قرآنِ مجید اور اسیرانِ جنگ

عدنان اعجاز

سورہ محمد (۷۴) (۱) کی آیت ۴ میں اللہ تعالیٰ کے وہ جنگی احکامات مذکور ہیں جو ہجرتِ مدینہ کے مختصراً بعدکفار مکہ سے باقاعدہ آغازِ جنگ کے موقع پر مسلمانوں کو دیے گئے۔ ان میں جنگی قیدیوں سے متعلق ایک اہم قانون بھی بیان ہوا ہے۔ آیت کے الفاظ چونکہ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے حوالے سے مسلمانوں کے اختیار کو دو ایسی صورتوں میں محصور کر دیتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے طرزِ عمل سے بظاہر محصور دکھائی نہیں دیتے، اس لیے ہمارے فقہا کے لیے یہ آیت ہمیشہ 'مسئلے کا حصہ' (part of the problem) اور محل تاویلات رہی ہے۔ آیت کا وہ حصہ جو موضوع سے متعلق ہے، یہ ہے:

فَاِذَا لَقِیتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَاب، حَتّٰی اِذَا اَثْخَنْتُمُوھُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ، فَاِمَّا مَنًّام بَعْدُ وَاِمَّا فِدَاءً حَتّٰی تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَھَا۔

ترجمہ تفسیر عثمانی: ’’سو جب تم مقابل ہو منکروں کے تو مارو گردنیں یہاں تک کہ جب خوب قتل کر چکو ان کو تو مضبوط باندھ لو قید پھر یا احسان کیجیو اور یا معاوضہ لیجیو جب تک کہ رکھ دے لڑائی اپنے ہتھیار۔‘‘

ترجمہ تدبر قرآن: ’’پس جب ان کافروں سے تمہارے مقابلہ کی نوبت آئے تو ان کی گردنیں اڑاؤ۔ یہاں تک کہ جب ان کو اچھی طرح چور کر دو تو ان کو مضبوط باندھ لو پھر یا تو احسان کر کے چھوڑنا ہے یا فدیہ لے کریہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘

ترجمہ تفہیم القرآن: ’’پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘

ترجمہ البیان (غامدی): ’’سو، (ایمان والو)، جب اِن منکروں سے تمھارے مقابلے کی نوبت آئے تو بے دریغ گردنیں مارنی ہیں، یہاں تک کہ جب تم اِن کو اچھی طرح کچل دو، تب قیدی بنا کرمضبوط باندھو۔پھر جب باندھ لو تو اْس کے بعد احسان کرکے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر۔ (اِن کے ساتھ تمھارا یہی معاملہ رہنا چاہیے)، یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔‘‘

یہ مختلف تراجم تقابل کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ قارئین دیکھ سکتے ہیں کہ بظاہر تراجم کتنے ہم آہنگ ہیں، جو ظاہر ہے کہ آیت کے غیر مبہم ہونے ہی کی دلیل ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ان مماثل تراجم کے باوجود ان حضرات کے فقہی نتائج مختلف ہیں۔ ان میں سب سے اہم اختلاف اس امر پر ہوا ہے کہ خط کشیدہ میں جو حکم قیدیوں کے متعلق دیا گیا ہے، وہ فی الواقع مسلمانوں کے اختیار کو انہی مذکورہ دو صورتوں یعنی "فدیہ لے کر رہا کرنے" یا "احسان کے طور پر رہا کرنے" میں محدود کر دیتا ہے یا اس کے علاوہ اور صورتیں مثلاً غلام یا ذمی بنا لینا اور قتل کر دینا وغیرہ بھی دائرۂ جواز میں شامل رہتی ہیں۔ یہ سوال شاید آیت کے الفاظ سے باور کرنا مشکل ہو، کہ وہ تو بہت واضح ہیں، تاہم یہ پوری شدت سے تب پیدا ہو جاتا ہے جب قرآن کے دوسرے مقامات، احادیث، سیرت رسول اور تاریخ پر نظر ڈالی جائے۔ان مصادر میں ایسے احکامات و واقعات مذکور ہیں جن کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے جنگی قیدیوں کو غلام اور مفتوحہ مکینوں کو ذمی بھی بنایا، اگرچہ قتل کرنے کی صرف چند مثالیں موجود ہیں۔ پھر مزید یہ کہ اگر واقعی پہلی صورت مراد ہے تو پھر اس آیت کی رو سے جنگی قیدیوں کو غلام بنانے کی اجازت ختم کر دی گئی جس کا منطقی اور لازمی نتیجہ یہ نکلنا چاہیے تھا کہ غلامی کا ہی خاتمہ ہو جاتا، فوراً نہیں تو تدریجاً۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دَور میں ایسا ہوا، نہ صحابہ کے دَور میں اور نہ ہی اس کے بعد کبھی۔ اسلاف میں سے کسی ایک فقیہ نے بھی اِس یا کسی اور آیت کے تحت غلام بنانے کو مطلقاً کبھی ناجائز نہیں سمجھا۔

چنانچہ آیت کے حکم اور واقعات کے مابین اس تضاد کو حل کرنے کے لیے ہمارے مفسرین نے وہی طریقہ اختیار کیا جو اس طرح کے دوسرے مواقع پر وہ اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ ایک اجمالی نیز مستحق تفسیر تو تقریباً بے لاگ ہی بیان کر دیتے ہیں مگر نتائج و احکامات کے لیے وہ فقہائے اسلاف کی آراء نقل کر دیتے ہیں، اس حال میں کہ ان دونوں کے مابین تطبیق کو بہت اہمیت نہیں دیتے۔ پس کوئی قدیم و جدید تفسیر اٹھا لیجیے، آپ کو اسی آیت کے ذیل میں ابن عمر، مجاہد، قتادہ، ابو حنیفہ و شافعی وغیرہم کی آراء مل جائیں گی کہ کون قتل کو جائز سمجھتا تھا، کون غلامی و جزیہ کو بھی، کون اس آیت کو منسوخ مانتا تھا اور کون نزولِ عیسیٰ تک اسے قابل عمل۔تاہم اگر کوئی طالب علم آیت کے الفاظ کو ہی کشتی نتائج کے بادبانوں میں ہوا کا واحد ذریعہ دیکھنا چاہے تو سوائے تدبر قرآن اور البیان کے تشفی نہیں ہو پاتی۔ہر چند یہ بالترتیب استاذ اور شاگرد کی تفاسیر ہیں، اور یہ دونوں حضرات قرآن ہی کے الفاظ کو مجرد کر کے احکامات کی تخریج کے قائل ہیں، مگر ان دونوں کے نتائج بھی باہم دگر مختلف ہی ہیں۔

