’’کافر‘‘ یا ’’غیر مسلم‘‘؟ چند توضیحات

مولانا محمد تہامی بشر علوی

جو انسان حق کو جانتے بوجھتے ماننے سے انکار کر دے، وہ خدا کے ہاں ابدی جہنم جیسی سخت ترین سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔ قرآن مجید ایسے سرکشوں کا تعارف" کافرین" سے کرواتا اور ان کے انجام کی خبر ابدی جہنم کی سخت ترین سزاسے دیتا ہے۔ قرآن مجید جہاں کافر کی تعبیر اختیار کرتا ہے، ساتھ ہی اس گروہ کے بد ترین انجام کو بھی لازم مانتا ہے۔قرآن مجیدمیں کافر انہی حقیقی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کے بر عکس جو انسان حق کو جاننے کے بعد اسے قبول کر لیتا اوراس کے سامنے سرتسلیم خم کر جاتا ہے، اسے قرآن مجید "مومنین" سے تعبیر کرتا اور ابدی جنت کی بشارت دیتا ہے۔

تمام انسانی افراد اور گروہوں کا معاملہ مگر اتنا سادہ نہیں۔ قرآن مجید کے بیان کردہ اس واضح معیار اور انجام کے علاوہ انسانوں کی کئی سطحیں چلتی پھرتی زندگی میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ قرآن مجیدلوگوں کو خبردار کرتا ہے کہ تمہارا انجام جنت یا جہنم ہو گا۔ پھر بتاتا ہے کہ جہنم کے مستحق کافرین اور جنت کے مستحق مومنین ہوں گے۔ دو انجاموں کو سامنے رکھ کر خالص اخروی تناظر میں انسانوں کو ان دو درجوں کے سوا تقسیم کیا بھی نہیں جا سکتا۔ خدا مسلم اور کافر میں حتمی تفریق کی لکیر کل قیامت کو خود کھینچ کر رہے گا۔ کفر و اسلام یا اس کے چھوٹے بڑے مظاہر کا کامل ادراک جزا و سزا دینے کی سزاوار ہستی کے سوا کسی کو نہیں، اور وہ یقینی طور پر صرف اور صرف خدا ہی کی ہستی ہے۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ حقیقی کافروں کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ مگر انسان" مومن "اور "کافر "کی اس معیاری سطح سے مختلف ،کئی اورسطحوں پر اتر آتا ہے۔ جس جس کو دیدہ بینا میسر ہو اسی خدا کی زمیں پر چلتی پھرتی خدا کی مخلوق کو دیکھ کر جائزہ لے سکتا ہے۔میں خودجن مسیحی، ہندو اور سکھ احباب سے ملاقات کر پایا، یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ان میں سے کسی ایک میں بھی جانتے بوجھتے حق کا انکار کر جانے کی کوئی علامت مجھے محسوس نہیں ہوئی۔سکھ دوست کا حمد باری تعالیٰ کے اشعار سن کر آنسو بہہ پڑنا مجھے اب بھی یاد ہے۔میرے لیے مشکل ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد بھی کہہ جاؤں کہ وہ حق کا جانتے بوجھتے منکر تھا۔یہ محض ایک استثنائی مثال نہ تھی ، دیگر مذاہب کے ماننے والوں سے ملاقات کر پانے والے ہر جگہ اس کے مظاہر دیکھ سکتے ہیں۔ انسانوں کی ان دو معیاری (کافر اور مومن) سطحوں سے نیچے کی زندگی کی سبھی سطحوں کو جان کر عنوانات دے دینا، خدائی منصب ہی ہو سکتا ہے، یہ انسانی بساط سے نکلا ہوا کام ہے۔ 

