علمِ رجال اورعلمِ جرح و تعدیل (۱)
اہل سنت اور اہل تشیع کی علمی روایت کا تقابلی مطالعہ

مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ متنوع جہات سے تقابلی مطالعے کا متقاضی ہے، ہر دو فریق اس بات کے دعویدار ہیں کہ صدرِ اول کی درست تعبیر، قابلِ اعتماد تاریخ اور اصلی تشریعی ادب ان کی کتبِ حدیث میں منقول ہے، فریقین کے اس دعوے کی صحیح پرکھ اسی صورت میں ممکن ہے، جب مناظرانہ لب و لہجہ سے ہٹ کر ہر دو مکاتب کے حدیثی تراث کا تحقیقی انداز میں تقابل کیا جائے، اس سلسلے میں فریقین کے علم رجال اور علم ِ جرح و تعدیل کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جائے گا، یہ ایک خالص علمی سرگرمی ہے، اس لئے اسے فرقہ وارانہ نظر سے دیکھنے کی بجائے علمی مکالمہ کے طور پر لیا جائے، کیونکہ علم و تحقیق پر مبنی مکالمہ علمی ارتقا کا اساسی جز و ہے۔

بحثِ اول: فریقین کا علم رجال، ایک تقابلی مطالعہ

حدیثی تراث کا استناد، ثقاہت اور اس کے صدق و سچائی کا معیار علم رجال ہے، کیونکہ حدیث کی قبل از تدوین حفاظت زیادہ تر رواۃ و رجال کی زبانی کاوشوں کا نتیجہ ہے، ہر دو فریق اپنے حدیثی تراث کی صداقت کے مدعی ہیں، اس لیے اس دعوے کی پرکھ دونوں کے علم رجال کے تقابلی مطالعے سے واضح ہوسکے گی، ذیل میں مختلف حوالوں سے فریقین کے علم رجال کا ایک تقابل پیش کیا جاتا ہے:

1۔ علم رجال کی ابتداء

فریقین کے علم رجال کو پرکھنے کے لئے سب سے ضروری اور اہم ترین بحث یہ ہے کہ ہر دو مکاتب میں علم رجال کی تدوین کب عمل میں لائی گئی ؟اور کس زمانے میں رواۃ ِ حدیث کے احوال و کوائف کو جمع کیا گیا ؟اس کی اہمیت و مرکزیت کی وجہ یہ ہے کہ موضوع حدیث میں اصلا سند میں کوئی فرضی و کذاب راوی داخل کرنا پڑتا ہے یا پورا سلسلہ سند وضع کرنا پڑتا ہے، چنانچہ علامہ ذہبی اپنی کتاب "الموقظۃ فی مصطلح الحدیث" میں موضوع حدیث کی وجوہات میں لکھتے ہیں:

"وکان باسناد مظلم او باسناد مضیئ کالشمس فی اثنائہ رجل کذاب او وضاع"1

یعنی موضوع حدیث تاریک (نامعلوم ) سند کے ساتھ ہوتی ہے، یا سورج کی طرح معلوم و مشہور سند کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن ا سکے درمیان جھوٹااور حدیث گڑھنے والا راوی داخل کیا جاتا ہے۔

اس لئے دونوں فریقوں کے بنیادی مصادر ِ حدیث کی تدوین کے وقت یہ دیکھا جائے گا کہ رواۃ و رجال کے احوال و کوائف محفوظ تھے یا نہیں ؟اگر مصادرِ حدیث کی تدوین کے وقت رجال و رواۃ ِ حدیث کے کوائف اور ان کا حدیثی مقام (توثیق و تضعیف ) کا کام ہوچکا تھا ، تو اس کا مطلب ہے کہ ان مصادرِ حدیث کے مصنفین نے وضع اسناد اور فرضی رواۃ کو اپنی کتب کا کم سے کم حصہ بنایا، کیونکہ رواۃ ِ حدیث، ان کے شیوخ و تلامذہ کے معلوم و مدون ہونے کے بعد فرضی رواۃ اسناد کا پتا لگانا چنداں مشکل نہیں ، اور اگر تدوین ِ حدیث کے وقت رواۃ و رجال کے احوال و کوائف محفوظ و مدون نہیں تھے، تو بجا طور پر سوال پیدا ہوگا کہ مدونین ِ حدیث نے روایات کا جو جم غفیر ہزاروں رواۃ سے نقل کیا ہے، ان رواۃ کا حدیثی مقام، ذاتی زندگی، حافظہ اور دینی حیثیت (عدالت ) جب معلوم ہی نہیں ہے، تو ان ہزاروں روایات کو علمی طور پر کیونکر ثابت مانا جاسکتا ہے ؟اب ہم اسی اصول پر فریقین کے علم رجال کی ابتدائی تاریخ کا ایک جائزہ لیتے ہیں کہ علم رجال اور تدوینِ حدیث کا زمانہ ایک ہے یا نہیں ؟

