فقہائے تابعین کی اہل حدیث اور اہل رائے میں تقسیم ۔ ایک تنقیدی جائزہ (۱)

مولانا سمیع اللہ سعدی

عصر حاضر میں فقہ اسلامی کی مرحلہ وار ،مربوط اور مرتب تاریخ پر قابل قدر علمی کام ہوا ہے اور خاص طور پر عالم عرب سے فقہ اسلامی اور مذاہب فقیہ کے تعارف و تاریخ پر مشتمل انتہائی اہم کتب سامنے آئی ہیں۔ فقہ اسلامی کی تجدید، احیاء اور نت نئے مسائل میں مختلف مکاتب فکر سے اخذ و استفادہ کو آسان بنانے میں ان کتب کا بڑا اہم اور بنیادی کردار ہے۔ ان کتب کی افادیت اور اہمیت اپنی جگہ ،لیکن ان میں تاریخی حوالے سے مختلف عوامل کی بنیاد پر بعض تسامحات بھی سامنے آئے ہیں اور بلا تحقیق نقل در نقل کی وجہ سے وہ تسامحات کافی مشہورہوئے۔ ان تسامحات میں ایک اہم تاریخی فروگزاشت پر کچھ معروضات پیش کرنے کی کوشش کی جا ئے گی۔

فقہ اسلامی کے مختلف مناہج تاریخ فقہ کا ایک اہم باب ہے۔تدوین فقہ کے دور میں اسلامی ممالک کے مختلف شہروں سے قابل قدر مجتہدین اٹھے ،ہر مجتہد نے اپنے گرد و پیش کے حالات،اپنے ذوق اور اساتذہ کے اسلوب کے مطابق اپنے اصول استنباط و استخراج وضع کیے ،ان میں خاص طور پر اہل عراق اور اہل حجازکے مکاتب فقہیہ میں استنباط واستخراج کے اصولوں میں واضح اور نمایاں فرق تھا۔اس فرق کی بہت سی وجوہ ہیں ،لیکن بعض تاریخی اسباب کی بنا پر یہ مشہور ہوگیا کہ مکتب عراق و حجاز میں جوہری فرق رائے و روایت کا تھا۔ اول الذکر مکتب میں رائے کو بنیادی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے اہل الرائے اور ثانی الذکر مکتب میں آثار کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے اہل حدیث کہا جاتا ہے۔اس مقالے میں درج ذیل پہلووں سے اس تاریخی مغالطے پر بحث کی گئی ہے:

  • اس تقسیم کے اولین قائلین کی تعیین
  • معاصرین میں سے اس تقسیم کے قائلین 
  • اس تقسیم کے سلسلے میں بیان کیے جانے والے بنیادی اسباب کا ناقدانہ جائزہ
  • عراق میں احادیث کے ذخیرے کا ایک جائزہ
  • حجازی و عراقی مکاتب حدیث کا ایک دوسرے سے اخذ و استفادہ
  • حجاز میں رائے و قیاس کی کثرت اور اس کے استعمال کے شواہد
  • حجازی و عراقی مکاتیب کی اولین کتب فقہیہ کا رائے و اجتہاد کے حوالے سے موازنہ 
  • اہل حدیث اور اہل رائے کی اصطلاحات کے مختلف مفاہیم اور ان کا ارتقائی جائزہ

فقہ اسلامی کی تاریخ پر مشتمل اکثر کتب میں دور تابعین میں اہل حدیث اور اہل رائے کے نام سے فقہا ء کے دو بڑے گروہ بنائے گئے ہیں ، اہل عراق کو اہل رائے کا سرخیل قرا دیا گیا ہے ،جبکہ اہل حدیث کی جائے نشو و نما خطہ حجاز کو ٹھہرایا گیا ہے۔ان دونوں مناہج اور مکاتب فکر میں اساسی و بنیادی فرق اس بات کو قرار دیا گیا ہے کہ اہل رائے نصوص میں تعلیل اور غیر منصوص مسائل میں قیاس و اجتہاد پر زور دیتے تھے ،جبکہ اہل حدیث کا بنیادی وصف نصوص کی بلا تعلیل پیروی کرنا اور غیر منصوص مسائل میں حتی الامکان اجتہاد اور قیاس سے اپنے آپ کو دور رکھنا تھا۔ منہج کے اس اختلاف کے اسباب اور عوامل پر بھی معاصر کتب میں گفتگو کی گئی ہے۔*

چنانچہ فقہ اسلامی کی تاریخ کی جدید اسلوب میں داغ بیل ڈالنے والے معروف مورخ شیخ خضری بک اپنی مایہ ناز کتاب تاریخ التشریع الاسلامی میں لکھتے ہیں :

