مکالمہ کیوں ضروری ہے؟ / مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو / قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ

محمد عمار خان ناصر

(mukaalma.com کے نام سے ویب سائٹ کے آغاز کے موقع پر لکھا گیا۔)


کسی بھی معاشرے کی تعمیر وتشکیل میں کردار ادا کرنے والے عناصر میں ایک بنیادی عنصر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین عملی ہم آہنگی اور رواداری کی فضا موجود ہو۔ مختلف معاشرتی عناصر کے مابین فکر وعمل کی ترجیحات میں اختلاف پایا جا سکتا ہے اور کئی حوالوں سے مفادات کا تصادم بھی موجود ہو سکتا ہے، تاہم معاشرے کے مجموعی مفاد کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ مشترک اور بنیادی اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ان اختلافات کو باہمی تعلقات کا عنوان نہ بننے دیا جائے اور مجموعی معاشرتی نظم تنوع اور اختلاف کے تمام تر مظاہر کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے کا عمل جاری رکھے۔ معاشرے کی تعمیر کے لیے مختلف سطحوں پر متنوع صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اور افراد اور طبقات کی اجتماعی صلاحیتوں کو کسی مخصوص رخ پر یکسو کیے بغیر یہ تشکیل ممکن نہیں ہوتی۔ اگر لوگوں کی صلاحیتیں مجتمع نہ ہو یا ان کا استعمال مثبت اور تعمیری انداز میں نہ کیا جائے تو اس سے اجتماعی قوت تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جاتی ہے جس کا نتیجہ دستیاب صلاحیتوں کے کند یا ضائع ہو جانے کی صورت میں نکلتا ہے۔ 

