس کی طرف سے ادنیٰ کوشش بھی اس قوت کی لازماً مستحق بن جاتی ہے جو قوت حیاتِ نو بخشنے اور افزودگی فراہم کرنے والی ہے۔ یہ قوت انسانی کاوش کے تناسب سے مختلف ہوتی ہے لیکن بایں ھمہ اس انسانی کاوش کو بلا تعطل تکرار کی ضرورت رہتی ہے۔

قلبِ روحانی کے ساتھ بلاواسطہ تعلق کے خاتمے کا نتیجہ اُس جذب ِ دروں کے زیاں کی صورت میں نکلا جو کہ اکیلا ہی بطریق ِ توازن دیگر قوائے ادراکیہ کے مرکز گریز رجحانات کی تعدیل کر سکتا تھا۔ چنانچہ لازم تھا کہ متذکرہ قوائے ادراکیہ اس زیاں کے بعد صرف ذاتی وسائل کے دائرے میں محدود ہو کر مرکز سے اور نتیجتاً ایک دوسرے سے بُعد پیدا کر لیں۔ اگرچہ انسانی تاریخ میں بار بار الوہی مداخلت کی وجہ سے انتشار کا یہ عمل مختصر دورانیوں کے لیے معطل اور منقلب ہوتا رہا مگر ازروئے لزوم اب یہ اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے کیونکہ کم و بیش تمام روایتوں کا اتفاق ہے کہ ہم اِس حالیہ دورانِ وقت کے اختتام کو پہنچ رہے ہیں۔ یہ کُلی انتشار جو کہ جدید آدمی کا خاصہ ہے اِس انتشار کا ایک نمایا ں وصف وہ منفرد اور بے مثال ذہنی خودانحصاری ہے جس کی بدولت کثر اذہان بیمارانہ حد تک فعال اور تقریبا ً بازی گرانہ طور پر چست و چالاک ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں، مرکز یعنی قلبِ روحانی کی یہی عدم موجودگی ہی نتیجہ اخذ کرنے اور قدری حکم لگانے کے باب میں غیر انسانی طور پر عجلت پسندانہ سطحیت کی وجہ بھی ہے۔

ذہن کی اِسی خود انحصاری کا (تنقیدی جائزہ )، فرتھجوف شوآن کی کتاب ’’ منطق اور ماورائیت ‘‘2 (Logic and Transcendence) میں ’’تفہیم اور اعتقاد ‘‘ (Understanding and Believing) نامی باب کو انتہائی اہم اور (موجودہ صورت ِ حال کے تناظر میں ) نہایت بروقت سرگرمی بنا دیتا ہے۔ مصنف ہماری توجہ مابعد الطبیعیاتی حقائق کو صرف قلب ہی نہیں نفس کی جانب سے بھی عقیدے کی تائید کے بغیر محض ذہن کے بل بوتے پر سمجھنے سے متعلق ان ہلاکت خیز مظاہر کی طرف مبذول کرواتا ہے جو کہ اب روزمرہ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ اِس (انتشار) کا واحد علاج عمل ِ تالیف ہی ہے کیونکہ نفس کو صرف اسی صورت میں عقل کے قریب ترین دائرہ اثر میں لایا جا سکتا ہے جب مختلف قویٰ باہم مربوط ہوں تاکہ یہ عقیدہ کے اُس نورِ ہدایت کےساتھ فعال تعلق پیدا کر سکے، ذہن جس کا بلاواسطہ مخاطب ہے۔ لیکن عمل ِ تالیف کے بعد پیدا ہونے والے ذہنی فہم کی حیثیت اِس جادۂ بازگشت کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کی ہے۔ وہ رکاوٹیں جو ذہن کے لیے عمل ِ تفہیم کو مشکل یا ناممکن بنا دیتی ہے موجودہ تناظر میں ہمیں اُنھی رکاوٹوں کو دور کرنے کے ابتدائی مرحلے سے غرض ہے۔ ذہانت اپنا ایک استحقاق رکھتی ہے اور مذہب کے نمائندوں کی طرف سے اس استحقاق کو ہمیشہ ٹھکرایا نہیں گیا۔ بہرحال ذہنی قویٰ کو بار بار اثبات اور تسکین کی ضرورت رہتی ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے تحت مذہب کے پاس بعض ادھوری سچائیوں کو قربان کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں، چہ جائیکہ ان مفروضوں اور خیال آرائیوں کا تذکرہ کیا جائے جنھیں ماضی میں خدا کے ساتھ نفس و وجود کی کلی محبت کے لیے موثر محرکات سمجھا جاتا تھا۔

کسی مذہب کے منفرد طور پر اثر انداز ہونے کے دعویٰ کو ادھوری سچائی ہی کا درجہ دیا جانا چاہیے کیونکہ ایسے اکثر معاملات میں فی الواقع کوئی دوسری صورت وجود نہیں رکھتی3۔ ماضی میں ایک مذہب کا دوسرے مذاہب کی ثقاہت اور اثر اندازی کو لائقِ توجہ سمجھنا ایساہی لایعنی عمل ہوتا تھا جیسا کہ ایک زندگی بچانے والی کشتی سے قریب ہی پانی میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا افراد کے لیے کیے جانے والا یہ اعلا ن کہ وہاں سے پانچ میل کی مسافت پر ایک ویسی ہی مضبوط جان بچانے والی کشتی موجود ہے۔ اس طرح کے کسی بھی اثباتِ غیر کی عدم موجودگی عبادات کے باب میں ذہنوں کو معرض ِ شک میں ڈالنے کی وجہ نہیں بنتی تھی کیونکہ بالعموم ہر ایک روایتی تہذیب دوسرے انسانی گروہوں کی نسبت (ایک نوع کے ) حصارِ تنہائی میں قائم ہوتی تھی۔ مزیدبراں، اِس عمومی تصور میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں ہے کہ بعض مذاہب متروک ہیں اور الوہی مداخلت کی بدولت وہ منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ نہ ہی اس بات پر کوئی شک کیا جا سکتا ہے کہ مذاہب ِ باطلہ کا وجود بھی عین ممکن ہے کیونکہ خود مذہبی متون جھوٹے پیغمبروں کی بابت کلام کرتے ہیں ۔ مثلاً قرون ِ وسطیٰ کے ایک عیسائی کو اس بنا پر کسی ذہنی صدمے سے نہیں گزرنا پڑتا تھا کہ وہ یہودیت کو ایک منسوخ شدہ جبکہ اسلام کو ایک باطل مذہب کے طور پر دیکھتا ہے۔ ہر آدمی کو اس بارے میں لاعلم رہنے یا غلطی پر ہونے کا حق حاصل ہے کہ اس کے اپنے مذہبی جغرافیے سے باہر دوسرے مذہبی دائروں میں کیا وقوع پذیر ہوتا ہے۔

لیکن موجودہ زمانے میں (مذہبی معاشروں کو ) جدا کرنے والی دیواریں زیادہ تر منہدم ہو چکی ہیں ۔ بالفاظ ِ دگر، زندگی بچانے والی یہ کشتیاں ایک دوسرے کے لیے حدِ رسائی میں آ چکی ہیں اور غوطہ خوری میں کام آنے والی رسیاں باہم در آویزاں لکیروں کی مانند ایک دوسرے کو قطع کرنے لگی ہیں اور اذہان اُن خیالات کی وجہ سے مبتلائے آزار ہیں ماضی میں جن کی زد سے یہ محفوظ تھے۔ مختصر یہ ہے کہ ذہن کو خدا کی عبادت کے لیے وقف کرنا مشکل ہو جاتا ہے جب مذہبی ارباب ِ اختیار ایسے دعوے کرنے لگیں جنھیں ذہن مذہب کی تعلیم کردہ فطرت ِ الوہی کے خلاف سمجھتا ہے۔

