دسمبر ۲۰۱۹ء

مسلم معاشروں سے متعلق فکری مباحث پر استشراقی اثرات

― محمد عمار خان ناصر

ہمارے ہاں کم وبیش تمام اہم فکری مباحث میں مغربی فکر وتہذیب اور جدیدیت کے پیدا کردہ سوالات، قابل فہم اسباب سے اور ناگزیر طور پر، گفتگو کا بنیادی حوالہ ہیں۔ اس پورے ڈسکورس میں ایک بنیادی مسئلہ ہے جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مسئلے کی نوعیت بنیادی طور پر وہی ہے جس کی نشان دہی ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’’استشراق “ میں کی ہے، تاہم وہ مغربی علمی روایت کے تناظر میں ہے۔ ایڈورڈ سعید نے بتایا ہے کہ کس طرح استشراقی مطالعات میں مغربی تہذیب کو معیار مان کر دنیا کے باقی معاشروں کا مطالعہ کرنے کا زاویہ کارفرما ہے اور کیسے اس سارے علمی عمل کی تشکیل...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۶٠)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۳۸۱) ارسال کا ایک مفہوم۔ ارسال کے ایک سے زیادہ معنی آتے ہیں، فیروزابادی لکھتے ہیں: والارسالُ: التَّسلیطُ، والطلاقُ، والاِہمالُ، والتَّوجِیہُ۔(القاموس المحیط)۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں: وقد یکون ذلک بالتّخلیة، وترک المنع۔ (المفردات فی غریب القرآن، ص: 353)۔ گویا ارسال کے معنی بھیجنے کے تو آتے ہی ہیں، آزاد کردینے، پابندی ہٹانے اور چھوڑ دینے کے بھی آتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بھیجنے کے معنی میں تو بہت استعمال ہوا ہے، عام طور سے اس وقت اس کے ساتھ الی لگتا ہے، سیاق کلام سے بھی وہ مطلب واضح ہوتا ہے۔ تاہم بعض مقامات پر سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ...

اہل سنت اور اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ : ایک تقابلی مطالعہ (۷)

― مولانا سمیع اللہ سعدی

نقدِ حدیث کا اصولی منہج ،چند سوالات۔ حدیث کو پرکھنے کے لئے اہل تشیع کے اصولی منہج میں ایک مہیب خلا کا ذکر ہوچکا ہے کہ متقدمین اہل تشیع نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کا جو طرز اختیار کیا تھا ،جس میں رواۃ ،قواعد ِجرح و تعدیل ،سند کا اتصال و ارسال جیسے امور کی بجائے اپنے اسلاف سے منقول ذخیرہ اصل بنیاد تھا ،اور اسی منقول ذخیرے کو "صحیح "سمجھتے ہوئے اسے اپنی کتب میں نقل کیا ،(یہی طرز اہل تشیع کے اخباریوں کا تھا )جبکہ ساتویں صدی ہجری اور بعد کے اہل تشیع محدثین نے حدیث کی تصحیح و تضعیف کے سلسلے میں اہل سنت کے طرز کی پیروی اختیار کرتے ہوئے رواۃ اور ان کی...

نظریہ پاکستان اور قومی بیانیہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۱۹۴۷ء میں اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب وثقافت کے تحفظ وفروغ کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں ’’پاکستان” کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک اعجوبہ سے کم نہیں تھی کہ اس خطے میں مسلم اقتدار کے خاتمہ کو ایک صدی گزر چکی تھی، جبکہ مغرب میں اسلام کے نام پر صدیوں سے چلی آنے والی خلافت عثمانیہ ربع صدی قبل اپنے وجود اور تشخص سے محروم ہو گئی تھی اور اقتدار اور حکومت وریاست کے حوالے سے مذہب کے کردار کی نفی اور خاتمہ کے دور نے ’’انقلاب فرانس” کے بعد ڈیڑھ صدی گزار لی تھی۔ اس ماحول میں اسلامی تہذیب کی بقا کے عنوان اور حکومت وریاست...

عالم اسلام اور فتنہ تکفیر

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

باہمی تکفیر اور قتال کا مسئلہ ہمارے دور کا ایک ایسا حساس اور سنگین مسئلہ بن گیا ہے کہ امت مسلمہ کی وحدت پارہ پارہ ہونے کے ساتھ ساتھ فکری وذہنی انتشار وخلفشار کا سبب اور اسلام دشمن قوتوں کے لیے مسلمانوں کے معاملات میں دخل اندازی کا ذریعہ بھی ثابت ہو رہا ہے۔ اس کا ایک پہلو تو علمی اور فقہی ہے اور دوسرا سماجی ومعاشرتی ہے۔ علمی وفقہی دائرہ تو زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کہ جمہور فقہائے امت رحمہم اللہ تعالی ٰ نے اس سلسلے میں مختلف ادوار میں جو راہ نمائی کی ہے، وہ محفوظ ہے اور امت مسلمہ کی راہ نمائی کے لیے کافی ہے، جبکہ اس حوالے سے سب سے زیادہ اطمینان...

قرآن وسنت کا باہمی تعلق ۔ اصولی مواقف کا ایک علمی جائزہ (۱۲)

― محمد عمار خان ناصر

مصالح شرعیہ کی روشنی میں تشریع کی تکمیل۔ شاطبی کہتے ہیں کہ تشریع میں مصالح شرعیہ کے جو تین مراتب، یعنی ضروریات، حاجیات اور تحسینیات ملحوظ ہوتے ہیں، ان تینوں کا بنیادی ڈھانچا قرآن مجید نے وضع کیا ہے، جب کہ سنت انھی کے حوالے سے کتاب اللہ کے احکام کی توضیح وتفصیل اور ان پر تفریع کرتی ہے اور سنت میں کوئی حکم اس دائرے سے باہر وارد نہیں ہوا۔ اس لحاظ سے کتاب اللہ کی حیثیت تشریع میں اصل کی ہے اور سنت اپنی تمام تر تفصیلات میں کتاب اللہ کی طرف راجع ہے۔ مثال کے طور پر ضروریات خمسہ میں سے دین کی حفاظت شریعت کا سب سے پہلا مقصد ہے۔ اس ضمن میں اسلام، ایمان...

حریف جدیدیت کا فاؤسٹ اور تنقید کی گریچن

― عاصم بخشی

گوئٹے کا المیہ ناٹک فاؤسٹ1 یوں تو بہت سے دل گرفتہ مناظر کی بُنت سے تخلیق کیا گیا ہے، لیکن گریچن کا قصہ یقیناً اس کا سب سے الم ناک منظر ہے۔ گریچن ایک ایسا معصوم، مخلص اور دلچسپ کردار ہےجو ایک چھوٹی سی محفوظ اور بند مذہبی دنیا سے نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہی ننھی سی دنیا ہے جس میں کبھی فاؤسٹ پلا بڑھا تھا لیکن وہ کب کا اسے کھو بیٹھا ہے۔اب وہ اس کا رخ محض ایک ایسے ناظر کی حیثیت سے کرتا ہے جسے اس پر تبصرہ و تنقید مقصود ہے۔ گریچن کی کہانی بنیادی طور پر لاحاصل محبت کے کرب کی کہانی ہے۔اس کا نسوانی حسن دراصل اس روایتی دنیا کا علامتی حسن ہے جس کی...