وجد بذلک اھل حدیث و اھل رای، الاولون یقفون عند ظواھر النصوص بدون بحث فی عللھا و قلما یفتون برای، و الاخرون یبحثون عن علل الاحکام و ربط المسائل بعضھا ببعض و لا یحجمون عن الرای اذا لم یکن عندھم اثر ، وکان اکثر اھل الحجاز اھل حدیث وو اکثر اھل العراق اھل الرای 
’’ان اسباب کی بنا پر اہل حدیث اور اہل رائے وجود میں آئے ،اہل حدیث نصوص میں علتیں نکالے بغیر ان نصوص کے ظاہری مفہوم پر ٹھہرتے اور(نص نہ ہونے کی صورت میں ) قیاس سے بہت کم فتویٰ دیتے۔جبکہ اہل رائے احکام کی علتوں کو تلاش کرتے تھے اور غیر منصوص مسائل کو ان معلول بالعلت مسائل کے ساتھ (قیاس کے ذریعے) جوڑتے تھے، نص نہ ہونے کی صورت میں قیاس و اجتہاد سے کسی قسم کی کنارہ کشی اختیار نہ کرتے تھے۔ اہل حجاز کے اکثر فقہاء اہل حدیث منہج اور عراقی فقہاء اہل رائے کے منہج پر تھے۔‘‘

شیخ خضری بک کی طرح مذکورہ نظریہ علامہ حجوی نے الفکر السامی فی تاریخ الفقہ الاسلامی میں ،شیخ مناع القطان نے تاریخ التشریع الاسلامی میں، الدکتور صالح الفرفور نے تاریخ الفقہ الاسلامی میں ،دکتور عبد الوہاب الخلاف نے خلاصۃ تاریخ التشریع الاسلامی میں ،الدکتور عبد الکریم زیدان نے المدخل الی دراسۃ الشریعۃ الاسلامیۃ میں ،شیخ ابو زہرہ مرحوم نے محاضرات فی تاریخ المذاہب الفقہیۃ میں اور ہندوستان کے مشہور عالم مولانا ارسلان رحمانی نے "فقہ اسلامی، تعارف و تاریخ " میں بیان کیا ہے۔ مذکورہ حضرات سے پہلے اہل رائے اور اہلحدیث کی تقسیم شہرستانی نے الملل و النحل میں، ابن خلدون نے الشہرستانی کی پیروی کرتے ہوئے تاریخ ابن خلدون میں اور مسند الہند امام شاہ ولی اللہ نے الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف میں اپنے پیشرووں کی تقلید میں اختیار کی ہے، البتہ ہر سہ حضرات نے بغایت اختصار اس بات کو بیان کیا ہے، لیکن معاصر مورخین نے اسباب و عوامل کے تناظر میں تفصیلاً اس نظریے پر خامہ فرسائی کی ہے۔ 

اہل حدیث اور اہل رائے کی تقسیم کے اسباب و عوامل کا ناقدانہ جائزہ

اب ہم ان حضرات کے بیان کردہ اسباب وعوامل پرایک ناقدانہ نظر ڈالنا چاہتے ہیں:

بنیادی طور پر اس سلسلے میں تین اسباب بیان کئے جاتے ہیں :

۱:فقہائے صحابہ کی منہج اجتہاد و قیاس کے اعتبار سے تقسیم

۲:عراق میں احادیث و روایات کی قلت اور حجاز میں کثرت

۳:عراق میں اجتہاد و رائے کی کثرت اور حجاز میں قلت 

سبب اول :فقہائے صحابہ کی منہج اجتہاد و قیاس کے اعتبار سے تقسیم

مذکورہ تقسیم کے قائلین کی نظر میں اس تقسیم کا سب سے بڑا اور بنیادی سبب یہ تھا کہ خود صحابہ کرام کے مناہج اجتہاد میں اختلاف تھا ۔بعض صحابہ کرام رائے ،قیاس اور اجتہاد سے حتی الامکان اپنے آپ کو بچاتے تھے اور صرف نصوص کے ظاہری مفہوم پر اکتفاء فرماتے ،جبکہ دوسری طرف ایسے صحابہ بھی تھے جن پر احکام کی علتیں نکالنے کا ذوق غالب تھا اور غیر منصوص مسائل میں وسعت کے ساتھ اجتہاد و قیاس سے کام لیتے اور اسی کے اثرات فقہائے تابعین تک پہنچے اور یوں فقہاء کے دو بڑے گروہ اور قیاس و اجتہاد کے دو بڑے مناہج سامنے آئے۔الدکتور رمضان علی سید اپنی کتاب المدخل لدراسۃ الفقہ الاسلامی میں لکھتے ہیں:

تاثرھم بطریق شیوخھم کزید بن ثابت و ابن عمر و ابن عباس اذا کان ھو لاء یتمسکون بالاحادیث و یخافون من استعمال الرای تورعا و احتیاطا لدینھم
’’اہل مدینہ اپنے شیوخ کے طریقہ سے متاثر تھے ،جیسے زید بن ثابت ،حضرت ابن عمر اور حضرت ابن عباس، کیونکہ یہ لوگ احادیث سے تمسک کرتے تھے اور راے و قیاس کے استعمال سے تقوی اور دین داری کی وجہ سے ڈرتے تھے۔‘‘

اس سبب کے بارے میں چند گزارشات

۱:دور تابعین میں اگرچہ صحابہ نے خاص خاص شہروں میں مسند تدریس سنبھالے ،لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ جس شہر میں جس صحابی نے ڈیرے ڈال دیے ،صرف اسی شہر کے مکین ہی ان سے استفادہ کرتے ،بلکہ اس وقت تو طلب علم کے لئے رحلت اور مختلف شہروں میں حصول علم کے لئے سفر کا رواج عروج پر تھا ،تشنگان علم در در کی خاک چھانتے ،اور جس شہر کے بارے میں کسی صاحب علم کے بارے میں سنتے تو اسی کی طرف کوچ کر جاتے ،چنانچہ مدینہ کے معروف تابعین کا سلسلہ تلمذ جس طرح مدینہ میں مکین صحابہ ،حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبد اللہ بن عمر،حضرت ابن عباس،حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ تک پہنچتا ہے ،اسی طرح ملک عراق و شام کے اکابر تابعین نے بھی مدینہ کے ان درسگاہوں سے کسب فیض کیا، یہی وجہ ہے کہ عراق کے معروف فقہاء علقمہ بن قیس ،مسروق بن الاجدع ،اسود بن یزید،عامر بن شراحیل الشعبی اور دیگر تابعین کے اساتذہ میں حضرت زید،حضرت عائشہ اور حضرت ابن عمر کے نام سر فہرست ہیں۔اسی طرح مدینہ کے بعض تابعین کا دیگر امصار کے صحابہ سے کسب فیض معروف بات ہے ، ابن حزم اپنی کتاب الاحکام میں لکھتے ہیں :

و ھکذا صحت الاثار بنقل التابعین من سائر االامصار عن اھل المدینہ و بنقل التابعین من اھل المدینہ و من بعدھم عن اھل الامصار فقد صحب علقمۃ ومسروق عمر و عثمان و عائشۃ ام المومنین و اختصوا بھم و اکثروا الاخذ منھم 
’’اسی طرح معروف شہروں کے تابعین کا مدینہ والوں سے روایات لینے کے بارے میں صحیح آثار موجود ہیں، اور ایسے ہی مدینہ کے تابعین اور تبع تابعین کا دیگر اہل بلاد سے استفادہ کرنے کے بارے میں بھی روایات موجود ہیں۔ یہ بات ثابت ہے کہ (کوفہ کے اکابر تابعین جیسے)علقمہ اور مسروق نے (مدینہ کے اکابر صحابہ )حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت عائشہ کی صحبت اختیار کی ،ان سے خصوصیت سے استفادہ کیا اور ان سے بہت ساری چیزیں حاصل کیں۔‘‘

جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ مدینہ میں مقیم صحابہ سے ہر شہر خصوصاً اہل کوفہ کے اکابر تابعین نے خوب استفادہ کیا ہے،تو اس صورت میں یہ کہنا کسی صورت درست نہیں بنتا کہ مدینہ والوں کے منہج میں ان کے اسا تذہ صحابہ کا اثر تھا۔ اگر معاصر حضرات کا مذکورہ نظریہ مان لیا جائے تو ایک معقول سوال اس موقع پر ذہن میں آتا ہے کہ انہی اساتذہ سے تو کوفہ کے تابعین نے بھی استفادہ کیا تو ان پر رائے کی تقلیل اور اجتہاد و قیاس سے کنارہ کشی کا اثر کیوں نہیں پڑا؟ایک ہی طرح کے اساتذہ سے حصول علم کے بعد منہج میں فرق کی نسبت اساتذہ کی طرف کرنا علمی حوالے کوئی مضبوط بات نہیں ہے۔اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود جو متفقہ طور پر اجتہاد و قیاس کی کثرت کے حوالے سے معروف ہے،ان کے تلامذہ میں صرف اہل کوفہ نہیں تھے،بلکہ مدینہ ،شام اور بصرہ کے اکابر تابعین نے ان سے استفادہ کیا۔

۲:مدینہ میں مقیم صحابہ خصوصاً حضرت زید بن ثابت،حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت عائشہ کے بارے میں بات کرنا کہ وہ رائے و اجتہاد سے احتیاط کرتے تھے اور نصوص کے ظاہری مفہوم پر ہی اکتفاء کرتے تھے،محل نظر ہے۔ان صحابہ کرام کی فقہی آراء سے کتب احادیث بھری پڑی ہیں ،اور خصوصیت کے ساتھ بکثرت ایسی روایات موجود ہیں جن میں ان حضرات نے غیر منصوص مسائل میں قیاس و اجتہاد سے کام لیا اور بعض واقعات میں ان حضرات کا اجتہاد نصوص میں تعلیل پر بھی مبنی ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض صحابہ کرام کی فقہی آرا پر باقاعدہ ضخیم موسوعات بھی تیار ہوچکے ہیں۔ ابن قیم نے اعلام الموقعین میں ان صحابہ کی فہرست دی ہے ،جن سے بکثرت فتاویٰ منقول ہیں ،ان میں مدینہ میں مقیم یہ چاروں صحابہ سر فہرست ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں :

و کان المکثرون منھم سبعۃ،عمر بن الخطاب،و علی بن ابی طالب ،وعبد اللہ بن مسعود ،وعائشہ ام المومنین ،و زید بن ثابت ،و عبد اللہ بن عباس ،و عبد اللہ بن عمر 
’’صحابہ میں وہ حضرات جن سے سب سے زیادہ فتاویٰ منقول ہیں،وہ سات حضرات ہیں :حضرت عمر، حضرت علی ،حضرت عبد اللہ بن مسعود ،حضرت عائشہ ،حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عبد اللہ بن عمر۔‘‘

فتویٰ میں قیاس و اجتہاد کا استعمال ایک لازمی امر ہے۔ اگر یہ مفروضہ مان لیا جائے کہ یہ صحابہ کرام اجتہاد و قیاس سے بچتے تھے تو فتاویٰ کی مقدار میں وہ حضرت ابن مسعود اور حضرت علی کے درجے تک کیسے پہنچے ،جن کے بارے میں اتفاق ہے کہ بکثرت اجتہاد و قیاس سے کام لیتے تھے؟

اس کے علاوہ ان حضرات نے ایسے مواقع پر بھی تعلیل سے کام لیتے ہوئے اجتہاد کیا ،جن میں ان کا اجتہاد نص کے ظاہری مفہوم کے معارض ہوتا ،چنانچہ حضرت عائشہ کا عورتوں کے مساجد میں آنے سے متعلق اجتہاد معروف و مشہور ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح حدیث کے ہوتے ہوئے انہوں نے عورتوں کے مسجد جانے پر نکیر فرمائی تھی، حالانکہ حدیث میں ان کو مسجد میں آنے کی صریح اجازت دی گئی تھی ،لیکن حضرت عائشہ کا فتویٰ یہ تھا کہ یہ اجازت خاص شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ گویا تعلیل کے زریعے نص کا عام مفہوم خاص محل پر محمول کیا۔ اسی طرح حضرت ابن عباس کا معارضہ کتب احادیث میں منقول ہے کہ جب حضرت ابوہریرہ نے یہ حدیث بیان کی کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ،تو آپ نے فرمایا کہ اگر میں گرم پانی سے وضو کروں تو میرے وضو کا کیا حکم ہوگا ؟جس پر حضرت ابو ہریرہ نے ناراض ہوتے ہوئے فرمایا :

یا ابن اخی اذا سمعت حدیثا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلا تضرب لہ مثلا 
’’اے بھتیجے جب نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث آجائے تو اس کے لئے (معارضہ کے طور پر )عقلی مثالیں نہ دیا کرو۔‘‘

غرض کتب احادیث میں ان حضرات کے اجتہادات اور قیاسات بکثرت مروی ہیں جن میں ان حضرات نے نصوص میں تعلیل سے وسیع پیمانے پر کام لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ عصر حاضر میں ان حضرات کے فتاویٰ اور اجتہادات پر ضخیم مجلدات وجود میں آچکی ہیں۔ ان اجتہادات کے ہوتے ہوئے یہ کہنا کہ یہ قیاس و اجتہاد سے بچتے تھے ،محل نظر ہے۔

۳۔ ان حضرا ت کے بارے میں قیاس و اجتہاد سے کنارہ کشی کے نظریہ کی بنیاد در اصل وہ روایات ہیں جن میں ان حضرات کا اتباع سنت ،نصوص پر سختی کے ساتھ جمنا اور حتی الامکان فتویٰ کی ذمہ داری سے بچنا منقول ہے ،چنانچہ امام دارمی نے سنن دارمی میں باب من ھاب الفتیا کے نام سے باقاعدہ ایک باب باندھا ہے جس میں ان روایات کوذکر کیا ہے جن میں صحا بہ و تابعین سے فتویٰ کے بارے میں احتیاط اور اس عظیم ذمہ داری سے حتی الامکان بچنے کا ذکر ہے، لیکن اس قسم کی روایات صرف ان مدنی صحابہ سے منقول نہیں ہیں ،بلکہ فتوی و اجتہاد کے حوالے سے معروف صحابہ جیسے حضرت ابن مسعود ،حضرت علی اور حضرت عمر سمیت اکابر تابعین سے بھی اس قسم کے اقوال مروی ہیں ،چنانچہ سنن دارمی میں حضرت ابن مسعود کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے :

من افتی عن کل ما یسال فھو مجنو ن 
’’جو آدمی (سوال کی نوعیت سے صرف نظر کرتے ہوئے )ہرپوچھی ہوئی چیز کے بارے میں فتوی دے تو وہ مجنون ہے۔‘‘

بلکہ امام دارمی نے ابن ابی لیلیٰ سے صحابہ کا فتوی کے بارے میں عمومی نظریہ یوں نقل کیا ہے:

لقد ادرکت فی ھذا المسجد عشرین و ماءۃ من الانصار۔ ۔۔۔ و لا یسئل عن فتیاہ الا ود ان اخاہ کفاہ الفتیا 
’’ میں نے انصار صحابہ میں سے ایک سو بیس ایسے اصحاب پائے ہیں کہ جب ان میں سے کسی سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو اس کی خواہش ہوتی کہ اس کا بھائی اس کی طرف سے اس فتوی میں کفایت کر لے ،یعنی وہ اس کی طرف سے یہ فتویٰ دے۔‘‘

حضرت شاہ ولی اللہ الانصاف میں حضرت ابن مسعود کی فتویٰ کے بارے میں احتیاط نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

