اگست ۲۰۲۱ء

عالمی تہذیبی دباؤ اور مسلمان معاشرے

― محمد عمار خان ناصر

مختلف تہذیبی افکار اور معاشرتی تصورات وروایات کے اختلاط کے ماحول میں باہمی تاثیر وتاثر کی صورت حال کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے۔ اس تاثیر وتاثر کی سطح اور حد کا تعین تاریخی حالات سے ہوتا ہے جس میں سیاسی طاقت اور تہذیبی استحکام کا عامل سب سے اہم ہوتا ہے۔ اگر دو تہذیبی روایتوں کا تعامل ایسے حالات میں ہو کہ دونوں کے پیچھے سیاسی طاقت اور تہذیبی روایت مستحکم طور پر کھڑی ہو تو تاثیر وتاثر کی صورت مختلف ہوتی ہے، لیکن اگر ایک تہذیبی روایت اضمحلال وزوال اور سیاسی ادبار کے مرحلے پر جبکہ دوسری عروج واقبال کی طرف گامزن ہو تو تاثیر وتاثر کے سوال سے نبرد...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر (۷۹)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(263) اف کا ترجمہ۔ عربی میں لفظ اف دراصل منھ سے نکلنے والی ایک آواز ہے، جس سے کسی چیز یا بات سے بیزاری اور ناگواری کا اظہار ہوتا ہے۔ ہر زبان میں اس طرح کے الفاظ ہوتے ہیں۔ زمخشری کے بقول: اُفٍّ صوت اذا صوّت بہ علم انّ صاحبہ متضجر (الکشاف)۔ سورة الاسراءآیت 23 کا ترجمہ کرتے ہوئے تمام لوگوں نے اف کا ترجمہ اف کیا ہے۔ لیکن دوسری دو آیتوں میں اس کا ترجمہ بہت سے لوگوں نے تف کیا ہے۔ تف کا لفظ اف کے مقابلے میں بہت زیادہ سخت ہے اور اس کی معنوی جہت دوسری ہے۔ عربی میں یہ لفظ تھوک کے معنی میں آتا ہے۔ اردو میں اس کے معنی ہیں: تھوک، لعنت، ملامت، کلمہ نفریں (فرہنگ آصفیہ)۔...

علمِ رجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۱)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ متنوع جہات سے تقابلی مطالعے کا متقاضی ہے ،ہر دو فریق اس بات کے دعویدار ہیں کہ صدرِ اول کی درست تعبیر ،قابلِ اعتماد تاریخ اور اصلی تشریعی ادب ان کی کتبِ حدیث میں منقول ہے، فریقین کے اس دعوے کی صحیح پرکھ اسی صورت میں ممکن ہے ، جب مناظرانہ لب و لہجہ سے ہٹ کر ہر دو مکاتب کے حدیثی تراث کا تحقیقی انداز میں تقابل کیا جائے ،اس سلسلے میں فریقین کے علم رجال اور علم ِ جرح و تعدیل کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جائے گا ،یہ ایک خالص علمی سرگرمی ہے ،اس لئے اسے فرقہ وارانہ نظر سے دیکھنے کی بجائے علمی مکالمہ کے طور پر...

سوویت یونین، افغانستان اور امریکی اتحاد

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

یہ اس دور کی بات ہے جب افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کی واپسی کے بعد امریکہ ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کی طرف پیش قدمی کر رہا تھا۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ’’ابھی اسلام باقی ہے‘‘ کا نعرہ لگا کر اپنی جنگ کے اگلے راؤنڈ کی نشاندہی کر دی تھی اور جنوبی ایشیا کے حوالہ سے نئے علاقائی ایجنڈے مختلف عالمی حلقوں میں تشکیل پا رہے تھے۔ اسلام آباد میں لیفٹ کے کچھ دانشوروں کے ساتھ ایک نشست میں یہ بات زیربحث آگئی کہ افغانستان میں جو جنگ لڑی گئی ہے وہ امریکہ کی جنگ تھی جس میں اسلام اور جہاد کے جذبہ کے ساتھ شریک ہو کر قربانیاں دینے والوں نے امریکہ کی یہ جنگ لڑی...

نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ

― ڈاکٹر اکرام الحق یاسین

13؍ جون 2021ء بروز اتوار، دن 11 بجے تا 2 بجے زوار اکیڈمی کراچی کے زیر اہتمام”عصر حاضر اور ہمارے مدارس“ کے موضوع پرایک ویبینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں راقم نے ”نظام مدارس: روایت اور معاصرت کا اطلاقی جائزہ“ کے عنوان کے تحت درج ذیل گفتگو کی: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم وعلی آلہ واصحابہ اجمعین۔ مدارس دینیہ جس ماحول میں قائم کیے گئے تھے، اس کا بظاہر بنیادی مقصد دینی علوم کا تحفظ اور دعوتِ دین کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔ انگریز کے ملک پر مکمل قبضہ کے بعد مدارس کے لیے وقف جائیدادیں تقریباً ضبط کرلی گئی تھیں اور سرکاری سرپرستی...

وحدت ادیان: مکتب روایت کا موقف

― مارٹن لنگز

پس منظر: زیرِنظر اردو ترجمہ کی تقریب یوں ہوئی کہ تقریباً پانچ برس قبل ، ہم نے استاد گرامی جناب احمد جاوید صاحب سے مکتب روایت کے وحدت ادیان بارے موقف سے متعلق کچھ سوالات کیے۔ان سوالات کے جواب میں احمد جاوید صاحب نےہمیں مذکورہ مضمون پڑھنے کے لیے تجویز کیا اور ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کردی کہ ہو سکے تو آپ حضرات اس کا اردو میں ترجمہ بھی کردیں۔ یہ مضمون پہلی دفعہ 1976ء میں شائع ہوا تھا جب کہ اکتوبر 2005ء میں اس کی دو سری اشاعت، جناب سہیل عمر صاحب کے زیر ِادارت ، اقبال اکادمی لاہور کے مجلے اقبال ریویو میں ہوئی ۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مکتب...

اگست ۲۰۲۱ء

جلد ۳۲ ۔ شمارہ ۸

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter