رشتہ نکاح میں عورت کا اختیار اور معاشرتی رویے

محمد عمار خان ناصر

اسلامی تصور معاشرت کی رو سے نکاح ایسا رشتہ ہے جو مرد اور عورت کی آزادانہ مرضی اور فیصلے سے قائم ہوتا ہے اور اس کے قائم رہنے کا جواز اور افادیت اسی وقت تک ہے جب تک دونوں فریق قلبی انشراح اور خوش دلی کے ساتھ اس کوقائم رکھنے پر راضی ہوں۔ کسی وجہ سے ناچاقی پیدا ہونے کی صورت میں قرآن مجید نے ہدایت کی ہے کہ دونوں خاندانوں کے ذمہ دار حضرات مل کر معاملے کو سلجھانے کی کوشش کریں اور موافقت کے امکانات تلاش کریں۔ (النساء، آیت ۳۵) تاہم اگر یہ واضح ہو جائے کہ رشتہ نکاح سے متعلق حدود اللہ کو قائم رکھنا میاں بیوی کے لیے ممکن نہیں تو قرآن نے ہدایت کی ہے کہ ایسی صورت میں اگر طلاق لینے کے لیے بیوی کو شوہر کے کیے ہوئے مالی اخراجات کی تلافی کے لیے کچھ رقم بھی دینی پڑے تو اس میں کوئی مضایقہ نہیں۔ (البقرۃ، آیت ۲۲۹) دوسری جگہ قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر علیحدگی کے فیصلے میں ہی بہتری نظر آ رہی ہو تو فریقین کو مستقبل کے متعلق بے جا خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ اپنی وسعت اور حکمت سے دونوں کے لیے مناسب بندوبست کر دے گا۔ (النساء ، آیت ۱۳۰)

قرآن کی ان تعلیمات کی روشنی میں ہمارے ہاں کئی طرح کے معاشرتی رویے اصلاح کے متقاضی ہیں۔سب سے پہلے تو رشتے کے انتخاب میں خاتون کی پسند اور مرضی کو بنیادی اہمیت دینے کو ابھی تک ہمارے ہاں معاشرتی قدر کی حیثیت حاصل نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے عموماً جاگیردارانہ سماج کے بنائے ہوئے رویے اور روایات مستحکم ہیں۔ پھر اگر رشتہ نکاح میں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے اور میاں بیوی کے لیے نباہ کرنا مشکل ہوجائے تو بھی ایک انسانی مسئلے کے طور پر دیکھتے ہوئے فریقین کو خوش اسلوبی سے علیحدگی کا موقع دینے کے بجائے دونوں خاندانوں کا پورا زور اور دباو اس پر مرکوز ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہونے دیا جائے۔ خاص طور پر اگر رشتہ خاندان اور برادری کے اندر قائم ہوا ہو تو دونوں خاندانوں کے باہمی تعلقات کے جڑنے یا ٹوٹنے کو اس ایک رشتے کے ساتھ نتھی کر دیا جاتا ہے۔ تیسرے نمبر پر اگر خاتون علیحدگی کے بعد واپس ماں باپ یا بھائیوں کے گھر آ جائے تو اسے ایک غیر ضروری پر گلے پڑ جانے والی ذمہ داری تصور کیا جاتا اور اسی کے مطابق مطلقہ کے ساتھ برتاو اختیار کیا جاتا ہے۔

یہ تینوں رویے دینی واخلاقی لحاظ سے غلط اور قابل اصلاح ہیں۔

خاتون کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح کرنے کے متعلق ہم جانتے ہیں کہ ایسا نکاح اگر جبراً کیا جائے تو وہ قانوناً منعقد ہی نہیں ہوتا یا عورت کی درخواست پر عدالت اسے فی الفور کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ عموماً اس ضمن میں والدین معاشرتی دباو سے کام لیتے ہوئے بچیوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کے فیصلے کو ان کا حق سمجھتے ہوئے قبول کر لیں، ورنہ ان کی طرف سے معمول کے تعلقات اور حسن معاشرت کی امید نہ رکھیں۔ یہ دباؤ عموماً موثر ثابت ہوتا ہے اور بے شمار خواتین اپنی زندگی کے ایک نہایت بنیادی حق سے اس دباؤ کے تحت دست بردار ہو جاتی ہیں۔