سئل عبد اللہ بن مسعود عن شیء،فقال :انی لاکرہ ان احل لک شیء حرمہ اللہ علیک ،او احرم ما احلہ اللہ لک 
’’حضرت ابن مسعود سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو تیرے لئے (اپنے فتویٰ سے ) حلال کردوں یا حلال چیزوں کو (فتوی سے )تیرے اوپر حرام کردوں۔‘‘

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ الدکتور محمد الدسوقی "مقدمہ فی دراسۃ الفقہ الاسلامی"میں لکھتے ہیں:

وقد وجد فی کل من المدرستین من ھاب الفتیا و انقبض عنھا اذا لم یکن فی حکمھا اثر محفوظ،کما وجد فی کلتیھما من من جرء علی الفتیا و استخدم عقلہ فی التخریج و القیاس 
’’ہر دو مکاتب فکر میں ایسے افراد پائے جاتے تھے ،جو فتویٰ دینے سے احتیاط کیا کرتے تھے،اور خاص طور پر ان مسائل میں فتو یٰ دینے سے رکتے تھے ،جن میں متقدمین کے اقوال میں سے کوئی قول نہ ہو۔اس کے برعکس دو نوں مکاتب میں وہ لوگ بھی موجود تھے جو فتویٰ کے حوالے سے جرات رکھنے والے اور مسائل کی تخریج اور ایک ووسرے پر قیاس کرتے وقت عقلی مقدمات سے کام لیتے تھے۔‘‘

لہٰذا جب فتویٰ میں احتیاط مدینہ میں مقیم صحابہ کی بجائے تمام معروف فقہاء صحابہ کا عمومی عمل تھا،خواہ کسی بھی شہر سے تعلق ہو ، تو اس بنیاد پر یہ فیصلہ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ مدینہ میں مقیم صحابہ فتوی و اجتہاد سے بچتے تھے اور دیگر صحابہ خاص کر عراق میں مووجود صحابہ قیاس و اجتہاد سے زیادہ کام لیتے تھے ؟

سبب دوم، عراق میں احادیث کی قلت اور حجاز میں کثرت

اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم کا دوسرا بڑا سبب عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ چونکہ عراق میں احادیث و روایات حرمین شریفین سے دور ہونے کی وجہ سے حجاز کی بہ نسبت کم تھیں ،اس لئے اہل عراق اجتہاد و قیاس میں رائے پر زیادہ انحصار کرتے تھے ،جبکہ دوسری طرف حجاز خصوصا مدینہ قلب اسلام ہونے کی بنیاد پرکثیر صحابہ کا مسکن تھا ،اس لئے وہاں روایات کی تعداد کافی زیادہ تھی ،اور اہل مدینہ کو نصوص میں عام طور پر مسائل مل جاتے تھے ،اس لئے وہ اہل عراق کی بہ نسبت رائے پر بہت کم اعتماد کرتے تھے۔محقق قطان اہل رائے اور اہل حدیث کے وجود میں اسباب کے ذیل میں لکھتے ہیں :

کان الحدیث فی العراق قلیلا اذا ما قیس الی ما لدی الجاز 
’’عراق میں حجاز کی بہ نسبت احادیث کم تھیں۔‘‘

اس سبب کے بارے میں چند گزارشات پیش خدمت ہیں :

۱:اگر ایک لمحے کے لئے اس مفروضے کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ عراق میں احادیث کی قلت تھی ،تو بھی اہل رائے اور اہل حدیث کی تقسیم میں یہ عامل اثر انداز نہیں ہوسکتا ،اس لئے کہ دور تابعین اور تبع تابعین میں طلب حدیث کے لئے رحلت اور اس کے لئے سفر ایک لازمی جزو سمجھا جاتا تھا ،مختلف شہروں میں علم حدیث کے لئے جانے کا رواج کچھ اس کثرت سے تھا کہ محدثین کو رحلہ فی طلب الحدیث پر باقاعدہ کتب لکھنی پڑیں، چنانچہ خطیب بغدادی صاحب کی اس موضوع پر ضخیم کتاب الرحلۃ فی طلب الحدیث معروف ومشہور ہے۔ اس میں انھوں نے مختلف بلدان کی طرف محدثین کے اسفار کو بیان کیا ہے۔اور خاص طور پر مدینہ مرکز اسلام ہونے کی وجہ سے علمی اسفار کے لیے بہت معروف تھا، یہاں تک کہ اندلس جیسے دور دراز کے علاقے سے بھی کافی کثیر تعداد میں محدثین مدینہ میں طلب حدیث کے لیے آتے تھے ،تو عراق جو اندلس کی بہ نسبت مدینہ کے کافی زیادہ قریب تھا ،یہ کیسے ممکن ہے کہ وہاں سے محدثین طلب حدیث کے لیے مدینہ کی طرف نہ گئے ہوں۔

