اسلام کا دستوری قانون اور سیاسی نظام ۔ برعظیم پاکستان و ہند کے فتاویٰ کا تجزیاتی مطالعہ (۲)

ڈاکٹر محمد ارشد

(۶) عورت کی سربراہی

وہ واحد دستوری مسئلہ جس کی بابت اہل سنت کے تینوں مکاتبِ فکر (دیوبندی، اہلحدیث اور بریلوی) کے مفتیان کرام کے فتاویٰ کثرت سے دستیاب ہیں وہ مسئلہ عورت کی حکمرانی کا ہے۔ اس امر پر تینوں مکاتب فکر کے ہاں ایک طرح کا اجماع پایا جاتا ہے کہ عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اسلامی مملکت ؍حکومت کے سربراہ کا مرد از روئے شریعت مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہور یا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔ اسلامی مملکت میں سربراہی کے منصب کی ذمہ داریاں کسی خاتوں کو سونپی نہیں جا سکتیں۔ لہٰذا کسی اسلامی حکومت میں عورت کو سربراہ بنانا ہرگز جائز نہیں اور اگر کہیں ایسا ہو جائے تو مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جلد از جلد سربراہی کی تبدیلی کے لیے ممکنہ کوششوں کو بروئے کار لائیں(۲۶)۔ 

عورت کی حکمرانی کے عدم جواز میں مفتی محمد اشرف القادری نے بھی تفصیلی دلائل بیان کیے ہیں۔ ان کی رائے میں اسلام میں عورت سربراہ مملکت بوجوہ ذیل نہیں ہو سکتی:

۱: اسلام میں سربراہ مملکت کے تقرر سے دو باتیں مقصود ہوتی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ اسلام میں سربراہ مملکت کی دو اہم ترین ذمہ داریاں ہوتی ہیں: اول اعلائے دین و تنفیذ و اشاعت شریعت؛ دوم سیاست مدن یعنی انتظام و دفاع مملکت و فلاح و نجاح رعیت۔اور ظاہر ہے کہ یہ کٹھن ذمہ داریاں ، اعلیٰ ذہنی و جسمانی صلاحیتوں مثلا جسمانی قوت و علمی وسعت، کمالِ عقل و بصیرت، حسنِ تدبیر و جودتِ عزم و حزم، معاملہ فہمی و اصابتِ رائے جذبات پر قابو اور خود اعتمادی، مصائب میں صبر و استقامت، شدائد میں جوانمردی و ثابت قدمی وا ستقلال اور کمال شجاعت کے بغیر قطعاً پوری نہیں کی جا سکتیں۔اور یہ بھی ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ان خداداد خوبیوں اور خلقی و قدرتی صلاحیتوں میں بلا شبہ مرد فطری طور پر عورت سے بڑھ کر اور اس کے مقابلے میں عورت ان صفات سے کمتر موصوف ہے۔ لہٰذا حکومت و سربراہی مملکت کا بار گراں عورت کے کمزور کاندھوں پہ ڈال دینا خلاف فطرت و ناانصافی ہے۔ ہاں اسلام کی نگاہ میں ان عظیم اور کٹھن ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہوناصرف اور صرف مرد ہی کا منصب ہے اور یہی فطرت و انصاف کا تقاضاہے(۲۷)۔ 

اہل حدیث عالم مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف کی رائے میں: ’’عورت امامت کی اہل ہے (عورتوں کی جماعت کے لیے) مگر حکمرانی ناجائز ہے‘‘ (۲۸)۔ 

ان فتاویٰ میں قطعی اور واضح طور پر اس امر کی صراحت کی گئی ہے کہ عورت امامت کبریٰ یعنی امارت عامہ کی اہل نہیں۔البتہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ منصب قضا پر بھی فائزہ ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ اس سلسلے میں مفتی محمود (۱۹۱۹۔۱۹۸۰ء) کی رائے یہ ہے کہ ’’ ضروری طور پر بعض مسائل میں حدود و قصاص کے علاوہ اگر اس کو حکم (ثالث) بنایا جائے تو گنجائش ہے، اور اس میں بھی کامیابی مشکل ہے، لیکن کسی ملک کی تمام ذمہ داریوں کو اس کے حوالے کر دینا خلافِ عقل و نقل ہے‘‘۔ (۲۹)

(۷) طریق انتخابِ امیر/ سربراہ مملکت و حکومت

جیسا کہ سطورِ بالا میں مغربی جمہوریت اور اسلام کے سیاسی نظام کے مابین جوہری فرق کے بیان میں مفتی رشید احمد کی رائے نقل کی جا چکی ہے کہ اسلام کے نظام سیاست میں سربراہ مملکت ؍حکومت کے انتخاب و تقرر کے ضمن میں مملکت کے تمام شہریوں کو حق رائے دہی حاصل نہیں ہے بلکہ یہ حق صرف اور صرف اہل حل و عقد کو حاصل ہے۔ مفتی رشید احمد کی اس رائے کی تائید حافظ عبداللہ روپڑی کے فتویٰ سے بھی ہوتی ہے۔ حافظ عبداللہ روپڑی کی رائے میں بھی رائے عامہ کو اسلام کے سیاسی نظام میں کوئی اہمیت حاصل نہیں، بلکہ اصل اہمیت اہل حل و عقد کی رائے کو ہے۔ چنانچہ اسلامی مملکت ؍ حکومت کے سربراہ کا انتخاب و تقرر رائے عامہ سے نہیں بلکہ اہل حل وعقد کی رائے کے ذریعے ہو گا : 

’’انتخاب مجلس شوریٰ کے ارکان حل و عقد کرتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت علی کو جب باغیوں نے امیر بنانا چاہا تو فرمایا یہ تمہارا کام نہیں بلکہ مہاجرین وانصار کا کام ہے، جس کو وہ امیر بنائیں گئے وہ امیر ہو گا۔ مجموعی ووٹنگ اور رائے عامہ کوئی چیز نہیں۔ موقعہ محل کے لحاظ سے جس طرح انتخاب ہو جائے کر لینا چاہیے۔ جیسے ابو بکر صدیق کا انتخاب ہوا‘‘ (۳۰)۔ 

مفتی رشید احمد کی رائے میں’’ عوام پر یہ فرض ہے کہ انتخاب امیر کا مسئلہ خود طے کرنے کی بجائے ایسے اہل حل و عقد کے سپرد کریں جن میں انتخاب کی اہلیت ہو۔نصوص شرعیہ کے علاوہ عقل کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ انتخاب امیر ہر کس و ناکس کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے عقل کی ضرورت ہے اور علم دین و تقویٰ کے بغیر عقل کامل نہیں ہو سکتی‘‘ (۳۱)۔ 