البتہ ان دو سطحوں کے علاوہ عام طور پر چند اور سطحیں بھی انسانوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ خدا جب کافر و مومن کا لفظاستعمال کرتا ہے تو حقیقی اور اخروی معنوں میں ہی استعمال کر رہا ہوتا ہے۔اس تناظر میں انسانوں کی سبھی سطحوں کے تذکرہ ضروری نہیں۔ مگر مسلم قوم کو اس دنیامیں جینا اور اور اپنا امتیاز و تشخص باقی رکھنا ہوتا ہے۔ اسے بعض دنیوی احکام میں بھی مسلم و کافر کی تقسیم کرنا پڑ جاتی ہے۔مثال کے طور پرجنازہ پڑھنا، رشتے ناتے کرنا وغیرہ امور۔مگر یہ تقسیم سراسر دنیوی تقسیم سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔اس تقسیم کی بنیاد پر قیامت میں ہرگز فیصلے نہیں ہونے۔یہ معاملہ "عند الناس" کی حد تک ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے خدائی فرمان یا کوئی نص نہیں ہوتی۔ ہمارے فقہاء کے ہاں انسانوں سے متعلق احکامات کا فرق ،دو بڑی تقسیمات، کافر اور مسلم کے تحت ہی ہوا ہے۔چنانچہ ہمارے فقہاء بھی دنیوی حد تک یہی اصطلاحات استعمال کر کے انسانوں کو عمومی طور پر دو بڑے گروہوں میں تقسیم کرکے دنیوی احکامات بیان کرتے ہیں۔یہاں کافر کی تعبیراصلاً کسی کی تکفیر یا کسی کو کافر قرار دینیاور کافر ہی کہنے پر اصرار کے پیشِ نہیں بلکہ چند دنیوی احکام (نکاح، جنازہ وغیرہ )کے بیان کے لیے اختیار کر دی جاتی ہے۔گویا یہاں در اصل کافر کا اطلاق کرنانہیں بلکہ ان احکامات میں فرق بیان کرنا مقصود ہوتا ہے۔ فقہاء کی یہ تقسیم عمومی دائرے میں دنیوی احکامات کے اجراء کی غرض سے ہوتی ہے، جس کایہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ فقہی تقسیم میں کافر قرار پانے والا گروہ ابدی جہنم کا مستحق بھی ٹھہر چکا۔اس ثابت شدہ علمی حقیقت کے باوجود عام مسلم نفسیات میں یہ بات کسی طرح راسخ ہو چکی ہے کہ تمام غیر مسلم، کافر اور ابدی جہنم کے مستحق ہیں۔اگرمذہبی لحاظ سے افراد اور گروہوں میں واقع یہ دنیوی فرق ، عمومی تقسیم میں "کافر" اور "مسلم" کے علاوہ کسی اور موزوں تعبیر کے تحت بیان کر دیا جائے تو اصلاً اس میں کوئی مانع نہیں۔

مسلم کی تعبیر میں تو کوئی قباحت یا حرج نہیں تاہم "کافر" کا اطلاق اس طرح کا سادہ معاملہ نہیں۔

منافق:

نزول وحی کے زمانے میں کچھ لوگ اس سطح کے بھی پائے گئے جو دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام لیے پھرتے تھے۔ وہ چو ں کہ اپنی اصل میں کافر ہی تھے سو انجام کے لحاظ سے ابدی جہنم کے مستحق ہی ٹھہرے۔ اس ظاہر وباطن کی دوئی نے انہیں کفار کی بدترین قسم تک بنا ڈالا، مگر دنیوی احکام کا اجراء حقیقی کفر یا حقیقی اسلام پر موقوف نہیں ،سو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ظاہری حالت اسلام کے موافق پا کر کافر اور مسلم کی دو بڑی تقسیمات میں مسلم گروہ میں ہی شمار کیا۔ چنانچہ حقیقت میں کافر ہونے کے باوجود ان سے اسلامی مراسم ہی رکھے جاتے رہے۔ حتی کہ صحابہ کو سارے منافقین کی خبر تک نہ کی گئی۔ سو صحابہ منافقین کو مسلمان سمجھ کر ان کے جنازے تک پڑھتے رہے۔ قرآن مجید اس گروہ کو منافقین سے تعبیر کرتا ہے۔ منافقین اخروی لحاظ سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم ت?ے۔ مگر ان کی سطح کافر اور مسلم کی معیاری سطح سے الگ تھی، سو انہیں مسلم اور کافر کے سوا ایک الگ عنوان "منافقین" کا بھی دیا گیا۔ مگر یہ عنوان اس منافقانہ روش اور اس کے انجام سے خبردار کرنے کی خاطر اپنانا پڑا۔ دنیوی تقسیم میں منافقین کو الگ گروہ شمار کرنے کی بجائے مسلم گروہ کا ہی حصہ سمجھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ فقہاء کفار و مسلمانوں کے دنیوی احکام توبیان کریں گے ،مگر قرآن میں ذکر کیے گئے منافقین کے گروہ کے الگ سے احکام ذکر نہیں فرماتے۔