سنی علم رجال کی تدوین کا زمانہ

سنی حدیثی تراث یعنی صحاح ستہ کا زمانہ تدوین دوسری صدی ہجری (194 ھ امام بخاری کی ولادت )کے آخر سے لیکر چوتھی صدی ہجری کے شروع (303ھ امام نسائی کی وفات) تک ہے، اب اگر ہم سنی علم رجال کا زمانہ تدوین دیکھیں، تو علم رجال کے اولین مدونین سارے کے سارے اصحابِ صحاح ستہ کے ہم عصر یا ان کے شیوخ ہیں، بلکہ اصحابِ صحاح ستہ میں سے بعض خود علم رجال کے اولین مدونین میں شامل ہیں، ذیل میں سنی علم رجال کی اولین کاوشوں کا ذکر کیا جاتا ہے، یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں صرف انہی کتب ِ رجال کا ذکر کیا جائے گا، جو ہم تک پہنچی ہیں، تاکہ دستیاب مواد و تراث کی مدد سے اس قضیے کو دیکھا جائے ، تاریخی مفروضوں سے اس بحث کو بچایا جاسکے اور یقینی و موجود حقائق پر اس کی بنیاد رکھی جائے۔جو کتب تاریخ میں صرف نام کے ساتھ محفوظ ہیں، بوجوہ ان کا ذکر نہیں کیا جائے گا، خواہ سنی رجال کی کتب ہو یا شیعی رجال، کیونکہ اس سلسلہ مضامین میں ہم نے کوشش کی ہے کہ واقعاتی حقائق و شواہد کی بنیاد پر فریقین کے دعاوی کو پرکھا جائے:

1۔علم رجال کے اولین مدونین میں خود امام بخاری شامل ہیں، جنہوں نے سنی علم حدیث کی سب سے اصح کتاب لکھی ہے، امام بخاری نے علم رجال کی متعدد کتب لکھی ہیں، لیکن ہم تک امام کی یہ کتب پہنچی ہیں:

  • علم رجال پر امام بخاری رحمہ اللہ کی سب سے بڑی کتاب "التاریخ الکبیر " ہے، اس کتاب میں امام بخاری نے ساڑھے تیرہ ہزار کے قریب (13308) 2 رواۃِ حدیث کا احاطہ کیا ہے، یہ کتاب نو جلدوں میں چھپی ہے، یہ تعداد صحاح ستہ کے جملہ رواۃ سے کہیں زیادہ ہے، چنانچہ صحاح ستہ کے رواۃ پر مشتمل کتاب حافظ مزی کی "تہذیب الکمال فی اسماء الرجال " کے مطابق صحاح ستہ کے کل رواۃ آٹھ ہزار(8045) ہیں، 3 یوں امام بخاری نے صحاح ستہ کے کل رواۃ سے بھی زیادہ رواۃ کے کوائف و احوال جمع کئے، گویا صحاح ستہ کی تصنیف سے پہلے ہی امام بخاری صحاح ستہ کے جملہ رواۃِ حدیث کے احوال و کوائف لکھ چکے تھے۔
  • امام بخاری نے رجال پر اس کے علاوہ "التاریخ الاوسط" التاریخ الصغیر" اور الضعفاء الصغیر " لکھی ہیں، یہ تینوں کتب بھی مطبوعہ ہیں۔