اصلاحی صاحب نے یہاں "احسان یا فدیہ" تک حدبندی کو قیدیوں کے باب میں بیانِ قانون ماننے ہی سے انکار کیا ہے، اور حکم کومحض الفاظِ آیت کی بجائے فحوائے کلام سے اخذ کرتے ہوئے خط کشیدہ کے حصر کو"باعزت آزاد کرنے " کے مقابلے میں ایک طرح کی تاکید قرار دیا ہے۔ اس لیے وہ خط کشیدہ کے ٹکڑے کو حصر مانتے ہوئے بھی قتل و غلامی اور دوسری صورتوں کے لیے مانع نہیں سمجھتے۔ اس طرزِ تفسیر کی تفصیل تدبر قرآن یا عمار خان ناصر صاحب کی توضیح میں دیکھی جا سکتی ہے(۲)۔ میں اس تفسیر کو درست نہیں سمجھتا، بلکہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ کسی بھی طالب علم کو یہ تفسیر مصنوعی معلوم پڑتی ہے۔

اس کے مقابل میں غامدی صاحب نے نہ صرف یہ کہ حصر کو قانونی حصر ہی سمجھا ہے بلکہ اصلاحی صاحب کے موقف پر تفصیلی تنقید کرتے ہوئے فحوائے کلام کی بھی ایسی توضیح کر دی ہے کہ میرے جیسے قرآن کے طالب علموں کے لیے تو کوئی گنجائش باقی نہیں چھوڑی۔ یہ تفسیر انتہائی سادگی اور دیانتداری سے کلام کا رخ بھی متعین کر دیتی، سارے نتائج بھی بے لاگ برآمد کر کے سامنے رکھ دیتی ہے اور کسی خارج کی احتیاج بھی باقی نہیں رہنے دیتی۔ چنانچہ اس میں کوئی شک باقی نہیں رہتا کہ اس آیت کے تحت مسلمانوں کے اختیار کو دو ہی مذکورہ صورتوں تک محدود کر دیا گیا 150 یعنی جنگی قیدیوں کو یا تو احسان کے طور پر رہا کر دینا ہے اور یا فدیہ لے کر۔ اِس کے بعد صرف وہی مستثنیا ت باقی رہ گئے جو علم و عقل کے مسلمات کی رو سے ہر قانون، ہر قاعدے اور ہر حکم میں اس کی ابتدا ہی سے مضمر ہوتے ہیں۔ یعنی مثال کے طور پر، سنگین جرائم کے کسی مرتکب کے ساتھ اس کے جرائم کی بنا پر اِس سے ہٹ کر کوئی معاملہ کیا جائے۔ اِس سے، ظاہرہے کہ قیدیوں کے بارے میں اِس عام قانون پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔(۳) اس پر مزیداس حکم کے منطقی نتیجے کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "یہ حکم اگرچہ مشرکین عرب کے حوالے سے بیان ہوا ہے، لیکن ہر لحاظ سے عام ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قیدی بنا لینے کے بعد جب رسول کے منکرین سے احسان یا فدیے کے سوا کوئی معاملہ نہیں کیا جا سکتا تو دوسروں سے بدرجہ اولیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ قرآن کا یہی حکم ہے جس نے قیدیوں کو غلام بنانے کا رواج ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا اور اِس طرح غلامی کی جڑ کاٹ دی۔" 

ما سوا اس آخری نتیجے کے150 کہ جس کو میں درست نہیں سمجھتا151 آیت کی باقی تفسیر ہر اعتبار سے صحیح، صاف و بلاپیچیدگی (straightforward)، الفاظ سے آخری حد تک دیانتداری ( translational fidelity) کی حامل اور کلام اللہ کے کمال و جامعیت پر دال ہے۔اس کو پڑھ کر دیکھ لیجیے 150 کوئی دوسری تفسیر قابل اعتنا نہیں رہتی۔ تاہم151 اور یہ تو نتیجہ معلومہ ( foregone conclusion) ہے151 اس تفسیر کے نتیجے میں تاریخ اور تمام مخالف روایات کو نظرانداز کرنا یا ان کی تاویل کرنا ضروری ٹھہر جاتا ہے۔چنانچہ غامدی صاحب اپنے مضمون "قرآن اور اسیرانِ جنگ" میں ایک دو مشہور واقعات کی مختلف روایات کے مابین تضادات کی نشاندہی کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "اِس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ تاریخی واقعات کے سمجھنے میں اِن روایتوں پر کہاں تک اعتماد کیا جا سکتا ہے۔جن لوگوں نے دقت نظر کے ساتھ اِن کا مطالعہ کیا ہے، وہ جانتے ہیں کہ راویوں کا فہم، ان کاذہنی اور سماجی پس منظر اور ان کے دانستہ یا نادانستہ تصرفات بات کو کیا سے کیا بنا دیتے ہیں۔ دین کے طالب علموں کے لیے ہمارا مشورہ یہ ہے کہ روایتوں سے قرآن کو سمجھنے کے بجاے اْنھیں خود روایتوں کو قرآن کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔" 

میری رائے غامدی صاحب کی تفسیر کے اکثر حصے کو درست ماننے کے باوجود مجموعی اعتبار سے قدرے مختلف ہے، پس یہاں سے آگے میں اپنی رائے کے دلائل تحریر کروں گا۔ اس کے لیے ہم اس آیت اور اس کی حامل سورہ کے وسیع تر موقع و محل کا مشاہدہ کریں گے، پھر آیت کے اندرونی قرائن کا تجزیہ کرکے نتائج برآمد کریں گے۔ پھر آپ دیکھیں گے کہ یہ نتائج اور روایات کیسے باہم موافق قرار پائیں گی۔اس رائے کے اجزا آپ کو اسلاف کے یہاں مل جائیں گے، پر کلی اعتبار سے یہ منفرد ہے، اس لیے علیحدہ تفصیل سے بیان کرنا ضروری ہے۔ مزید، ان میں سے بعض دلائل کو سمجھنے کے لیے کچھ عسکری ذوق بھی درکار ہو گا مگر میں کوشش کروں گا کہ وہ تفہیم میں حائل نہ ہونے پائے۔

سورہ کا موقع و محل

سورہ محمد، سب جانتے ہیں کہ سورۂ قتال ہے۔ یہ ہجرتِ مدینہ کے بعد کفارِ مکہ سے کسی باقاعدہ جنگ میں مڈبھیڑ سے پہلے مسلمانوں کو اس کے لیے تیار کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے۔ اس جنگ کے ضوابط بھی اسی لیے موقع کی مناسبت سے بیان ہو گئے ہیں۔ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی اور اس کا ہدف کیا ہے، یہ بھی اجمال سے بیان کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد نازل ہونے والی سورہ یعنی سورہ انفال میں اس اجمال کی تفصیل بھی کر دی گئی ہے۔یہ اصل میں ان چار سورتوں میں سے ایک ہے جن کے مجموعی مطالعے اور انضمام کے بعد ان تدریجی جنگی احکامات کو مکمل طور پر سمجھنا ممکن ہو پاتا ہے۔اس لیے آئیے ان کی نشاندہی بھی کر لیتے ہیں۔

یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ قرآن پاک میں سورتیں جوڑا جوڑا آئی ہیں۔ پس یہاں سورہ محمد اور سورہ فتح جوڑا ہیں۔ موضوعی اعتبار سے اسی سلسلے کا دوسرا جوڑا سورہ انفال اور سورہ توبہ ہیں۔ سورہ محمد جنگوں کے آغاز سے متصلاً پہلے اور سورہ فتح جنگوں کے اختتام (۴)سے متصلاً پہلے نازل ہوئی۔ سورہ انفال جنگوں کے آغاز کے متصلاً بعد (۵)اور سورہ توبہ اختتام کے متصلاً بعد (۶)نازل ہوئی۔ ان کو اگر موضوعی اور زمانی ترتیب میں رکھ کر دیکھا جائے تو ان کی ترتیب محمد، انفال، فتح اور پھر توبہ قرار پاتی ہے۔(۷) اس لیے ان کو میں یہاں سے آگے بالترتیب پہلی، دوسری، تیسری اور چوتھی سورت سے تعبیر کروں گا۔ ان سورتوں میں اگرچہ ضمنی طور پر ’’اور‘‘ دشمنوں کا ذکر بھی ہے تاہم کوئی بھی مدبر طالب علم یہ باور کر سکتا ہے کہ ان سب سورتوں میں ایک ہی مرکزی دشمن ہے جس کو ان سورتوں میں اصلی ہدف بنایا گیا ہے۔ ہم ان سورتوں میں تدریجی احکامات کا مطالعہ ایک ترتیب سے کرتے ہیں تا کہ وہ دشمن نکھر کر سامنے آ جائے۔

1۔ پہلی سورہ میں بتایا گیا کہ اِن کافروں سے جب کبھی بھی مڈبھیڑ ہو تو چونکہ حق کے انکار کی وجہ سے یہ خدا کے انتقام کے مستحق ہو چکے ہیں، انہیں ہمیشہ بے دریغ قتل کرنا ہے، اور صرف خوب خونریزی کے بعد قیدی بنائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اگر قیدی بنا لیے گئے تو پھر انہیں یا تو احساناً آزاد کر دینا ہے اور یا پھر فدیہ لے کر۔ اور انہیں صلح کی پیشکش بھی نہیں کرنی۔ پھر ایک دن آئے گا کہ یہ جنگ ہی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی اور اس کے ساتھ یہ احکامات بھی۔

2۔ دوسری سورہ میں بتایا گیا کہ اب چونکہ انہیں ایک بڑی شکست دے دی گئی ہے، اس لیے اب اگر یہ اپنی طرف سے صلح کی پیشکش کریں تو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ تاہم اگر یہ جنگ پر ہی مصر رہیں تو جنگ تو اب اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس سرزمین میں صرف اللہ کا دین نہیں رہ جاتا اور کسی شخص کے لیے اسے اختیار کرنا مشکل نہیں رہتا۔ اور جو قیدی بنا لیے گئے تھے، ان پر احساناً یا فدیہ لے کر چھوڑتے ہوئے یہ بات بھی واضح کر دی گئی کہ ان کے لیے ہدایت کا امکان اب بھی باقی ہے۔

3۔ تیسری سورہ میں فتح کی خوشخبری سنا دی گئی اور بتا دیا گیا کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی صلح کی پیشکش قبول کر لی گئی، اگرچہ اگر وہ جنگ ہی پر اصرار کرتے تو مکہ ابھی اسی وقت فتح ہو جاتا۔ جو مسلمان اس اہم موقع پر پیچھے رہ گئے تھے، ان پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا اور بتا دیا گیا کہ اب اِن مسلمانوں کو بھی بس ایک موقع اور دیا جائے گا؛ اگر اس پر بھی اِنہوں نے بیٹھ رہنے کا فیصلہ کیا تو پھر اِنہیں بھی مستحق عذاب سمجھا جائے گا۔

4۔ چوتھی سورہ میں الفتح کے مل جانے کے بعد بتا دیا گیا کہ اب ان سب کفار کو (کچھ مہلت کے بعد جس میں وہ اسلام کو جان سکتے ہیں) قتل کر دیا جائے گا، الّا یہ کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ یعنی اِن کے باب میں نہ احسان، نہ غلامی، نہ معاہد، نہ ذمی، کوئی بھی صورت اختیار نہیں کی جا سکتی؛ اب اِن پر اسلام نہ لانے کی صورت میں اللہ کی سنت کے عین مطابق مسلمانوں کے ہاتھوں عذاب آئے گا اور اِن کا استیصال کر دیا جائے گا۔

پس وہ مرکزی دشمن کون تھا؟ اگر آپ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ ’’مشرکین عرب‘‘ تھے تو آپ کا جواب صرف پچیس فی صد صحیح ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ گروہ ’’کفارِ مکہ‘‘ تھا۔ پہلی تین سورتوں تک یہ بالکل معین رہے۔ ہاں چوتھی سورت میں پہنچ کر اس دائرے کو وسیع کر کے تمام مشرکین عرب تک پھیلا دیا گیا۔ 

اس کو سہل ترین زاویے سے ہی دیکھ لینے سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔ پہلی سورہ میں فرمایا گیا کہ ان کی طرف صلح کا ہاتھ نہیں بڑھایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے پہنچنے کے بعد اس حکم کے نزول سے پہلے اور بعد میں یہودی قبائل سے بھی صلح کے معاہدے کیے اور غیر یہودی قبائل سے بھی۔نہیں کیا تو بس مشرکین مکہ ہی سے۔ دوسری سورہ میں صلح کی پیشکش اگر دوسری جانب سے ہو تو اسے قبول کرنے کی اجازت کا اضافہ کر دیا گیا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ ہی کی طرف صریح اشارہ تھا۔ تیسری میں اس صلح پر تبصرہ جو اِنہی مشرکین سے ہوئی اور چوتھی میں ہر طرح کی صلح کے معاہدے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا۔ 

دشمن کی تعیین سے اصل میں بتانا یہ مقصود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگیں اگرچہ کثیر رخی تھیں مگر اس کی متنوع لڑیوں میں سے ایک لڑی وہ تھی جو مرکزی اور باقیوں سے مختلف اور اہم تر تھی۔ باقی لڑیاں اس کے ارد گرد اور ضمنی نوعیت کی تھیں۔ اس کے متعلق نہ صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصلاً عرب کی حکمرانی کی جنگ تھی بلکہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے معرکے سے ہی ان لوگوں کے خلاف تھی جن پر اتمام حجت ہو چکا تھا۔ پس اس جنگ کے بارے میں دیے گئے احکامات نہ صرف تدریجی تھے بلکہ باعتبارِ مفعول اور وقت دونوں اعتبارات سے ہی خاص اور محدود تھے۔ ان احکامات کا اور کسی گروہ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور انہیں عام نہیں کیا جا سکتا۔

اس کو اچھے طریقے سے سمجھنے کے لیے آئیے، آیت کا تجزیہ کرتے ہیں۔

آیت کا تجزیہ

یہ سورہ کی چوتھی آیت ہے۔ پہلی چار آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح کر دیا کہ یہ کفارِ مکہ اور متبعین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے فیصلوں کے عین مطابق اب دو ممیز گروہ بن گئے ہیں۔ ایک کفار: جنہوں نے جانتے بوجھتے اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اس لیے اب اللہ کے بدلہ لینے کے مستحق ہو چکے ہیں۔ اور دوسرے مؤمنین: جو محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی ہدایت پر ایمان لے آئے ہیں۔ پس اللہ اب ان کفار سے بدلہ لینے کے لیے ان مؤمنین کو اپنے آلے اور جارحے کے طور پر استعمال کرے گا۔ 

یہاں اگرچہ خطاب 'الَّذِینَ کَفَرْوا' کے عام الفاظ سے کیا گیا ہے مگر موقعِ کلام سے مشار الیہ بالکل واضح ہے۔ عام الفاظ سے اشارہ اس لیے کیا گیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہو رہی ہے، کفار کا لفظ انہی مشرکین مکہ پر صادق آ سکتا تھا۔ پورے عرب میں یہی وہ لوگ تھے جن کے بیچ رہ کر کم و بیش 13 برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انذار کیا تھا اور انہی کے متعلق یہ کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے انکار کیا ہے۔ اور کوئی گروہ150خواہ وہ یہودی ہوں یا باقی عرب کے مشرکین 150ابھی تک مخاطب دعوت تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان سب سے صلح کے معاہدے کر لیے گئے یا کوشش کی گئی۔ پس کسی اور کو کافر کہہ کر اللہ کے بدلے کا مستحق گرداننا قبل از قت اور منطقی اعتبار سے ناقابل فہم ہوتا۔ 

اب آئیے آیت پر۔ میں صرف اس آیت کی تحدید سے متعلق وضاحت کرنے پر اکتفا کروں گا کہ باقی تفسیر کے لیے غامدی صاحب کی البیان کی مراجعت کر لی جائے۔ 

اس میں پہلا حکم گردنیں مارتے چلے جانا ہے یہاں تک کہ 'اثخان' کا حق ادا ہو جائے؛ صرف تب قیدی بنائے جا سکتے ہیں۔ پس اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ اس سے کیا مراد ہے ورنہ ان مخصوص احکامات کی حکمت اور قیود واضح نہ ہو پائیں گی۔

اثخان کہتے ہیں ’’الاثخان فی الشیء المبالغۃ فیہ والاکثار منہ‘‘،(۸) کسی کام میں مبالغے اور کثرت کو۔ بالفاظِ دیگر کسی معاملے میں حد اعتدال سے بڑھ کر کام کرنے کو اثخان سے تعبیر کریں گے۔ اسی لیے ہمارے مفسرین نے اسے ٹھیک اچھی طرح کچل دینے، خوب خونریزی کر دینے وغیرہ سے تعبیر کیاہے۔ پر اس کی بالفعل صورت کیا ہو گی اس پر کما حقہ غور نہیں کیا، حالانکہ دوسری سورہ میں اسی کام کو کما حقہ کرنے سے پہلے قیدی بنا لینے پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر برہمی کا اظہار فرمایا۔(۹)

جنگ کا معروف طریقہ یہ ہے کہ جب کوئی دشمن ہتھیار پھینک کر خود کو قیدی کے طور پر پیش کر دے تو اس سے جنگ نہیں کی جائے گی بلکہ اسے قیدی بنا لیا جائے گا۔ اس اثخان کے حکم سے گویا عرف کی نفی کر دی گئی۔ اثخان کا تقاضا یہ ہے کہ اس وقت تک جب تک دشمن کے اکثر لوگوں کو مار نہ دیا گیا ہو، قیدی بنانے کا عمل شروع نہیں کیا جائے گا۔ یعنی کوئی دشمن چاہے ہتھیار پھینک دے، اسے قتل کر دیا جائے گا الّا یہ کہ جنگ میں وہ موقع آ جائے کہ یہ تسلی ہو جائے کہ دشمن کا اکثر حصہ تہ تیغ کر دیا گیا ہے۔ اس کو سادہ الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ معروف طریقے میں قیدی بننے کا اختیار اسیر کے اپنے پاس ہے۔ اس جنگ میں اس اختیار کو آسر یعنی قیدی بنانے والے کے ہاتھ میں دے دیا گیا اور یہ شرط لگا دی گئی کہ اس اختیار کا استعمال وہ صرف اثخان کے بعد کر سکتا ہے، خواہ کتنے ہی دشمن کسی بھی وقت قیدی بننے کے لیے تیار کیوں نہ ہوں۔ سارے دشمنوں کو بلاتفریق دورانِ جنگ ہی قتل کر دیا جائے تو بھی اس حکم سے انحراف شمار نہیں ہو گا۔