نکتہ: رسالت مآب کے دور میں حقیقی کافر اور دنیوی کافر کا مصداق ایک ہی تھا، سو وہاں بلا تردد کافر کی اصطلاح دنیوی لحاظ سے بھی برتی جا سکتی تھی۔ مگر فقہاء کے ہاں یہ تقسیم حقیقی نہیں، محض دنیوی حد تک ہے۔دنیوی احکامات میں منافقین کے لیے الگ سے کوئی احکامات نہ پا کر فقہاء نے انسانوں کی دنیوی تقسیم میں منافقین کی تعیین و تذکرہ نہیں کیا۔ اب کوئی ذہین دماغ یہ نتیجہ نہ اخذ کر بیٹھے کہ فقہاء کے ہاں منافقین "ڈائنوسار" بن گئے کہ اب پائے ہی نہیں جاتے۔ خوب سمجھ لینا چاہیے کہ منافقین" ناپید " ہو کر "ڈائنوسار" نہیں بن گئے، وہ بلاشبہہ آج بھی ہوں گے، پر مگر ان کی تعیین انسانی بساط سے باہر کا کام ہے۔ہم انذار کے درجہ میں آج بھی نفاق کو بیان اور اور اس سے بچنے کو بار بار کہہ سکتے ہیں۔ نفاق کی علامات بیان کر سکتے ہیں۔ مگر چوں کہ دنیوی تقسیم میں منافقین کے گروہ کو مشخص کر لینا ضروری نہیں، اس لیے نفاق کی ظاہری علامات کے پائے جانے کے باوجود منافقین کو الگ مشخص اور متعین نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں خدائی خبر کے بعد امت کی تاریخ اس سے خالی ہے کہ سوسائٹی میں باقاعدہ کسی گروہ کو منافقین کا گروہ قرار دے دیا گیا ہو۔ منافق کی دنیوی تعین ضروری نہ تھی سو معاملہ اخروی تقسیم کا بن کر خدا کے سپرد ہو گیا۔ سو وہاں کی تقسیم خالص خدائی اختیار ہو گا کہ اس قدر محیط علم اسی ہستی کا ہے۔ اخروی انجام میں یہ گروہ کافر ہی ہو گا۔ یہی نکتہ نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ کہا گیا کہ اسلام کے ابتدائی دور کے بعد منافقین ناپید ہونا شروع ہو گئے تھے، بلکہ" ڈائنوسار بن" گئے کہ بعد کا زمانہ منافقین کی تعیین سے خالی گزرا۔ کسی بات کو اصل تناظر سے ہٹا لینا اس طرح کے نتائج کے سوا پیدا بھی کیاکر سکتا ہے۔

غیر مسلم:

فقہاء کی عمومی دنیوی تقسیم میں کافر گروہ میں شمار کیا جانے والا طبقہ اخروی اعتبار سے بھی کافر اور ابدی جہنم کا مستحق نہ تھا۔ یہ تقسیم اصلاً دنیوی احکام کے اجراء کے پیش نظر کی گئی تھی۔ اس گروہ میں ایسے افراد بھی ہیں جو اسلام سے واقف ہی نہیں، ایسے بھی ہیں جو واقف ہیں مگر اس پر غور نہ کر سکے، ایسے بھی ہیں جو اسلام کو سچا مذہب مانتے ہیں ،مگر کہتے ہیں کہ اسلام مسلمانوں کا مذہب ہے ہندووں یا سکھوں کو ماننا ضروری نہیں۔ ہر قوم کا اپنا اپنا مذہب ہوتا ہے۔سارے مذاہب سچے ہیں مگر پیروی اپنے مذہب کی کی جانی چاہیے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں کے داخلی مذاہب میں لوگ کہتے ہیں کہ شافعی مذہب برحق ہے پر پیروی اپنے امام کی۔یوں وہ حق مان کر بھی نہ قبول کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ایک دوسرا حق "حنفیت" ان کے پاس ہوتا ہے۔ یوں عالمی مذاہب کی سطح پر بھی یہ خیال بڑی تعداد میں لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ مذاہب سارے سچے اور برحق ہیں مگر ہر قوماپنے مذہب کی پیروی کرے۔ یہ خیال بلاشبہ غلط ہے مگر ایسا کہنے والے کی طرف جانتے بوجھتے حق کے انکار کرجانے کی نسبت نہیں کی جا سکتی، جبکہ کافر اسم کا احقیقی مسمیٰ جانتے بوجھتے انکار کر جانے والے ہی ہوتے ہیں۔ 