سربراہ مملکت ؍ حکومت کے انتخاب کے طریق کے بارے میں مفتیان کرام نے بالعموم قرونِ وسطیٰ کے سیاسی مفکرین کی آراء کو من و عن قبول کر لیا ہے۔ اور اس کا مطلق خیال نہیں رکھا کہ دور جدید کے ایک غیر قبائلی معاشرے میں جدید ریاستی نظاموں کے تجربات سے اخذو استفادہ کرتے ہوئے انتخاب سربراہِ مملکت کے کون کون سے جائز طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ مفتی رشید احمد کی رائے میں اسلام میں انتخاب امیر کے تین طریقے ہیں:

۱ : بیعت اہل و عقد ، کما وقع لسیدنا ابی بکر ۔

۲ : استخلاف، خلیفۂ وقت چند اہل حل و عقد سے مشورہ کر کے کسی کے بارے میں وصیت کر دے کہ میرے بعد یہ خلیفہ ہوگا، جیساکہ حضرت ابو بکر نے حضرت عثمان، عبدالرحمن بن عوف،سعید بن زید، اسید بن حضیر اور مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم کو منتخب فرمایا (۳۲) ۔

استخلاف ابو بکر کی تفصیل مذکور سے ثابت ہوا کہ بذریعۂ استخلاف انعقاد خلافت کے لیے تین شرائط ہیں:

(ا) خلیفۂ اول میں خلافت کی سب شرائط موجود ہوں؛ (ب) خلیفہ ثانی بھی سب شروط خلافت کا مستجمع ہو؛ (ج)خلیفہ اول نے خلیفہ ثانی کے انتخاب میں اہل حل و عقد سے مشورہ کیا ہو۔

۳: شوریٰ، خلیفۂ وقت چند اہل حل و عقد کی شوریٰ متعین کر کے یہ وصیت کر دے کہ میرے بعد یہ لوگ اتفاق رائے سے اپنے میں سے کسی ایک کو خلیفہ منتخب کریں، جیسا کہ حضرت عمر نے چھ رکنی مجلس متعین فرمائی، اس کے ذریعے حضرت عثمان کا انتخاب عمل میں آیا (۳۳)۔ 

مفتی رشید احمد کی رائے میں اگرچہ خلافت راشدہ کے سیاسی نظائر سے انتخاب امیر کے یہی تین طریقے ثابت ہیں، البتہ انعقادِ خلافت کا ایک جوتھا طریقہ استیلاء و تغلب کا بھی ہے، یعنی خلیفہ وقت کی موت کے بعد کوئی شخص جبراً و قہراً مسلط ہو جائے۔ مفتی رشید احمد کے نزدیک ایسے شخص کی خلافت منعقد ہو جائے گی، اس لیے اس کی اطاعت واجب ہے۔ مفتی رشید کے نزدیک استیلاء و تغلب کے ذریعے انعقادِ خلافت کی بھی دو قسمیں ہیں:

۱) یہ شخص شروط خلافت کا مستجمع ہو اور لوگوں کو صلح و حسن تد بیر سے مائل کرے، کوئی ناجائز اقدام نہ کرے۔ یہ قسم جائز ہے، حضرت معاویہ کی خلافت اسی طرح منعقد ہو ئی تھی۔

۲) اس شخص میں شروط خلافت نہ ہوں، اور اپنے مخالفین کو قتال اور دوسرے ناجائز حربوں سے تابع کر لے، یہ جائز نہیں، ایسا شخص فاسق اور سخت گنہگار ہے، مگر اس کے باوجود اس کے تسلط کے بعد اس کی اطاعت واجب ہے، بشرطیکہ اس کا حکم خلافِ شرع نہ ہو، اس کی مخالفت اور اسے معزول کرنے کی کوشش جائز نہیں(۳۴)۔ 

مفتی رشید احمد کے اس فتوے کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے انعقادِ خلافت (خلیفہ کے انتخاب و تقرر) میں متقدمین مسلم سیاسی مفکرین میں سے الماوردی اور متاخرین میں سے شاہ ولی اللہ دہلوی کے نقطۂ نظر کو پورے طور سے اختیار کر لیا ہے (۳۵)۔ 

اہلحدیث علماء نے بالعموم انتخاب امیر مملکت کے طریق سے متعلق اس نقطۂ نظر سے اختلاف کیا ہے۔ مولانا محمد اسماعیل سلفی کی رائے میں’’ قرون خیر میں انتخابات کی مختلف صورتیں سامنے آئی ہیں لیکن آئینی طور پر انتخاب کو نہ ان چار صورتوں میں حصر کیا گیا ہے اور نہ کسی ایک ہی کو پسند کیا گیا ہے بلکہ کوشش کی گئی ہے کہ کوئی ایسا آدمی اس بوجھ کو اٹھائے جومساکین کو اونچا کر سکے اور خود مساکین کی سی زندگی بسر کرے‘‘(۳۶) ۔ایک دوسرے اہل حدیث عالم ابومحمد حافظ عبدالستار الحمادکی رائے میں بھی سربراہ مملکت کے انتخاب کے لیے اسلام نے کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کیا ہے۔ جدید مغربی دنیا میں انتخابات کے جو طریقے رائج ہیں اسلام کے سیاسی نظام میں اس کی گنجائش موجود ہے ۔چنانچہ وہ سربراہ مملکت کے منصب کے لیے اہل فرد کے انتخاب و تقرر کے لیے جدید طریق انتخابات (الیکشن) کو جائز قرار دیتے ہیں۔ان کی رائے میں ’’ واضح رہے کہ موجودہ الیکشن جمہوریت کی پیداوار ہیں، اسلام میں اس کی گنجائش موجود ہے کیوں کہ اس میں سربراہ مملکت کے انتخاب کے لیے کوئی لگا بندہ قاعدہ مقرر نہیں ہے بلکہ حالات وظروف کے پیش نظر اسلام میں اس کی گنجائش ہو سکتی ہے‘‘ (۳۷)۔ تاہم ایک تیسرے سلفی عالم حافظ عبدالمنان نور پوری موجودہ جمہوریت وطریق انتخابات کو بدعت تصور کرتے ہیں کیونکہ ان کی رائے میں یہ سب قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ ان کی رائے میں ’’رائج جمہوریت و الیکشن کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ ۔ ۔ مروجہ الیکشن کتاب و سنت سے ثابت نہیں‘‘ (۳۸)۔ 

(۸) سربراہِ مملکت / حکومت کی مدت انتخاب

زیرِ بحث مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مطالعہ سے یہ امر بھی واضح ہو جاتا ہے کہ مفتیان کرام سربراہِ مملکت ؍حکومت کے انتخاب و تقرر کے لیے کسی معینہ مدت کو غیر ضروری تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مدت انتخاب سے زیادہ اہمیت اس منصب کے لیے منتخب ہونے والے فر د میں پائے جانے والے اوصاف کو حاصل ہے۔ اگر منصب سربراہی پر فائز ہونے والا شخص مطلوبہ شرائط پر کماحقہ پورا اترتا ہو تو اس کے عہدے کی میعاد مقرر کرنا نا مناسب ہو گا۔ چنانچہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی رائے میں: 