2۔علم رجال پر اسی زمانے کی سب سے بڑی تصنیف ابن ابی حاتم رازی کی "الجرح و التعدیل " ہے، جو نو ضخیم جلدوں میں چھپی ہے ابن ابی حاتم(ولادت 240 ھ ) اصحاب صحاح ستہ کے ہم عصر تھے، آپ نے اس کتاب میں اٹھارہ ہزار رواۃ 4کے حالات قلمبند کئے، یعنی صحاح ستہ کے کل رواۃ سے دوگنا رواۃ کے کوائف جمع کئے، یہ کتنی بڑی تعداد ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ شیعی رجال کی سب سے بڑی کتاب معاصر ایرانی عالم شیخ علی نمازی شاہرودی نے"مستدرکات علم الرجال " کے نام سے لکھی ہے، جس میں بھی اٹھارہ ہزار سے کچھ اوپر رواۃ ہیں، یہ کتاب شیعی علم رجال کی پندرہ سو سالہ تاریخ کی سب سے ضخیم کتاب ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ لکھتے ہیں:

"وھذہ اوسع محاولۃ استقصائیۃ لاسماء الرواۃ نشہدھا عند الامامیہ"5

یعنی یہ امامیہ کے ہاں اسماء رواۃ کے احاطے کے اعتبار سے سب سے زیادہ وسیع کتاب ہے، یوں سنی علم رجال کے ہاں جو کتاب تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی لکھی گئی، اس جیسی (مشابہت صرف تعداد رواۃ میں ہے، منہج وا سلوب میں کیا فروق ہیں، یہ ایک مستقل عنوان کے تحت ان شا اللہ آئے گا )کتاب شیعہ مکتب میں تدوینِ حدیث کے بارہ سو سال بعد لکھی گئی، اسی ایک کتاب سے فریقین کے علم رجال میں اساسی فرق کافی حد تک واضح ہوجاتا ہے۔

3۔ ان دو کتب کے علاوہ بھی صحاح ستہ کے زمانے میں علم رجال پر متعدد کتب لکھی گئیں، ذیل میں ہم ان میں سے جو کتب مطبوع ہیں، ان کی ایک فہرست پیش کرتے ہیں:

  • طبقاتِ ابن سعد، (5554 رواۃ) از محمد بن سعد زہری( 146ھ-230ھ)
  • طبقات ِ خلیفہ بن خیاط(3305 رواۃ) خلیفہ بن خیاط (160ھ-240ھ)
  • طبقاتِ امام مسلم بن حجاج (2246 رواۃ ) امام مسلم بن حجاج مصنف صحیح مسلم
  • احوال الرجال (393 رواۃ )ابو اسحاق ابراہیم بن یعقوب الجوزجانی (وفات:259ھ )
  • کتاب الضعفاء والمتروکین (703 رواۃ )امام نسائی مصنف سنن نسائی
  • الضعفاء الکبیر (2101 رواۃ) ابو جعفر محمد بن عمرو العقیلی (وفات:322ھ)
  • معرفۃ الثقات (2365 رواۃ)ابو الحسن احمد بن عبد اللہ العجلی (182ھ-261ھ )
  • تاریخ الثقات (2116 رواۃ)ابو الحسن احمد بن عبد اللہ العجلی (182ھ-261ھ)
  • تقریب الثقات(16008 رواۃ) ابن حبان البستی (270ھ-354 ھ)
  • الکامل فی ضعفاء الرجال (2212 رواۃ)ابو احمد عبد اللہ بن عدی الجرجانی (277ھ -365ھ)

تدوین ِ حدیث کے زمانے کی مطبوعہ و موجود کتب میں سے صرف دس مشہور کتب کا انتخاب کیا، ورنہ یہ فہرست اس سے کئی زیادہ لمبی ہے، اس فہرست میں شہروں کے اعتبار سے جمع کئے گئے کوائف رواۃ، کنی و القاب کے اعتبار سے، الموتلف و المختلف، المتفق والمفترق والمتشابہ، وفیات کے اعتبار سے، معاجم شیوخ کی کتب، کتبِ مخصوصہ کے رجال اور اس جیسے دیگر اعتبارات سے لکھی گئی کتبِ رجال شامل نہیں ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سنی علم رجال تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی مکمل طور پر مدون ہوچکا تھا، ہزارہا رواۃ کے احوال و کوائف ، ان کا جرح و تعدیل کے اعتبار سے مقام، ان کے طبقات، سنین وفات اور شیوخ و تلامذہ الغرض ہر اعتبار سے رواۃ کے حالات تدوین میں آچکے تھے اور یہ کتب صرف تاریخ میں نام کی حد تک محفوظ نہیں ہیں، بلکہ ہم تک پہنچ چکی ہیں اور مطبوع ہیں۔