المختصر مختلف انسانوں سے ملاقات کا تجربہ رکھنے والے جانتے ہیں کہ ایسے افراد کم ہیں جن کے بارے میں یہ گمان کیا جا سکے کہ وہ جانتے بوجھتے حق کو نہیں مان رہے۔ اس پر مستزادپھر ان لوگوں کا اپنے لیے کافر لفظ کے استعمال سے نفرت کرنا بھی ہے۔جب واضح ہو چکا کہ دنیوی احکام کے فرق کے بیان کی خاطر مجبواراً یہ کافر کی تعبیر اختیار کر جانی پڑی، اب جب یہ کافر کا لفظ حقیقی معنوں میں بھی نہیں بولا جا ررہا، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کوپسند نہیں کہ لوگ انہیں کافر کہا کریں، تو احکام کے فرق کی خاطر کسی اور موزوں تعبیر کو اختیار کیا جانا چاہیے۔ قرآن مجید بھی کفار کے ایک گروہ سے متعلق احکامات"اہل کتاب" ہی کے عنوان سے بیا ن کرتا ہے۔ان کے کافر ہونے کے باوجود قرآن کو انہیں کافر ہی کہنے پر اصرار نہیں۔ چنانچہ ہمارے فقہاء کا کہنا ہے کہ ذمی کو کافر کہہ کر پکارنے پر مسلمان کو تعزیری سزا دی جائے گی۔ جب دنیوی احکام کا اجراء ذمی کا عنوان دے کرممکن ہو جائے تو اسے کافر کہہ کر چڑانے پر اصرار ہرگز کوئی دینی مطالبہ نہیں، بلکہ فقہاء کے ہاں قابل تعزیر جرم ہے۔ پاکستان مین ہمارے علماء نے آئین کی شق میں سے " کافر" لفظ ہٹا کر "غیر مسلم" کی تعبیر اپنائی تو ہمارے نزدیک یہ ایک مستحسن عمل تھا۔اب تازہ درپیش صورت حال اور مشکلات کے پیش نظر انسانوں کی دنیوی تقسیم کافر کے علاوہ کسی موزوں عنوان کے تحت کر دینا ممنوع نہیں۔ہمیں چاہیے کہ" آئین پاکستان "میں علماء کے اختیار کیے گئے عنوان پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس کی افادیت سمجھنے کی کوشش کریں۔

دنیوی احکام میں فرق کے بیان کی خاطر کافر لفظ کا اطلاق ہی ضروری نہیں۔ مسلم قوم کے الگ تشخص اور دنیوی احکام کے اجراء کے لیے غیر مسلم کا عنوان کافی اور موزوں ترین ہے، عہد رسالت میں چوں کہ دنیوی اور حقیقی کافر کا مصداق خارج میں ایک ہی تھا سو اس دور پر آج کی صورتِ حال کو قیاس کیا جانا درست نہیں۔ ایسا ممکن ہے کہ مسلم گروہ میں منافقین فاسقین بھی پائے جائیں اور غیر مسلم گروہ میں کافرین بھی موجود ہوں۔مگر دنیا میں ہم پر یہ فرق واضح ہو جانا بالکل بھی ضروری نہیں۔ انسانوں میں یہ حقیقی تفریق انسانی بساط سے باہر کا معاملہ ہے، سرے سے اس کا مکلف ہی نہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ کافر ناپید ہو گئے، ہم نفاق اور اس کے انجام کی طرح کفر اور اس کے انجام سے لوگوں کو خبر دار کرتے رہیں گے، اس مقصد کے لیے کافر اور منافق کا حقیقی اطلاق دنیا میں ہی ہو جانا یا اس کا انسانی بساط میں ہو جانا ضروری نہیں۔ "کافر کا آج بھی موجودہونا" ممکن ہے، یہ بالکل الگ بات ہے، اور "کافر کے موجود ہونے کا معلوم بھی ہو جانا" یہ دوسری بات ہے۔ دونوں باتوں کو ایک سمجھ کر "کافر" کے ناپید ہونے کی خبر سنانا درست نہیں۔کافر لفظ ہی کے اطلاق پر اصرار اور بھی محل نظر ہو جاتا ہے جبکہ کوئی گروہ اس عنوان کو اپنے لیے پسند نہ کرتا ہو۔ جب انسانوں کی دنیوی تقسیم ہے ہی دنیوی مصلحت کی خاطر تو کیوں اخروی انجام کے پیش نظر استعمال کی گئی اصطلاحات پر اصرار بڑھا دیا جائے، اوردنیوی مصلحت نظر انداز کر دی جائے؟