’’انتخاب ہر پانچ سال بعد کرانا کوئی شرعی فرض نہیں، لیکن حکمران میں کوئی بھی ایسی خرابی نہ پائی جائے جو اس کی معزولی کا تقاضا کرتی ہو تو اس کو بدلنا بھی جائز نہیں۔ دراصل اسلام کا نظریہ اس بارے میں یہ ہے کہ وہ حکومت تبدیل کرنے کے مسئلہ کو اہمیت دینے کے بجائے منتخب ہونے والے حکمران کی صفاتِ اہلیت کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ اسلامی ذوق سے قریب تر بات یہ ہے کہ قوم کے اہل رائے حضرات صدر یا امیر کاچناؤ کریں اور پھر وہ اہل الرائے کے مشورے سے اپنے معاونین و رفقاء کو خود منتخب کرے‘‘ ۔ (۳۹)

(۹) مجلس شوریٰ /مجلس اہل حل و عقد کی تشکیل

مجلس شوریٰ ؍مجلس اہل حل و عقد نیز اس کے ارکان کی اہلیت کے شرائط و اوصاف نیز مجلس شوریٰ ؍مجلس اہل حل و عقد کی تشکیل و تقرر کے بارے میں فتاویٰ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفتیان کرام ارکان شوریٰ(اہل حل و عقد) کے لیے چند معینہ شرائط و اوصاف کو تو ناگزیر خیال کرتے ہیں البتہ شوریٰ کو ایک ادارے کی شکل میں منظم کرنے نیز ارکان شوریٰ کے انتخاب کے لیے کسی نوع کے استصواب رائے کو غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ وہ ارکان شوریٰ کے انتخاب کو رئیسِ مملکت ؍حکومت کا صوابدیدی اختیار تصور کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ مجلس شوریٰ کے ارکان کی تعداد کی تعیین کو بھی غیر ضروری خیال کرتے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان کی رائے میں ارکان شوریٰ کی اہلیت کے شرائط و اوصاف کو انتہائی اہمیت حاصل ہے، البتہ بقیہ امور چنداں اہمیت نہیں رکھتے۔ اس سلسلے میں مفتی رشید احمد اور مفتی محمد شفیع کے فتاویٰ کو بطورمثال پیش کیا جا سکتا ہے (۴۰)۔ مفتی محمد شفیع ارکانِ شوریٰ کے انتخاب کو امیر مملکت کی ذاتی رائے پر منحصر خیال کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں’’ ارکان مجلس شوریٰ کا انتخاب بھی اسلامی سیاست میں اس طوفان بے تمیزی کے ساتھ نہیں ہوتا جو موجودہ جمہوریت کا طغرائے امتیاز ہے اور جس کی بدولت تمام ملک جنگ و جدل بغض و عناد کی آماجگاہ بنا ہوا ہے بلکہ یہ انتخاب عموماً امیر خود اپنی رائے سے کرتا ہے‘‘ (۴۱)۔ 

(۱۰)  اصول مشورہ ۔ مشورہ کا فیصلہ کثرت رائے پر ہے یا امیر مجلس کی رائے پر

امور مملکت و حکومت کے باب میں مجلس شوریٰ ؍ مجلس اہل حل و عقد کے مشورہ کے ردو قبول میں سربراہ مملکت؍حکومت کے اختیارات کیا ہیں اور ان اختیارات کے استعمال کی حدود کیا ہیں؟ جدید مغربی نظام سیاست میں امور مملکت میں فیصلہ سازی کا معاملہ ہو یا مہمات امور میں قانون سازی کا عمل ہو ، ان سب امور میں مقننہ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ان اداروں میں بحث مباحثہ کے بعد اصول اکثریت (اکثریت کی رائے) کے مطابق فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جبکہ مذکورہ مجموعہ ہائے فتاویٰ کے مؤلفین کی آرا سے یہ آشکارا ہوتا ہے کہ ’’ مشورہ میں اگر اختلاف رائے پیش آئے تو فیصلہ کثرت رائے کے سپرد نہیں، بلکہ امیر کی رائے پر ہے اور اس کو اختیار ہے کہ اقلیت کو اکثریت پر ترجیح دے دے‘‘ (۴۲)۔ گویا سربراہ مملکت ؍حکومت ہر معاملے میں مجلس شوریٰ کے ارکان کی اکثریت کی رائے کو ویٹو کر کے تنہا اپنی رائے کے موافق فیصلہ کرسکتاہے۔ اس ضمن میں مفتی محمد شفیع قرآن حکیم کی آیت: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کی رائے میں قرآن عزیز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کا حکم فرمانے کے بعد: فاذا عزمت فتوکل علی اللہ (پھر جب آپ عزم کریں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کریں)، بصیغہ واحد حاضر فرما کر اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مشورہ کے بعد کسی جانب کو ترجیح دے کر اس کا عزم کرنا فقط آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر ہوگا۔ خود آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے بہت سے معاملات اس کے شاہد ہیں‘‘ (۴۳)۔ اس مسئلے میں مفتی محمد شفیع کی تفصیلی رائے ملاحظہ ہو:

’’ اصولی طور پر اس بحث میں بھی ہمیں سب سے پہلے قرآن عزیز کو حکم بنانا چاہیے اور اسی کے فیصلہ کو محکم اور مختتم فیصلہ سمجھنا چاہیے۔ مشورہ کے متعلق قرآن عزیز کی سب سے زیادہ مشہور آیت یہ ہے: وشاورھم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اللہ ( آپ (معاملات میں ) صحابہ اور مسلمانوں سے مشورہ لیجیے اور جب پختہ ارادہ کریں تو اللہ تعالیٰ پر توکل کیجیے)۔ اس آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا یا ہے کہ اہم معاملات میں (جن میں صریح وحی نہ آئی ہو) صحابہ کرام سے مشورہ فرمایا کریں لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ مشورہ کے بعد جب آپ کسی ایک جانب کا عزم فرمائیں تو اس میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کریں، اپنی رائے یا مشورہ پر بھروسہ نہ کریں۔ جس سے صاف معلوم ہوا کہ مشورہ کے بعد کسی ایک جانب کو ترجیح دینا اور اس کا عزم کرنا یہ فقط امیر مجلس کی رائے پر موقوف ہے۔ اور اگر مشورہ کا فیصلہ کثرت رائے کے سپرد ہوتا تو مناسب تھا کہ عزم کے لیے بھی جمع کا صیغہ استعمال کر کے یوں فرمایا جاتا: ’’فاذا عزموا‘‘ (یعنی جب صحابہ کسی کام کا عزم کریں)‘‘ (۴۴)۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا موقف بھی اسی رائے کے مماثل ہے۔ ان کی رائے میں بھی ’’حکومت کا سربراہ اہل مشورہ سے مشورہ لینے کا پابند ہے مگر کثرت رائے پر عمل کرنے کا پابند نہیں، بلکہ قوتِ دلیل پر عمل کرنے کا پابند ہے‘‘ (۴۵)۔ حافظ عبداللہ روپڑی بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ ان کی رائے میں بھی مجلس شوریٰ کی حیثیت صرف یہی ہے کہ مشورہ طلب امور میں رائے پیش کردے اور بس۔ اس کی رائے حاکمہ(سربراہ مملکت؍حکومت )کے لیے واجب التعمیل ہر گز نہیں۔ حافظ عبداللہ روپڑی کی رائے ملاحظہ ہو:

’’ مجلس شوریٰ کی حیثیت صرف مشورہ کی ہوتی ہے مختلف آرائیں ہو جائیں تو فیصلہ امیر کرتا ہے خواہ قلت کی طرف کرے یا کثرت کی طرف اور مجلس شوریٰ کے ممبر اہلِ حل و عقد ہوتے ہیں جس معاملہ میں مشورہ کرنا ہو اس معاملہ میں جو مہارت رکھتے ہوں ان سے امیر مشورہ لے تعداد کوئی مقرر نہیں ۔ چنانچہ حضرت عمر نے ملک شام کو جانے کے موقع پر پہلے مہاجرین سے مشورہ لیا پھر انصار سے مشورہ کیا پھر پرانے مہاجرین سے مشورہ لیا۔ معاملہ یہ تھا کہ راستے میں خبر پہنچی کہ شام میں طاعون ہے اس حالت میں جانا چاہیے یا واپس ہو جانا چاہیے۔ حضرت عمر نے اس پر فیصلہ دے دیا‘‘۔ (۴۶)

اسلامی مملکت میں مجلس شوریٰ کے کردار اور اس کے اختیارات سے متعلق اس معروف نقطۂ نظر کے بر خلاف مولانا محمد اسماعیل سلفی کے نزدیک مشورہ کے ردو قبول میں امیرِ مملکت کا اختیار کوئی امر منصوص ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک ایسا دستوری مسئلہ ہے جسے ہر دور میں ارباب فکر کی صواب دید کے مطابق طے ہونا چاہیے ۔۔ مولانا محمداسماعیل سلفی کی رائے میں:

’’مشورہ کے ردو قبول میں امام کے اختیارات کیا ہیں اور ان اختیارات کے استعمال کی حدود کیا ہیں یہ ایک دستوری مسئلہ ہے جسے ہر دور میں ارباب فکر کی صوابدید کے مطابق طے ہونا چاہیے۔ نصوص میں نہ اس کی تصریح ہے اور نہ ہی ایسی چیزیں نصوص میں آنا ضروری ہیں۔ البتہ ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں جہاں امیر نے شورٰی کو مسترد کر دیا۔ یہ دستوری مسائل ہر دور اور ہر ملک کے دانش مندوں کی رائے سے طے ہونے چاہئیں‘‘۔ (۴۷)

(۱۱) امیر کا مجلس شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہونا 

مجلس شوریٰ کے کردار اور اختیارات کے سلسلے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلمانوں کا امیر مجلس شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے یا نہیں؟ علمائے برصغیر میں سے صرف حافظ عبداللہ روپڑی نے اس مسئلہ سے تعرض کیا ہے اور وہ بھی انتہائی اختصار کے ساتھ۔ ان کے رائے میں امیر مملکت’’ اگر بے انصافی کرے تو جواب دہ ہوتا ہے‘‘ (۴۸)۔ 

(۱۲) ووٹ اور ووٹر (حق رائے دہی اور رائے دہندگان)

امیر مملکت ؍سربراہِ حکومت کے انتخاب کے علاوہ دیگر انتخابی عہدوں(مجالس قانون ساز، کونسل وغیرہ) کے لیے ووٹ کے صحیح استعمال کو علماء و مفتیان کرام نے بڑی اہمیت دی ہے۔ علماء نے ووٹ کو ایک امانت قرار دیا ہے اور اسے صر ف اور صرف دیانت و امانت، عدل و قسط اور تقویٰ جیسی صفات سے متصف اور اچھے سیرت و کردار کے حامل امیدواروں کے حق میں استعمال کرنے نیز اس سلسلہ میں کسی بھی ترغیب و ترہیب ، لالچ، طمع اور رشوت سے اجتناب کو شرعی فریضہ قرار دیا ہے۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی کفایت اللہ دہلوی(۴۹) ، مفتی محمد شفیع اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تفصیل سے اظہار رائے کیا ہے۔ مفتی محمد شفیع کی رائے میں کسی امیدوارِ ممبری کو ووٹ دینے کی از روئے قرآن و حدیث چند حیثیتیں ہیں۔ایک حیثیت شہادت کی ہے کہ ووٹر جس شخص کو اپنا ووٹ دے رہا ہے اس کے متعلق اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ شخص اس کام کی قابلیت بھی رکھتا ہے اور دیانت و امانت بھی۔ اور اگر واقع میں ا س شخص کے اندر یہ صفات نہیں ہیں، اور ووٹر یہ جانتے ہوئے اس کو ووٹ دیتا ہے تو وہ ایک جھوٹی شہادت ہے ، جو سخت کبیرہ گناہ اور وبال دنیا و آخرت ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کا ذبہ کو شرک کے ساتھ کبائر بلکہ اکبر کبائرمیں شمار فرمایا ہے ۔ جس حلقہ میں چند امیدوار کھڑے ہوں اور ووٹر کو یہ معلوم ہے کہ قابلیت اور دیانت کے اعتبار سے فلاں فلاں آدمی قابلِ ترجیح ہے، تو اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو ووٹ دینا اس اکبر کبائر میں اپنے آپ کو مبتلا کرنا ہے۔ اب ووٹ دینے والا اپنی آخرت اور انجام کو دیکھ کر ووٹ دے، محض رسمی مروت یا کسی طمع و خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو اس وبال میں مبتلا نہ کرے ۔ ووٹ کی ایک شرعی حیثیت وکالت کی ہے کہ ووٹ دینے والا اس امیدوار کو اپنا نمائندہ اور وکیل بناتا ہے۔ لیکن اگر یہ وکالت اس کے کسی شخصی حق کے متعلق ہوتی ، اوراس کا نفع نقصان صرف اس کی ذات کو پہنچتا تو اس کا یہ خود ذمہ دار ہوتا، مگر یہاں ایسا نہیں کیونکہ یہ وکالت ایسے حقوق کے متعلق ہے جن میں اس کے ساتھ پوری قوم شریک ہے۔ اس لیے اگر کسی نااہل کو اپنی نمائندگی کے لئے ووٹ دے کر کامیاب بنایا تو پوری قوم کے حقوق کو پامال کرنے کا گناہ بھی اس کی گردن پر رہا۔ اگر امید وار بے دین و نااہل اور ظالم ہے تو اس کو ووٹ دینا سخت گناہ ہے، کیونکہ ووٹ دینا ایک امانت ہے، امانت کو جو اس کا اہل ہو اس کے حوالے کیا جائے (۵۰)۔