اسی رویے کا اظہار نکاح کے بعد علیحدگی کے امکان کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے اور خواتین کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ان کے لیے کسی بھی طرح کی جائز یا ناجائز صورت حال سے سمجھوتا کیے اور کسی بھی طرح کی زیادتی یا نا انصافی کو قبول کیے بغیر کوئی چارہ نہیں، اور یہ کہ علیحدگی کی صورت میں خود خاتون کا خاندان اس فیصلے میں اس کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔

قرآن مجید نے اہل خاندان کے اس رویے کو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان کے منافی قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اگر ایک دفعہ طلاق ہو جانے کے بعد میاں بیوی دوبارہ گھر بسانے پر باہم رضامند ہوں تو عورت کے اہل خانہ کو اس میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ (البقرۃ، آیت ۲۳۲) ظاہر ہے کہ اس اخلاقی اصول کا اطلاق خاتون کی طرف سے علیحدگی کے فیصلے پر بھی ہوتا ہے۔ چنانچہ اصلاح وسازگاری کی بساط بھر کوششوں کے باوجود اگر خاتون رشتے کو قائم نہ رکھنا چاہتی ہو تو خاندان کی طرف سے اس پر بے جا دباو ڈالا جانا ایک غیر اخلاقی اور غیر شرعی رویہ ہے۔

مطلقہ خواتین کے ضروری اخراجات کو بوجھ اور اپنی ذمہ داری کے دائرے سے خارج تصور کرنا بھی اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی رو سے ایک ناروا انداز فکر ہے۔ سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ اے سراقہ، کیا میں تمھیں سب سے افضل صدقہ کے متعلق نہ بتاوں؟ میں نے کہا کہ یا رسول اللہ، ضرور بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ تمھاری وہ بیٹی جو (شوہر کی وفات یا طلاق کے بعد) واپس تمھارے پاس آ جائے اور تمھارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا نہ ہو۔ (ابن ماجہ، حدیث ۳۶۹۰)

اس ضمن میں صحیح اخلاقی رویے کی عکاسی درج ذیل دومثالوں سے ہوتی ہے:

چند سال قبل ایک دوست نے اپنی ہمشیرہ کے متعلق مشورہ طلب کیا جو اپنے سسرال میں ناروا سلوک کا شکار تھی، لیکن تمام تر مشقت اور تذلیل اس لیے گوارا کر رہی تھی کہ والدین کے وفات پا جانے کے بعد اسے دوبارہ بھائیوں پر بوجھ نہ بننا پڑے۔ دوست نے کہا کہ ہمشیرہ کی طرف سے علیحدگی کی خواہش یا مطالبہ ظاہر نہیں کیا گیا، لیکن صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ خوف ہے، سو ایسی صورت میں انھیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کو ایک بھائی کی حیثیت سے انھیں مکمل اخلاقی حمایت دینی چاہیے اور یہ اعتماد دلانا چاہیے کہ اگر ان کے لیے اپنی عزت نفس اور عرفی حقوق کے ساتھ اس رشتے کو قائم رکھنا ممکن نہیں تو اس فیصلے میں آپ پوری طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔انھوں نے ایسا ہی کیا اور مجھے یقین ہے کہ یہ فیصلہ ان کے اور ان کی ہمشیرہ کے لیے کہیں بہتر ثابت ہوا ہوگا۔

میں اپنے جوار میں ایک کنبے کو جانتا ہوں جس کے سربراہ کے، نشے کا عادی ہونے کی وجہ سے کھانے کمانے کی ساری ذمہ داری گھر کی خواتین پر ہے۔ ماں اور اس کی جوان بیٹیاں سارا دن لوگوں کے گھروں کا کام کاج کر کے اپنی ضروریات کا بندوبست کرتی ہیں۔ ایک بیٹی شادی کے بعد شدید علالت کا شکاراور اپنے ماں باپ ہی کے گھر میں زیر علاج ہے۔ اس کا شوہر تقاضا کرتا ہے کہ وہ واپس آ کر اس کے ساتھ رہے اور گھریلو ذمہ داریاں سنبھالے، لیکن یہ غریب خواتین اسے واپس نہیں بھیج رہیں کہ ان کی بچی کو خود دیکھ بھال اور تیمار داری کی ضرورت ہے جو اسے شوہر کے گھر میں میسر نہیں ہوگی۔