ایک سوال کا جواب

بعض ذی علم ناقدین کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ قرآن مجید میں ابتداء میں نازل ہونے والی سورہ "المدثر" میں، اتمام حجت سے قبل ہی اسلام نہ لانے والوں کو کافر قرار دیا جا چکا تھا، (فذلک یومئذ یوم عسیر ، علی الکافرین غیر یسیر) جو اس بات کی کافی دلیل ہے کہ" غیر مسلم" کو کافر قرار دینا درست ہے۔ اوریہ کہنا درست نہیں کہ کسی کو "کافر "قرار دینے کے لیے اتمامِ حجت ضروری ہے۔ سادہ لفظوں میں فاضل ناقدین کے تصور کے مطابق" کافر" کے اطلاق کے لیے " جانتے بوجھتے اسلام کا انکار" ضروری نہیں، بلکہ "مسلم گروہ " میں شامل نہ ہونا ہی "کافر" قرار دینے کے لیے کافی ہے۔ 

اس اعتراض میں کن امور کو خلط کر دیا گیا، اس کا جائزہ جواب میں لیا جاتا ہے۔یہاں چند بنیادی نکات کو پیش نظر رکھنا تفہیم مدعا کے لیے ضروری ہے۔

اتمام حجت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی فرد پر حق پوری طرح واضح ہو جائے۔ حق کے پوری طرح واضح ہونے کے مختلف داخلی اور خارجی ذرائع ہو سکتے ہیں۔ جس پر کسی بھی طریقہ سے حق واضح ہو گیا، اس پر اتمام حجت ہو گیا۔ اتمام حجت کے بعد جس نے حق قبول کر لیا، وہ مسلم اور جس نے انکار کیا، وہ کافر ہے۔ اتمام حجت کے بعد کفر و اسلام کی سزا و جزا اصلاً تو آخرت میں ملنی ہے، مگر اتمام حجت اگر رسول کے ذریعہ سے ہوا ہو تو ان منکرین پر اخروی سزا کی ایک جھلک دنیا میں بھی ظاہر کر دی جاتی ہے۔

سورہ المدثر کی آیات میں کسی گروہ کو "کافر قراردے کر" اس کاحکم نہیں بیان کیا جا رہا "بلکہ کفر اختیار کرنے کی صورت میں "یہ انذار عام کیا جا رہا ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جو کافروں کے لیے سخت ثابت ہو گا۔ اس عمومی انذار کے وقت کہے گئے "کافرین " کے مصداق کا اس وقت مفقود ہونا گوکلام کی صحت کو مانع نہ تھا، مگر واقعہ یہ ہے کہ خارج میں مصداق بھی موجود تھا۔

مثال اس کی ایسے ہے جیسے کلاس میں استاد طلبہ سے یہ کہے کہ "امتحان آنے والا ہے، نہ پڑھنے والے اس دن ناکام ہو جائیں گے"۔ اس جملے کا مطلب یہ نہیں کہ کلاس کے کچھ طلبہ کو "نہ پڑھنے والا" ثابت کیا جا رہا ہے۔"نہ پڑھنے والوں" کا مصداق مفقود ہواور ساری کلاس ہی پڑھنے والی ہو، پھر بھی یہ جملہ اپنے مقصد کے پیش نظربرمحل اور درست قرار پائے گا۔مگر مصداق کا موجود ہونا بھی اس طرح کلام کرنے سے مانع نہیں۔اس بات کا امکان بھی ہے کہ کلاس میں "نہ پڑھنے" والے موجود ہوں۔ یوں ایک عمومی طور پر کہی گئی بات ان "نہ پڑھنے والوں" کے لیے خصوصی بھی بن جائے گی۔ لیکن کلام کا محل یہ نہیں ہو گا کہ "استاذ نے ناکام ہونے والے چار لڑکوں کو نہ پڑھنے والا قرار دیا"، بلکہ درست محل یہ ہو گا کہ "استاد نے نہ پڑھنے والوں کو ناکام قرار دیا، اور چار لڑکے نہ پڑھنے والے نکلے"۔ پہلی صورت میں کلام کے برمحل ہونے کے لیے "نہ پڑھنے والوں کا خارج میں موجود" ہونا ضروری ہے۔ جبکہ دوسری صورت میں "نہ پڑھنے والوں کا موجود ہوناضروری نہیں"۔

