جنوری ۲۰۲۰ء

بھارتی شہریت کا متنازعہ قانون اور دو قومی نظریے کی بحث

― محمد عمار خان ناصر

بھارت میں شہریت کے متنازعہ قانون کے تناظر میں ہمارے ہاں یہ سوال ان دنوں دوبارہ اٹھا یا جا رہا ہے کہ آیا دو قومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند کا عمل درست تھا یا نہیں اور یہ کہ کیا متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی پوزیشن آج کے مقابلے میں زیادہ مضبوط نہ ہوتی؟ یہ سوال وقتا فوقتا موضوع بحث بنتا رہتا ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ ایک بڑا حلقہ اس بحث کے دائرے سے ابھی تک باہر نہیں آ سکا کہ تقسیم ہند درست تھی یا غلط اور یہ کانگریس کا منفی رویہ تھا یا انگریز کی سازش۔ چنانچہ کچھ حضرات اب تاریخ کے اس دور کا تجزیہ اس نظر سے کر رہے ہیں کہ سب کچھ کا ذمہ دار...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶۱)

― ڈاکٹر محمود احمد غازی

قرآن مجید میں استجاب کا لفظ مختلف صیغوں کے ساتھ آیا ہے، جہاں یہ بندوں کے لیے آیا ہے، وہاں اس لفظ سے مراد ہوتی ہے پکار پر لبیک کہنا، اور جہاں یہ اللہ کے لیے آیا ہے، وہاں مراد ہوتی ہے دعا قبول کرنا، مراد بر لانا اور داد رسی کرنا۔ جھوٹے معبودوں کے سلسلے یہ لفظ یہ بتانے کے لیے آتا ہے کہ یہ معبودان باطل پکارنے والوں کی کچھ بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔ پہلے مفہوم کی وضاحت علامہ ابن عاشور اس طرح کرتے ہیں: والاستجابة: مبالغة فی الاجابة، وخصت الاستجابة فی الاستعمال بامتثال الدعوة او الامر۔ (التحریر والتنویر: 25/ 90)۔ دوسرے معنی کی وضاحت علامہ ابن عاشور اس...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ: ایک تقابلی مطالعہ (۸)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

اہل تشیع کا علم الدرایہ اور اہلسنت کا فن مصطلح الحدیث۔ ان تمام سوالات و ملاحظات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اہل تشیع کے متاخرین نے اہلسنت کے طرز پر مصطلح الحدیث کا جو فن ایجاد کیا ،جو شیعی حلقوں میں علم الدرایۃ کے نام سے موسوم ہے ،وہ متعدد وجوہ سے اہلسنت کے علم مصطلح الحدیث سے فروتر اور تساہل پر مبنی ہے ،اللہ تعالی اس سلسلے کو مکمل کرنے کی توفیق دے ،اس سلسلے کی ایک بحث میں ہم اہلسنت کے علوم مصطلح الحدیث اور شیعہ متاخرین کے علم درایۃ کا تقابلی جائزہ پیش کریں گے ، جب تساہل پر مبنی علم الدرایہ کی رو سے الکافی کے دو ثلث ضعیف ہیں ،اگر...

امت مسلمہ کے مسائل اور عالمی قوتوں کی اصول پرستی

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

ایک قومی اخبار کی خبر کے مطابق امریکی کانگریس کے ایک سو پینتیس (۱۳۵) ارکان نے ایک پٹیشن پر دستخط کیے ہیں جس میں امریکی وزیرخارجہ مائیک پومیو کے فلسطین میں یہودی بستیوں کی حمایت پر مبنی بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ امریکی حکومت کا موقف فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن مساعی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق امریکی ارکان کانگریس کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن میں وزیرخارجہ مائیک پومیو سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ غرب اردن میں یہودی آباد کاری کی حمایت سے متعلق اپنا بیان واپس لیں۔ یاد رہے کہ یہ پٹیشن ایک ایسے...

کوالالمپور سمٹ میں ڈاکٹر مہاتیر محمد کا افتتاحی خطاب

― طاہر شاہین

1. سب سے پہلے ، میں مسلم قائدین اور اسکالرز اور ان کے پیروکاروں کی اس سمٹ میٹنگ میں آپ کی موجودگی کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ 2. میں اس سربراہی اجلاس کے مقاصد کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ ہم یہاں مذہب کے بارے میں تبادلہ خیال کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کی بجائے مسلم دنیا میں امور کی صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔ 3. ہم سب جانتے ہیں کہ مسلمان ، ان کے مذہب اور ان کے ممالک بحران کی حالت میں ہیں۔ ہم جہاں بھی مسلمان ممالک کو تباہ ہوتے دیکھتے ہیں ، ان کے شہری اپنے ممالک سے بھاگنے پر مجبور ، غیر مسلم ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ بہت...

