الشریعہ اکادمی میں ختم خواجگان کا آغاز

مولانا حافظ عبد الغنی محمدی

الشریعہ اکادمی میں ہر ماہ فکری نشست ہوتی ہے جس میں استاد محترم  مولانا زاہد الراشدی دامت برکاتہم   سال کے آغاز میں  طے کر دہ عنوانات پر ترتیب وار گفتگو کرتے ہیں جو کہ بہت  جامع ، پر مغز اور مفید ہوتی ہے  ۔ اس ماہ 19 دسمبر کو نشست ہوئی جس کا عنوان " 1953 کی تحریک ختم نبوت " تھا ۔ اس نشست میں خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کے سجادہ نشین  حضرت  مولانا خواجہ خان محمد ؒ کے جانشین حضرت  خواجہ خلیل احمد  دامت برکاتہم تشریف لائے  جس کا مقصد یہ تھا کہ نشست کے ساتھ ختم خواجگان شروع کیا جائے ۔ الشریعہ اکادمی کے زیر انتظام جامع مسجد خورشید کوروٹانہ میں ہر ہفتے مجلس ذکر ہوتی ہے اورکچھ عرصہ قبل  "سالانہ روحانی اجتماع " کے عنوان سے جامع مسجد  خورشید کوروٹانہ میں ایک پروگرام ہوا ، جس میں خواجہ صاحب تشریف لائے تھے ۔ استاد محترم مولانا زاہد الراشدی نے بتایا کہ وہ امام اہلسنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر ؒ  کے متوسلین کے لیے اس نشست کا اہتمام کرتے ہیں اورمیں اپنے فکری اور طبعی میلان کی وجہ سے چاہتا ہوں کہ  یہ مجلس ذکر آپ کی سرپرستی میں نقشبندی سلسلہ کے مطابق  کی جائے  ۔ خواجہ صاحب نے اس درخواست کو قبول فرمایا  چنانچہ مجلس ذکر کے ساتھ ختم خواجگان کو شروع کرنے کے لیے اب  دوبارہ تشریف لائے ۔

نشست کے آغاز میں استاد محترم مولانا زاہد الراشدی نے نقشبندی سلسلہ ، خانقاہ سراجیہ  اور حضرت خواجہ خان محمد ؒ سے اپنی قلبی   و فکری مناسبت  اور  میلان کا ذکر کیا ۔خانقاہ سراجیہ شریف ہمارے قومی سطح کے روحانی، دینی اور تحریکی مراکز میں سے ہے۔ حضرت خواجہ خان محمد ؒ  ہمارے بڑے بزرگوں  میں سے تھے ، خانقاہ سراجیہ کے مسند نشین تھے ،  والد محترم امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر کے دورہ حدیث  ساتھیوں میں سے تھے  ، دونوں دار العلوم دیوبند کے فضلاء اور  شیخ العرب و العجم حضرت  مولانا حسین احمد مدنیؒ    کے شاگر دتھے ۔ 1953 ء  کی تحریک ختم نبوت میں والد محترم 10 ماہ جیل میں رہے اور خواجہ صاحب سات ماہ جیل میں رہے  جبکہ حضرت خواجہ صاحب نے 84ء  کی تحریک ختم نبوت کی قیادت کی ۔ اور اس کے بعد بھی تا عمر وہ ختم نبوت کی تمام تحریکوں اور پروگراموں کی قیادت وسرپرستی فرماتے رہے ۔ ان کا ذوق و مزاج تقریر نہ کرنے کا تھا لیکن ان کی خاموشی میں ہی سب کچھ ہوتا تھا۔  وہ گھنٹوں ختم نبوت کے پروگراموں میں بیٹھے رہتے اور آخر میں دعا فرمادیا کرتے تھے ۔ وہ تمام مسالک کی مسلمہ و محترم  شخصیات میں سے تھے ۔ ان کے کہنے پر سبھی آجاتے تھے  ، کوئی انکار نہیں کرتا تھا۔ سبھی کے ہاں ان کا یکساں احترام تھا ۔ مسلمانوں  کی باہمی فرقہ واریت میں اتحاد امت  کے حوالے سے ان کا مؤثر کردار رہا ۔ بہت بڑ ے اللہ والے تھے،   نقشبندی سلسلہ کے بڑے بزرگوں میں سے تھے ۔  ان کے ساتھ جماعتی اور تحریکی زندگی کا طویل عرصہ ایک کارکن کے طور پر گزارنے کی سعادت مجھے حاصل رہی ہے۔

استاد محترم کے  بعد  نشست کے مہمان خصوصی حضرت خواجہ خلیل احمدصاحب نے خانقاہ سراجیہ کی تاریخ پر کچھ روشنی ڈالی ۔بزرگوں کی خواہش تھی کہ اردو  ، پنجابی اور پشتو بولنے والوں کے سنگم پر ہو ،  اسی سوچ کے مطابق اس کو بنایا گیا ۔ ختم خواجگان کی تاریخ و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری خانقاہ میں 1920 ء سے اس ختم کا اہتمام ہورہا ہے اور اس میں کسی صورت بھی ناغہ نہیں ہوتا۔کبھی کوئی ایسا مسئلہ ہوجائے جس کی وجہ سے یہ نہ ہوسکے تو الگ بات ہے، ورنہ اس میں ایک تسلسل ہے اور ایک صدی سے جاری ہے ۔ خانقاہ سراجیہ میں ختم خواجگان صبح و شام ہوتاہے ۔ اس کوا جتماع یا مجمع میں لوگوں کے ساتھ مل کر بھی پڑھ سکتے ہیں اور  اکیلے بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ اس ختم کے ذریعہ  مصیبتیں و مشکلات حل ہوتی ہیں ، ہر قسم کی حاجات و ضرورتیں پوری ہوتی ہیں ، امراض سے شفاء ملتی ہے  ،  دعائیں قبول ہوتی ہیں اور برکت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔

ختم خواجگان کا طریقہ یہ ہے کہ اول ہاتھ اٹھا کر سورۃ فاتحہ شریف ایک مرتبہ پڑھ کر دعا مانگے کہ یا اﷲ اس ختم خواجگان کو قبول فرما لے اور جن بزرگوں کی طرف یہ ختم منسوب ہے، ان کو اس کا ثواب پہنچا دے۔ اس کے بعدسات بار الحمد شریف، اس کے بعد  ۷۹ بار سورہٴ الم نشرح، پھر  ۱۰۰بار درود شریف، اس کے بعد ایک ہزار بار سورہٴ اخلاص، پھر ۷ بار الحمد شریف، پھر ۱۰۰ بار درود شریف، پھر  ۱۰۰ بار یا قاضيَ الحاجات ویَا کافيَ المہمات، یا دافعَ البلیّاتِ، یا حلّ المشکلات، یا رافعَ الدرجات، یَا شافيَ الأمراض، یا مجیب الدعوات، یا أرحم الراحمین پڑھا جاتا ہے ۔ حضرت خواجہ صاحب نے لوگوں کو دائرے کی شکل میں بیٹھا کر گٹھلیوں پر اس ختم کا ورد کروایا اور پھر دعا کے ساتھ اس روحانی و فکری مجلس کا اختتام ہوا ۔


الشریعہ اکادمی

Since 1st December 2020

Flag Counter