امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۲)

مولانا عبید اختر رحمانی

جودوسخا

آپ نے مالدار گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی مالداروں کی سی گزری اوراس مالداری کے ساتھ اللہ نے آپ کی فطرت میں سخاوت کا مادہ بدرجہ اتم رکھاتھا۔ بسااوقات ایسا بھی ہوا کہ قرضدار قرض ادانہ کرسکا اورقرض خواہ قرضدار کو جیل میں بند کرانے کے لیے لایا اور آپ نے قرض خواہ کو اس کی رقم اپنی جیب سے اداکردی۔

خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں یہ واقعہ نقل کیاہے کہ ایک شخص نے ان کی عدالت میں محمد بن عبادالمہلبی پر چارسو دینار کادعویٰ کیا۔ عیسیٰ بن ابان نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مقروض ہونے کااعتراف کیا، اس شخص نے قاضی عیسیٰ ابن ابان سے کہاکہ آپ اس کو میرے حق کی وجہ سے قید کردیجئے۔ عیسیٰ بن ابان نے کہاکہ تمہاراحق اس پر واجب ہے؛ لیکن ان کو قید کرنا مناسب نہیں ہے ، اورجہاں تک بات تمہارے چار سو دینارکی ہے تو وہ میں تمہیں اپنے جانب سے ان کے بدلے میں دے دیتاہوں۔(تاریخ بغداد 480/11)

خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں قاضی ابوحازم سے نقل کیاہے کہ عیسیٰ بن ابان بہت سخی شخص تھے اوران کا قول تھا کہ اگرمیرے پاس کسی ایسے شخص کو لایاگیاجواپنے مال میں اسی قدرسخاوت سے کام لیتاہے جس قدر سخاوت سے میں لیتاہوں تومیں اس کوسزادوں گایااس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دوں گا۔(تاریخ بغداد جلد12)حافظ ذہبی بھی سیراعلام النبلاء میں ان کی اس خصوصیت کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں: وفیہ سخاء وجود زائد (تاریخ الاسلام 16؍320)

حساب اورفلکیات میں مہارت

فقہائے احناف کاامام محمد کے دور سے ایک خاص وصف یہ رہاہے جس میں وہ دیگر مسالک کے فقہاء سے ممتاز رہے ہیں کہ ان کو علم حساب سے بڑی اچھی اورگہری واقفیت رہی ہے۔امام محمد کو حساب کے فن میں گہرا رسوخ تھا اورانہوں نے حساب دانی کے اس فن کو اصول سے فروع کی تفریع میں بطور خاص استعمال کیا۔ دکتور دسوقی اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’امام محمد جس طرح عربی زبان میں امام تھے،اسی طرح حساب میں بھی آگے تھے، اصول سے فروع اخذکرنے میں ماہر تھے۔ قاری کے لیے آپ کی کتاب الاصل یاالجامع الکبیر کا مطالعہ کرلینا یہ جاننے کے لیے کافی ہوگا کہ امام محمد کو مسائل پیش کرنے اوران کے احکام بیان کرنے میں گہری مہارت حاصل تھی۔ آپ کوحسابی حصوں اوران کی مقداروں پرعلمی قدرت تھی۔‘‘ (امام محمدبن الحسن الشیبانی اوران کی فقہی خدمات، ص ۶۸۱)

امام محمد کی فقہی تفریعات کی انہی باریکیوں اور دقائق سے امام احمد بن حنبل نے بھی فائدہ اٹھایا،چنانچہ جب ان سے ابراہیم حربی نے سوال کیاکہ یہ باریک اور دقیق مسائل آپ نے کہاں سے حاصل کیے، توانہوں نے امام محمد کی خدمات کا پورا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا: امام محمد کی کتابوں سے۔ (مناقب الامام ابی حنیفۃ وصاحبیہ، ص ۶۸)