ان فتاویٰ میں امیدواروں کی طرف سے ووٹوں کے حصول کے لیے ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرنے، ووٹروں کو دنیوی لالچ دینے، اسی طرح کسی امیدوار کا رقم لے کر دوسرے امیدوار کے حق میں دست بردار ہونے کو صریحاً ناجائز اور حرام قرار دیا گیا ہے۔ووٹروں کا ووٹ کے معاوضہ میں اپنی ذات کے لیے روپیہ لینا رشوت اور ناجائز بتایا گیا ہے (۵۱)۔ دیوبند مکتب فکر کے مفتیان کرام امیدواروں کے مسلک و عقیدہ کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ چنانچہ ان کے نزدیک ’’شیعہ کو ووٹ دینا سخت گناہ ہے۔ جس شخص کے مرزائی ہونے کے شواہد موجود ہوں، اس کو ووٹ دینا قطعاً جائز نہیں۔ ووٹروں پر لازم ہے کہ مرزائی کے بجائے کسی مسلمان کو منتخب کیا جائے‘‘ (۵۲)۔ 

اس موضوع پر فتاویٰ کا خلاصہ یہ کہ انتخابات میں ووٹ کی شرعی حیثیت کم از کم ایک شہادت کی ہے جس کا چھپانا بھی حرام ہے اور اس میں جھوٹ بولنا بھی حرام ، اس پر کو ئی معاوضہ لینا بھی حرام، اس کو محض ایک سیاسی ہار جیت اور دنیا کا کھیل سمجھنا بڑی بھاری غلطی ہے۔ ووٹر جس امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، شرعاً وہ اس کے بارے میں اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنے نظریے اور علم اور عمل اور دیانت داری کی رو سے اس کام کا اہل اور دوسرے امیدواروں سے بہتر ہے، جس کام اور منصب کے لیے یہ انتخابات ہو رہے ہیں (۵۳)۔ 

(۱۳) عورت کا حق ووٹ (حق رائے دہی)

پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں اس موضوع پر بہت ہی کم فتاویٰ ملتے ہیں۔ البتہ مفتی محمو د نے ، جو پاکستان کی انتخابی سیاست میں طویل عرصے تک سرگرم عمل رہے، اپنے ایک فتویٰ میں اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ ان کی رائے میں دینی و ملی مصالح کا اگر تقاضا ہو تو عورت کو حق رائے دہی تفویض کیا جا سکتا اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کر سکتی ہے۔ ’’عورتوں کا ووٹ بنانا جائز ہے، ضروری نہیں۔ اور اگر دینی مفاد کے پیشِ نظر ہو تو وہ اپنا ووٹ بے پردگی سے بچتے ہوئے استعمال کر سکتی ہے۔ اور اگر کوئی اہم دینی مصلحت پیش نظر نہ ہو تو عورتوں کے لیے ووٹ کا استعمال کرنا قباحت سے خالی نہیں‘‘۔ (۵۴)

(۱۴) ووٹر کی اہلیت کے شرائط

ووٹ کی اہمیت کے پیش نظر علماء نے ووٹرکی اہلیت کے شرائط بھی مقرر کیے ہیں۔ ان کی رائے میں ووٹر کیے لیے ضروری ہے کہ وہ کھوٹے اور کھرے، نیک اور بد میں تمیز کا شعور رکھتا ہو تاکہ نیک اور صالح نیز اہل اور فرض شناس افراد قیادت کے منصب کے لیے منتخب ہوں۔ اہل حدیث عالم مفتی عبدالستار الحماد کی رائے میں جس طرح ’’ سربراہ مملکت کے لیے ضروری ہے کہ وہ کبائر سے گریزاں اور اس کا ماضی داغ دار نہ ہو، اسی طرح ووٹر کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ صاحب شعور اور کھرے کھوٹے کی تمیز کر سکتا ہو۔ کسی کو نمائندہ بنانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے متعلق اس قدر لیاقت ، معاملات کو سلجھانے اور اختلافات کو نمٹانے کی صلاحیت رکھنے کی گواہی دینا ہے۔ اس لیے گواہی دینے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اچھے برے کے درمیان تمیز کر سکتا ہو اور امیدوار کے کردار کو اچھی طرح جانتا ہو اگر ان باتوں کا خیال نہ رکھا گیا تو فرمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جب معاملات کی بھاگ ڈور نالائقوں کے سپرد کر دی جائے تو قیامت کا انتظار کرنا‘‘۔ (۵۵)

(۱۵) اسلامی مملکت میں شہریوں کے حقوق

ا) مسلم شہریوں کے حقوق : برعظیم پاکستان و ہند کے مجموعہ ہائے فتاویٰ میں شہریوں کے حقوق کے متعلق فتاویٰ کالمعدوم ہیں۔ صرف مفتی محمد شفیع نے اپنے کتا بچہ دستور قرآنی میں، جو اب ان کے مجموعہ فتاویٰ جواھر الفقہ میں شامل ہے، شہریوں کے حق آزادی و حریت پر بھی مختصرا کلام کیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی ۱۹۵۱ء میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ اورحکومت کی طرف سے قومی سلامتی کے نام پر شہریوں کی پکڑ دھکڑ اور قید و بند کی سزاؤں کو غیر شرعی قرار دیا۔ مفتی محمد شفیع نے اپنے ایک فتوے میں حکومت کی طرف سے شہریوں کی آزادی سلب کرنے کے بارے میں برملا طور پر کہا: 

’’حکومت کا فرض ہے کہ کسی باشندۂ ملک کی جائز آزادی کو سلب نہ کرے جب تک اس پر کوئی جرم ثابت نہ ہو اور اس کو صفائی کا موقع نہ دیا جائے، اس لیے مروجہ سیفٹی ایکٹ اصول اسلام کیخلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ بلا اثبات جرم کسی شخص کو سزا دینا یا قید کرنا عدل و انصاف کے خلاف ہے اور قرآن مجید کی بیشمار آیات عدل و انصاف کی تاکید کے لیے نازل ہوئی ہیں ۔۔۔ محض پولیس کی رپورٹ پر کسی کو قید نہیں کیا جا سکتا جب تک اس پر باقاعدہ عدالت میں ثقہ اور قابل اعتماد شہادتوں سے جرم ثابت نہ کر دیا جائے۔ اس کے یہ معنی نہیں کہ ملزم کو حراست میں نہ لیا جائے اور اس کو بھاگ جانے کا موقع دیا جائے بلکہ حاصل یہ ہے کہ حراست میں لینے کے بعد اس کے جرم کی تحقیقات کر کے کسی باقاعدہ عدالت کے سامنے اس کا جرم ثابت کرنے سے پہلے اس کو کسی معینہ مدت کے لیے قید نہیں کیا جا سکتا، تا تحقیقات حراست میں رکھنا اس کے منافی نہیں‘‘۔ (۵۶)