شیعی علم رجال کی تدوین کا زمانہ

شیعہ مصادرِ حدیث کی تصنیف کا زمانہ چوتھی صدی ہجری سے ( الکلینی وفات:329ھ) شروع ہو کر شیخ طوسی (وفات 460ھ ) پانچویں صدی ہجری کے نصف تک پھیلا ہوا ہے، ان چاروں کتب (الکافی، من لا یحضرہ الفقیہ، تہذیب الاحکام، الاستبصار) کے رواۃ کی تعداد ساڑھے پندرہ ہزار کے قریب بنتی ہے، جن کو امام خوئی نے اپنی کتاب "معجم رجال الحدیث" میں جمع کیا ہے6، اب ہم سنی علم رجال کی ترتیب کے مطابق شیعی علم رجال کے زمانہ تدوین پر ایک نظر ڈالتے ہیں:

1۔شیعی علم رجال پر کوئی بھی تصنیف زمانہ تدوینِ حدیث سے پہلے کی موجود نہیں ہے، چنانچہ حیدر حب اللہ نے اپنی کتاب "دورس فی تاریخ علم الرجال عند الامامیہ " میں علم رجال کے مراحل میں سے پہلے دو مراحل ، زمانہ نبوت سے لے کر تیسری صدی ہجری کے اختتام تک کے بارے میں لکھتے ہیں:

"ان الارث الرجالی لھذا المرحلۃ لم یصلنا مع الاسف الشدید کی نصور من خلالہ المشہد بطریقۃ دقیقۃ، فلم تتوفر بین ایدینا تقریبا سوی المحاولۃ التی ترکھا البرقی فی الطبقات"7

یعنی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رھا ہے کہ اس مرحلے کا رجالی تراث ہم تک نہیں پہنچ سکا، ورنہ ہم اس کی موجودگی میں اس دور کے تراث کا باریک تجزیہ کر سکتے، اس وقت ہمارے پاس اس وقت کچھ بھی موجود نہیں ہے، سوائے اس کوشش کے، جو برقی طبقات کی صورت میں ہمارے پاس چھوڑگئے ہیں۔

رجال البرقی چند صفحات کا ایک رسالہ ہے، جس کے مصنف کے بارے میں چار کے قریب اقوال ہیں، اس میں ائمہ کے شاگردوں کے صرف نام لکھے گئے ہیں اور تقریبا ساڑھے چودہ سو اصحاب ِ ائمہ کے نام لکھے ہیں، باقی یہ کون تھے ؟ان کے شیوخ و تلامذہ کون تھے؟ان کا حدیث میں مقام و رتبہ کیا ہے، اس بارے میں کچھ بھی تفصیلات نہیں ہیں، نیز ان چار اقوال میں سے دو اقوال کے مطابق اس کتاب کی کیا حیثیت بنتی ہے، اس کے بارے میں شیخ حید حب اللہ لکھتے ہیں:

"و علی النظریتین الثالثۃ و الرابعۃ لا یعتمد علی الکتاب لعدم توثیق عبد اللہ و ابنہ احمد عند علماء الجرح و التعدیل"8

یعنی آخری دو اقوال کے مطابق کتاب پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ عبد اللہ اور اس کا بیٹا احمد علمائے جرح و تعدیل کے ہاں قابل اعتماد نہیں ہے، یوں یہ کتاب بعض شیعہ علماء کے نزدیک معتمد ہی نہیں ہے۔

2۔شیخ حیدر حب اللہ نے علم رجال کا تیسرا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے شروع سے لیکر آٹھویں صدی ہجری کے شروع تک بنایا ہے، یعنی کتب اربعہ کی تصنیف کے تین سو سال بعد تک، اس مرحلے میں جو کتبِ رجال ہم تک پہنچی ہیں، وہ یہ ہیں:

رجال البرقی کے بعد شیعہ رجال کی سب سے قدیم ترین چوتھی صدی ہجری کے عالم محمد بن عمرو کشی کی رجال الکشی ہے، لیکن یہ کتاب اصلی شکل میں باقی نہ رہ سکی، آج جو اس کا متداول نسخہ ہے، وہ پانچویں صدی ہجری کے محدث شیخ طوسی کا تیار کردہ نسخہ ہے، جو اختیار معرفۃ الرجال کے نام سے معنون ہے، اس کتاب میں شیخ حید حب اللہ کے بقول 515 ائمہ کے تلامذہ و رواۃ کا ذکر ہے، لیکن اس کتاب کے نسخ و روایات میں بھی بہت سی اغلاط ہیں، چنانچہ حید ر حب اللہ لکھتے ہیں:

"وعلیہ فکتاب اختیار معرفۃ الرجال یحوی مشاکل فی النسخ و بعض من الاخطاء التی تظھر بالمقارنۃ"9

یعنی اس تفصیل کے مطابق کتاب اختیار معرفۃ الرجال کے نسخوں میں متعدد ابہامات ہیں اور نسخ کے مقارنہ سے متعدد اغلاط سامنے آتی ہیں۔

اس مرحلے کی دوسری مشہور کتاب "فہرس النجاشی " ہے، جسے رجال النجاشی بھی کہا جاتا ہے، یہ کتاب اصلا شیعہ مصنفین کی ببلوگرافی ہے، چنانچہ شیخ حید ر حب اللہ لکھتے ہیں:

"یختص الکتاب بذکر مصنفات الشیعہ کما صرح بہ فی مقدمۃ کتابہ"10

یعنی یہ کتاب شیعہ کتب کے ذکر پر مشتمل ہے، جیسا کہ خود مصنف نے اپنی کتاب کے مقدمے میں اس کی تصریح کی ہے، یوں یہ کتاب رجال کی باقاعدہ کتاب نہیں ہے، لیکن مصنفات کے ذیل میں چونکہ مصنفین کا بھی ذکر ہے، اس لئے اسے توسعا رجال کی کتب میں شامل کیا جاتا ہے، اسی لئے اس کتاب میں رواۃ کا حدیثی مقام اور جرح و تعدیل نہ ہونے کے اشکال کا جواب دیتے ہوئے شیخ حیدر رقم طراز ہیں:

"لم یکن غرض النجاشی کما بینا حین تالیفہ لکتابہ تقویم رواۃ الحدیث و الرجال الذین یذکرھم فیہ"11

یعنی نجاشی کا مقصد رواۃ حدیث اور دیگر مذکور رجال کا حدیثی مقام بیان کرنا نہیں تھا، اس کتاب میں مذکور رجال کی تعداد 1269 ہے، حالانکہ خود شیخ حید ر حب اللہ کے بقول اس کتاب کی تصنیف میں ستر سے زائد مصادر سے استفادہ کیا گیا ہے۔

اس مرحلے کی تیسری مشہور کتاب "کتاب الضعفاء للغضائری " ہے، جو پانچویں صدی ہجری کے محدث شیخ احمد بن حسین الغضائری کی تصنیف ہے، اس کتاب کے نام سے لگتا ہے کہ یہ باقاعدہ رجال کی جرح و تعدیل پر مشتمل کتاب ہے، لیکن اس کتاب کے بارے میں شیعہ محققین کے ہاں اختلافات کا طومار ہے، مثلا کہ یہ کتاب احمد کی تصنیف ہے یا ان کے والد حسین کی ؟نیز اس کتاب کے راوی کون ہیں ؟کیونکہ ساتویں صدی ہجری (دوسو سال بعد ) کے محدث ابن طاووس کے ہاں پہلی بار اس کتاب کا تذکرہ سامنے آتا ہے، نیزاس کتاب کی تضعیفات قابل اعتماد ہیں یا نہیں ؟اس بارے میں تقریبا چار کے قریب اقوال ہیں ان سب اختلافات کی تفصیل شیخ حیدر حب اللہ اور کتاب کے محققین نے بیان کی ہے، ان متنوع اختلافات کی وجہ دراصل اس کتاب میں بعض معتمد شیعہ رواۃ کی تضعیف ہے، اس لئے اس کتاب کو شیعہ محققین نے شش و پنج میں ڈال دیا، شیخ حیدر حب اللہ بھی اس کے عدمِ اعتماد کی طرف مائل ہیں 12 اس کتاب میں 225 رواۃ کا ذکر ہے۔