امام محمدسے حساب کا یہ فن ان کے شاگردوں نے بھی سیکھا اوراس میں کمال پیداکیا، چنانچہ عیسیٰ بن ابان کے تذکرہ میں متعدد ان کے معاصرین اورشاگردوں نے اعتراف کیاکہ آپ کو حساب کے فن میں کامل دستگاہ تھی اورنہ صرف حساب کے فن میں بلکہ آپ کو فلکیات میں بھی مہارت حاصل تھی، چنانچہ اسی اعتبار سے آپ اپنے کام کو ترتیب دیا کرتے تھے۔ آپ کے شاگرد ہلال الرائے کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نے جعفر بن سلیمان کے لیے دستاویزات لکھیں جن میں وراثت کے احکام اور وراثت کی تقسیم کا پورا حساب تھا اوراس کے ساتھ ایسے قواعد وضوابط بھی بیان کیے تھے جن کی ضرورت مفتی اور قاضی دونوں کو پڑتی ہے ،ہلال کہتے ہیں :خدا کی قسم اگر وہ اتنی تفصیل سے یہ سب نہ لکھتے تو مجھے بڑی پریشانی ہوتی۔ (اخبار القضاۃ، ۲؍۲۷۱)

عباس بن میمون کہتے ہیں کہ میں نے مسجد والوں اورپڑوسیوں کو کہتے سناکہ عیسیٰ بن ابان نے قضا میں ایک نئی چیز ایجاد کی ہے اور وہ فلکیات کے علم سے کام لینا۔ اس کے بعد انہوں نے تفصیل بتائی ہے کہ وہ فلکیات کے علم سے واقفیت کا کس طرح مفید استعمال کرتے تھے۔ (اخبار القضاۃ، ۲؍۲۷۱)

تصنیفات و تالیفات

قضاء کی ذمہ داریوں اوردرس وتدریس کی مصروفیات کے ساتھ ساتھ انہوں نے تصنیف وتالیف کی خدمات بھی انجام دی ہیں،اوربطورخاص اصول فقہ میں گرانقدر اضافہ کیاہے۔ان کے تقریباًتمام ہی ترجمہ نگاروں نے ان کے نام کے ساتھ ’’صاحب التصانیف‘‘کااضافہ کیاہے،جس سے پتہ چلتاہے کہ وہ تصنیف کے لحاظ سے بہت مشہور تھے اوران کی تصانیف کی خاصی تعداد رہی ہوگی۔ اصول فقہ کے مختلف موضوعات پر انہوں نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ مختلف مصنفین جنہوں نے ان کی تصنیفات کا فہرست دی ہے، ہم اس کا ذکر کرتے ہیں۔

1: کتاب الحجۃ

2: کتاب خبر الواحد

3: کتاب الجامع 

4: کتاب اثبات القیاس 

5: کتاب اجتہاد الرای (الفہرست لابن الندیم)

امام جصاص رازی درج ذیل کتاب کا اضافہ کیاہے:

6: الحجج الصغیر (الفصول فی الاصول ۱/ ۱۵۶)

صاحب ہدیۃ العارفین نے درج ذیل کتابوں کا اضافہ کیاہے۔

7: الحجۃ الصغیرۃ فی الحدیث (اس کاپتہ نہیں چلاکہ آیا یہ وہی الحجج الصغیر ہے جس کا تذکرہ جصاص رازی نے کیاہے یاپھر الگ سے کوئی اورکتاب ہے)۔

8: کتاب الجامع فی الفقہ

9: کتاب الحج.

10: کتاب الشہادات.

10: کتاب العلل.

11: فی الفقہ۔

(ہدیۃ العارفین، اسماء المولفین وآثار المصنفین، ۱/ ۸۰۶، دار احیاء التراث العربی بیروت)

گیارہویں نمبرپر موجود کتاب کانام معجم المولفین میں ’’العلل فی الفقہ‘‘ ہے اور شاید یہی زیادہ صحیح بھی ہے۔ (۸؍۸۱،مکتبۃ المثنی ،بیروت)

12: الحجج الکبیر فی الرد علی الشافعی القدیم: اس کتاب کا تذکرہ علامہ زاہدالکوثری نے کیاہے۔اس کے علاوہ علامہ لکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نے ایک کتاب حدیث قبول کرنے کی شروط کے سلسلہ میں مریسی اور شافعی کے رد میں بھی لکھی۔ عیسیٰ بن ابان نے اپنی کتابوں میں وہی اصول بیان کیے امام محمد سے جن کی تعلیم انہوں نے حاصل کی تھی۔ (’’سیرت امام محمد بن الحسن الشیبانی‘‘ ،اردو ترجمہ بلوغ الامانی فی سیرت الامام محمد بن الحسن الشیبانی،ص ۲۰۷)