ابن سعد نے اپنی معروف کتاب الطبقات الکبری میں کوفہ ،بصرہ اور بغداد کے ان محدثین کا مفصل تذکرہ کیا ہے جنہوں نے مدینہ میں حضرت عمر،حضرت ابن عباس ،حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابن عمر سے احادیث لی ہیں۔جلدہشتم اور جلد نہم میں ان تین شہروں کے اکابر محدثین کا تذکرہ ہے جنہوں نے مدینہ میں مقیم صحابہ سے روایات لیں، خصوصاً حضرت عبد اللہ بن مسعود کا کوئی ایسا معروف شاگرد نہیں ہے جس نے حضرت عمر اور دیگر صحابہ سے روایات لینے کے لئے مدینہ کا سفر نہ کیا ہو۔ اس لئے اگر عراق میں احادیث کی قلت مان بھی لی جائے تو محدثین نے مدینہ کے صحابہ کے پاس موجود روایات مدینہ میں جاکر ان سے حاصل کیں ،تو کیا اس صورت میں اہل مدینہ کی اہل عراق پرحدیث پر فوقیت کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے؟ بلکہ اس میں تو اہل عراق کو ایک گونہ فوقیت مل گئی کہ وہ دونوں شہروں کی روایات کے جامع تھے، کیونکہ مدینہ کی طرف تو سفر حدیث کا رجحان تھا ،لیکن اہل مدینہ کا مدینہ سے خروج بہ نسبت اور شہروں کے کم تھا۔اس کے علاوہ اما م ابو حنیفہ کے دو مایہ ناز شاگرد اور فقہ حنفی کے ابتدائی دو بنیادی ستون امام ابویوسف اور امام محمد کا مدینہ کی طرف اخذ حدیث کے لئے سفر اور وہاں کئی سال تک مقیم رہ کر اہل مدینہ کی روایات کو جمع کرنے کا عمل معروف ہے۔ان اسباب کی بنا پر الدکتور شرف محمود اپنے ضخیم مقالے "مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ" میں لکھتے ہیں :

فقد کانت المدینۃ اھم المراکز العلمیۃ التی ساھمت فی تاسیس المدرسۃ الحدیثیہ فی الکوفۃ 
’’یقیناًمدینہ تمام مراکز علمیہ سے اہم ترین مرکز تھا ،جس کا کوفہ میں مکتب حدیث کی تشکیل میں بنیادی کردار تھا۔‘‘

۲:عراق میں قلت حدیث کا دعویٰ علم حدیث کی تاریخ کی رو سے ایک نہایت کمزور اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔اس وقت کے مراکز علمیہ میں کوفہ،بصرہ اور بغداداہم ترین مراکز سمجھے جاتے تھے ،اور کوئی ایسا قابل ذکر محدث نہیں ملتا جس نے عراقی درسگاہوں سے فیض حاصل نہ کیا ہو۔ حدیث کی معروف کتب کے مصنفین میں سے تقریباً ہر ایک نے طلب حدیث کے لئے عراق خصوصاً کوفہ کا سفر کیا ،امام بخاری نے بخارا سے ،اما م نسائی نے خراسان سے ،امام ابو داؤد نے سجستان سے ،امام ترمذی نے ترمذ سے ،امام ابن خزیمہ نے نیشاپور سے ،مستدرک حاکم کے مصنف نے امام حاکم نے نیشابور سے اور دیگر دور دراز کے محدثین نے طلب حدیث کے لئے عراق کا سفر کیا۔ اس کے علاوہ خود عراق سے علم حدیث کے وہ آفتاب طلوع ہوئے ،جن کی علمی چمک سے اب تک علم حدیث جگمگا رہا ہے۔عبد الرحمن بن مہدی ،محمد بن سیرین ،یحییٰ بن سعید القطان ،ابو داؤد الطیالسی ،اما م احمد بن حنبل ،خطیب بغدادی ،امام دارقطنی ،یحییٰ بن معین ، عامر شعبی ،ابو اسحاق السبیعی،امام اعمش،مسعر بن کدام،منصور بن المعتمر،سفیان ثوری ،سفیان بن عیینہ، وکیع بن الجراح، یحییٰ بن آدم،ابوبکر بن ابی شیبہ،سعید بن جبیر،اور علم حدیث کے دیگر روشن ماہتاب عراقی درسگاہوں سے ہی طلوع ہوئے۔ یہ وہ حضرات ہیں ،جن کے تذکرے بغیر علم حدیث کی تاریخ نامکمل سمجھی جاتی ہے ۔ مشت از خروارے کے طور پر چند معروف نام پیش کئے ،ورنہ الطبقات الکبری کی دو جلدیں صرف عراقی حفاظ و محدثین کے تذکرے پر مشتمل ہیں جس سے عراق میں حدیث و محدثین کی کثرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

۳۔ جن محدثین نے طلب حدیث کے لئے عراق کا سفر کیا ،ان کے تاثرات سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حدیث و محدثین کی کثرت اور علمی درسگاہوں کی بہتات میں عراق کے تین بڑے شہروں ،کوفہ ،بصرہ اور بغداد کا ثانی نہیں تھا، چنانچہ سرتاج محدثین امام بخاری اپنے علمی اسفار گنواتے ہوئے فرماتے ہیں :

دخلت الی الشام و مصر و الجزیرۃ مرتین ،و الی البصرۃ اربع مرات، و اقمت بالحجاز ستۃ اعوام، ولا احصی کم دخلت کوفۃ و بغداد مع المحدثین 
’’میں طلب حدیث کے لئے شام ،مصر اور جزیرہ میں دو مرتبہ گیا ،بصرہ کا چار مرتبہ چکر لگایا ،جبکہ حجاز میں چھ سال مقیم رہا ،لیکن میں شمار نہیں کر سکتا کہ محدثین کے ساتھ کتنی بار بغداد اور کوفہ گیا۔‘‘