اس حکم سے آپ ہی واضح ہے کہ یہ جنگ صرف جیتنے کے لیے نہیں لڑی جا رہی تھی بلکہ سزا کے لیے لڑی جا رہی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ خلافِ عرف حکم زیادتی پر محمول ہو سکتا تھا۔ چنانچہ یہ واضح ہے کہ اس حکم کا مصداق صرف ایسا گروہ ہو سکتا ہے جو اللہ کی نظر میں سزا کا حقدار ہو چکا تھا۔مسلمانوں کی عام جنگوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، اور اگر تعلق جوڑا جائے گا تو صاف حکم کے سبب الوجود ( raison d'234tre) کے خلاف ہو گا۔

اس میں دوسرا حکم پکڑے جانے والے قیدیوں کو لازماً رہا کر دینا ہے: یا احسان کے طور پر اور یا فدیہ لے کر۔ یہ ہے وہ اچانک 'خدائی رحمدلی' جو بظاہر بڑی 'فی غیر محلہ' ( out of place) معلوم پڑتی ہے، جس کی وجہ سے یہ پوری طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اسی لیے ہمارے اکثر اسلاف نے اس کی متفرق تاویلات کی ہیں۔ کسی بھی قاری کو صاف محسوس ہو جاتا ہے کہ کلام کا زور جس رخ پر ذہن کو آپ سے آپ منتقل کر رہا تھا، اس میں اچانک اتنا بڑا اور بظاہر غیر مستحق احسان قطعاً خلافِ توقع اور بظاہر ناقابلِ توجیہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گروہ کے متعلق اللہ کی پوری سکیم قاری کے پیش نظر نہیں۔

یہ وہ گروہ تھا جس کے متعلق بلا تفریق قتل عام کی تاریخ طے ہو چکی تھی۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان میں سے کسی کافر کو بھی زندہ رہنے کی مہلت اب بس چند سال تھی جس کے بعد ان سب کو علی الاطلاق قتل کر دیا جانا تھا۔ پس جو لوگ اس مخصوص جنگ میں قسمت سے زندہ بچ گئے، ان کو ہدایت پانے کا ایک موقع اور دے دیے جانے کا فیصلہ کہ آخرکار تو ان کے قتل کا فیصلہ آیا ہی چاہتا تھا150 ایک بڑا پر حکمت فیصلہ تھا۔ لہٰذا ہدایت کے اس آخری موقعے کو مزید میٹھا کرنے اور ان کے مؤلفۃ القلوب کے ذریعے ایمان لے آنے کی ترغیب مزید کے لیے اِن پر احسان کر کے انہیں رہا کر دینے کا حکم دے دیا گیا۔ پھر اس احسان سے یہ امید بھی کی جا سکتی تھی کہ ایسے ممنونِ احسان دوبارہ جنگ کے لیے نہ آئیں گے۔ قتل کی سزا کے مستحقین کے لیے غلامی یا قید وغیرہ کی سزاؤں کا اضافہ بے وجہ اور خلافِ حق ہوتا۔ انہیں اپنے آخری ایام آزاد لوگوں کی حیثیت سے اپنا اپنا فیصلہ کر لینے کی خاطر بسر کرنے کی اجازت دیا جانا ہر طرح سے سمجھ میں آتا ہے۔

پس یہ کوئی مجرد اور مطلق خدائی رحم نہیں تھا جو ان لوگوں پر کیا جا رہا تھا۔ یہ اصل میں سزائے موت سے پہلے مہلت مزید تھی۔ اسی لیے آیت میں ہی اس مہلت کے اختتام کی تاریخ بھی مضمر کر دی گئی۔

اس حکم کا آخری حصہ150 یعنی حتی تضع الحرب اوزارھا (یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے)150 وہ تھا جسے آج کل کی قانونی زبان میں 'Sunset Clause' یعنی بند الانقضاء (یا ذیلی شزجوال) سے تعبیر کیا جاتا ہے؛ یعنی وہ وقت یا واقعہ جس کے بعد یہ حکم آپ سے آپ ختم متصور ہو گا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ جو 'اثخان' اور 'اطلاق'151 یعنی 'خونریزی' اور 'رہائی'151 کے غیر معمولی احکامات دیے جا رہے تھے، یہ بس وقتی تھے جو اس وقت منسوخ تصور کیے جائیں گے جب جنگ اپنے ہتھیار اتار دے گی۔ یہ الفاظ چونکہ پورے حکم کے آخر میں آئے ہیں، اس لیے حکم کا کوئی حصہ اس کے اثر سے باہر نہیں سمجھا جا سکتا؛ کہ خونریزی پر تو اس کا اطلاق کیا جائے مگر رہائی پر نہ کیا جائے۔ 

’’جنگ اپنے ہتھیار اتار دے گی‘‘ سے مراد کیا ہے؟ عربی کی اس تعبیر کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جنگ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گی اور جنگ کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی۔ اس کا اطلاق کسی باقاعدہ جنگ کے دورانیے میں وقتاً فوقتاً لڑے جانے والے معرکوں کے درمیان کسی عارضی نوعیت کے التوا یا معاہدۂ التوا پر نہیں ہو سکتا۔ جس دشمن سے جنگ لڑی جا رہی ہو اس کے خلاف مکمل فتح یا شکست یا پھر وجوہِ جنگ کے بنیاد میں ختم ہو جانے پر ہی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کا مصداق کیا تھا، اس کی تعیین میں بہت اختلاف رہا ہے۔ کچھ اسلاف کے نزدیک اس سے مراد شرک کا خاتمہ تھا۔ کچھ کے نزدیک مشرکین کی قوت (شوکت) کا خاتمہ تھا۔ کچھ کے نزدیک نزولِ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تک کا دورانیہ اس کی مراد تھا، کیونکہ وہی ایک ایسا سنگِ میل تھا جس کے بعد دنیا سے جنگ ختم ہو جانا ممکن تھا۔ 