کتابوں کے نام سے اندازہ ہوتاہے کہ انہوں نے اپنے دور میں محدثین اوراہل فقہ کے درمیان جن مسائل میں شدید اختلافات تھے، ان پر قلم اٹھایاہے۔مثلاً بعض شدت پسند ظاہری محدثین کا موقف تھاکہ قیاس کرناصحیح نہیں اوروہ شرعی دلیل نہیں ہے، اس کی تردید میں کتاب اثبات القیاس لکھی گئی ہوگی۔ اسی طرح اس زمانے میں محدثین جہاں ایک طرف خبرواحد کو قطعی اوریقینی دلیل مانتے تھے، دوسری جانب معتزلہ اوردیگرگمراہ فرقے خبرواحد کی اہمیت کم کررہے تھے، ایسے عالم میں انہوں نے خبرواحدپر قلم اٹھایااوراحناف کا موقف سامنے رکھا۔

الحجج الصغیر

عیسیٰ بن ابان کی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی ناپید ہے لیکن خوش قسمتی سے اب امام جصاص رازی کی ’’الفصول فی الاصول‘‘طبع ہوکر آگئی ہے، اس کے مطالعہ سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ گویا امام جصاص کی یہ کتاب الحجج الصغیر کی شرح یااس کا بہتر خلاصہ ہے۔تقریباً تمام مباحث میں انہوں نے الحجج الصغیر سے استفادہ کیاہے اور ایک دومقامات کو چھوڑکر ہرجگہ وہ عیسیٰ بن ابان کے ہی موقف کے حامل نظر آتے ہیں۔ گویااس کتاب کے واسطہ سے براہ راست نہ سہی؛ لیکن بہت قریب سے ہم عیسیٰ بن ابان کے نظریات وخیالات سے واقف ہوسکتے ہیں۔ صاحب کشف الظنون حاجی خلیفہ اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں:

وحجج عیسی بن ابان ادق علماً، واحسن ترتیبا من کتاب المزنی (کشف الظنون ۱/۲۳۶، مکتبۃ المثنی،بغداد)

’’اورعیسی بن ابان کی حجج (شاید الصغیر مراد ہو) علم کی باریکی اور ترتیب کے حسن کے لحاظ سے مزنی کی دونوں کتابوں سے بہتر ہے۔‘‘

اسی کتاب میں عیسیٰ بن ابان نے اپناوہ مشہور نظریہ دہرایاہے جس کی بنیاد پر احناف آج تک مخالفین کے طعن وتشنیع کے شکار ہیں کہ حضرت ابوہریرہ فقیہ نہیں تھے اور ان کی وہ روایت جو قیاس کے خلاف ہوگی، رد کردی جائے۔ راقم الحروف نے اس پر ایک طویل مضمون لکھاہے، جس میں عیسیٰ بن ابان اور بعد کے علماء جنہوں نے عیسیٰ بن ابان کی رائے اختیار کی ہے، ان کے حوالوں سے بتایاہے کہ عیسیٰ بن ابان کی یہ رائے مطلق نہیں ہے بلکہ تین یاچارشرطوں کے ساتھ مقید ہے اوراگران شرائط کالحاظ وخیال رکھاجائے توپھر عیسیٰ بن ابان اوردوسروں کے نظریہ میں اختلاف حقیقی نہیں بلکہ محض لفظی بن کر رہ جاتاہے۔

کتاب الحجج کی تصنیف

اس کی تصنیف کا ایک دلچسپ پس منظر ہے۔ وہ یہ کہ مامون الرشید کے قریبی رشتہ دار عیسیٰ بن ہارون ہاشمی نے کچھ احادیث جمع کیں اوران کومامون الرشید کے سامنے پیش کیا اورکہاکہ احناف جو آپ کے دربار میں اعلیٰ مناصب اورعہدوں پر مامور ہیں ،ان کا عمل اورمسلک وموقف ان احادیث کے خلاف ہے اوریہ وہ حدیثیں جس کو ہم دونوں نے اپنے عہد تعلیم میں محدثین کرام سے سناہے۔ یہ بات سن کر عیسیٰ بن ابان نے اپنے دربار کے حنفی علماء کو اس کا جواب لکھنے کے لیے کہا؛لیکن انہوں نے جوکچھ لکھا وہ مامون کو پسند نہ آیا۔ یہ دیکھ کرعیسیٰ بن ابان نے کتاب الحجج تصنیف کی جس میں انہوں بتایاکہ کسی روایت کو قبول کرنے اورنہ کرنے کا معیار کیاہوناچاہیے اوراس میں انہوں نے امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کے مسلک کے دلائل بھی بیان کئے۔ جب مامون الرشید نے یہ کتاب پڑھی توبہت متاثرہوااوربے ساختہ کہنے لگا:

حسدوا الفتی اذ لم ینالوا سعیہ 

فالنّاس اعداء لہ وخصوم

کضرائر الحسناء قلن لوجھھا

حسداً وبغیا انہ لذمیم

’’کسی بھی باصلاحیت آدمی کا جب مقابلہ نہیں کیاجاسکتاتولوگ اس سے حسد کرنے لگتے ہیں اوراس کے دشمن بن جاتے ہیں جیساکہ خوبصورت عورت کی سوتنیں محض جلن میں کہتی ہیں کہ وہ تو بدصورت ہے۔‘‘ (بحوالہ تاج التراجم227/ تاریخ الاسلام للذہبی 16؍320)

اس واقعہ کو سب سے ز یادہ تفصیل کے ساتھ صیمری نے اخبارابی حنیفۃ واصحابہ میں بیان کیا ہے۔ (۱/۱۴۷)

تصنیفات کے باب میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عیسیٰ بن ابان نے ایک کتاب بطور خاص امام شافعی کے رد میں لکھی تھی۔ (یہ شاید وہی کتاب ہے جس کا نام شیخ زاہد الکوثری نے الحجج الکبیر فی الرد علی الشافعی القدیم لکھا ہے)۔ اس کتاب کے بارے میں تاریخ بغداد کی روایت کے مطابق داؤد ظاہری اور اخبارالقضاۃ کے مصنف قاضی کا الزام ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی تصنیف میں سفیان بن سحبان سے احادیث کے سلسلے میں مدد لی تھی۔ (یہ سفیان بن سحبان حنفی ہیں اورامام محمد کے شاگرد ہیں۔ (تاج التراجم لابن قطلوبغا ۱؍۱۷۱) قاضی وکیع لکھتے ہیں کہ ’’مجھ سے کہاگیاہے کہ وہ احادیث جو عیسیٰ بن ابان نے امام شافعی کے رد میں اپنی کتاب میں لکھی ہیں، سفیان بن سحبان کی کتاب سے ماخوذ ہیں‘‘۔ (اخبارالقضاۃ لوکیع:۲؍۱۷۱) اور داؤد ظاہری سے جب عیسیٰ بن ابان کی کتاب کا جواب دینے کے لیے کہاگیاتوانہوں نے کہاکہ عیسیٰ بن ابان کی اس کتاب کی تصنیف میں ابن سختان نے مدد کی ہے۔ (تاریخ بغداد ۶/۲۱،دارالکتب العلمیہ)

(تاریخ بغداد میں ’ابن سختان‘ ہی لکھا ہے، لیکن صحیح ابن سحبان ہے جیساکہ الفہرست لابن الندیم اور تاج التراجم لابن قطلوبغا میں ہے۔)

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عیسیٰ بن ابان پر اس سلسلے میں ابن سحبان سے مدد لینے کا الزام ایک غلط الزام ہے اوراس کی تردید خود عیسیٰ بن ابان نے کی ہے۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ ان کی زندگی میں ہی یہ چہ میگوئیاں ہونے لگی تھیں کہ ان کی فلاں تصنیف ابن سحبان کی اعانت کا نتیجہ ہے۔ کسی نے جاکر پوچھ لیاتوانہوں نے بات واضح کردی اوریہ بات بھی واضح ہوگئی کہ وہ کون سی کتاب ہے:

قال ابو خازم: فسمعت الصریفینی شعیب بن ایوب یقول: قلت لعیسی ابن ابان: ھل اعانک علی کتابک ھذا احد؟ قال: لا، غیر انہ کنت اضع المسالۃ واناظر فیھا سفیان بن سختیان. (فضائل ابی حنیفۃ واخبارہ ومناقبہ ۱/۳۶۰، الناشر: المکتبۃ الامدادیۃ، مکۃ المکرمۃ)

’’ابوخازم کہتے ہیں ،میں نے شعیب بن ایوب کو یہ کہتے سناکہ میں نے عیسیٰ بن ابان سے پوچھاکہ اس کتاب (کتاب الحجج)کی تصنیف میں کیا کسی نے آپ کی مدد کی ہے؟ فرمایاکہ نہیں،ہاں اتنی سی بات تھی کہ میں اولاً مسئلہ کو لکھ لیتاتھا، پھر اس کے بعد اس بارے میں سفیان بن سختیان سے مناظرہ کرتاتھا۔‘‘