اس دور کی سب سے مفصل کتاب شیخ طوسی کی "کتاب الرجال " ہے، اس کتاب میں 6428 رواۃ کا ذکر ہے۔ بظاہر یہ کافی بڑی تعداد ہے، لیکن کتاب ساڑھے چار سو صفحات کی (بعض طبعات میں فہارس وغیرہ ملا کر 600 صفحات )کی اوسط ضخامت کے ساتھ چھپی ہے، کیونکہ اس میں زیادہ تر صرف نام ہیں، شیخ حیدر حب اللہ کے بقول ساڑھے چھ ہزار افراد میں سے صرف 157اشخاص کی توثیق اور 72 اشخاص کی تضعیف کی گئی ہے، جبکہ 50 رواۃ کو مجاہیل قرار دیا گیا ہے، باقی سب کے بارے میں سکوت ہے، نیز شیخ ہی کے بقول اس کتاب میں صرف شیعہ رواۃ نہیں ہیں، بلکہ سنی رواۃ کا بھی ذکر ہے اور اس میں بڑے پیمانے پر تکرار بھی ہے، ان سب کی تفصیل شیخ حیدر حب اللہ نے دی ہے، اسی طرح شیخ طوسی کی ایک اور کتاب "فہرسۃ الطوسی " کو بھی رجال کی کتب میں شامل کیا جاتا ہے، جو نجاشی کی کتاب کی طرح اصلا مصنفات کی فہرست ہے، اس فہرست میں 900 کے قریب مصنفینِ شیعہ کا ذکر ہے۔

اس مرحلے کی ایک اور مشہور کتاب چھٹی صدی ہجری کے محدث ابن شہر آشوب مازندرانی کی "معالم العلماء فی فہرست کتب الشیعہ و اسماء المصنفین قدیماو حدیثا" ہے، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ بھی مصنفین وکتب کی ایک فہرست ہے، اس کتاب میں 1021 مصنفین کا ذکر ہے۔

سنی و شیعی علم رجال کی ابتدائی تدوین، ایک تقابل

سنی و شیعہ علم رجال کی ابتدائی تاریخ سامنے آچکی ہے، اس کا تقابلی جائزہ لینے سے درجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

1۔ سنی علم رجال اور علم حدیث کی تدوین بالکل ایک زمانہ میں ہوئی، بلکہ تدوین حدیث کی بعض کتب سے بھی پہلے سنی علم رجال کی مفصل کتب لکھی گئیں (جیسے طبقات ابن سعد و خلیفہ بن خیاط)، جبکہ شیعہ علم رجال میں ہمیں اس طرح مقارن تدوین نظر نہیں آتی۔

2۔سنی علم رجال کی اولین جو کتب لکھی گئیں، وہ اصلا رجال کی کتب ہیں، جیسا کہ امام بخاری کی التاریخ الکبیر اور ابن حاتم کی الجرح و التعدیل، ان میں رواۃ کے شیوخ، تلامذہ، تضعیف و توثیق الغرض تمام اہم معلومات اکٹھی کی گئیں ہیں، جبکہ شیعہ علم رجال کی ابتدائی ساری کتب فہرستِ مصنفین کی کتب ہیں، سوائے ابن الغضائری کی الضعفاء کی، جس کے قابل اعتماد ہونے یا نہ ہونے سے قطع نظر، اس میں صرف 225 رواۃ کا ذکر ہے۔