یہاں یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ صورت حال بین الاقوامی اعتبار سے اگر نئی بھی ہے تو نسبتاً ان چھوٹی اقلیتوں کے حوالے سے یہ ماضی میں بھی موجود رہی ہے جن کی بودوماند تہذیبوں کے ان سرحدی علاقوں میں ہوئی جو ایک مذہبی تہذیب کو دوسری مذہبی تہذیب سے جدا کرتے تھے۔ چنانچہ عیسائی اور مسلمان مشرق ِ قریب میں گذشتہ تیرہ صدیوں سے زائد عرصے تک مل جل کر رہے درآنحالیکہ ہر ایک کے پاس متقابل مذہب کو اپنے مذہب کی طرح برحق مذہب کی حیثیت سے دیکھنے کے کثیر مواقع تھے۔ لیکن حالیہ ادوار تک صاحبان ِ فکر سمیت (اہل مذہب کی ) بھاری اکثریت مکمل ذہنی اطمینان کے ساتھ اس یقین کی بنیاد پر اپنی زندگی بسر کرنے کے قابل تھی کہ اکیلا اس کا مذہب ہی بہ اعتبار ِ صداقت مستند ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب بھی اسی اخراجیت پرستی (Exclusivism) کو طمانیت ذہن کے ساتھ ہم آہنگ کیوں نہیں ہونا چاہیے ؟

اس کا جزوی جواب یہ ہے کہ وہ سرحدیں محض جغرافیائی نہیں ہیں جو ایک (دینی ) تناظر کو دوسرے سے جدا کرتی ہیں۔ ایک دینی تہذیب میں انسان مسلسل ِ خدا اور جہانِ وراء کی یاد دہانی کروانے والوں کے حصار میں گھرے رہتے ہیں اور یہ عمل ِ تذکیر انفرادی اور اجتماعی سطح پر ایک نوع کی داخلیت پیدا کر دیتا ہے جو بذات ِ خود ایک قسم کی حدِ فاصل کھینچنے والی ویوار ہے4۔ ایسی دیواروں کا انہدام گو کہ برا ہے لیکن وہ قدریں ناگزیر ہیں جنھیں برقرار رکھنے میں یہ دیواریں معاونت کرتی تھیں اور ان (قدروں ) کو دیگر وسائل کے ذریعے سے تقویت ملنی چاہیے۔ مندرجہ ذیل اقتباس، اگرچہ اس کے اطلاقات زیرِ بحث نکتے کی نسبت زیادہ وسیع ہیں، ان جزوی صداقتوں کے حوالے سے انتہائی بامعنی ہے جو تقوی کی راہ میں ذہنی تعاون کے لیے رکاوٹ ہیں 5۔

’’معمول کے مذہبی دلائل حقیقتِ اشیاء کو مکمل طور پر نہ کھنگالنے اور ماضی میں ایسی کسی تحقیق کی عدم ضرورت کی بدولت نفسیاتی طور پر فرسودگی کا شکار ہو گئے ہیں اور استدلا ل کے کچھ خاص تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے میں ناکامی سے دوچار ہیں۔ اگر ایک طرف انسانی معاشرے ِ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں تو دوسری طرف اپنی قدامت کے باوصف وہ خاطر خواہ تجربات فراہم کر لیتے ہیں اگرچہ ان تجربات میں غلطیوں کی آمیزش ہو سکتی ہے۔ یہ تناقض ایسی چیز ہے کہ مذہب کی کوئی بھی عملی تعلیم جس نے مؤثر ہونے کا قصد کر رکھا ہو اسے (تجربے) کی عمومی غلطی سے نئے احکامات اخذ کرنے کی بجائے برتر درجے کے استدلال کو استعمال کرتے ہوئے جذباتی کی بجائے تعقلاتی تقاضوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے‘‘۔

اوسط درجے کے ایک مذہبی تناظر کی تمام تر تفصیلات کو جو کسی فرد کے صالح اجداد کے دینی تشخص کی بنیاد بنی ہو ں جدید دنیا میں برقرار رکھنے کی کوشش کا کم و بیش لازمی نتیجہ ذہنی المیہ ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال حضرت عیسی (علیہ السلام ) پر اس مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے جسے لکھنے کی دعوت، حال ہی میں ہمارے صفِ اول کے اخباروں کی طرف سے ایک یہودی ربی کو دی گئی۔ اس کا مقصد ایسی رائے لینا تھا جو تمام راسخ العقیدہ یہودیت کی نمائندہ رائے ہو۔ اس یہودی ربی کی تحریر کی بنیاد یہ سوال تھا کہ حضرت عیسی (علیہ السلام ) کو کس چیز نے یہ دعویٰ کرنے پر اکسایا کہ وہ مسیحا ہیں ؟ اسے اس بات پر اصرار ہے کہ ایک یہودی ہی اپنی قوم کی تاریخ کے بارے میں اپنے خصوصی علم کی بدولت اس سوال کا جواب دینے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ ایک یہودی کو اپنے اس علم کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحا کی آمد سے متعلق توقعات کبھی بھی اتنی شدید نہیں رہی تھیں جتنی کہ وہ اس خاص زمانے میں تھیں۔ خواہش سے بھرپور ایک طرح کی اجتماعی سوچ عام تھی جس نے اس بات کو تقریبا ناگزیر بنا دیا تھا کہ کوئی شخص خود کو اور دوسروں کو اس بات پر قائل کرے کہ اسے خدا کی طرف سے منصب ِ مسیحائی پر فائز کیا گیا ہے، یہودی ربی آگے چل کر حضرت (علیہ السلام ) کی انسانی حیثیت کے بارے میں بطریقِ احسن کلام کرتا ہے، وہ ان کی بہترین انسانی خوبیوں کا اعتراف کرتا ہے اور ان کے مسیحائی دعوؤں سے صرف ِ نظر کرتا ہے۔ یہ مضمون دین ِ عیسوی کے قیام کی خالصتاً نفسیاتی توضیح کی حیثیت سے کسی دوسرے شخص کے لیے راستہ ہموار کر دیتا ہے کہ وہ بعینہ ٰ اسی طرز ِ استدلال کی بنیاد پر یہودیت کو جھٹلا دے۔ دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ مصنف باعتبارِ زمان و مکان پہلی صدی کے فلسطین سے آگے سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔

وہ عملِ تصلیب کا ذکر ایسے کرتا ہے کہ جیسے اس عمل ِ تصلیب نے مسیحائی کے جھوٹے دعوؤں کی تاریخ کے ایک باب کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ہو۔ مگر اس بات کا کیا ہو گا کہ اس ’جھوٹے مسیحا‘ نے روحانی اعتبار سے تین براعظموں کو کلی طور پر جبکہ چوتھے براعظم کو جزوی طور پر مسخر کر لیا ہے بلکہ پانچویں براعظم میں بھی اس کے قابل ِ ذکر اثرات اپنے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں اور پھر اس خدا کے بارے میں کیا کہا جائے گا جس نے اس قدر پھیلی ہوئی پائیدار اور مضبوط گمراہی کو وقوع پذیر ہونے کی اجازت دے رکھی ہے ؟

بالفاظ ِ دگر، کسی دوسرے مذہب کے بُطلان کا ممکنہ اظہار بومرنگ کی طرح پلٹ کر بطلان کرنے والے کے اپنے مذہب کی اصل پر ضرب لگاتا ہے۔ چونکہ خدا ہی ہر مذہب کی اصل ہے اور ایک خدا جو اتنے بڑے پیمانے پر گمراہی کی اجازت دیتا ہو، وہ لائقِ پرستش نہیں رہے گا حتی کہ ان منتخب لوگوں کے لیے بھی جنھیں اُس نے اِس گمراہی سے بچا لیا ہو۔

اس (روایتی اعتقادی) بنیاد پر نفسِ ایمان تبھی قائم رہ سکتا ہے جب ان سلسلہ ہائے فکر کی پیروی نہ کی جائے جن کی پیروی ناگزیر ہے اور کچھ بدیہی نتائج اخذ کرنے سے انکار کر دیا جائے یعنی محبت ِ الہٰیہ تو درکنار، ذہن کی پوری قوت کو بھی مزید استعمال میں نہ لایا جائے۔ ایسا عقیدہ دن بہ دن زیادہ سے زیادہ غیرمحفوظ ہوتا چلا جاتا ہے اور اگر دوسرے مذہب پر اعتراض اٹھانے والا ایک مذہبی آدمی اپنی زندگی آخری دم تک راسخ العقیدگی کے دائرے میں رہ کر گزار بھی لے تو بھی وہ اپنے دوسرے ہم مذہبوں کے عقیدے کو محفوظ رکھنے کے لیے بہت کم وسائل کا حامل ہوتا ہے اور مسلسل اس خطرے سے دوچار رہتا ہے کہ کسی دن اسے یہ دیکھنا پڑے کہ اس کے بیٹے اور بیٹیاں لاادریت اور دہریت کی ذلت کا شکار ہو چکے ہیں۔ جدید دنیا کے روحانیت دشمن دباؤ کی وجہ سے --- اور اس بات کا اطلاق خاص طور پر جدید تعلیم کے ضمن میں ہوتا ہے – ایک زیادہ آفاقی و روحانی تناظر کے مخالف پلڑے میں وزن زیادہ ہے۔ یہ آفاقی و روحانی تناظر جو کہ واحد برحق راستہ ہے جس کا مطلب ہے روح کے قرب کی طرف مراجعت اور اس لیے بہاؤ کے خلاف اور لہروں کے الٹ حرکت۔ دوسری طرف مذہب کے بارے میں ان غلط توجیہات کے بعد جو عقل پرستی اور جعلی منطق پر مبنی ہیں، لاادریت کی صورت میں یہ باطل حل سیدھا سیدھا مزید زوال کی جانب اگلا قدم ہے۔

ایک یہودی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت عیسی (علیہ السلام ) کے مسیحائی دعوؤں کو تسلیم کر لینے سے یہ لازم آئے گا کہ یہودیت منسوخ ہو چکی ہے اور عیسائی اسے یہ بتانے کے لیے دروازے پر چوکس کھڑے ہیں کہ ہاں، یہی اصل بات ہے۔ ایک یہودی خود کو عملی اعتبار سے غلط طور پر یہودیت اور عیسائیت میں سے کسی ایک کے انتخاب کے سوال سے نبردآزما متصور کر لیتا ہے۔ مگر یہ ممکن ہے – اور یقینی طور پر یہی ایک حل ہے جسے کچھ راسخ العقیدہ یہودیوں نے انفرادی طور پر اختیار کر رکھا ہے 6۔ ۔۔ کہ کم از کم حضرت عیسی (علیہ السلام ) کے متعلق حتمی قول نہ کیا جائے بلکہ ان کی بعثت ِ اول میں آخری اور تکمیلی مسیحائی ظہور کے پیشگی آثار کو قبول کر لیا جائے درآنحالیکہ تورات اور زبور میں موجود منزل من اللہ امورِ یقینیہ پر اعتقاد کو تسلسل کے ساتھ قائم رکھا جائے۔ اُن یہودیو ں کے لیے جو عیسائیت کے ابتدائی کامیاب ترین دور میں بھی یہودیت پر قائم رہے اِس حقیقت کو کہ مسیحائی مشن ابھی مکمل طور پر پورا نہیں ہوا، اس بات کی علامت کے طور پر لیا جا سکتا ہے کہ یہودیت ابھی مکمل طور پر منسوخ نہیں ہوئی اور یہ بات یہودیوں کے لیے حضرت موسی (علیہ السلام ) کے مذہب پر قائم رہنے کا ایک جواز ہے۔

ایک یہودی کے لیے یہ بات نسبتاً آسان ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کے بارے میں اپنے اصولی موقف کا اظہار نہ کر کے مسلک ِ دوام (religio-perenis) کے تناظر کے قریب پہنچ جائے۔ چونکہ یہودیت عالمی مذہب نہیں ہے اس وجہ سے ایک یہودی اپنے ضمیر کو زیرِ بار کیے بغیر، انسانیت کے دوسرے طبقات کا معاملہ اس یقین کے ساتھ قدرت کے سپرد کر سکتا ہے کہ قدرت خود ان سے نمٹ لے گی۔ اِس کے برخلاف ایک عیسائی جو اس اعتبار سے خود کو قدرت کا ایک منتخب آلہ کار محسوس کرتا ہے --- گو کہ وہ قدرت کا آلہ کار ہے مگر کچھ حدود کے اندر۔اُس کے لیے اِن حدود کو تسلیم کرنے سے چرچ کے انکار کا نتیجہ ایک ایسے تناظر کا قیام ہے جو جدید دنیا میں خطرناک طور پر الحاد کی حدوں کے قریب جا پہنچتا ہے۔

The Call of Minaret نامی کتاب کو شائع ہوئے کئی برس بیت چکے ہیں اور اب یہ سمجھنا ٹھیک ہے کہ تب سے اب تک اِس کتاب کے مصنف کے خیالات ایک زیادہ آفاقی سمت میں گامزن ہو چکے ہیں۔ بہرطور، یہ کتاب اس المیے کی سچی آئینہ دار ہے جو اکثر عیسائیوں کو درپیش ہوتا ہے بالخصوص چرچ کے وہ مذہبی منصب دار اور مشنری اس المیے کا شکار ہوتے ہیں جنھیں اسلا م کے ساتھ قریبی رابطے کا اتفاق ہوتا ہے اور جو بطور مذہب اسلام کی طاقت اور اس کی کاملیت سے گہرے طور پر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک طرف تو ان کے لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ وہ حضرت محمد (ﷺ) کو ’جھوٹا پیغمبر‘ کہنے پر اڑے رہیں اور دوسری جانب وہ اپنے اس دعوی کو چھوڑنے کی جرات نہیں رکھتے یا وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتے کہ ’جذبہ مسیح‘ ہی انسانی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔ اس کتاب کے عنوان کی رمز یہ ہے کہ عیسائیوں کو چاہیے کہ وہ اذان کو اپنے دینی فریضے کی یاد دہانی کی حیثیت سے لیں اور وہ فریضہ ہے مسلمانوں میں حضرت عیسی (علیہ السلام) کے بارے میں اس عقیدے کی بازیافت جو مسلمانوں کے ہاں مفقود ہے۔ مصنف مزید لکھتا ہے کہ (عیسائیوں کے ) روایتی عقیدے میں موجود ذاتِ مسیح ایک تاریخی ہستی ہے جس سے فرار اختیار کرنا ناممکن ہے۔ حضرتِ مسیح کی یہی تاریخی شخصیت ہمیں دنیائے اسلام کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ یہ سوال کہ ہم یہ کیسے کریں، اپنی جگہ ایک مشکل امر ہے اور ایک بھاری ذمہ داری۔ (مصنف کے ) یہ آخری الفاظ اس مسئلے کا ناکافی بیان ہیں۔ یہ بات تقریباً ناممکن ہے کہ پختہ عمر کے مسلمانوں سے عیسوی عقیدہ نجات قبول کروا لیا جائے کیونکہ ان کے پاس ایک دوسری شکل میں فضلِ الہی اور رحمت ِ خداوندی کے بارے میں ایک مکمل عقیدہ پہلے سے موجود ہے جس میں حضرت مسیح کی تاریخی شخصیت کوئی کردار نہیں رکھتی، اگرچہ اسلامی عقیدہ میں وہ ایک بہت کریم اور عظیم الشان شاہد کے طور پر موجود رہتے ہیں۔ قرآن کریم اُن کا ذکر کلمتہ اللہ اور روح اللہ کے طور پر کرتا ہے اور حضرت محمد (ﷺ) نے ان کے ظہورِ ثانی کی تصدیق فرمائی ہے۔ ایامِ ملوکیت میں ایک خلیفہ کی درازی عمر کی دعا کرنے کے روایتی طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ خلیفہ سے یہ کہا جائے : خدا آپ کو ایسی عمر ِ دراز عطا کرے کہ آپ زمامِ اقتدار خود اپنے ہاتھوں سے حضرت عیسی ابن مریم (علیھما السلام ) کے سپرد کریں۔ مگر حضرت مسیح کو اسلام کی اندرونی ساخت کا حصہ بنانا ناممکن ہو گا کیونکہ یہ عمارت پہلے سے ہی مکمل ہے اور کامل ہے۔ قدرت چودہ سو سال تک اس انتظار میں نہیں لگی رہی کہ کوئی عیسائی مشنری آ کر (اس عمارت کا ) سنگ ِ بنیاد رکھے۔