ب) غیر مسلموں کے حقوق : زیر بحث فتاویٰ کے مطالعہ سے یہ امر بھی بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ علماء نے بلحاظ شہریتی حیثیت اور حقوق کے ا سلامی مملکت کے مسلم اور غیر مسلم شہریوں میں فرق و امتیاز قائم رکھا ہے۔ ان فتاویٰ کی رو سے بہت سے معاملات میں غیر مسلموں کا درجہ مسلمان شہریوں کے مقابلے میں کم تر ہوگا ، ان کو حکومت کی کلیدی اسامیوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا، قضا اور افتاء کا کام ان کے سپرد نہیں کیا جائے گا (۵۷)۔ 

مفتیانِ کرام کی رائے میں اسلامی ریاست میں غیر مسلم شہریوں کو ان کی جان ، مال اورآبرو کے تحفظ و سلامتی کا ویسا ہی حق حاصل ہوگا جیسا کہ مملکت کے مسلم شہریوں کو حاصل ہے۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ غیر مسلم باشندگان ملک کی جان، مال، آبرو کی اسی طرح حفاظت کریں جس طرح مسلمان کی کی جاتی ہے(۵۸)۔ البتہ سیاسی اور مذہبی معاملات میں غیر مسلم شہریوں کو کھلے مقامات پر تبلیغی اجتماعات منعقد کرنے اور کفر و شرک کی تبلیغ کی اجازت حاصل نہ ہوگی۔ اسی طرح مملکت کے غیر مسلم شہریوں کو نہ صرف یہ کہ نئی عبادت گاہیں بھی تعمیر کرنے کی اجازت نہ ہوگی ۔ وہ پرانی عبادت گاہیں کی مرمت تو کرسکتے ہیں البتہ قدیم عمارت پر اضافہ نہیں کر سکتے۔ اس باب میں مولانا ظفر احمد عثمانی نے یہ رائے ظاہر کی ہے:

’’دارالاسلام میں غیر مسلموں کو تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں: دارالاسلام میں غیر مسلمین اپنے گھروں یا عبادت گاہوں میں مذہبی تبلیغ کر سکتے ہیں، کھلے مقامات پر انہیں تبلیغی اجتماع کی اجازت نہیں دی جا سکتی، حتیٰ کہ وہ اپنی مذہبی کتاب بھی بلند آواز سے نہیں پڑھ سکتے ۔۔۔ غیر مسلمین کو دارالاسلام میں نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں، پرانی عبادت گاہیں باقی رکھ سکتے ہیں، ان کی مرمت بھی کر سکتے ہیں، مگر قدیم عمارت پر اضافہ نہیں کر سکتے، اسی طرح ان کا کوئی شہر فتح ہونے کے وقت اس میں اگر کوئی عبادت گاہ ویران تھی تو اسے از سرِ نو آباد کرنے کی اجازت نہیں۔‘‘ (۵۹)

مولانا ظفر احمد عثمانی کی اس رائے کو مکمل طور سے مفتی رشید احمد نے احسن الفتاویٰ میں اختیار کیا ہے۔ (۶۰) اہل حدیث مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف کی رائے میں بھی اسلامی مملکت کی ’’ذمی رعایا (ہندو، عیسائی اور قادیانی)نیا عبادت خانہ تعمیر نہیں کر سکتی‘‘ (۶۱)۔ 

اختتامیہ

اسلام کے دستوری قانون اور سیاسی نظام سے متعلق برعظیم پاکستان و ہند کے علماء کے مذکورہ فتاویٰ کے جائزہ سے یہ امر الم نشرح ہو جاتا ہے کہ ان( علماء و مفتیان کرام ) کا سیاسی تفکر عمیق طور سے مسلم کلاسیکی قانونی و سیاسی فکر میں رچا بسا ہوا ہے۔ دستوری و سیاسی مسائل خصوصاًخلیفہ؍ امیر؍رئیس مملکت کی اہلیت کے شرائط، اس کے انتخاب و تقرر کے طریق کار، مجلس شوریٰ کی تشکیل ، اور اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی حیثیت اور حقوق وغیرہ امور میں گزشتہ صدیوں میں علماء و فقہا نے جو آراء پیش کی تھیں، ان فتاویٰ میں ان آراء کو کامل طور سے اختیار کر لیا گیا ہے (۶۲)۔ بالفاظ دیگر ان فتاویٰ میں تقلیدی رجحان کامل طور سے کار فرما ہے ، اجتہاد ی آرا سے گریز کیا گیا ہے۔ فن مملکت داری (statecraft) میں معاصر اقوام کے تجربات و اختراعات کے بارے میں یہ فتاویٰ بالعموم خاموش ہیں۔ ان فتاویٰ میں اسلامی دستور اور سیاسی نظام کے بعض اہم مسائل کے بارے میں بیان کی گئی آراپاکستان میں ایک حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کے داعی و علمبرداروں (خصوصاً سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی اور علامہ محمد اسد، جنہوں نے اسلامی دستور اور سیاسی نظام کے خدوخال کی تنقیح کا قابل ذکر کام انجام دیا) کے آرا سے بھی مختلف نظر آتی ہیں (۶۳)۔ علمائے اہل سنت کے مجموعہ ہائے فتاویٰ کے جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ امیر مملکت کے انتخاب و تقرر کے معاملہ میں جمہور مسلمانوں کی رائے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے۔ وہ امور مملکت بالخصوص سربراہ مملکت و حکومت اور مجلس شوریٰ کے ارکان کے انتخاب میں جمہور مسلمین کی رضا مندی اور رائے کے حصول کا کوئی قابل عمل میکینزم تجویز ہی نہیں کرتے۔

علماء حکومت کے مروجہ نظاموں میں سے صدارتی طرزِ حکومت کو اسلام کے مزاج اور اصول سے قریب تر گردانتے ہیں،کیونکہ ان کی نظر میں حکم و فیصلہ کی ذمہ داری خلیفہ ؍ امیر مملکت پر ڈالی گئی ہے جو صرف صدارتی طرزِ حکومت ہی میں ممکن ہو سکتی ہے، جب کہ پارلیمانی طرز حکومت میں امیر مملکت پر ایسی کوئی ذمہ دار ی عائد نہیں ہوتی۔ مزید براں وہ شوریٰ کو ایک غیر متعین ادارہ سمجھتے ہیں، وہ مجلس شوریٰ کے مدت انتخاب (tenure) کے بارے میں با لکل خاموش ہیں۔