قافلہ محدثین کے اس عظیم سالار کے اس فرمان سے کوفہ و بغدا د کی حدیث کے حوالے سے شہرت اور اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔نیز محدثین کا لفظ بتا رہا ہے کہ بغداد و کوفہ کی علمی درسگاہوں سے کسب فیض میں امام بخاری اکیلے نہیں تھے، بلکہ اطراف عالم کے محدثین کے قافلے در قافلے ان علمی مراکز سے علم کی پیاس بجھانے کے لئے بار بار چکر لگاتے رہے۔

امام ابو داؤد کے صاحبزادے عبد اللہ بن سلیمان بن الاشعث فرماتے ہیں:

دخلت الکوفۃ و اکتب عن ابی سعید الا شج الف حدیث فلما کان الشھر حصل معی ثلاثین الف حدیث
’’میں کوفہ گیا اور ہر روز ابو سعید سے ایک ہزار حدیثیں پڑح کر لکھتا تھا ،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مہینے کے آخر میں میرے پاس تیس ہزار احادیث کا مجموعہ تیار ہوگیا۔‘‘

اما م ابوداؤد کے باکمال صاحبزادے کے اس قول سے اندازہ لگا جا سکتا ہے کہ جب صرف ایک محدث کے پاس روایات کی کثرت اتنی تھی کہ ایک مہینے میں ان سے تیس پزار احادیث حاصل کیں ،تو عراق کے بقیہ حفاظ حدیث کی حدیث دانی کا کیا عالم ہوگا۔

امام انس بن سیرین کوفہ میں حدیث کی کثرت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اتیت الکوفۃ فرایت فیھا اربعۃ الاف یطلبون الحدیث و اربع ماءۃ قد فقھوا
’’میں کوفہ آیا تو دیکھا کہ چار ہزار طالبان حدیث علم حدیث کی تحصیل میں مصروف تھے اور چار سو مکمل فقیہ بن چکے تھے۔‘‘

اسی طرح معروف محدث عفان بن مسلم فرماتے ہیں :

فقدمنا الف حدیث الکوفۃ فاقمنا اربعۃ اشھر، و لو اردنا ان نکتب الف ماءۃ حدیث لکتبنا بھا، فما کتبنا الا خمسین 
’’ہم کوفہ آئے ،اور وہاں چار مہینے قیام کیا ،اگر ہم چاہتے تو اس مدت میں ایک لاکھ احادیث لکھ سکتے تھے ،لیکن ہم نے اس عرصے میں پچاس ہزار روایات لکھیں۔‘‘

اگر عراق کے صرف ایک خطے میں چار ماہ کی قلیل مدت میں طالبان حدیث ایک لاکھ تک روایات جمع کر سکتے تھے تو بقیہ خطوں کو ملا نے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روایات و احادیث کی کثرت کا کیا عالم ہوگا؟

کیا معروف محدثین کے ان بیانات کے بعد یہ دعوی کرنا صحیح ہوگا کہ عراق میں احادیث کی قلت تھی؟عجیب بات ہے کہ عراق میں قلت حدیث کے مدعی حضرات نے اپنے اس دعوے پر دور تابعین و تبع تابعین کے کسی قابل ذکر محدث کا قول ذکر نہیں کیا ہے۔

۴۔ معاصر تحریرات میں عراق میں قلت حدیث کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ عراق مرکز اسلام یعنی حرمین شریفین سے دور تھا ،اس لئے وہاں حدیث و روایات کافی کم تعداد میں تھیں ،حالانکہ تاریخی طور پر یہ بات مسلم ہے صحابہ کی ایک کثیر تعداد نے عراق خصوصا کوفہ کو مسکن بنایا ،کیونک کوفہ شہر کو چھاونی کے طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑے اہتمام سے آباد کیا تھا ،حضرت عمر کے اس اہتمام اور دلچسپی کا نتیجہ تھا کہ اکابر صحابہ جوق در جوق عراق منتقل ہوتے گئے ،خلافت مرتضوی کے زمانے میں جب کوفہ مملکت اسلام کا دارلحکومت بنا ،اور کوفہ میں باب العلم حضرت علی نے دربار خلافت سجایا تو دارلحکومت ہونے کی بنا پر حرمین شریفن اور دیگر خطوں سے ایک خلق کثیر نے کوفہ میں سکونت اختیا رکی۔چنانچہ محدثین کی تصریحات کے مطابق کوفہ میں ۰۷ بدری صحابہ ،سات سو بیعت رضوان میں شریک ہونے والے اصحاب اور مجموعی طور پر تقریبا پندرہ سو صحابہ نے کوفہ کو اپنا مسکن بنایا ، صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین کی تعداد تو اس کہیں زیادہ بن جاتی ہے۔اگر اس کے ساتھ عراق کے دوسے قابل ذکر شہرو ں میں مکین صحابہ و تابعین کو شمار کر لیا جائے تو بلا شبہ یہ تعداد ہزاروں تک پہنج جاتی ہے۔چنانچہ ڈاکٹرشرف محمود محمد سلمان لکھتے ہیں:

نزل الکوفۃ عدد کبیر جدا من الصحابۃ، فقد کان جیش سعد بن ابی وقاص اربعین الفا ،و ھم الذین سکنو الکوفۃ اول ما اسست،و لا شک ان آلافا من ھولاء من الصحابۃ
’’کوفہ میں بہت بڑی تعداد میں صحابہ نے اقامت اختیار کی ،کوفہ کی تاسیس کے وقت حضرت سعد بن ابی وقاص کے جس لشکر نے سب سے پہلے یہاں سکونت اختیار کی تھی ،اس لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی،بلا شبہ اس لشکر میں صحابہ ہزاروں کی تعداد میں تھے۔‘‘

اور یہ بات تو یقینی ہے کہ صحا بہ کو نکال کر باقی سب تابعین یا تبع تابعین تھے۔ہزاروں کی تعداد میں صحابہ و تابعین کا عراق کو مسکن بنانے کے بعد عراق میں قلت حدیث کے دعوے کی علمی و تاریخی حیثیت اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔

چنانچہ ان وجوہات کی بنا پر مصطفی احمد الزرقاء لکھتے ہیں :

وھذہ الحقیقۃ تتنافی مع ظن قلۃ الحدیث فی العراق 
’’یہ حقیقت (عراق میں صحابہ کی کثرت)عراق میں قلت حدیث کے دعوی کے منافی ہے۔‘‘

ایک تاریخی اشکال اور اس کا جواب

اس موقع پر ایک تاریخی اشکال کا ذکر کرنا مناسب معلو م ہوتا ہے کہ مورخین کی تصریحات کے مطابق عراق میں صحابہ کی کثیر تعداد نے سکونت اختیار کی ،لیکن تواریخ اور خاص طور پر کتب رجال میں ان صحابہ کے ناموں کی اگر تحقیق کر لی جائے تو چند سو سے زیادہ نہیں ملتے ،چنانچہ اس حوالے سے الدکتور شرف محمود محمد سلیمان نے اپنے ضخیم مقالے "مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ " میں متعدد کتب رجال سے صرف تقریبا تین سو بیس (۳۲۰)کے قریب نام اکٹھے کیے ،اگر بغداد و بصرہ کو ساتھ شامل کر لیا جائے تو ہزار سے زیا دہ یہ تعداد نہیں بنتی ،تو صرف چند سو ناموں کی موجودگی یہ دعویٰ کرنا کہ عراق میں مقیم صحابہ کی تعدادکافی زیادہ تھی ،محل نظر ہے ؟اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ محدثین و مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی،لیکن صحابہ کے حالات پر مشتمل سب سے ضخیم کتاب "الاصابہ " میں موجود تراجم کی تعداد تقریباً بارہ ہزاردو سو ستانوے ہیں۔ باقی کتب کے اضافی تراجم کو شامل بھی کر لیا جائے تو پندرہ ہزار سے زائد تعداد نہیں بنتی۔ نیز ان کتب میں بھی صحابہ کی ایک بڑی تعداد کے بلاد سکونت و دفن کا ذکر موجود نہیں ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر عراق میں موجود صحابہ کے نام زیادہ نہیں ملتے ،اس لئے اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ واقع میں شاید تعداد اس کے قریب قریب ہو ، درست نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ محدثین ان محدود ناموں کے باوجود عراق میں مووجود صحابہ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ذکر کرتے ہیں۔جیسا کہ اس کی تفصیل پیچھے ذکر ہو چکی ہے۔لہٰذا محض ناموں کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا جاسکتا کہ فلاں شہر میں سکونت اختیار کرنے والے صحابہ کی تعداد حقیقت میں بھی مذکور ہ ناموں کے قریب قریب ہوگی۔کیونکہ اس طرح سے تو خود صحابہ کی مجموعی تعداد صرف چند ہزار رہ جاتی ہے ،جبکہ تمام مورخین و محدثین کا اتفاق ہے کہ کم ازکم ایک لاکھ تک تو تعداد ضرور پہنچتی ہے۔

(جاری)


حواشی

* اس سلسلے میں سابقہ علمی کام:

۱۔ مدرسۃ الحدیث فی الکوفۃ، از الدکتور شرف محمود 

۲۔ عصر التابعین از عبد المنعم الہاشمی 

۳۔ الاتجاھات الفقھیۃ عند اصحاب الحدیث فی القرن الثالث الھجری از عبد المجید محمود 

۴۔مجلہ جامعۃ الملک سعود میں الدکتور حمدان کے بعض مقالات 

۵۔ الرای و اثرہ فی الفقہ الاسلامی از الدکتور ادریس جمعہ 

۶۔مشہور فقیہ خلیفہ بابکرالحسن کی گرانقدرکتاب: الاجتھاد بالرای فی مدرسۃ الحجاز الفقھیۃ 

۷۔ابوبکراسماعیل محمد میقا کی کتاب: الرای واثرہ فی مدرسۃ المدینۃ

آراء و افکار

اکتوبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۰

Flag Counter