مذکورہ مصنف ان حوالوں سے کچھ شکوک میں پڑے دکھائی دیتے ہیں اور اُن کے ہاں برہمی کے شعلے وقتا فوقتا لپکتے رہتے ہیں جیسا کہ مصنف کے اقوال ’اسلام عقیدہ مسیح کو بے دخل کرنے والی سب سے بڑی قوت کے طور پر ثابت ہو چکا ہے ‘اور یہ کہ ’عیسوی ذہن کے لیے اسلام کا عروج ہمیشہ ایک تکلیف دہ امر ہو گا ‘۔ اگرچہ اپنے تئیں مصنف غیرمعمولی مشکلات کا ذکر کرتا ہے لیکن فی الواقع اس کتاب میں شروع سے لےکر آخر تک کچھ بھی غیرمعمولی نہیں ہے اور یہی اس کتاب کی کمزوری ہے۔ ایسی کسی بنیاد پر خدا کو ذہن کی پوری قوت کے ساتھ چاہنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

بشپ آف گلڈ فورڈ کی کتاب7 ’’The New Threshold‘‘ پر بعینہٰ یہ تنقید نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس کتاب میں سینٹ جسٹن شہید (St. Justin Martyr) کی کتاب ’’Apology ‘‘ سے ایک برمحل اقتباس کی شکل میں آفاقیت تک رسائی کا کم از کم ایک قابل ِ ذکر ذریعہ موجود ہے۔ نجات دہندہ کی حیثیت سے حضرت مسیح کے امتیاز کو سینٹ جسٹن شہید کی کتاب ’’Apology‘‘ میں کلمہ کی سطح پر واضح کیا گیا ہے اور وجود کے ان ادنیٰ دائروں کو اس میں دخل نہیں دیا گیا جو ہمیشہ کثرت کی زد میں رہتے ہیں۔ اِس نقطہ نظر کے اعتبار سے نجات دہندگی کے عمل کا تعلق حضرت مسیح کی الوہی فطرت سے بنتا ہے، نہ کہ ان کی انسانی فطرت کے ساتھ اور چونکہ اس طرح یہ (عمل ِ نجات دہندگی) زمان و مکان سے ماورا ہو جاتا ہے اِس لیے اسے کسی تاریخی واقعے کی حد تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں یہ تعلیم کیا گیا ہے کہ حضرت مسیح خدا کا ظہورِ اولیں ہیں اور ہم اس کا یقین حاصل کر چکے ہیں کہ وہ کلمتہ اللہ ہیں جس کے سبب سے انسان کی ہر نسل کو فیض پہنچتا ہے۔ وہ لوگ جنھوں نے ماضی میں اس کلمہ کے ساتھ مطابقت پیدا کر لی تھی اگرچہ وہ خدا کے منکر ہی کیوں نہیں تھے جس طرح کہ سقراط، ہیراقلیطوس یا ان کی مثل دوسرے یونانی اور وہ لوگ بھی جو اب اس حالت میں جی رہے ہیں وہ سب عیسائی ہیں خوف سے مامون اور اضطراب سے محفوظ 8۔

عیسائیوں کے لیے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی نسبت درست ترین نقطہ نظر کی حیثیت سے سینٹ جوسٹن کے نقطہ نظر کی یاد دہانی کروانے کی غرض یہ ہے کہ بشپ آف گلڈ فورڈ واضح طور پر اس نقطہ نظر کے ناقابل ِ فرار ضمنی نتائج پر مہر تصدیق ثبت کر دیتا ہے کہ نجات دہندگی کا عمل دوسرے (مذہبی ) پیرائیوں میں بھی ویسے ہی بروئے کار آتا ہے جس طرح کہ جذبہ مسیح کے عیسوی عقیدہ میں۔ اس نقطہ نظر کے برعکس یہ دعوی کہ عالم کثرت میں رحمت ِ الہٰیہ جو کہ بہ اعتبارِ تعریف ہی لامتناہی ہے اسے کسی واحد موثر عملِ نجات کے دائرے میں بند ہو جانا چاہیے، اصولی اعتبار سے ایسی چیز ہے جسے ایک مابعد الطبیعیاتی مفکر آمادگی کے ساتھ قبول نہیں کر سکتا، اس سے قطع نظر کہ اس دعوی کے خلاف عاجز کر دینے والی ٹھوس شہادت موجود ہے۔ یہ بات تسلیم کیے جانے کے لائق ہے کہ اکثریت کو اقلیت کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا ؛ کچھ دعوے ممکن ہیں جو ماضی میں نتیجہ خیز ثابت ہوئے ہوں لیکن اکثریت کے لیے اب ان کی حیثیت روز افزوں طور پر مشتبہ ہے جب کہ اہل فکر کی اقلیت کے لیے وہ دعوے مہلک ہیں۔ ایسے عیسائی موجود ہیں جن کے لیے انجیل اور زبور کے بعد سب سے زیادہ مقدس کتاب بھگوت گیتا ہے اور ہندومت کی یہ مذہبی کتاب اس بات کی ناقابل تردید اور بلیغ شہادت دیتی ہے کہ حضرت مسیح کے علاوہ کرشنا کی ذات میں نجات دہندگی کا الوہی ظہور عمل میں آیا ہے اور کرشنا کے وسیلہ سے بدھا سمیت دوسرے ہندو اوتاروں میں جیسا کہ فرتھجوف شوآن رقم طراز ہیں :