عیسیٰ بن ابان کے ناقدین

ہرصاحب تصنیف جو مجتہدانہ فکر ونظر کا مالک ہو، ہرمسئلہ میں جمہور کے ساتھ نہیں چلتا بلکہ بسااوقات وہ اپنی راہ الگ بناتاہے۔ بقول غالب ’’ہرکہ شد صاحب نظر دین بزرگاں خوش نکرد‘‘ امام عیسیٰ بن ابان کے بھی بعض نظریات وخیالات ایسے ہیں جن سے جمہور اتفاق نہیں کرتے اور جن پر ان کے معاصرین اوربعد والوں نے تنقید کی ہے۔ان پر جن لوگوں نے تنقید کی ہے، ان کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔

امام طحاوی

آپ کے سوانح نگاروں نے آپ کی تصنیفات کے ضمن مین ایک کتاب کا ذکرکیاہے جس کا نام ’خطا الکتب‘ ہے، اس میں شاید ایک باب یاکوئی خاص فصل عیسیٰ بن ابان کے رد میں ہے۔ (الجواہر المضئیۃ فی طبقات الحنفیۃ ۱؍۱۰۴)

ابن سیریج

مشہور شافعی فقیہ ہیں، ان کے حالات میں ترجمہ نگاروں نے لکھاہے کہ انہوں نے ایک کتاب عیسیٰ بن ابان کی فقہی آراء کے رد میں لکھی ہے۔ (موسوعۃ اقوال ابی الحسن الدارقطنی فی رجال الحدیث وعللہ،۱؍۷۶،عالم الکتب للنشر والتوزیع)

اسماعیل بن علی بن اسحاق

آپ نے بھی ایک کتاب عیسیٰ بن ابان کے رد میں لکھی ہے،جس کا نام ہے ’’النقض علی مسالۃ عیسیٰ بن ابان فی الاجتھاد‘‘۔مصنف کا تعلق شیعہ سے فرقہ سے ہے۔(لسان المیزان۱؍۴۲۴) کتاب کے نام سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ عیسیٰ بن ابان علیہ الرحمہ کی جو کتاب الاجتھاد فی الرای ہے، یہ کتاب اسی کی تردید میں لکھی گئی ہے۔

خلق قرآن کے موقف کاالزام اور حقیقت

امام عیسیٰ بن ابان پر سب سے بڑااورسنگین الزام خلق قرآن کے عقیدہ کے حامل ہونے کا ہے۔ یہ الزام مشہور شافعی محدث حافظ ابن حجرنے لگایاہے (اگرچہ حافظ ابن حجر سے پہلے بھی کچھ لوگوں نے خلق قرآن کے موقف کا الزام لگایاہے لیکن انہوں نے قیل کے ساتھ یہ بات کہی ہے یادیگرصیغہ تمریض کے ساتھ)۔ حافظ ابن حجر کے تعلق سے متعدد احناف کو شکایت رہی ہے کہ وہ احناف کے ترجمہ میں اس فیاضی اور دریادلی کا مظاہرہ نہیں کرتے جو شوافع کے ساتھ برتتے ہیں۔ ان شکوہ وشکایات سے قطع نظر خلق قرآن یادوسری کسی بھی جرح کے ثبوت کے لیے کچھ پیمانے ہیں۔ پہلا پیمانہ یہ ہے کہ جو امام جرح وتعدیل کسی راوی پر کوئی جرح کررہاہے، اس علم جرح وتعدیل کے ماہر تک صحیح سند سے یہ جرح ثابت ہو۔ دوسراپیمانہ یامعیار یہ ہے کہ یہ جرح بادلیل ہو۔ تیسرا معیار یہ ہے کہ جس پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس کا موقف اسی کے الفاظ میں ثابت ہو۔

سب سے پہلے یہ الزام تاریخ بغداد میں خطیب بغداد نے لگایاہے۔چنانچہ لکھتے ہیں:

ویْحکی عن عیسی انہ کان یذھب الی القول بخلق القران (تاریخ بغداد جلد12صفحہ 482)

’’عیسیٰ بن ابان سے نقل کیاجاتاہے کہ وہ خلق قرآن کا عقیدہ رکھتے تھے۔‘‘

یہی بات حافظ ذہبی نے بھی تاریخ الاسلام میں دہرائی ہے:

ویحکی عنہ القول بخلق القرآن، اجارنا اللہ، وھو معدود من الاذکیاء (تاریخ الاسلام للذہبی ،صفحہ 312،جلد16)

’’ان سے خلق قران کا قول نقل کیاگیاہے، اللہ ہمیں اس سے بچائے،اور وہ ذہین ترین لوگوں میں سے ایک تھے۔‘‘

یہی بات ابن جوزی نے بھی کہی ہے:

ویذکر عنہ انہ کان یذھب الی القول بخلق القرآن. (المنتظم فی تاریخ الامم والملوک، ۱۱/ ۶۷، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

’’اوران کے بارے میں ذکر کیاجاتاہے کہ ان کا موقف خلق قرآن کا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ خطیب بغدادی نے جس سند سے اس حدیث کو روایت کیاہے، اس میں بعض مجہول اور بعض ضعیف راوی ہیں جس کی وجہ سے یہ سند اس قابل نہیں کہ اس کی وجہ سے کسی پر خلق قرآن کا سنگین الزام عائد کیا جائے۔ علاوہ ازیں خطیب نے اس روایت کو نقل کرنے کے باوجود خلق قرآن کے الزام کو صیغہ تمریض کے ساتھ بیان کیاہے۔ اگریہ سند ان کے نزدیک صحیح ہوتی تو وہ اس کو ضرور بالضرور جزم اورقطعیت کے ساتھ نقل کرتے اوریہی بات حافظ ذہبی کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے جن کے رجال کی معرفت اور علم جرح وتعدیل میں گہرائی وگیرائی پر اتفاق ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دو مورخ یعنی خطیب بغدادی اورحافظ ذہبی اس قول کو تمریض کے صیغہ کے ساتھ نقل کرتے ہیں جواس بات کی نشاندہی ہے کہ ان کا خلق قرآن کے عقیدہ کا حامل ہونا کمزور بات ہے،کوئی پکی بات نہیں ہے،چنانچہ خود حافظ ذہبی نے جب سیر اعلام النبلاء میں ان کا ترجمہ نقل کیا تو عقیدہ خلق قرآن کے حامل ہونے کی بات نقل نہیں کی، کیونکہ وہ پکی بات نہ تھی۔ (سیراعلام النبلاء للذہبی10؍441) اگرخلق قرآن کے عقیدہ کی بات پکی ہوتی توکیایہ مناسب تھاکہ حافظ ذہبی اس کا یہاں ذکر نہ کرتے ؟ ضرورکرتے جیساکہ سیراعلام النبلاء میں انہوں نے خلق قرآن کے عقیدہ کے دیگر حاملین کا ذکر کیاہے۔ پھر دیکھئے حافظ ذہبی میزان الاعتدال میں ان کا صرف ایک سطری جملہ لکھتے ہیں اور اس میں بھی خلق قرآن کے عقیدہ کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے، بلکہ صاف صاف یہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ کسی نے ان کی توثیق یاتضعیف کی ہے:

عیسی بن ابان، الفقیہ صاحب محمد بن الحسن ما علمت احدا ضعفہ ولاوثقہ (میزان الاعتدال : ج5، ص 374)

خلق قرآن کاعقیدہ کا حامل ہونابجائے خود ایک جرح ہے اوراس کے حاملین مجروح رواۃ میں شمارہوتے ہیں اورکسی کے مجروح یاضعیف راوی ہونے کے لیے اس کاخلق قرآن کے عقیدہ کا حامل ہونابھی کافی ہے، اس کے باوجود حافظ ذہبی صاف صاف کہہ رہے کہ ماعلمت احدا ضعفہ ولاوثقہ۔ کیایہ اس کی بالواسطہ صراحت نہیں ہے کہ عیسیٰ بن ابان کی جانب خلق قرآن کا جوعقیدہ منسوب کیاگیاہے ،وہ غلط اوربے بنیاد اورانتہائی کمزور ولچربات ہے؟

ان سب کے برخلاف حافظ ابن حجر لسان المیزان میں لکھتے ہیں کہ عیسیٰ بن ابان نہ صرف خلق قرآن کے قائل تھے بلکہ وہ اس کے داعی بھی تھے۔(لسان المیزان :ابن حجر: 4؍390)