قرآن جلانے کا حق؟

― ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ناروے میں ہونے والے واقعے پر مختلف اطراف سے بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ دیارِ مغرب میں، بالخصوص ناروے میں رہنے والوں کا زاویۂ نظر کچھ اور ہے، دیارِ مشرق، بالخصوص پاکستان میں رہنے والے کچھ اور انداز میں سوچتے ہیں۔ کسی کی توجہ ناجائز پر صبر و تحمل اور لغو سے اعراض والی آیات و احادیث پر ہے تو کوئی جہاد و قتال یا کم سے کم بائیکاٹ کی ضرورت پر زور دیتا ہے؛ جبکہ کسی نے اپنے ہاں کے بعض جذباتی لوگوں کو شرمندہ کرنا زیادہ ضروری سمجھا جو بعض اوقات غیرمسلموں کی مذہبی شخصیات یا شعائر کا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ کل سے جاری اس ساری بحث میں وہ سوال کہیں دب گیا ہے جس پر اس...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۳)

― محمد عمار خان ناصر

شاہ ولی اللہ کا زاویۂ نظر۔ سابقہ فصل میں ہم نے امام شاطبی کے نظریے کا تفصیلی مطالعہ کیا جس کے مطابق تشریع میں مخصوص مقاصد اور مصالح کی رعایت کی گئی ہے جن کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے۔ شاطبی نے تشریع کے عمل کو ایک منضبط اور مربوط پراسس کے طور پر دیکھتے ہوئے، جس کے واضح مقاصد اور متعین اصول کلیہ اپنی جگہ ثابت ہیں ، قرآن اور سنت، دونوں کا کردار اس طرح واضح کیا ہے کہ یہ دونوں مآخذ ایک ہی طرح کے مقاصد کے لیے اور ایک جیسے اصولوں کے تحت تشریع کے عمل کو مکمل...

ہدایہ کی بے اصل احادیث اور مناظرانہ افراط وتفریط

― مولانا محمد عبد اللہ شارق

تسامحات کی اقسام۔ حدیث وروایت کے معاملہ میں الہدایہ کے مصنف مرغینانی سے جو تسامحات ہوئے ہیں، وہ کئی طرح کے ہیں اور ہمارے علم کے مطابق یہ تسامحات زیادہ نہیں، محض اکا دکا مقامات پر ہوئے: (۱) بعض احادیث کے مضمون میں اضافہ ہوگیا۔ جیسے”ایما صبی حج عشر حج ثم بلغ فعلیہ حجة الاسلام“ یہ حدیث کتبِ حدیث میں موجود ہے، مگر اس میں ”عشر“ کا لفظ نہیں ہے، جس کے ہونے نہ ہونے سے بہرحال معنی اور مفہوم میں کوئی خاص فرق واقع نہیں ہوتا۔(الدرایۃ۔ رقم۳۹۱) (۲)حدیثِ مو قوف کو مرفوع لکھ دیا۔ چنانچہ انہوں نے ایک حدیث ”من ام قوما ....“ کو مرفوع لکھا جوکہ محدثین کے علم کے...

الشریعہ اکادمی میں ختم خواجگان کا آغاز

― مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

الشریعہ اکادمی میں ہر ماہ فکری نشست ہوتی ہے جس میں استاد محترم مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم سال کے آغاز میں طے کر دہ عنوانات پر ترتیب وار گفتگو کرتے ہیں جو کہ بہت جامع ، پر مغز اور مفید ہوتی ہے ۔ اس ماہ 19 دسمبر کو نشست ہوئی جس کا عنوان " 1953 کی تحریک ختم نبوت " تھا ۔ اس نشست میں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے جانشین حضرت خواجہ خلیل احمد دامت برکاتہم تشریف لائے جس کا مقصد یہ تھا کہ نشست کے ساتھ ختم خواجگان شروع کیا جائے ۔ الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام جامع مسجد خورشید کوروٹانہ میں ہر ہفتے مجلس ذکر...