’’ہر مذہب کے شرعی مجموعہ قوانین کی صورت گری اس کے اعتقادی تقاضوں اور دوسرے مذاہب کے ساتھ تصادم کی نسبت رکھنے والی اس کی تاریخی بشارتوں کے درمیان عدم تناسب کی بنیاد پر ہوتی ہے کیونکہ یہ اعتقادی تقاضے مطلق ہوتے ہیں جیسا کہ یہ ارادہ الہٰیہ سے ماخوذ ہوتے ہیں اور اس لیے علم ِ الہٰیہ سے بھی۔ جبکہ اس (شرعی مجموعہ قوانین ) کی بشارتیں اضافی چیز ہیں کیونکہ ان کا انحصار ارادہ الہٰیہ پر نہیں ہوتا ہے اور ان کی بنیاد علم ِ الہٰیہ کی بجائے انسانی نقطہ نظر پر ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ یہ انسانی عقل اور جذبے پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر عیسائی مشنریوں کی جانب سے برہمنوں کو مکمل طور پر وہ مذہب چھوڑنے کی دعوت دی جاتی ہے جو کئی ہزار سال تک قائم رہا ہے، اور جس نے بے شمار نسلوں کو روحانی سہارا فراہم کیا ہے اور ہمارے زمانے تک آتے آتے جس نے حکمت و تقدس کے گل ہائے زیبا کو شگفتگی بخشی ہے۔ اس غیرمعمولی تقاضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں وہ دلائل ا ز روئے دانش مندی اس تقاضے کا منطقی لزوم ہونا ثابت نہیں کرتے۔ مزیدبراں، یہ دعوی جس قدر بڑا ہے اُن دلائل کو اس سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ برہمنوں کے پاس اپنے روحانی ورثے کے ساتھ وفادار رہنے کے لیے جو وجوہات ہیں وہ ان سے کہیں مضبوط ہیں جن وجوہات کی بنیاد پر انہیں اپنا مذہبی تشخص ترک کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہندو نقطہ نظر سے، برہمنی روایت کے قطعی طور پر حقیقی ہونے اور مخالف مذہبی دلائل کے ناکافی ہونے میں اس قدر عدم تناسب یہ ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہے کہ اگر خدا نے دنیا کو کسی ایک مذہب کے حوالے کرنے کا ارادہ فرمایا ہوتا تو اس مذہب کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اس قدر کمزور نہ ہوتے اور نام نہاد مشرک کہلائے جانے والے مذاہب اتنے مضبوط نہ ہوتے۔ اگر خدا کسی ایک مذہبی شریعت کے حق میں ہوتا تو کوئی بھی سلیم الفطرت آدمی اس مذہب کے حق میں دیے جانے والے دلائل کے مقابلے میں مزاحمت کرنے کے قابل نہ ہوتا‘‘9۔

آئیے، عیسائیوں کے لیے ہندومت کی ثقاہت کے اعتراف کی غرض سے لکھے گئے اس اقتباس کے ساتھ، مندرجہ ذیل اقتباس کو ملا کر دیکھتے ہیں جو کہ عیسائیوں کو مخاطب بنا کر اسلام کے اثبات کے لیے لکھا گیا ہے :

’’یہ بات کہ خدا ایک ایسے مذہب کو قائم ہونے کی اجازت دے سکتا ہے جو ایک آدمی نے انسانیت کے ایک حصے کو فتح کرنے اور آباد دنیا کے چوتھے حصے میں ایک ہزار سال سے زائد عرصہ تک خود کو قائم رکھنے کے لیے ایجاد کیا اور یوں محبت، ایمان اور بے شمار مخلص اور مشتاق روحوں کی امید کو دھوکہ دیا۔ یہ بات رحمتِ الہٰیہ کے قوانین کے خلاف ہے یا دوسرے لفظوں میں آفاقی امکان کے اصولوں کے خلاف ہے۔۔۔ اگر حضرتِ مسیح کلمہ کا واحد ظہور ہوتے ، یہ فرض کرتے ہوئے کہ کلمہ کا ایسا ظہور ممکن ہے ، تو ان کی پیدائش کا اثر یہ ہوتا کہ یہ کائنات فوری طور پر راکھ کا ڈھیر ہو جاتی‘‘ 10۔

بعد ازیں، اسلامی شریعت کی حدود کا جائزہ لیتے ہوئے یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ یہودیت اور عیسائیت کے برعکس اسلام اس دورانِ وقت کے آخری مذہب کی حیثیت سے اپنے قلعہِ خاتمیت میں رہ کر دوسرے مذاہب کے لیے فیاضی کا متحمل ہو سکتا ہے۔ مزید براں، اس دوران ِ وقت میں اس کی یہ حیثیت ِ خاتمیت اس پر بطور جامع الادیان یہ ذمہ داری عائد کر دیتی ہے کہ یہ انصاف کے ساتھ ماسبق کو بیان کرے یا کم از کم جن چیزوں کو یہ بالتخصیص بیان نہیں کرتا ، ان کے بارے میں موقف سازی کا دروازہ کھلا رکھے۔

ترجمہ: ’’بے شک، ہم نے آپ (یعنی حضرت محمد ﷺ) سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں جن میں سے بعض کے بارے میں ہم نے آپ کو مطلع کر دیا ہے اور بعض کے بارے میں ہم نے آپ کو کوئی خبر نہیں دی‘‘ (سورۃ المومنون، آیت نمبر 78)۔

ہم اس آیت کریمہ کا حوالہ بھی دے سکتے ہیں :

ترجمہ: ’’ بے شک اہل ایمان (یعنی مسلمان ) اور یہودی اور صابی11 اور عیسائی جو کوئی بھی خدا پر اور آخرت پر ایمان لایا اور جس کسی نے بھی اعمالِ تقوی اختیار کئے، نہ تو ان کو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی کوئی پچھتاوا‘‘ (سورۃ المائدہ، آیت نمبر 69)۔

اسلامی تہذیب کے دائرے میں یہودیت اور عیسائیت دونوں کے لیے جگہ موجود ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ہیکل اور کلیسا اور یہودیوں اور عیسائیوں کے مقاماتِ مقدسہ کو تحفظ فراہم کریں۔ اندلسی یہودیوں کے لیے یہ ایک آفت تھی جب عیسائیوں نے اندلس کو بارِ دگر فتح کیا تھا۔

تاہم اس کا اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ اسلام کے مقتدرہ طبقات دوسرے مذاہب کے مقتدر طبقات کی نسبت روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی خاطر تعقل کے پہلو کو قربان کرنے کے لیے کم آمادہ نہیں رہے۔ اس امر کو ماننے کے لیے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور اکثریت یہ تسلیم کرنے کے لیے بہت پرجوش رہی کہ اسلام نے دوسرے تمام مذاہب کو منسوخ کر دیا ہے اس لیے روئے زمین پر ایک اکیلا اسلام ہی مستند مذہب ہے۔ مسلمان متکلمین اور فقہاء کے دعویٰ اگرچہ کتنے ہی مطلق کیوں نہ ہوں لیکن ان دعوؤں کو وہ رواداری اضافی بنا دیتی ہے جسے اسلام یہودیت اور عیسائیت کے معاملے میں مسلمانوں پر واجب کر دیتا ہے۔ اس کا مکمل شعور اگرچہ معدودوے چند لوگوں کو ہوتا ہے کہ شک کی اس آمیزش کے ساتھ مذکورہ دعوے ضروری طور پر عقل کے لیے ناقابل قبول نہیں ہیں اور لازماً ایک مفکر کو خدا کے ساتھ ازروئے عقل تعلق پیدا کرنے سے نہیں روکتے مگر شرط یہ ہے کہ وہ مفکر اسلامی تہذیب کے دائرے کے اندرہی رہے جو اسے اس اخراجیت پسندی کے تمام اطلاقات بروئے کار لانے سے روکتی ہے۔

لیکن ایک دفعہ جب ہم اسلامی تہذیب کی متعین حدود سے باہر نکلتے ہیں تو صورتحال بدل جاتی ہے۔ ایک پختہ عقل زیادہ سے زیادہ ایسے دعوی قبول کر سکتی ہے جو فطری طور پر اس امر سے منتزع ہوتے ہیں کہ اسلام زمین پر سب سے آخری الوہی مداخلت کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن یہ دعوے لائق توجہ ہونے کے باوجود اضافی ہیں نہ کہ مطلق12 اور اس بات کو تسلیم کئے بغیر ایک مسلمان مفکر جدید دنیا میں ذہنی قرار حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم ایک مسلمان مفکر کے لیے ایسا کرنا مشکل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ قرآن کریم کے وہ حصے جن پر متکلمین کی اخراجیت پسندی کی بنیاد پڑی ہے ان پر ایک ہی نظر ہی اس بات کو ظاہر کر دیتی ہے کہ زیرِ غور آیات عمومی تعبیر کی نسبت ایک زیادہ گہری اور آفاقی تعبیر کا تقاضا کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ایک آیت مندرجہ ذیل ہے :