"المدثر "میں کلام کا محل یہی دوسری صورت ہے کہ جو منکر ہوں گے، قیامت کو ناکام ہوں گے۔ ابتدائی عمومی آیات کے بعد اس سے اگلی آیات میں بعض مفسرین بطور خاص ولیدبن مغیرہ کو مراد لیتے ہیں۔ قرآن مجید کے بیان کے مطابق وہ پروردگار کی آیات سے عناد رکھتا تھا۔ 

یہ ایسے ہی ہے کہ عمومی انذارکی خاطر کہے گئے "کافرین" کا ایک خصوصی مصداق بھی میسر آگیا اور اس مصداق سے باخبر ذات نے بتا دیا کہ کافرین کو جس انجام سے ڈرایا گیا، اس کا مصداق ولید بھی ہے۔ جب "ولید کا کافر ہونا" اور "اس کے کافر ہونے کا علم ہو جانا" ثابت ہو گیا تو اسے "کافر کا مصداق کہناکسی طرح غلط نہیں"۔ ولید کا معاملہ آیات سے واضح ہے کہ اس کا جانتے بوجھتے حق کا انکار کرنا پوری طرح ثابت ہو چکا تھا۔ خدا نے اسے کفر اختیار کیے بغیر ہرگز کافر قرار نہیں دیا۔ولید کی سرکشی کے احوال جان لینے کے بعد اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہ جاتا۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ قرآن مجید میں اتمامِ حجت کے بغیر بھی غیر مسلموں کو کافر قرار دینا روا رکھا گیا ہے۔اگر کوئی صاحب علم ہر غیر مسلم پر "کافر" کا اطلاق روا رکھے گا تو یہ اس کا اجتہادی فیصلہ تو ہو سکتا ہے جس سے اختلاف کی گنجائش بہرحال باقی رہے گی، تاہم یہ اطلاق اس نوعیت کا نہیں کہ کوئی آیت اس کی تائید میں پیش کی جا سکے یا اسے کوئی منصوص مسئلہ باور کیا جا سکے۔ 

مدعا کی مزید تفہیم کے لیے ضروری ہے کہ تکفیر، اتمام حجت اورکفر کی دنیوی سزا کے مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔

جس پر جب بھی کسی بھی طریقے سے حق واضح ہو گیا، پھر وہ انکار کرے تو کافر ہو جاتا ہے۔ کافر ہو جانے کے لیے ، جانتے بوجھتے حق کا انکارکر دینا کافی ہے۔البتہ کس نے جانتے بوجھتے انکار کیا، اس کا علم خدا کے سوا کسی کو نہیں۔ اس لیے علم کے بغیر کافر کہنے سے اجتناب کیا جانا چاہیے۔خدا کو چوں کہ علم ہے سو وہ جب بھی کوئی جانتے بوجھتے انکار کرے، اسے کافر کہہ سکتا ہے۔ گویا"کسی کا کافر ہوجانا" اور بات ہے اور " کسی کے کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" اور بات ہے۔ جس کے کافر ہو جانے کا جسے علم ہو جائے ،وہ کافر کہہ بھی سکتا ہے۔اٹھائے گئے سوال میں "کافر ہو جانے" کی سطح کے "اتمام حجت" کو اور "دنیا میں خدائی سزا" کے مستحق بن جانے کے درجے کے "اتمام حجت" کو ایک سمجھ لیا گیا ہے۔ جبکہ اول عام اور ثانی رسولوں کے ساتھ خاص ہے۔