حافظ ابن حجر کے علاوہ کسی بھی دوسرے ترجمہ نگارنے، جس میں شوافع اوراحناف سبھی شامل ہیں، عیسیٰ بن ابان پر خلق قرآن کے عقیدہ کا الزام نہیں لگایاہے، چاہے وہ مشہور شافعی فقیہ ابواسحاق شیرازی صاحب طبقات الفقہاء ہوں، حافظ عبدالقادر قرشی ہوں، یا حافظ قاسم بن قطلوبغاہوں۔

اس تفصیل سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ خلق قرآن کا الزام لگانے کے سلسلے میں حافظ ابن حجر منفرد ہیں اور انہوں نے اپنے دعویٰ کی بھی کوئی دلیل بیان نہیں کی ہے،اور دعویٰ کی جب تک کوئی دلیل نہ ہو ،اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ حافظ ابن حجر نے خلق قرآن کی بات ضرور نقل کی ہے اوراس کاداعی بھی بتایاہے، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایاکہ ان کے سامنے ایسی کون سی نئی بات اورنئی دلیل تھی کہ جو چیز خطیب بغدادی اور ذہبی کے یہاں صیغہ تمریض کے ساتھ اداکی جا رہی تھی ، وہ یہاں آکر صیغہ جزم میں بدل گئی ،اورجس میں وہ محض ایک عقیدہ کے حامل نظر آتے ہیں ،وہ یہاں آکر داعی میں بدل جاتے ہیں۔ جتنے ماخذ اس وقت تک ہمارے سامنے ہیں، اس میں سے کسی سے بھی حافظ ابن حجر کے قول کی تائید نہیں ہوتی۔

علم جرح وتعدیل کی رو سے بھی حافظ ابن حجر کی یہ بات اس لیے غیرمعتبر ہے کہ حافظ ابن حجر عیسیٰ بن ابان کے معاصر نہیں، بہت بعد کے ہیں۔ لازماً ان کی یہ بات کسی اور واسطہ اورسند سے منقول ہونی چاہیے، اورسند یاکسی معاصر شخصیت کی شہادت کا اہتمام خود حافظ ابن حجر نے نہیں کیاہے، اس لیے کہاجاسکتاہے کہ علم جرح وتعدیل کی رو سے ان کی یہ بات ناقابل قبول ہے۔

اگرکوئی یہ کہے کہ لسان المیزان میں حافظ ابن حجر کے ذہبی پر بہت سارے تعقبات اوراضافے ہیں، اس میں سے ایک یہ بھی ہے، تو اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ جہاں بھی حافظ ابن حجر نے ذہبی کے کسی قول پر اعتراض کیا ہے، باحوالہ کیاہے،محض اپنے قول کے طورپر ذکر نہیں کیاہے۔ جن لوگوں کواصرار ہے کہ وہ خلق قرآن کے عقیدہ کے حامل اورداعی تھے توانہیں چاہیے کہ وہ ان کی معاصرکسی شخصیت کا کوئی قول یاکوئی سند پیش کریں۔

دوسری بات یہ ہے کہ خلق قرآن کے الزام کی حقیقت پر غورکرنے کے لیے چند باتیں ذہن میں رکھنی ضروری ہے۔ ایک تویہ کہ یہ عقیدہ خلق قرآن ایک مبہم لفظ ہے۔ محض کسی کا یہ کہہ دینا کہ فلاں خلق قرآن کا قائل تھا،کافی نہیں ہے۔ یہ واضح ہوناچاہیے کہ وہ کن الفاظ میں خلق قرآن کا قائل تھا، ورنہ تو خلق قرآن کا الزام یا دیگر سنگین الزامات مشہور محدثین پر بھی لگے ہیں،لیکن جب ان کے ہی الفاظ میں ان کے موقف کو جاناگیاتو حقیقت واضح ہوگئی۔

اس کی واضح مثال خود امام بخاری کا واقعہ ہے۔ جب امام ذہلی سے وابستہ ایک شخص نے امام بخاری سے اس مسئلہ میں پوچھاتوانہوں نے اس مسئلہ کی حقیقت کوصاف اورواضح کرتے ہوئے کہاتھاکہ جس قرآن کی تلاوت ہم کرتے ہیں، وہ افعال مخلوق ہونے کے لحاظ سے مخلوق ہے، ورنہ قرآن کلام اللہ ہونے کے لحاظ سے غیر مخلوق ہے۔ان کے الفاظ ہیں: القران کلام اللہ غیرمخلوق، وافعال العباد مخلوقۃ والامتحان بدعۃ (ہدی الساری ص 494) اگر خلق قرآن کے سلسلے میں ہمارے سامنے امام بخاری کی عبارت نہ ہو، محض ذہلی کا بیان اور ابوحاتم وابوزرعہ کی تنقید ہو توکوئی بھی امام بخاری کو خلق قرآن کے عقیدہ کا قائل قراردے دے گا۔