ترجمہ: ’’خدا ہے وہ ذات جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب فرما دے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی بری کیوں نہ لگے ‘‘ (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 69)۔

اس آیت کریمہ کی تعبیر محدود یا وسیع دونوں معانی میں کی جا سکتی ہے۔ اس کا فوری مفہوم واضح طور پر محدود مفہوم ہے : پیغمبر سے مراد حضرت محمد (ﷺ) ہیں اور دین ِ حق سے مراد پیغام ِ قرآنی ہے اور مشرکین سے مراد عرب، ایرانی، بربر اور کچھ دوسرے مشرکین ہیں۔ لیکن ان الفاظ کے متعلق کیا کہا جائے گا، ’تاکہ وہ اس دین کو دوسرے تمام ادیان پر غالب فرما دے‘۔ یہ ہے وہ نکتہ جس میں اس سارے معاملے کا جوہر پوشیدہ ہے۔

جدید تعلیم کے نقصانات جو کچھ بھی ہوں مگر یہ دنیا کی تاریخ اور جغرافیے کے متعلق ایک ایسا تصور پیدا کرنے میں معاونت کرتی ہے جو روایتی تہذیبوں کے افراد کے تصور کے مقابلے میں زیادہ عالمگیر ہے۔ روایتی تہذیبیں جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے تفریق اور داخل بینی کی طرف زیادہ مائل ہیں ۔ وسعتِ علم رحمت اور زحمت دونوں کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے مگر جہاں یہ موجود ہو اس کا لحاظ رکھا جانا چاہیے۔ یہ جدید دنیا میں رہنے والے ایک ذہین مسلمان کی تقدیر ہے کہ وہ جلد یا بدیر، اچانک یا بتدریج اس کا ادراک کرے کہ نا صرف یہ کہ پیغام قرآنی کو باقی تمام مذاہب پر غالب نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھی کہ ایسا نہ ہونے کی مکمل ذمہ داری خود قدرت کے سر ہے۔ اس اعتراف کا دھچکہ اس کے ایمان کو غارت کر سکتا ہے الا یہ کہ وہ یہ سمجھنے کے قابل ہو کہ محولہ بالا آیت ایک وسیع تر معنویت کی حامل ہے۔ قدرے محدود معنوں میں ’تمام مذاہب‘سے صرف یہ مراد لی جا سکتی ہے کہ اس خطہ زمین کے تمام مذاہب جہاں سے آپ کا تعلق ہے۔ لیکن اگر ’تمام ادیان ‘کو مطلق معنی میں سمجھا جائے اور اگر’مشرکین‘ میں جرمن اور کیلٹک ( Celtic) لوگوں کو شامل کر لیا جائے جن میں سے اکثر ظہور ِ اسلام کے وقت ابھی مشرک تھے تو پھر ’دین ِ حق‘ کا اطلاق بھی وسیع معنوں میں ہونا چاہیے اور ’باردگر‘ کے الفاظ کو بھی سمجھا جانا چاہیے جس کا مطلب ہے خدا وہ ذات ہے جس نے ایک دفعہ پھر اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا کیونکہ خدا نے اس سے پہلے بھی پیغمبر بھیجے ہیں اور انہیں بھی حق کے علاوہ کسی اور چیز کے ساتھ نہیں بھیجا۔ خود اسلام کی اصطلاح کی طرح دوسرے تمام سچے ادیان کو اس میں شامل کرنے کے لیے دین حق کو بھی آفاقی معنوں میں لیا جا سکتا ہے۔ قرآن اس بات کو واضح کر دیتا ہے کہ حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی ٰ اور حضرت عیسی (علیھم السلام) کے دین کو بھی اس کے لغوی معنوں میں اسلام کہا جا سکتا ہے جس کا مطلب ہے خدا کے سامنے خود سپردگی۔ اس مفہوم میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلام کو باقی تمام ادیان پر غالب کر دیا گیا ہے13 لیکن محدود معانی کے اعتبار سے اسلام کو صرف دنیا کے ایک محدود علاقے میں باقی تمام مذاہب پر غالب کیا گیا۔ قرآن کریم کو نازل ہوئے اب چودہ سو برس ہو چکے ہیں اور قدرت نے قرآن کریم کے علاوہ دوسرے ادیان ِ حق کو نصف دنیا سے زائد علاقوں میں پیغام قرآنی کی اشاعت کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر باقی رہنے دیا ہے۔

بعینہٰ، اسی پس نظر میں ان آیات کو سمجھنا چاہیے جو اس بات کا اثبات کرتی ہیں کہ حضرت محمد (ﷺ) کو تمام انسانوں14 کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔ ان آیات کو اُس مفہوم کی نسبت کم تسلط آمیز مفہوم میں سمجھنے کی ضرورت ہے جس مفہوم میں مسلمان دوسرے مذاہب اور ان مذاہب کے پیروکاروں کے بارے میں بہت تھوڑے علم یا مکمل لاعلمی کی بنا پر صدیوں تک ان آیات کو سمجھتے چلے آئے ہیں۔ یہاں قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ یہودیت اور ہندومت کے برعکس اسلام عالمی مذہب ہے لیکن قرآن کریم اس کا انکار نہیں کر رہا کہ بدھ مت اور عیسائیت بھی عالمی مذاہب ہیں اور قرآن کریم نے اسے کم از کم اصولی اعتبار سے ہر آدمی کے لیے غیرمتعین چھوڑ دیا ہے۔ یہ آخری الفاظ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ خدا وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے15 اور ہمارے پاس اس حوالے سے اس کی منشاء کو جاننے کا صرف ایک ذریعہ ہے کہ ہم نتائج16 کے ذریعے سے اس کی منشاء کے بارے میں علم حاصل کریں۔ پچھلے دو ہزار سال میں اقوام کے اعتبار سے دنیا کی جغرافیائی تقسیم جس طرح سے رہی ہے اس کے لحاظ سے ایک دیدۂ بینا رکھنے والے مسلمان اور عیسائی دونوں کے لیے یہ جاننا آسان ہے کہ جغرافیائی اعتبار سے دنیا کے ایک خاص حصے میں قدرت نے بدھ مت کو محیر العقول پذیرائی بخشی جبکہ اسلام یا عیسائیت کے لیے اس خاص علاقے میں کم اسباب میسر ہوئے ہیں۔ ایسے ہی ایک مسلمان کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ ایک دوسرے علاقے میں قدرت نے باقی مذاہب کی نسبت عیسائیت کے لیے زیادہ آسانیاں فراہم کی ہیں اور یہ بات بھی اس کا نکتہ نظر بدلنے کے لیے کافی نہیں ہو گی کہ ان دو علاقوں کے درمیان ایک تیسرے جغرافیائی خطے میں قدرت سب سے بڑھ کر اسلام پر مہربان رہی ہے کیونکہ اگر خدا نے واقعی اسلام یعنی دین محمدی (ﷺ) کو پوری دنیا میں پھیلانے کا ارادہ کیا تھا جیسا کہ ایک مسلمان یقین رکھتا ہے تو پھر اُس (خدا) نے اس قدر وسیع علاقے میں اسلام کی اشاعت کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹیں کیوں پیدا کیں؟17