3۔سنی علم رجال کی ابتدائی کتب میں ہی رجال کا مکمل استقصاء کیا گیا، جیسا کہ ابن ابی حاتم نے اٹھارہ ہزار رواۃ اور امام بخاری نے تیرہ ہزار رواۃ کا ذکر کیا، ان دونوں کتب میں مکمل مشترکات مان بھی لیں، تب بھی اٹھارہ ہزار رواۃ کے کوائف جمع کئےگئے، جبکہ صحاح ستہ کے کل رواۃ ساڑھے آٹھ ہزار کے قریب ہیں، یوں تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی علم رجال اپنے انتہاء کو پہنچ گیا، بعد کی ساری کتب انہی کتب و انہی رجال کی تفصیل، تلخیص، ترتیب، تشریح، توضیح پر مشتمل ہیں، جبکہ اس کے برخلاف شیعہ علم رجال کا جتنا تراث اس ابتدائی دور میں مرتب ہوا، اس میں شیعہ کتب ِ اربعہ کے کل رواۃ کا بمشکل نصف رواۃ(یعنی ساڑھے سات ہزار رواۃ، اگر ہم ان کتب کے سارے رواۃ میں کم سے کم مشترکات فرض کر لیں ) کا ذکر ہے، ( وہ بھی اس صورت میں اگر ہم ان ابتدائی کتب میں موجود مصنفین کو کتبِ اربعہ کے رواۃ فرض کر لیں، جو ظاہر ہے محض مفروضہ ہے )یوں ساڑھے سات ہزار کے قریب رواۃ حدیث کا ذکر نہ کتب اربعہ کی تدوین سے پہلے ہے، نہ اس کے بعد تین سو سال تک، بلکہ اس کے بعد بھی کئی سو سال بعد تک ہمیں ایسی کتاب نظر نہیں آتی، جس میں کتبِ اربعہ کے رواۃکا استقصاء ہو، نیز جن ساڑھے سات ہزار رواۃ(یہ تعداد بھی اس وقت بنتی ہے، جب ہم ان کتب میں مشترکات کم سے کم فرض کر لیں ) کا ذکر اولین تراث میں ہے، اس کا نوے فیصد حصہ محض فہرست کے قبیل سے ہے، ان کے تفصیلی کوائف، حدیثی مقام، شیوخ و تلامذہ وغیرہ جیسے مباحث سے اس دور کا رجالی تراث مکمل طور پر ساکت ہے۔اس موقع پر بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتب اربعہ کے مصنفین نے پندرہ ہزار رواۃ سے جو ہزار ہا روایات لے لی تھیں، یہ رواۃ کون تھے ؟کہاں کے تھے ؟ان کی تضعیف و توثیق کا کیا حال تھا؟یہ کس زمانے اور کس طبقے کے تھے ؟نیز جن ساڑھے سات ہزار رواۃ کے اسماء ہمیں ان اولین کتب میں نظر آتے ہیں، ان کے تفصیلی کوائف کیا تھے؟اس دور کے ائمہ حدیث ان کے بارے میں کس قسم کی معلومات رکھتے تھے ؟یہ سب امور پردہ خفا میں ہیں۔

4۔سنی مدونین ِ حدیث میں سے امام بخاری، امام مسلم اور امام نسائی نے خود رجال پر قابل ِ قدر کتب لکھی ہیں، جن میں رجال کی تضعیف و توثیق کا کماحقہ تجزیہ کیا ہے، جبکہ امام ترمذی نے العلل پر کتاب لکھی ہے، جبکہ اس کے برخلاف شیعہ کتبِ اربعہ کے مصنفین کے ہاں رجال کے حوالے سے اس طرح کی کاوشیں مفقود ہیں، صرف امام طوسی نے فہرست ِ مصنفین و فہرستِ رجال پر کتب لکھی ہیں، لیکن وہ بھی اصلا رجال کی کتب نہیں ہیں، جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں اور اس کے ساتھ ان کتب میں کتبِ اربعہ کے نصف رواۃ سے بھی کم کا ذکر ہے۔

5۔سنی علم رجال کی مکمل تدوین چونکہ تدوینِ حدیث کے زمانے میں ہی ہوگئی، اس لئے شواہد کی بنیاد پر یہ امکان تقریبا معدوم ہوجاتا ہے کہ صحاح ستہ کے مصنفین نے فرضی اسناد، فرضی رواۃ گھڑ لئے ہوں گے، یا صحیح اسناد میں اپنی طرف سے کوئی فرضی راوی داخل کیا ہوگا ؟جبکہ شیعہ علم رجال کی ابتدائی کتب صرف چند ہزار کے رواۃ کے ناموں کی فہرست پر مشتمل ہے، اس طرح کتبِ اربعہ کے آدھے سے زیادہ یعنی ساڑھے سات ہزار رواۃ کا کئی صدیوں تک اتا پتا نہیں چلتا، تو بجا طور پر اس امکان کو تقویت ملتی ہے کہ کتبِ اربعہ کے مصنفین نے فرضی رواۃ و اسناد کا ایک پہاڑ کھڑا کیا، کیونکہ شواہد کی بنیاد پر ان رواۃ کی توثیق و تضعیف اسی زمانے کے محدثین سے ثابت کرنا ناممکن ہے، توثیق و تضعیف تو دور کی بات، صرف ان کے ذاتی کوائف بھی اس زمانے کے تراث میں نظر نہیں آتے، ذاتی تفاصیل سے بھی قطع نظر، ان کے ناموں پر مشتمل کوئی مکمل ڈائریکٹری علم رجال کی ابتدائی سا ت سو سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔

6۔ رواۃ و رجال میں سب سے بنیادی بحث یہ دیکھنی ہوتی ہے کہ ان کے کوائف جمع کرنے والےکا زمانہ ان کے کتنا قریب ہے؟سنی علم رجال کے اولین مصنفین اور رواۃ ِ حدیث کا زمانہ بہت قریب ہے، کچھ ہم عصر تھے، کچھ شیوخ، کچھ تلامذہ، کچھ شیوخ الشیوخ، جبکہ شیعہ علم رجال میں جو کامل کتب لکھی گئیں، جیسے معجم رجال الحدیث وغیرہ، وہ دس بارہ صدیوں کے وقفے کے بعد لکھی گئیں، اولین ابتدائی کتب میں ایک تو مکمل استقصا نہیں ہے، دوسرا وہ صرف فہارس کے قبیل سے ہیں، کما مر۔

7۔ اس سلسلے کی ابتدائی اقساط میں یہ بات آچکی ہے کہ کتبِ اربعہ کی احادیث کے مصادر و ماخذ یا دوسرے لفظوں میں کتبِ اربعہ کی تدوین سے پہلے ان ہزارہا روایات کے تحریری شواہد و ماخذ معدوم ہیں، تو احادیث کے ساتھ رجال و رواۃ کے شواہد یا ان کا تعارفی تراث بھی معدوم ہے، یوں کتبِ اربعہ کے متون و اسناد دونوں تاریخی حوالے سے خفا کے دبیز پردوں میں مستور ہیں، کتب اربعہ سے پہلے ان ہزارہا متون کے کوئی تحریری شواہد نہیں ملتے اور کتبِ اربعہ کے بعد ان ہزار رہا رواۃ کے کسی قسم کے کوائف مکتوب نہیں ہیں، کتبِ اربعہ کے یہی تین مصنفین ( الکلینی، شیخ صدوق اور شیخ طوسی ) کے سوا شیعہ تاریخ میں اور کوئی شخصیت نہیں ہے، جو ان متون اور ان رواۃ سے مکمل طور پر آگاہ ہو، اس لئے تو نہ یہ متون ہمیں ان کتب کی تصنیف سے پہلے کسی جگہ تحریرا ملتے ہیں نہ روایتا (اس کی تفصیل ہم اس سلسلے کی ابتدائی اقساط میں بیان کر چکے ہیں )نہ یہ رواۃ ان کتب سے پہلے اور نہ ان کتب کے بعد کئی صدیوں تک کسی کتاب میں ملتے ہیں، کیا اس تاریخی ابہام سے اس بات کو تقویت نہیں ملتی کہ ان کتب اور ان کے رواۃ کا اکثر حصہ ان تین شخصیات کے دماغی و ذہنی کاوش کا نتیجہ ہے ؟

حواشی

  1. الموقظۃ، شمس الدین ذہبی، مکتب الامکتبات الاسلامیہ، حلب، ص37
  2. علم الرجال نشاتہ و تطورہ، محمد الزہرانی، ص147
  3. دیکیھیے:تہذیب الکمال بتحقیق بشار عواد معروف
  4. علم الرجال نشاتہ و تطورہ، ص153
  5. دروس فی تاریخ علم الرجال، حیدر حب اللہ، ص427
  6. امام خوئی کی اس تالیف کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہر راوی کی کتب اربعہ میں موجود روایات کی نشاندہی کرنا ہے، یوں اس میں کتبِ اربعہ کے جملہ رواۃ موجود ہیں یہ تعداد مکررات کو نکالے بغیر مانی گئی ہے، اگر کتاب سے مکررات نکالیں، تو تعداد اس سے کم ہوسکتی ہے۔
  7. دروس فی تاریخ علم الرجال، حید حب اللہ، ص83
  8. دروس فی تاریخ علم الرجال، ص81
  9. ایضا:ص112
  10. ایضا:ص124
  11. ایضا:125
  12. دیکھیے:ص 142

(جاری)

سیرت و تاریخ

(اگست ۲۰۲۱ء)

Flag Counter