میرے نزدیک یہاں 'الحرب' کا 'ال' عہد کے لیے ہے اور اس قطعے کا واضح مصداق فتح مکہ تھا۔ یعنی 'یہاں تک کہ یہ جنگ اپنے ہتھیار اتار دے' سے مراد یہی جنگ تھی جو عرب کی قانونی حکمرانی کے لیے کفارِ مکہ سے لڑی جا رہی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس نوعیت کی تقیید فرماتے ہیں تو اس کا مصداق بالکل واضح اور متعین ہوتا ہے۔ فتح مکہ سے چونکہ عرب کی حکمرانی قانوناً ( de jure) مسلمانوں کو حاصل ہو گئی، پس باقی سب عرب قبائل کے لیے اسے قبول کرنا لازم ٹھہر گیا اور انہوں نے بحیثیت مجموعی اسے بالفعل تسلیم بھی کر لیا۔ چنانچہ اسلاف میں سے جن نے اس ذیلی جملے کو شرک سے متعلق مانا ہے، میری رائے ان کی رائے کے قریب قریب ہے۔

تاہم یہاں جو بات اہم ترین ہے اور جس پر اصل میں توجہ مبذول کرنا مقصود تھا، وہ اس حکم کی وقتی حدبندی ہے جو 'حتی تضع الحرب اوزارھا' سے مثل آفتاب واضح ہے۔ اس قطع حکم نے اس پورے حکم کو بلا ریب موقت (limited by time) بنا دیا ہے۔ چنانچہ ان مخصوص احکامات کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک وقت زوال، حکم کی پیدائش ہی سے مقرر و بیان کر دیا جانا ان احکامات کی تعمیم میں سب سے پہلے حائل ہے۔

مندرجہ بالا بحث کا حاصل یہ ہے کہ سورہ محمد کی یہ آیت دو اعتبارات سے خاص تھی۔ ایک، یہ مخصوص گروہ یعنی مشرکینِ مکہ کے لیے خاص تھی جو اس سورہ کے قرائن سے بالکل واضح ہے۔ اور دو، ان کے باب میں بھی یہ ایک خاص وقت تک مؤثر تھی اور یہ وقت فتح مکہ کے بعد پورا ہو گیا۔ ان کی حکمت یہ تھی کہ اس گروہ پر اتمامِ حجت کے اور ارادۂ قتلِ رسول و انہدام الاسلام کے بعد اب اللہ کی سزا نافذ ہونی تھی۔ اس لیے اگر جتھہ بندی کر کے آتے تو ان کی خوب خونریزی ہونی چاہیے تھی۔ اور ان میں سے جو خونریزی کے بعد ہاتھ لگ جائیں تو ان کے لیے بھی سزائے موت کی تاریخ چونکہ طے تھی، اس لیے انہیں اس وقت تک کچھ مہلت مزید دے دی جائے تا کہ یہ امید کی جا سکے کہ یہ ایمان لے آئیں گے یا کم از کم لڑنے کے لیے دوبارہ آنے سے شرمائیں گے۔ یہ جنگ کے متعلق احکامات نہیں بلکہ دشمن کے متعلق احکامات ہیں۔ ان سے کسی نوعیت کے عام جنگی احکامات برآمد کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی قائل کے پیش نظر۔یہ سب باتیں خود کلام ہی سے واضح ہیں۔اگر ایسا کرنا پیش نظر ہوتا تو جب تک یہ جنگ ہتھیار اتار دے کی قید تو کبھی نہ لگائی جاتی۔اس لیے محترم غامدی صاحب نے جو ان احکامات کی تعمیم کی ہے یا ان سے غلامی کے متعلق کوئی عام حکمِ امتناع کا استنباط، میری نظر میں وہ درست نہیں۔

اس سے پہلے کہ اس حکم کے منطقی نتائج کا مطالعہ ہم تاریخ کے موازنے سے بھی کر لیں، جنگی قیدیوں سے متعلق 'معروف' کا تذکرہ یہاں مفید معلوم پڑتا ہے۔

1۔ جنگ میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے متعلق منصفانہ اور معروف طریقہ یہی ہے کہ انہیں قتل نہیں کیا جائے گا۔ یہ کوئی اسلامی نہیں بلکہ غلامی یا مقتولین کی لاشوں کی واپسی کی طرح ایک اجتماعی اور تاریخی فیصلہ اور آدابِ جنگ کا ایک قاعدہ تھا۔ اگرچہ جنگ میں قیدی اس طرح بھی پکڑے جاتے ہیں کہ دشمن کسی وار یا غیر متوقع حملے کے نتیجے میں غیر مسلح ہو گیا ہو، تاہم اس کی اغلب نوعیت یہی ہوتی ہے کہ مقاتل کسی وجہ سے ایسے گھر گیا ہو کہ لڑائی جاری رکھنے کی صورت میں اس کا مر جانا یقینی ہو۔ پس اپنی جان بخشی کے عوض وہ خود کو قتل سے کم تر ہر طرح کی ذلت پر پیش کرنے کے ارادے سے ہتھیار ڈال کر قیدی بن جائے۔ تاہم وہ کس حال میں پکڑے گئے ہیں، ان کا انجام اس پر بھی معلق ہوتا تھا۔ یعنی اگر وہ لڑتے لڑتے فقط مقہور ہو جانے کے نتیجے میں قیدی بن گئے ہیں تو انہیں بعد میں قتل کی گنجائش باقی رہتی تھی۔ پر اگر وہ دوسرے طریقے سے قیدی بن گئے ہوں اور اکثر ایسا ہی ہوتا تھا تو پھر ایسے اشخاص کے اس فعل کا پاس رکھتے ہوئے انہیں قتل سے خلاصی دے دی جاتی تھی۔ یہ ایک طرح کا 'اتفاقِ اشراف' ( Gentleman's agreement) ہے جو ماضی میں کوئی قانونی نوعیت تو نہیں رکھتا تھا، پر ایک رواج اور نامذکور منطقی سمجھوتے کی حیثیت رکھتا تھا۔پس اس معاملے میں ذلت کی کوئی صورت خلافِ حق متصور نہیں ہوتی مگر قتل قابل کراہت اور اس مسلمہ سمجھوتے کی خلاف ورزی شمار ہوتا ہے۔ الّا یہ کہ قیدی صرف جنگ کا مجرم نہ ہو بلکہ اس سے بڑے کسی جرم کا ارتکاب بھی اس نے کر رکھا ہو، جیسے بغاوت یا فتنہ انگیزی وغیرہ۔ہمارے مذہبی فکر میں اس ضابطے کو اسلام سے مستخرج بتانے کی کوشش کی جاتی ہے جو صحیح نہیں۔ اسلام میں پہلے سے موجود اس اخلاقی ضابطے کی فقط پاسداری کی جاتی ہے۔