قریب ترین مثال لی جائے تو قدرت برطانیہ میں اس وقت شرک کا خاتمہ کر رہی تھی جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔ عیسائیت کی صورت میں دین ِ حق کو دوسرے ادیان پر غلبہ دیا جا رہا تھا اگرچہ مشرکین کو یہ بات ناگوار تھی اور چونکہ قدرت کی طرف سے مداخلت معمولی درجہ کی نہیں ہوتی اس لیے عیسائیت کو ایسی مضبوط بنیادوں پر قائم کیا جا رہا تھا تاکہ پیغام قرآنی اسلامی تہذیب کے عروج کے زمانے میں بھی عیسائیت پر غلبہ پانے کے قریب نہ آ سکے۔ اور پھر قدرت کے لیے کچھ سال انتظار کر لینا اور برطانیہ کو نئے مذہب کی طرف پھیر دینا آسان ہوتا بجائے اس کے کہ اس نئے مذہب کے سامنے ایسی رکاوٹ کھڑی کرنی پڑی۔ اگر کسی کو جواب کی ضرورت محسوس ہو تو اس سوال کا جواب اگلی آیت میں پایا جاتا ہے جسے کافی لوگ پیغمبر کی طرف بھیجی جانے والی آخری آیات میں شمار کرتے ہیں اور بہرصورت جس آیت کا تعلق اس دور سے ہے جو دور حضرت محمد (ﷺ) کے فریضہ نبوت کی تکمیل کا دور تھا۔ اس آیت کا نزول بالذات غیرمعمولی اہمیت کے حامل اس دوران ِ وقت کے اس لمحے کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو کہ اس دوران ِ وقت کے آخری عرصے میں آسمان سے زمین کی طرف بلاواسطہ نزول ہدایت کا آخری موقع ہے18۔ قرآں کریم کی آخر میں نازل ہونے والی بہت ساری آیات کا تعلق اس نئے مذہب کی تکمیل اور کاملیت کے ساتھ ہے۔ لیکن یہ آیت بہ اعتبارِ کل انسانیت کے لیے آخری اور ابدی پیغام ہے جس میں قرآن کریم وضاحت کے ساتھ زمین پر موجود مختلف راسخ العقیدہ مذاہب کے پیروکاروں کو مخاطب کرتا ہے اور کوئی بھی دوسرا پیغام اس زمانے کے لیے جس میں ہم رہ رہے ہیں اور بالخصوص ان آخری دنوں میں انسان کے ذہنی بحران کے حل کے لیے اس قدر برمحل نہیں ہو سکتا تھا:

ترجمہ: ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے ہم نے راستے اور شریعت کا تعین کر دیا ہے اور اگر خدا19 چاہتا تو تمہیں ایک امت بنا دیتا۔ لیکن (اس نے اس کے خلاف چنا ہے ) تاکہ وہ اس میں سے تمہارا امتحان کرے جو کچھ اس نے تمہیں عطا کیا ہے20۔ اس لیے نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ تم سب کو خدا کی طرف لوٹا دیا جائے گا اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے رہے وہ ان کے بارے میں تمہیں مطلع کر دے گا‘‘(سورۃ المائدہ، آیت نمبر 48)۔