دوسری بات یہ بھی ہے کہ خلق قرآن کے معاملہ میں امام احمد بن حنبل کی آزمائش کے بعد امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ اور دیگر محدثین انتہائی شدید ذکی الحس ہوگئے اوراس تعلق سے اگرکوئی ان کے الفاظ سے ہٹ کر کچھ کہتاتو وہ اسے برداشت نہ کرتے اور فوراً اس کے متروک اورضعیف ہونے یاخلق قرآن کے قائل ہونے کی بات کہہ دیتے تھے۔ تفصیل کے لیے شیخ عبدالفتاح ابوغدہ کی تصنیف لطیف وقیم "مسالۃ خلق القرآن واثرھا فی صفوف الرواۃ والمحدثین وکتب الجرح والتعدیل" کی جانب رجوع کریں۔اس میں انہوں نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے اور حوالوں کے ساتھ بتایاہے کہ آگے چل کر اس مسئلہ میں محدثین کے درمیان کس قدر غلو ہو گیا تھا۔

انتقال

امام عیسیٰ بن ابان تادم واپسیں بصرہ کے قاضی رہے، آپ کو معزول کرنے کی بعض حضرات نے کوشش کی لیکن قاضی القضاۃ یحییٰ بن اکثم اور ابن ابی دواد تک کو آپ کو معزول کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ 

محمد بن عبداللہ کلبی کہتے ہیں کہ میں انتقال کے وقت ان کے پاس موجود تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہاکہ ذرا میرے مال ودولت کا شمار تو کردو۔ میں نے گنا تو بہت زیادہ مال نکلا۔ پھر انہوں نے فرمایاکہ اب مجھ پر جو قرضے ہیں، ان کو جوڑ کر بتاؤکہ کل قرضہ کتنا ہے؟ جب میں نے ان کے قرضوں کو جوڑا توپایاکہ یہ ان کی کل مالیت کے قریب ہے۔ اس پر عیسیٰ بن ابان کہنے لگے،اسلاف کہاکرتے تھے کہ زندگی مال داروں کی سی جیو اور موت فقیروں کی سی ہونی چاہیے۔ (اخبارابی حنیفۃ واصحابہ ۱؍۱۴۹)

بالآخر وہ گھڑی آہی گئی جس سے ہرایک کو دوچار ہونا ہے، اورجونہ ٹل سکتی ہے، نہ آگے پیچھے ہوسکتی ہے۔ ماہ صفر کی ابتدائی تاریخ اور سنہ ۲۲۱ ہجری میں علم کا یہ آفتاب غروب ہوگیا۔

امام عیسی بن ابان کاانتقال کب ہوا؟ اس بارے میں مورخین کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے220ہجری قرار دیا ہے جب کہ بعض نے 221ہجری بتایاہے۔ لیکن 221کاقول زیادہ معتبر ہے ،کیونکہ خلیفہ بن خیاط جن کا انتقال عیسیٰ بن ابان کے محض ۱۹، ۲۰ سال بعد ہوا ہے، انہوں نے عیسیٰ بن ابان کی تاریخ وفات ۲۲۱ ہجری ہی بتائی ہے۔ علاوہ ازیں خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں سند کے ساتھ نقل کیاہے کہ ماہ صفر کی ابتداء 221 ہجری میں ان کاانتقال ہوگیا۔ اسی طرح حافظ ذہبی نے بھی تاریخ الاسلام اور سیر اعلام النبلاء میں تاریخ وفات 221ہجری ہی ذکر کی ہے اورحافظ ذہبی چونکہ انتقال کی تاریخ وغیرہ بتانے میں کافی محتاط ہیں اوراس سلسلے میں بہت احتیاط اورتحقیق سے کام لیتے ہیں، لہٰذا ان مورخین کی بات زیادہ معتبر ہے۔

سیرت و تاریخ

(جون ۲۰۱۷ء)

جون ۲۰۱۷ء

جلد ۲۸ ۔ شمارہ ۶

Flag Counter