خلاصہ کلام

  • اتمام حجت کے بغیر قرآن میں کسی کو کافر نہیں کہا گیا۔
  • اتمام حجت کے مختلف ذرائع ہیں، کسی بھی ذریعے سے حق واضح ہو جائے تو اتمام حجت ہو جاتا ہے، اس کے بعد حق کا انکار کفر ہے۔
  • کافر ہونے کے لیے حق کا جانتے بوجھتے انکار کرلینا کافی ہے۔رسول کا براہ راست مخاطب ہونا ضروری نہیں۔
  • "کافر کہنے" کے لیے "کافر ہو جانے کا علم ہو جانا" ضروری ہے۔
  • اتمام حجت رسولوں کے ذریعہ ہو جائے تو خدا کفر کی اخروی سزا کی ایک جھلک دنیا میں بھی ظاہر کر دیتا ہے۔
  • کافر کا وجود اب بھی نایاب یا ناپید نہیں، جیسا کہ غلط فہمی سے یہ کہا جا رہا ہے۔بس اتنا ہے کہ اب پیغمبر کے بعد حتمی طور پر اس کے وجود کی خبر انسانوں کو ہو جانے کی خود اس کافر کے اقرار کے سواکوئی صورت نہیں۔ کوئی خود یہ اقرار کر دے کہ میں جانتے بوجھتے حق کا انکار کر رہا ہوں تو اسے آج بی بلا تردد کافر کہا جا سکتا ہے۔
  • کافر کہنے سے اجتناب اس لیے برتا جاتا ہے کہ جسے کافر کہا جا رہا اس کا کہنا ہے کہ وہ جانتے بوجھتے حق کا انکار نہیں کر رہا، بلکہ جس چیز کو حق سمجھ رہا ہے، اسی سے وابستہ ہے۔اور وہ خود کے لیے کافر کا لقب پسند بھی نہیں کرتا۔ 

یہ نکتہ آفرینی بھی درست نہیں کہ جب کفر دل کا معاملہ ہوا تو ایمان بھی دل ہی کا معاملہ ہے۔ جب کسی کو کافر کہنا ممکن نہیں تو مسلم کہنا کیسے ممکن ہوا؟ کسی کاکفر و اسلام خدا جانے، ہمیں کسی کو کافر کہنا چاہیے نہ مسلم۔

یہ بات تو درست ہے کہ کفر و اسلام حقیقت میں دلی معاملات ہیں، جو خدا کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ مگر دنیوی ضرورت کے پیش نظرکافر و مسلم کا دنیوی فیصلہ کچھ اس کے سوا ہے۔ دنیا میں ظاہری نسبت و اعتراف ملحوظ رکھا جائے گا۔ مسلم کو مسلم اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خود اس کا اعتراف کرتا ہے۔ اگر وہ اعتراف میں جھوٹا ہے تو منافق ہے جوآخرت کے لحاظر سے کافر اور دنیوی لحاظ سے مسلم ہی سمجھا جائے گا۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔ کافر کہنے سے گریز کا اس لیے کہاجاتا ہے کہ نہ خدا نے اس کے کفر کی کوئی خبر دی نہ اس نے خود کفر کا اعتراف کیا۔الٹا اس کا کہنا یہ ہے کہ وہ جس چیز کو حق سمجھ رہا ہے، اسے قبول کر رکھا ہے۔ اس صورت میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ بندہ جانتے بوجھتے حق کا انکار کر رہا ہے؟ہمارے فقہاء کسی گرو یا فرد کو کافر قرار دیتے ہیں تو اس کا منشاء بھی محض دنیوی احکام کا اجراء ہی ہوتا ہے۔اخروی تناظر میں وہ بھی تکفیر نہیں کرتے، اور نہ ہی یہ خدا کے سوا کسی کی یہ ہستی ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے۔ 

جب دنیا میں کافر کا اطلاق محض دنیوی احکام میں فرق کی مصلحت کی خاطرکیا جاتا ہے۔تویہ مقصد اگرکسی اور موزوں تعبیر سے حاصل ہو پائے تو دین میں ممنوع نہیں۔ ہمارے نزدیک دیگر مذاہب والوں کو ان کے مذاہب کی نسبت "مسیحی، ہندو وغیرہ"سے تعبیر کرنا یا عمومی تقسیم میں مسلمانوں کے علاوہ کو "غیر مسلم" کا عنوان دے دینا زیادہ موزوں ہے۔دنیا میں کافر اور مسلم کی تقسیم کا مفاد مسلم قوم کے الگ تشخص کو قائم رکھنا ہے اور یہ مقصد ’’غیر مسلم‘‘ کی تعبیر سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آراء و افکار

(اکتوبر ۲۰۱۶ء)

تلاش

Flag Counter