الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام اسوۂ حسنہ سیمینار

حافظ محمد شفقت اللہ

الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام ۷دسمبر ۲۰۱۶ء کو اسوۂ حسنہ کے عنوان سے ایک سیمینارمنعقد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹرعبدالماجد حمید المشرقی صاحب نے فرمائی۔ خصوصی خطاب کے لئے فاضل نوجوان مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب مدعو کیے گئے۔سیمینار کا آغازاستاذ القراء قاری سعید احمد صاحب کی تلاوت سے ہوا ۔بعد ازاں الشریعہ اکادمی کے طالب علم عبدالرحمن نے نعت رسول مقبولؐ پیش کی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے رہنما جناب احمد حسین زید نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں برے نتائج سے بچنے کے لئے زندگی کے تمام شعبوں میں تمام معاملات کواسوۂ حسنہ کے مطابق چلانا ہوگا۔انہوں نے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہ فزکس کوڈاکٹر عبد السلام کے نام سے منسوب کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ جو شخص امریکہ میں بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں ایک ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پسند نہیں کرتا، ایسے شخص کو اعزاز سے نوازنا افسوس ناک ہے۔

راقم الحروف (حافظ شفقت اللہ) نے چند معروضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی و کامرانی تعلیماتِ نبویؐ، اسوۂ حسنہ سے ہی وابستہ ہے۔ اسوۂ حسنہ سے ہٹ کر اگر کوئی کسی دوسرے راستے کا انتخاب کرے گا تو وہ گمراہی کی پاتال میں جا گرے گا۔

مولانا شاہ نواز فاروقی صاحب نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیادی طور پر دو پہلو ہیں: (۱)کمالاتِ نبوی اور (۲)تعلیماتِ نبوی۔ کمالات آپ کی خصوصیات کہلائے اور تعلیمات آپؐ کا اسوۂ کہلائے۔ 

آپ ؐ کے کمالات کے بارے میں علامہ انور شاہ کشمیری ؒ اپنی زندگی کی آخری کتاب خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ جس طرح روشنی کے تمام مراتب کی سورج پر انتہا ہے، ایسے ہی کمالات کے بھی تمام مراتب کی آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر انتہا ہے۔ آپ کی ذات کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ آپ کی نبوت وجوداً اول ہے، ظہوراً آخر ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ وجود میں تقدیم باعثِ افضلیت ہے اور ظہور میں تاخیرباعث افضلیت ہے۔

مولانا فاروقی نے کہا کہ سیرت النبیؐ کے دوسرے پہلو کی چار خصوصیات ہیں:

(۱) آپؐ کی تعلیمات کامل و مکمل محفوظ ہیں۔ جوفیضانِ نبوت آپ کے در سے چلا، اس کو اصحابِ پیغمبرؓ نے اور جو گھر سے چلا، اس کو ازواجِ پیغمبر نے امت تک منتقل کرکے عظیم احسان کیا ہے۔

(۲) آپ کی تعلیمات جامع ہیں جو زندگی کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے باوجود کوئی متجددایسا کوئی مسئلہ نہیں پیش کر سکا جس کا حل چودہ سو سال پہلے آپؐ نے اپنی تعلیمات میں نہ پیش کیا ہو۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی تعلیمات کو کاملیت عطا فرمائی۔ نبی کی تعلیمات کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جو مخفی ہو حتیٰ کہ آپؐ نے ازدواجی زندگی کا نازک ترین مرحلہ بھی امت سے مخفی نہیں رکھا ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ کوئی نبی کا نام لیواخفا کی وجہ سے کشکولِ گدائی لے کر غیر کے دروازے پر نہ چلا جائے۔

(۴) آپ کی تعلیمات کو عملیت بھی عطا فرمائی۔ آپ کی شریعت میں قول ہی نہیں فعل بھی ہے، قال ہی نہیں حال بھی ہے،علم ہی نہیں عمل بھی ہے،تھیوری ہی نہیں پریکٹیکل بھی ہے۔

ہماری عملی زندگی کا تعلق کمالاتِ نبوی سے نہیں تعلیماتِ نبوی سے ہے۔ تعلیماتِ نبوی ہی کو علماء نے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالماجد حمید المشرقی صاحب نے صدارتی کلمات کہتے ہوئے سامعین کی فرمائش پر اپنی انگریزی میں کہی ہوئی نعت: if you want to go to Madeena, let us go to Madeena اردو ترجمے کے ساتھ سماعتوں کی نذر کی۔ دوسری نعت (اب میری نگاہوں کا خوب یہ قرینہ ہے،بس اس طرف یہ اٹھتی ہیں جس طرف مدینہ ہے) کے دوران ڈاکٹر صاحب کے فی البدیہہ اشعار نے سامعین کو مزید محظوظ کیا۔

حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اس تقریب کا اختتام ہوا۔

الشریعہ اکادمی