حواشی و حوالہ جات

  1. سینٹ مارک (باب پنچم، آیت نمبر تیس )۔ Deuteronomy، (باب ششم، آیت نمبر پانچ )۔ جس کا یہاں حوالہ دیا گیا ہے وہاں عنصر ذہن کا الگ سے ذکر نہیں کیا گیا جس سے کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ٹھیٹھ فنی اصطلاح میں بات کی جائے تو ذہن نفسی قابلیت ہی ہے اور اس لیے نفس کے لفظ میں اس کا مفہوم مخفی طور پر موجود ہے۔ دوسری جانب سینٹ میتھیو (باب بائیس، آیت نمبر سینتیس ) میں عنصر قوت مذکور نہیں ہے اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ جسمانی توانائی اور صلاحیت ِ برداشت دونوں پر ارادے کا غلبہ ہوتا ہے اور ارادہ بجائے خود نفسی قابلیت ہے۔
  2. باب نمبر بارہ، Harper and Row، 1975
  3. جیسا کہ فرتھجوف شوآن نے لکھا ہے: ان لوگوں کے لیے جو ایک نئے مذہب کے بانی کے ساتھ بلاواسطہ تعلق میں آجاتے ہیں متبادل کا انتخاب نہ ہو نا خود پیغمبر کی مطلق عظمت کے لازمے کی حیثیت سے مطلقاً ثابت ہو جاتا ہے۔ مزید براں، مذہب کے ابتدائی مگر مختصر زمانہ ِ مطلقیت میں مذہب کا دائرہ اثر کافی حد تک متعین ہو جاتا ہے لیکن گزران ِ وقت کے ساتھ نئے اور پرانے مذہب کے درمیان لازمی طور پر توازن قائم ہو جاتا ہے، جس قدر یہ توازن بڑھتا چلا جائے کچھ لوگوں پر پرانے مذہب کے اثرات کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
  4. گریزاں اور داخل بیں، یہ وہ اسمائے صفات ہیں کینتھ کریگ نے جن کا اطلاق مشرقی چرچ پر کیا ہے۔ Call of the Minaret) ) نامی کتاب میں مشرقی کلیساؤں پر وہ شدید تنقید کرتا ہے کہ عملاً انہوں نے صدیوں تک اسلامی مشرق کو عیسائی بنانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لگتا ہے کہ کینتھ کو اس بات کا خیال نہیں رہا کہ مذکورہ خوبیاں برائی کی نسبت اچھائی کے زیادہ قریب ہیں اگرچہ ان میں عیسائی مشنریوں کے لیے بہت کم سہولت ہی کیوں نہ ہو۔ مزید براں، 'الگ تھلگ ہو جاتا' ایک مشکل میدان میں قدم رکھنے سے بچنے کے لیے جزوی طور پر تحت الشعوری غیرآمادگی بھی ہو سکتی ہے۔
  5. فرتھجوف شوآن، اسلام اور حکمت ِ خالدہ، ورلڈ آف اسلام فیسٹیول پبلشنگ کمپنی، لندن 1976۔ اشاعت ِ ثانی (لاہور): سہیل اکیڈمی، 2000، صفحہ نمبر 53
  6. عیسائیت کی جانب یہودیت کے مجموعی مثالی رویے اور اس رویے کے نہ سمجھے جانے کی وجوہات کو جاننے کے لیے دیکھیے، فرتھجوف شوآن کی کتاب ’’اسلام اور حکمت خالدہ‘‘، صفحہ نمبر 58
  7. یہ کتابچہ مسلمان گروہوں کے ساتھ تعلقات کے باب میں چرچ کے لیے ہدایات کے ذیلی عنوان کے ساتھ حال ہی میں ورلڈ آف اسلام فیسٹیول کے موقع پر شائع کیا گیا ہے۔
  8. Logos – First Apology, Section 46 کے ترجمہ کے لیے لفظ (Reason)کی جگہ ہم نے (Intellect) کا لفظ استعمال کیا ہے۔
  9. اس مضمون کا عنوان (With All Thy Mind) فرتھجوف شوآن کے زیادہ تر حوالوں کو لازمی بنا دیتا ہے کیونکہ اس کی تحریریں مذہب کے معاملے میں عقل کو اس کا لازمی مقام دینے کے اعتبارسے رہنما کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تحریریں اس حد سے زیادہ عقل تک محدود ہیں جس حد تک خود عقل کو اس کے دائرے تک محدود کیا جا سکتا ہے کیونکہ عقل کے مکمل بروئے کار آنے میں اس کی بلند تر رسائیاں بلاواسطہ قلب پر اپنا انحصار رکھتی ہیں۔ فرتھجوف شوآن کی تحریروں کا تعلق سب سے بڑھ کر ذہن، اعلی اور ادنی ٰ کے درمیان ربط قائم کرنے والی تعقلاتی قوتوں اور قلب سے ہے۔ یعنی ایک ایسے مبحث کے ساتھ جس کا احاطہ ’’منطق اور ماورائیت‘‘ (Logic and Transcendence) کے لفظوں سے کیا گیا ہے اور یہ الفاظ بجا طور پر فرتھجوف شوآن کی زیادہ ترکتابوں کے لیے عنوان کے طور پر کام آ سکتے ہیں جس طرح کہ یہ اس کی ایک کتاب کا عنوان ہے۔ تاہم کسی غلط تاثر سے بچنے کے لیے اس بات کا اضافہ کرنا ضروری ہے کہ نفس کے متعلق جہاں شوآن نے کچھ ایسے ازکار رفتہ انسانی دلائل کو در کیا ہے جو دلائل ماضی میں ’’With All Thy Soul‘‘ کے مقصد کو پورا کرنے میں کام آتے تھے وہاں وہ ان پرانے دلائل کی جگہ ایک بلند تر سطح کے دلائل فراہم بھی کرتا ہے۔ معدودے چند لکھنے والے اس حوالے سے فنون ِ مقدسہ کی اہمیت کو اس وضاحت کے ساتھ ثابت کر سکے ہیں اور حالیہ صدیوں میں اور کون ہے جس نے اتنی گہرائی کے ساتھ اور اخلاقی بنیادوں کے برعکس دوسری بنیادوں پر خیر کی ضرورت کے متعلق لکھا ہو۔
  10. ایضاً، صفحہ نمبر 20
  11. اس بات پر کوئی عمومی اتفاق نہیں ہے کہ یہاں کون سے مذہب کی بات کی جا رہی ہے اور کچھ مسلم حکمرانوں نے انڈیا میں یاادھر ادھر اس نام کو غیر مسلم، غیرعیسائی اور غیر یہودی شہریوں کی طرف رواداری کی بنیاد بنایا ہے۔
  12. مثال کے طور پر ایک راسخ العقیدہ یہودی جسے عبرانی زبور سے بہت محبت ہے وہ اپنے مذہب کو نہ چھوڑنے اور ایسے مذاہب کو قبول نہ کرنے میں حق بجانب ہو گا جن کی مذاہب کی بنیاد اس وحی پر ہے جس وحی کی زبان وہ نہیں جانتا۔ یہاں وہ اپنی تائید کے لیے قرآنی دلیل پیش کر سکتا ہے۔
  13. جس آیت کا ہم یہاں جائزہ لے رہے ہیں وہ آیت حضرت مسیح کے ان الفاظ کے متوازی ہے، ’’آسمانی بادشاہت کا اعلان کرنے والے اس صحیفہ کی تبلیغ تمام دنیا میں کی جائے گی۔ اس کے بعد پھر قیامت واقع ہو جائے گی‘‘۔ یہ الفاظ بھی بعینہٰ محدود اور آفاقی تعبیر کے متحمل ہو سکتے ہیں اِس اعتبار سے کہ دنیا سے کیا مراد لی جاتی ہے۔ وسیع معنوں میں اس بشارت کا پہلا حصہ سچ ثابت ہو چکا ہے جس طرح کہ زمین پر رہنے والی ہر قوم تک اس صحیفہ آسمانی کی رسائی بہت آسان ہو چکی ہے اور صحیفہ آسمانی سے مراد دین ِ حق ہے کم از کم دین حق کا ایک ظہور۔
  14. قرآن کریم، سورت نمبر 34، آیت نمبر 28
  15. قرآن کریم سورت نمبر 2، آیت نمبر 253
  16. جس کا مطلب ہے عظیم الشان اور برقرار رہنے والے وہ نتائج جنھیں صدیوں آزمایا گیا ہے۔
  17. اس سوال کے جواب میں کچھ متکلمین کا پوری سنجیدگی کے ساتھ موقف یہ رہا ہے کہ خدا نے بلاشک و شبہ انسانوں کی اکثریت کو گمراہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے اور حکمتِ الہٰیہ کے بارے میں سوال اٹھانا ہمارے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اس بنیاد پر ایمان منتشر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسی منطق کی مدد سے ذہن چھپ چھپا کر خود کو محبت سے محروم کر لیتا ہے اور اس وقت وہ خدا جو کہ محبت کا حقیقی معروض ہے اس کی سب سے زیادہ بنیادی صفات کی طرف سے نظر پھیر لیتا ہے۔ دوسری وضاحت جس میں عیسائی بھی شریک ہیں، یہ ہے کہ دین حق اپنے غیر آفاقی معنوں میں بالآخر باقی تمام ادیان پر غالب آ جائے گا۔ بے شک محبت ہی فتح یاب ہوتی ہے۔ لیکن اگر پچھلے ایک ہزار یا اس سے زائد عرصے میں صرف ایک ہی مذہب نگاہِ فلک میں مستند ہوتا تو بھی اس دوران ِ وقت کے اختتام پر اس مذہب حق کی اچانک اور مکمل فتح کی توقع ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے کافی نہ ہو سکتی تھی جس کا مطلب ہے کہ یہ فتح فیصلہ کن انداز میں قدرت کو اس بات سے بری الذمہ نہیں کر سکتی تھی کہ اس نے اتنی زیادہ مدت تک اور اتنے بڑے پیمانے پر ایک جھوٹے مذہب کو غالب رہنے کی اجازت دی۔
  18. خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ لیکن یہ بات واضح طور پر انسان کے مفاد میں ہے کہ الوہی مداخلت جو ایک نئے مذہب کی بنیاد ڈالتی ہے اسے کھلے طریقے سے بذاتہ قابل پہچان ہو نا چاہیے۔ نئے مذہب کے ساتھ وابستی دعدوں کو بھی عظیم الشان اور ممتاز ہونا چاہیے تاکہ سوائے گمراہوں کے کسی کے لیے شک کی گنجائش نہ رہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی طرح کی کچھ چیزیں بچا کر رکھی جانی چاہیے تاکہ وہ اس طرح کے دور کا خصوصی اعزاز بن سکیں۔ قرآن کریم ایسی ہی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے جب وہ اس بات کا اثبات کرتا ہے کہ وہ سوالات جو نزول ِ وحی کے زمانے میں خدا سے کئے گئے ہیں ان کا جواب دیا جائے۔ اس کا ایک مطلب یہ بنتا ہے کہ وحی کے زمانے کے بعد بلاواسطہ طور پر مزید سوالوں کا جواب مہیا نہیں کیا جائے گا۔ یہ ایسے ہے کہ جیسے زمین و آسمان کے درمیان دورِ نبوت میں جو دروازہ کھلا تھا باقی تمام ادوار کے لیے اسے بند کر دیا گیا۔
  19. خدا کی ذات کے بارے میں ضمیر متکلم سے ضمیر غائب کی طرف تبدیلی تکرار کے ساتھ قرآن کریم میں موجود ہے۔
  20. اگر خدا نے آسمان سے وسیع پیمانے پر مختلف مزاج اور قابلتییں رکھنے والی دنیا کی طرف صرف ایک مذہب بھیجا ہوتا تو سب کے لیے یہ ایک جائز امتحان نہ ہوتا۔ اسی لیے خدا نے مختلف مذاہب بھیجے جو کہ خاص طور پر انسانیت کے مختلف طبقات کی ضرورتوں اور خواص کے ساتھ مناسبت رکھتے تھے۔

مذاہب عالم

(اگست ۲۰۲۱ء)

Flag Counter