جون ۲۰۱۷ء

امام ابو حنیفہ کی اجتہادی فکر سے چند راہنما اصول

― محمد عمار خان ناصر

(۱۹ جنوری ۲۰۱۷ء کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ فکر اسلامی کے زیر اہتمام ’’خطبات اسلام آباد‘‘ کے زیر عنوان لیکچر سیریز میں کی گئی گفتگو کے بنیادی نکات۔) ۱۔ اجتہاد کا بنیادی مقصد زندگی اور اس کے معاملات کو قرآن وسنت کے مقرر کردہ حدود میں اور ان کی منشا کے مطابق استوار کرنا ہے۔ اس ضمن میں شارع کے منشا کو عملی حالات پر منطبق کرنے اور بدلتے ہوئے حالات اور ارتقا پذیر انسانی سماج کا رشتہ قرآن وسنت کی ہدایت کے ساتھ قائم رکھنے کا وظیفہ بنیادی طور پر انسانی فہم ہی انجام دیتا ہے اور ایک طرف قرآن وسنت کی منشا اور دوسری طرف پیش آمدہ مخصوص صورت...

اردو تراجم قرآن پر ایک نظر ۔ مولانا محمد امانت اللہ اصلاحی کے افادات کی روشنی میں (۳۱)

― ڈاکٹر محی الدین غازی

(۱۱۲) تاب علی کا مفہوم۔ تاب کے معنی لوٹنے کے ہوتے ہیں، قرآن مجید میں بندوں کے لیے تاب کا فعل الی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع اور انابت کرنا، اس وسیع مفہوم میں توبہ کرنا اور معافی مانگنا بھی شامل ہے، لیکن لفظ کا اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ اللہ کے لیے تابکا فعل علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے مہربان ہونا نظر کرم فرمانا۔ اس وسیع مفہوم میں توبہ کی توفیق دینا اور توبہ قبول کرلینا اور معاف کردینا بھی شامل ہے، لیکن اصل مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ فیروزآبادی کے الفاظ میں: وتابَ اللہ علیہ: وفَّقَہ للتَّوبۃِ،...

رؤیت ہلال کا مسئلہ

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

(ڈاکٹر محمد مشتاق احمدکی کتاب ’’رویت ہلال: قانونی وفقہی تجزیہ‘‘ کے پیش لفظ کے طور پر لکھا گیا۔)۔ نحمدہ تبارک وتعالیٰ ونصلی ونسلم علیٰ رسولہ الکریم وعلیٰ آلہ واصحابہ واتباعہ اجمعین۔ رؤیت ہلال کا مسئلہ ہمارے ہاں طویل عرصہ سے بحث ومباحثہ اور اختلاف وتنازعہ کا موضوع چلا آ رہا ہے اور مختلف کوششوں کے باوجود ابھی تک کوئی تسلی بخش اجتماعی صورت بن نہیں پا رہی۔ اکابر علماء کرام کی مساعی سے حکومتی سطح پر مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی قائم ہوئی تو امید ہو گئی تھی کہ اب یہ مسئلہ مستقل طور پر طے پا جائے گا، مگر ملک کے بیشتر حصوں میں اجتماعیت کا ماحول قائم ہو...

امام عیسیٰ بن ابانؒ : حیات و خدمات (۲)

― مولانا عبید اختر رحمانی

جودوسخا: آپ نے مالدار گھرانے میں آنکھیں کھولی تھیں،یہی وجہ ہے کہ آپ کی پوری زندگی مالداروں کی سی گزری اوراس مالداری کے ساتھ اللہ نے آپ کی فطرت میں سخاوت کا مادہ بدرجہ اتم رکھاتھا۔ بسااوقات ایسا بھی ہوا کہ قرضدار قرض ادانہ کرسکا اورقرض خواہ قرضدار کو جیل میں بند کرانے کے لیے لایا اور آپ نے قرض خواہ کو اس کی رقم اپنی جیب سے ادا کردی۔ خطیب بغدادی نے تاریخ بغدادمیں یہ واقعہ نقل کیاہے کہ ایک شخص نے ان کی عدالت میں محمد بن عباد المہلبی پر چارسو دینار کادعویٰ کیا۔ عیسیٰ بن ابان نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے مقروض ہونے کااعتراف کیا، اس شخص...

بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ: ایک قانونی تجزیہ

― ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس فیصلے پر کئی پہلوؤں سے مباحثہ جاری ہے لیکن قانونی تجزیہ کم ہی کہیں نظر آیا ہے، حالانکہ اصل میں یہ مسئلہ قانونی ہے۔ اس مضمون میں کوشش کی جائے گی کہ اس فیصلے کے متعلق اہم قانونی مسائل کی مختصر توضیح کی جائے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف (International Court of Justice/ICJ) کیا ہے؟ سب سے پہلے اس عدالت کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ اس عدالت کے متعلق چند حقائق یہ ہیں: 1۔ یہ عدالت اقوامِ متحدہ کی تنظیم کی ایک شاخ ہے اور اس عدالت کا ضابطہ (Statute) اقوامِ متحدہ کے منشور (Charter) کا حصہ ہے۔ اس لیے جو ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط کرکے اس کی رکنیت حاصل کرلیتی ہیں ، وہ اس عدالت...

قرآنِ مجید اور اسیرانِ جنگ

― عدنان اعجاز

سورہ محمد (۷۴) (۱) کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کے وہ جنگی احکامات مذکور ہیں جو ہجرتِ مدینہ کے مختصراً بعدکفار مکہ سے باقاعدہ آغازِ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو دیے گئے۔ ان میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اہم قانون بھی بیان ہوا ہے۔ آیت کے الفاظ چونکہ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو ایسی صورتوں میں محصور کر دیتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل سے بظاہر محصور دکھائی نہیں دیتے، اس لیے ہمارے فقہا کے لیے یہ آیت ہمیشہ 'مسئلے کا حصہ' (part of the problem) اور محل تاویلات رہی ہے۔ آیت کا وہ حصہ جو موضوع سے متعلق...

مباحث فطرت و اخلاق: بحث کیا ہے؟

― محمد زاہد صدیق مغل

"فطرت بطور ماخذ" کی بحث میں فطرت کے ماخذ ہونے کا انکار کرنے والے گروہ پر نقد کرتے ہوئے مختلف احباب غیر متعلق و غلط فہمیوں پر مبنی استدلال پیش کرتے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ ان کی وضاحت کردی جائے تاکہ نفس موضوع و بحث واضح ہوسکے اور کم از کم گفتگو تو اصل مدعے پر ہوا کرے۔ پہلی غلطی: اس ضمن میں پہلی غلطی یہ سوال ہوتا ہے: تو کیا آپ اسلام کو دین فطرت نہیں مانتے، یہ بات تو نصوص کے خلاف ہے؟ پھر چند نصوص پیش کرکے یہ ثابت کرنا شروع کردیا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کی ایک فطرت بنائی ہے وغیرہ۔ تبصرہ: یہ سوال اور...

سانحہ مستونگ کے شہداء

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

اضاخیل پشاور کے ’’صد سالہ عالمی اجتماع‘‘ کے بعد سے اس بات کا خدشہ اور خطرہ مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوگا۔ صد سالہ اجتماع کی بھرپور کامیابی اور اس میں دیے جانے والے واضح پیغام نے دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا ہے کہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کا قافلہ دینی و قومی تحریکات کے لیے عدم تشدد پر مبنی پر امن جدوجہد کی پالیسی پر نہ صرف قائم ہے بلکہ آئندہ کے لیے اس نے اس کا تسلسل قائم رکھنے کا عزم نو بھی کر لیا ہے۔ اس لیے خیال تھا کہ تشدد کو اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لیے اس کو ہضم کرنا مشکل ہوگا اور وہ اپنے غصے کا کہیں نہ کہیں اظہار...

مکاتیب

― ادارہ

مئی کے شمارہ میں ڈاکٹرعرفان شہزاد کا مضمون بعنوان ’’جہادی بیانئے کی تشکیل میں روایتی مذہبی فکر کا کردار ‘‘پڑھنے کا موقع ملا، پڑھ کر یہی لگاکہ ڈاکٹر صاحب نے تحقیق کے نام پر ایک طرفہ مضمون لکھاہے ،یعنی ان کے ذہن ومزاج نے پہلے ہی طے کرلیاہے کہ مدارس اورنصاب کو عسکریت پسندی کا ذمہ دارٹھہراناہے تواسی لحاظ سے ثبوت وشواہد اکٹھے کئے۔ انہوں نے جس منطق سے مدارس کے نصاب کو موردالزا م ٹھہرایاہے، بعینہ اسی منطق سے قرآن وحدیث پر بھی یہ الزامات عائد کئے جاسکتے ہیں اور مختلف لوگ عائد کرتے ہی رہتے ہیں، کبھی یہ بات چلتی ہے کہ قرآن کی آیات جہاد نکال دی جائیں...

ای میل سبسکرپشن

 

Delivered by FeedBurner

Flag Counter