2۔ ذلت کی مختلف صورتوں میں سے ایک غلامی بھی تھی۔ زمانہ قدیم کی جنگوں میں اگر قیدیوں کی کوئی جماعت ہاتھ آ جائے تو انہیں قید رکھنا یا تو ممکن نہیں ہوتا تھا اور یا موزوں۔ جن علاقوں میں کوئی باقاعدہ قید خانوں کا نظام نہیں ہوتا تھا یا اس مقصد کی خاطر طویل مدت کے لیے معاشی وسائل کی کمی ، تو قیدیوں کو حکومت کی سطح پر سنبھالنا ممکن نہیں ہوتا تھا۔ اور جن علاقوں میں یہ ممکن ہو بھی تو موزوں اس لیے نہیں ہوتا تھا کہ یا تو ان قیدیوں کو اکٹھا رکھنا ان کی کسی فتنہ انگیزی کی کوشش کو ممکن بنائے رکھتا تھا اور یا پھر جنگ میں لڑنے والوں کے لیے ان سے فائدہ اٹھانا ان کا زیادہ فائدہ مند تصرف سمجھا جاتا تھا۔ان وجوہات کے باعث غلامی بالکل عام اور ایک ناگزیر نتیجہ تھی اور ایک طرح کے انتظامی مسئلے کا قابل عمل حل۔

3۔ قیدیوں کے لیے قتل سے کم تر کسی نوعیت کی سزا تو ایک معقول اور لازمی تقاضا تھی۔ پر اگر مخالفین نے بھی اس طرف کے کچھ قیدی پکڑ رکھے ہوں یا فوج کو مال و متاع کی حاجت ہو تو فدیے کا طریقہ بھی بالکل منطقی طور پر رائج رہا ہے۔ مزید اگر مفتوحین کے ساتھ کسی نوعیت کے سالانہ تاوان پر معاہدہ ہو جائے تو یہ بھی حالات کے اعتبار سے ایک قابلِ عمل طریقہ ہوا کرتا تھا۔ الغرض ایسے بہت سے طریقے رائج رہے ہیں پر اب چونکہ جنیوا کنونشن (Geneva Convention) کے نتیجے میں سب دستخط کنندہ کچھ عالمی قواعد کے پابند ہو گئے ہیں، جو یقیناًایک بہت اعلیٰ چیز ہے، اس لیے اب سب قدیم طریقے ناقابل عمل ہو گئے ہیں۔

4۔ تاہم ماضی میں قیدیوں کے بارے میں کوئی یک طرفہ رحمدلی کا رواج ناممکن تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس طرح کی کوئی رحمدلی دشمن کے لیے ترغیب اور شے دینے کے مترادف ہوتی کہ آؤ ہم پر حملہ کرو اور اگر حملے میں کامیاب نہ ہو پاؤ اور پکڑے جاؤ تو تسلی رکھو، ہمارے لیے تمہیں واپس کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی ابدی فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کر دیا ہے تو اس پر مجھے تو بہت حیرانی ہوتی ہے۔ یعنی کوئی ایک طرف کے قیدیوں کے ساتھ جو مرضی کرتا پھرے، دوسری طرف اگر قیدی پکڑ لے تو رہا کرنے کے پابند؟ اگر یہ حملے کی پیشکش اور ترغیب نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ سے ایسی کسی نامعقولیت کی توقع میرے لیے ناممکن ہے۔

اب آئیے اس آیت کے نتائج تاریخی واقعات کے تقابل سے جانچتے ہیں:

1۔ یہ احکامات مشرکین مکہ سے متعلق تھے۔ پس تاریخی روایات کا مطالعہ کریں تو کہیں کوئی معاملہ اس سے ہٹ کر نظر نہیں آتا۔ جنگ بدر اور اس سے پہلے کے سریے میں پکڑے جانے والے سب قیدیوں کو احساناً یا فدیہ لے کر رہا کر دیا گیا۔ ایک دو سرداروں کو قتل کیا گیا پر وہ اصلاً فتنہ انگیزی کی سزا تھی۔ اس طرح کے استثنائی قتل باقی جنگوں میں بھی کیے گئے مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں علیٰ لسانِ داود کے طرز پر علی لسانِ محمد ان کے متعلق پہلے ہی فیصلہ سنایا جا چکا تھا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر جب کچھ حملہ آور ان میں سے پکڑ لیے گئے تو انہیں بھی احساناً رہا کر دیا گیا۔الغرض ان کے متعلق ان احکامات کی سختی سے پیروی کی گئی۔