یہ دونوں مثالیں اسلام کی اخلاقی تعلیمات کا درست نمونہ ہیں اور معاشرے کی دینی واخلاقی تربیت کے ذمہ دار طبقوں کو اس طرح کے اچھے نمونے لوگوں کے سامنے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخ اور روایت کی معروضی تعبیر 

تاریخ کا مطالعہ اور تعبیر معروضی نہیں ہو سکتی، یہ ایک پیش پا افتادہ حقیقت ہے۔ یہی بات روایت کے مطالعہ کے بارے میں درست ہے، کیونکہ وہ بھی تاریخ ہی کی ایک جہت ہے۔ ہم تاریخ کا مطالعہ اپنے حال کو ایک تناظر دینے اور اپنے موجودہ مواقف کو جواز فراہم کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ، ول ڈیوراں کے بقول، تاریخ سے ہر نقطہ خیال کے حق میں یا اس کے خلاف یکساں طور پر استدلال کشید کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا عمومی مطالعہ کرنے والا ایک مورخ نسبتاً زیادہ غیر جانب دار ہو سکتا ہے، لیکن فکری، نظریاتی، سیاسی اور مذہبی بحثوں میں استعمال کی جانے والی تاریخی تعبیرات ہمیشہ اور بلا استثناء مذکورہ حقیقت کا مظہر ہوتی ہیں۔

اس کے دو مضمرات اہم ہیں۔

ایک یہ کہ کسی بھی بحث میں تاریخ کی (اور اسی طرح روایت کی) جو تعبیر پیش کی جا رہی ہو، اس کو سمجھنے کے لیے پیش کردہ تاریخی استدلال کی اہمیت ثانوی اور پیش کرنے والے کے موجودہ موقف کی اور ان نتائج واثرات کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے جو اس تعبیر سے حال میں حاصل کرنا مقصود ہے۔ چونکہ حاملین تعبیر کا موجودہ موقف اور مطلوبہ نتائج یہ طے کرتے ہیں کہ وہ تاریخ کو کس طرح دیکھیں، اس لیے ان کے استدلال کو سمجھنے اور اس کا تجزیہ کرنے والوں کے لیے بھی اس نکتے کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے منفک کرنا زیر بحث تعبیر اور استدلال کی تفہیم کو اس کے ایک بنیادی عنصر سے محروم کر دیتا ہے۔

دوسرا یہ کہ تاریخی تعبیر جس موقف کی تائید میں پیش کی جا رہی ہے، اس موقف کی قدر پیمائی اصلاً ان دلائل کی روشنی میں کی جانی چاہیے جو وہ وضع موجود میں اپنے حق میں رکھتا ہے یا پیش کر سکتا ہے۔ فیصلہ کن حیثیت انھی دلائل کو حاصل ہوگی، جبکہ ان کے ساتھ ضمنی موید کے طور پر تاریخی تعبیر پر مبنی استدلالات کو بھی وزن دیا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ تاریخی تعبیرات پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے مواقف وہ ہوں گے جو وضع موجود سے اپنے حق میں زیادہ قائل کن دلائل پیش نہیں کر سکتے۔ چونکہ کسی بھی موقف کو ایک واقعاتی وعملی تناظر درکار ہوتا ہے، اس لیے اس نقصان کی تلافی کی غرض سے تاریخ کی طرف رجوع کیا جاتا اور ایک بڑی حد تک فرضی تناظر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم جیسا کہ واضح کیا گیا ہے، ایسی کسی بھی بحث میں تاریخ کی تعبیر کو متعین رخ دینے والی اصل چیز وہ پوزیشن ہوتی ہے جو حال میں اختیار کی گئی ہے اور اپنی بنیادی توضیح کا تقاضا وضع موجود میں ہی کرتی ہے۔

دین اور معاشرہ