ان فتاویٰ میں سربراہ مملکت و حکومت کے لیے مجلس شوریٰ کے ارکان کے انتخا ب و تقرر نیز فیصلہ سازی کے عمل میں شوریٰ کی اکثریتی رائے کے ردو قبول میں ویٹو کا اختیارتسلیم کیا گیا ہے۔ یہ فتاویٰ رئیس مملکت کو مطلق العنان اختیارات سونپ دیتے ہیں۔دستوری و سیاسی مسائل پر ان فتاویٰ میں اسلامی مملکت کے مسلم اور غیر مسلم شہریوں کی حیثیت اور ان کے حقوق میں واضح فرق و امتیاز قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ ان فتاویٰ کی رو سے اسلامی ریاست میں غیر مسلم قومیں جزیہ ادا کریں گی اور مذہبی حقوق نیز سیاسی و انتظامی معاملات میں ان کا درجہ مسلمان شہریوں سے کم تر ہوگا (۶۴)۔ ان فتاویٰ کے جائزہ سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ علماء جدید دور کی اسلامی مملکت کے دستور اور اس کے اداروں کی تشکیل و تنظیم (Statecraft) کے باب میں معاصر نظاموں کے تجربات سے اخذو استفادے سے بے اعتنائی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔


حوالہ جات و حواشی

۲۶) دیکھیے: مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود (لاہور: جمعےۃ پبلی کیشنز، ۲۰۰۸ء)، جلد ۱۱، ص۳۷۴۔۳۷۵؛ مفتی محمد رفیع عثمانی و مولانا سلیم اللہ، ’’عورت کی حکمرانی :اکابر علماء کا فیصلہ‘‘، مشمولہ مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۲۔ اس مفصل فتویٰ کے متن کے لیے دیکھیے: احسن الفتاویٰ، جلد۶، ص ۱۴۹۔۱۸۲؛ ’’عورت کی ولایت بالاجماع جائز نہیں‘‘، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۳۔۱۹۲۔

۲۷) مفتی محمد اشرف القادری، امارۃ المرأۃ : عورت کی حکمرانی کے مسئلہ پر محققانہ شرعی فتویٰ (نیک آباد، گجرات: اہلسنت اکیڈمی ، جون۱۹۸۸ء)، ص ۳۔۵۔ عورت کی حکمرانی کے بارے میں جدید الخیال اہل قلم کے نقطۂ نظر کے بارے میں ملاحظہ ہو: مشیر الحق، ’’عورت کی حکمرانی: ایک اسلامی نقطۂ نظر‘‘، صحیفہ (لاہور)، شمارہ اپریل، جون ۱۹۸۹ء، ص ۱۔۱۲ ۔

۲۸) مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف، فتاویٰٰ محمدیہ: منہج سلف صالحین کے مطابق (مرتبہ: ابوالحسن مبشر احمد ربانی) (لاہور: مکتبۂ قدوسیہ، ۲۰۱۰ء)، ص ۴۱۴۔۴۱۷۔مزید دیکھیے: حافظ صلاح الدین یوسف، عورت کی سربراہی کا مسئلہ اور شبہات ومغالطات کا ایک جائزہ (لاہور: دارالدعوۃ السلفیہ، ۱۴۱۰ھ؍۱۹۹۰ء)؛ علامہ محمد اشرف سیالوی، اسلام اور عورت کی حکمرانی (لاہور:عالمی دعوتِ اسلامیہ، ۱۹۹۶ء)۔

۲۹) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۴۷۵۔

۳۰) حافظ عبداللہ روپڑی، فتاویٰ اہل حدیث (تحقیق و تدوین: محمد صدیق بن عبد العزیز) ( سرگودھا: ادارۂ احیاء السنۃ النبوےۃ، س۔ ن)، جلد ۳، ص ۴۰۲۔۴۰۳۔ حافظ عبداللہ روپڑی نے اپنی ایک دوسری کتاب مرزائیت اور اسلام میں بھی اس موضوع پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا ہے۔

۳۱) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۴۴۔

۳۲) ایضاً ، جلد ۶، ص ۱۴۵۔

۳۳) ایضاً ، ص ۱۴۵۔۱۴۶۔

۳۴) ایضاً ، جلد۶، ص۱۴۵۔۱۴۷۔

۳۵) انتخاب امام کے طریق کار کے بارے میں شاہ ولی اللہ کے آراء کے بارے میں ملاحظہ ہو: ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء (مترجمہ: مولانا عبدالشکور فاروقی و مولانا اشتیاق احمد ) (کراچی: قدیمی کتب خانہ، س۔ ن۔)، جلد ۱، ص ۱۷۔۲۶، ۳۳۔۳۵، ۵۳۱۔۵۳۶۔ خلیفہ کے انتخاب و تقرر کے طریق کارخصوصاً امارۃ الاستیلاء کے بارے میں شاہ ولی اللہ کے خیالات و آراء کے جائزہ کے لیے ملاحظہ ہو: عبیداللہ فہد، ’’شاہ ولی اللہ کے سیاسی افکار‘‘، مشمولہ محمد ےٰسین مظہر صدیقی (مرتب)، حجۃ اللہ البالغہ: ایک تجزیاتی مطالعہ ( علی گڑھ: شاہ ولی اللہ ریسرچ سیل، مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ، ۲۰۰۲ء)، ص۲۱۹۔۲۲۸۔

۳۶) مولانا محمد اسماعیل سلفی،’’ افتتاحیہ‘‘، فتاویٰ ثنائیہ، جلد۲ ،ص ۵۸۵۔

۳۷) ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد، فتاویٰ اصحاب الحدیث، جلد دوم، ص ۴۵۸۔ ۴۵۹۔

۳۸) حافظ عبدالمنان نور پوری، قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد ۲، ص۶۹۲۔۶۹۳۔

۳۹) محمد یوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور اُن کا حل جلد ۸، ص ۲۰۲۔

۴۰) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، ص ۱۴۳۔ 

۴۱) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، جلد پنجم، ص ۴۶۷۔مولانا محمد ادریس کاندھلوی اور مولانا احمد رضا خان بریلوی کے خلیفہ مفتی سید نعیم الدین مراد آبادی دونوں کی رائے میں شوریٰ کے تقرر و انتخاب کا اختیار امیر مملکت کو حاصل ہے۔ مؤخرالذکر کی رائے میں جماعت شوریٰ امیر کے ماتحت ہوگی۔ دیکھیے: محمد ادریس کاندھلوی، دستورِ اسلام مع نظام اسلام (لاہور: مکتبۂ عثمانیہ، س۔ ن؍ لاہور: تعلیمی پریس، ۱۹۶۸ء)، ص ۵۳۔۵۸ ؛ سید غلام معین الدین نعیمی، حیات صدر الافاضل: حضرت مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کے حالات زندگی (لاہور: فرید بک سٹال، ۲۰۰۰ء)، ص ۱۹۴۔۱۹۵۔