2۔ جب یہ احکامات مشرکینِ مکہ تک محدود تھے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ یہود و نصاریٰ اس کے اثر سے باہر رہیں۔ یعنی چاہے کوئی مشرکین مکہ تک اس گھیرے کو تنگ سمجھے نہ سمجھے، اہل کتاب کے منفرد تشخص اور قرآنی احکامات میں ہمیشہ ایک علیحدہ اکائی کی حیثیت سے ان کے بارے میں قانون سازی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ ان کے متعلق اللہ کی اسکیم شروع ہی سے نہ صرف مختلف الشکل ( Structurally different) تھی بلکہ مختلف الطور (Out of phase) بھی تھی۔اِدھر اتمامِ حجت کی تکمیل ہو چکی تھی اور اْدھرابھی دعوت کا آغاز ہوا تھا۔ اِدھر ہر طرح کی صلح منع اور ادھر صلح ہی سے آغاز۔ وھکَذَا دَوَالَیک۔ ہر سورہ میں اترنے والے تدریجی احکامات میں بھی ان کی شناخت ہمیشہ علیحدہ سے کی گئی۔یہاں تک کہ جب آخری فیصلہ چوتھی سورہ میں آیا تو وہاں بھی اِن کے وجود کو علیحدہ تسلیم کرتے ہوئے علیحدہ احکامات ہی دیے گئے اور قتل کے بجائے محکومی کی سزا سنا دی گئی۔ اس لیے اس بات میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی کہ وہ اس آیت کی حدود سے باہر تھے اور رہے بھی۔ پس یہود کے بارے میں تاریخ میں بھی یہ دیکھا جا سکتا ہے کہ نہ تو کبھی ان کے خلاف اثخان کی نوبت آئی (۱۰)اور نہ ہی کبھی جنگ کے زمانی عرف سے ہٹ کر کسی اور امر کو ان کے معاملے میں فیصلہ سازی کے لیے استعمال کیا گیا۔ نصاریٰ سے بھی جب بالفعل مڈبھیڑ ہوئی تو جلیل القدر صحابہ نے کبھی ایسے احکامات نہیں دیے اور معاملات نہیں کیے جن سے یہ شک بھی گزرتا ہو کہ وہ اس حکم کو ان پر مؤثر مانتے تھے۔

3۔ تیسرا گروہ مشرکین عرب باستثناء مشرکین مکہ تھا۔یہ گروہ بھی اس آیت کی مار کے علاقے سے باہر تھا۔ ان کے بارے میں نہ یہ کہا جا سکتا تھا کہ انہوں نے جانتے بوجھتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا دیا تھا اور نہ ہی یہ ابھی اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے۔ ہاں مگر چونکہ اس گروہ کے متعلق اسکیم شکل کے اعتبار سے تو وہی تھی جو مشرکین مکہ کے متعلق تھی، صرف مختلف الطور تھی، اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ان پر بھی اس حکم کا اطلاق کر دیتے؛ پر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے احکامات کی پوری روح کا خیال کرتے ہوئے ایسا نہیں کیا۔ اس سورہ کے نزول کے بعد اگر ان سے کبھی مقابلہ ہوا بھی تو ان پر کبھی ان احکامات کا اجرا نہیں کیا گیا۔ پھر مکہ فتح ہو گیا اور یہ احکامات آپ سے آپ منسوخ۔ تاہم آخری حکم جو چوتھی سورہ میں نازل ہوا جس کے تحت سب مشرکین کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا گیا، فتح مکہ کے بعد اور اس آخری حکم سے پہلے اگر کسی مشرک قبیلے سے جنگ ہوئی بھی تو ان پر ان منسوخ احکامات کی بنا پر سلوک نہیں کیا گیا۔ بلکہ جنگ کا عرف ہی کارفرما رہا، جیسے مثلاً غزوہ حنین وغیرہ۔

4۔ چوتھا گروہ عرب سے باہر کی قوموں کا تھا۔ یہ چاہے یہود و نصاریٰ تھے اور چاہے شرک و متفرق ادیان کے ماننے والے، ان کے متعلق اگر کبھی اشتباہ ہوا بھی تو ٹھیک قیاس کرتے ہوئے ان پر جنگ کے عرف کا ہی اطلاق کیا گیا۔پس زمانے کی مناسبت سے سارے معروف آپشنز قابل عمل سمجھے گئے۔

اختتامیہ

میری رائے کے مطابق سورہ محمد کی چوتھی آیت چونکہ باعتبارِ مفعول اور باعتبارِ وقت دونوں اعتبارات سے خاص ہے اس لیے اس کی تعمیم نہیں ہو سکتی۔ ان کی تخصیص نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین تک تھی بلکہ اس میں سے بھی ایک مخصوص گروہ کے لیے تھی۔ اور پھر یہ موقت بھی تھے جس کا بیان ’’یہاں تک کہ یہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے‘‘ میں ہوا ہے۔ اس کی تعمیم کرنا دراصل اس اسکیم کو نظر انداز کر دینے کے مترادف ہے جو اتمامِ حجت کے لیے تدریجی نوعیت لیے ہوئے تھی اور جو قرآنی قرآئن ہی سے نہیں بلکہ اسی سورہ اور آیت کے درو بست سے بھی بالکل واضح ہے۔ ہذا ما عندی والعلم عند اللہ

حواشی

۱۔ سورہ کا ایک اور نام سورۂ قتال بھی ہے۔

2.https://ammarnasir.wordpress.com/2016/04/30/اسیران۔جنگ۔کو۔غلام۔بنانے۔کا۔جواز/; http://ibcurdu.com/news/24492; 

۳۔ البیان، دیکھیے آیت 4 سورہ محمد۔ یہ آن لائن بھی یہاں دیکھا جا سکتا ہے:

http://www.javedahmadghamidi.com/quran/albayaan/127/P1

۴۔ یعنی الفتح جو ظاہر ہے کہ فتح مکہ ہے۔

۵۔ یعنی غزوۂ بدر کے فوراً بعد

۶۔ اگرچہ اس سورہ کی کچھ آیات اس الفتح سے پہلے بھی نازل ہوئیں ہیں، تاہم اس کا اکثر حصہ بعد کا ہی ہے۔

۷۔ اس سلسلے میں اگرچہ کچھ سورتوں کا اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے جیسے آلِ عمران کا کچھ حصہ اور سورۃ الاحزاب وغیرہ، مگر جو نکتہ میں سمجھانا چاہتا ہوں اس کے لیے یہ چار سورتیں کفایت کریں گی۔

۸۔ لسان العرب، دیکھیے ثخن۔

۹۔ سورۃ الانفال 8:67۔

۱۰۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ یہود نے کبھی کھلے میدان میں آ کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا ہی نہیں۔ تاہم جو معاملات اْن کے ساتھ مختلف فتوحات کے بعد کیے گئے ان سے یہ بات واضح ہے کہ انہیں بجا طور پر اس آیت کے تحت نہیں دیکھا گیا۔

قرآن / علوم قرآن