۴۲) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد پنجم، ص ۴۶۱۔

۴۳) ایضاً ، جلد ۵ ، ص ۴۶۱۔

۴۴) ایضاً ، جلد ۵،ص ۴۶۸۔۴۶۹۔

۴۵) مولانا محمدیوسف لدھیانوی، آپ کے مسائل اور ان کا حل ، جلد۸، ص ۲۰۲۔ متعدد علمائے دیوبند نے شوریٰ کے ردو قبول کے بارے میں امیر مملکت کے اختیارات کے متعلق اسی نقطۂ نظر کو اپنایا ہے۔ دیکھیے: مولانا محمد تقی عثمانی، حکیم الامت کے سیاسی افکار (کراچی: مکتبۂ دارالعلوم، ۱۴۱۳ھ)، ص۳۱۔۳۶؛ مولانا حبیب الرحمٰن عثمانی و مولانا مفتی محمد شفیع، اسلام میں مشورہ کی اہمیت ( لاہور: ادارۂ اسلامیات، ۱۹۷۶ء)، ص ۱۵۲۔۱۵۳؛ مولانا محمد مسیح اللہ خان شروانی، اہتمام وشوریٰ (کراچی: زمزم پبلشرز، ۲۰۰۳ء)، ۲۶، ۴۷۔۴۸؛ مصنف؍مرتب (نا معلوم)، شوریٰ ہیئتِ حاکمہ نہیں: علمائے دیوبند کی واضح تصریحات (جلال آباد ، ضلع مظفر نگر: شعبۂ نشر و اشاعت، مدرسۂ مفتاح العلوم، س۔ ن)۔

۴۶) عبداللہ روپڑی،فتاویٰ اہل حدیث، جلد ۳، ص ۴۰۲۔

۴۷) مولانا محمد اسماعیل سلفی،’’ افتتاحیہ‘‘، مشمولہ فتاویٰ ثنائیہ، کتاب الامارۃ، ص ۵۸۹۔مولانا ریاست علی بجنوری نے بھی علماء کی اکثریتی رائے سے مختلف موقف ظاہر کیا ہے۔ان کی رائے میں شوریٰ کی اکثریتی رائے سربراہ مملکت کے لیے واجب التعمیل ہے۔ وہ مجلس شوریٰ کی حاکمہ؍تنفیذیہ پربالادستی کے نظریے کے علمبردار نظر آتے ہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: مولانا ریاست علی بجنوری، شوریٰ کی شرعی حیثیت (لاہور: مکتبۂ لاہور ، ۱۹۹۶ء)۔

۴۸) حافظ عبداللہ روپڑی، فتاویٰ اہل حدیث، جلد ۳، ص ۴۰۲۔

۴۹) دیکھیے مفتی محمد کفایت اللہ دہلوی، کفایت المفتی (جامع مؤلف: حفیظ الرحمٰن واصف) (دہلی: مطبع نعمانی، ۱۳۹۷ھ؍ ۱۹۷۷ء)، جلد ۹: کتاب السیاسیات، فصل ہفتم، ص ۲۹۴۔۳۸۱۔ 

۵۰) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص۵۳۲۔۵۳۴؛ مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۶۷۔۳۶۸، ۳۸۰۔

۵۱) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۸۰۔

۵۲) ایضاً ، جلد ۱۱، ص ۳۶۶۔۳۶۷، ۳۶۹،۳۷۰، ۳۷۵۔۳۷۷، ۳۸۰۔

۵۳) مفتی محمد شفیع، جواہر الفقہ، جلد ۵، ص ۵۳۵۔

۵۴) مولانا مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد۱۱، ص۳۶۹۔

۵۵) ابو محمد حافظ عبدالستار الحماد، فتاویٰ اصحاب الحدیث (لاہور: مکتبہ اسلامیہ، ۷۰۰۲ء)، ص ۴۵۸۔ ۴۵۹۔ 

۵۶) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۸۶۔۴۸۸۔

۵۷) مفتی محمود، فتاویٰ مفتی محمود، جلد ۱۱، ص ۳۱۳ ۔

۵۸) مفتی محمد شفیع، جواھر الفقہ، جلد ۵، ص ۴۹۰۔

۵۹) مولانا ظفر احمد العثمانی، اعلاء السنن (کراچی: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ، ۱۴۱۵ھ) ، جلد ۱۲، ص ۵۱۵۔۵۱۷۔

۶۰) مفتی رشید احمد، احسن الفتاویٰ، جلد ۶، ص ۱۸۔۱۹۔ 

۶۱) مفتی محمد عبیداللہ خان عفیف، فتاویٰ محمدیہ، ص ۸۶۶۔۸۶۸۔

۶۲) مسلم کلاسیکی سیاسی افکار کے جائزہ کے لیے ملاحظہ ہو:رشید احمد، مسلمانوں کے سیاسی افکار (لاہور: ادارۂ ثقافت اسلامیہ، ۱۹۹۹ء)؛ص ۱۔۱۵۰۔ مزید دیکھیے:

E. I. J. Rosenthal, Political Thought in Medieval Islam (Cambridge: Cambridge University Press, 1958; Antony Black, The History of Islamic Political Thought: From the Prophet (PBUH) to the Present (Karachi: Oxford University Press, 2001).

۶۳) تفصیل کے لیے دیکھیے: سید ابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی ریاست (مرتبہ: خورشید احمد) (لاہور: اسلامک پبلی کیشنز ،۲۰۰۰ء)؛ مولانا امین احسن اصلاحی، اسلامی ریاست (لاہور: دارالتذکیر، ۲۰۰۲ء)۔ مزید دیکھیے:

 Muhammad Asad, The Principles of State and Government in Islam (Berkeley, CA: University of California Press, 1961).

۶۴) اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کے حقوق کے بارے میں لبرل اور آزادی روی پر مبنی نقطۂ نظر کے بارے میں ملاحظہ ہو:

Fahmi Huweidi, "Non-Musliims in Muslim Society", in Abdelwahab(ed.), Rethinking Islam and Modernity: Essays in Honour of Fathi Osman (Leicester: The Islamic Foundation, 2001/1422 A. H.), pp. 84-91.

(بشکریہ مجلہ ’’الاضواء‘‘، شیخ زاید اسلامک سنٹر، جامعہ پنجاب، لاہور)

آراء و افکار