تاریخ وتہذیب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ جو قومیں اپنے اجتماعی مزاج میں تنوع کی قبولیت کا مادہ جتنا زیادہ پیدا کر لیتی ہیں، وہ اتنی ہی وسعت کے ساتھ انسانی صلاحیتوں سے استفادہ کر پاتی ہیں اور سماج کے ارتقا پر زیادہ دیر پا اور گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ کے جس دور پر آج ہم علوم وفنون کی ترقی اور ایک علم دوست تہذیب کا دور ہونے کے حوالے سے ناز کرتے ہیں، اس میں بہت بنیادی کردار ان مسیحی علماء کا تھا جو یونانی زبان سے واقف تھے اور مسلمان حکومتوں کی سرپرستی میسر آنے پر انھوں نے یونانیوں کے علوم وفنون کو عربی زبان میں منتقل کیا جس پر بعد میں مسلمان علماء، اطباء اور سائنس دانوں نے اپنی گراں قدر تحقیقات کی بنیاد رکھی اور مسلم تہذیب کو اپنے دور کی متمدن ترین اور ترقی یافتہ تہذیب بنا دیا۔ ہمارے ہاں برصغیر میں جلال الدین اکبر کے دور حکومت میں تاریخ کا سفر اسی پہلو سے ایک نیا موڑ مڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہ اکبر نے مسلمان حکمرانوں اور مقامی ہندو آبادی کے مابین ذہنی اور نفسیاتی فاصلے دور کیے اور حاکم ومحکوم کا تصور ختم کر کے اکثریتی آبادی کو حکومت واقتدار میں شریک کیا۔ اسی کے نتیجے میں ہندوستان کے ایک وسیع خطے میں امن وامان کا قیام ممکن ہوا اور عظیم مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی جا سکی۔ دور جدید میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ جن مغربی اقوام کو اس وقت دنیا میں سیاسی ومعاشی بالادستی حاصل ہے، ان کی قوت کے منابع میں سے ایک بہت اہم منبع یہ ہے کہ انھوں نے مذہب ونسل کی تفریق کوختم کر کے ساری دنیا سے باصلاحیت انسانوں کو اپنے معاشروں میں جذب کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے اور ایسا ماحول فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے ہر نوع کا ٹیلنٹ مغربی معاشروں کی طرف کھنچتا چلا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں اگر ہم پاکستانی معاشرے پر غور کریں تو ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی واضح ہو جائے گا کہ یہ معاشرہ ہر ہر سطح پر انتشار،خلفشار اور تقسیم در تقسیم کا شکار ہے اور پون صدی کے سفر کے بعد بھی یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک بے پتوار کی کشتی کسی متعین سمت میں آگے بڑھنے کے بجائے ہوا کے ہچکولوں کے سہارے بے نام منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اقتدار کے اعلیٰ ترین مراکز سے لے کر سماج کی نچلی ترین سطح تک تقسیم اور انتشار کی ایک گہری کیفیت قوم پر چھائی ہوئی ہے۔ ملک کی سیاست ومعیشت کی ترجیحات کے سوال پر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور منتخب اہل سیاست کے مابین شدید اور دیرینہ کشمکش پائی جاتی ہے۔ متحارب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کا وجود گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عوام اور اہل اقتدار کے مابین، چاہے ان کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہو، حقیقی اعتماد کا رشتہ واضح طور پر مفقود ہے۔ معاشی وسائل تک رسائی کے اعتبار سے معاشرے میں ایک بے حد گہری طبقاتی تقسیم پائی جاتی ہے۔ فکری اعتبار سے کنزرویٹو اور لبرل طبقات اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق معاشرے کا رخ متعین کرنے کے لیے بر سر پیکا رہیں۔ مذہب کی بنیاد پر پائی جانے والی تقسیم کی صورت حال سب سے زیادہ ناگفتہ بہ ہے۔ یہاں مسلم اکثریت اور غیر مسلم اقلیت کے مابین بد اعتمادی ایک بحرانی صورت اختیار کیے ہوئے ہے۔ مسلم اکثریت مذہبی رجحانات کے لحاظ سے روایتی اور غیر روایتی میں منقسم ہے، جبکہ روایتی طبقہ بذات خود فرقہ وارانہ بنیاد پر چار پانچ بڑی تقسیمات کا عنوان ہے۔ عام معاشرتی سطح پر خاندانوں اور برادریوں کے باہمی تنازعات، جبکہ ملک کے بعض حصوں میں شدید نسلی اور لسانی منافرتیں اجتماعیت کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ آبادی کا نصف حصہ یعنی خواتین بطور ایک طبقے کے اپنے معاشرتی کردار اور حقوق وفرائض کے نظام سے غیر مطمئن ہیں اور ان کی یہ حساسیت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس ساری صورت حال میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ کے شعبے، جن سے کسی مثبت اور تعمیری کردار کی توقع کی جا سکتی تھی، الٹا خود اس تقسیم وانتشار کا حصہ ہیں اور ماحول میں پھیلے ہوئے تعصبات اور افتراقات ہی کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ صورت حال تقاضا کرتی ہے کہ معاشرے کے تمام با رسوخ طبقات اور ان کی قیادتیں سر جوڑ کر بیٹھیں اور ملک وقوم کی اس کشتی کو، جس کے وہ خود بھی سوار ہیں، ڈوبنے سے بچانے کے لیے تدبر وفراست اور قربانی وایثار کی آخری حد تک جانے کا عزم ظاہر کریں، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی طبقے کو سرے سے اپنی ذمہ داری کا احساس تک نہیں۔ ہر طبقہ صورت حال کے بگاڑ کا ذمہ دار سر تا سر اپنے حریف طبقات کو تصور کرتا ہے اور ہر طبقے میں اپنے بری الذمہ ہونے کا زعم اس قدر شدید ہے کہ وہ اپنے کردار کے کسی غلط سے غلط پہلو پر بھی تنقید سننے کا روادار نہیں۔ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز بلا استثنا تمام طبقات کے ذہنی رویے کا نمایاں ترین وصف اور تبادلہ الزامات سبھی طبقوں کا محبوب ترین شغف ہے۔ قوم کی گاڑی اگر چل رہی ہے تو کسی اجتماعی قومی جذبے کے تحت نہیں، بلکہ محض محدود اور وقتی مفادات کے اشتراک یا حالات کے دباو تحت چل رہی ہے۔ مختصر الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پورا سماج ہر ہر سطح پر عدم ہم آہنگی، عدم رواداری اور عدم برداشت کے مرض میں مبتلا ہے اور مرض کی شدت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔

یہ وہ تناظر ہے جس میں بعض سنجیدہ اور فکر مند حضرات اس بٹی ہوئی قوم کے مختلف طبقات کو ’’مکالمہ‘‘ کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان اہل فکر کی دلچسپی اور توجہ کے دائرے مختلف اور متنوع ہیں اور فکری ترجیحات میں بھی اختلاف ہے۔ تاہم یہ فطری امر ہے اور اہل دانش کو اسے گوارا کرتے ہوئے باہمی مکالمہ کا ماحول پیدا کرنے کی ہر کوشش کا خیر مقدم کرنا چاہیے اور حسب استطاعت اس میں حصہ بھی ڈالنا چاہیے۔ برادرم انعام رانا نے بھی اسی کار خیر کے لیے ’’مکالمہ‘‘ کے نام سے ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جو اپنے عنوان سے ہی اپنے مقاصد کا پتہ دیتی ہے۔ امید ہے کہ یہ فورم بھی اپنے حصے کا دیا جلانے اور قوم کے فکر وشعور کو بیدار کرنے میں قابل قدر کردار ادا کر سکے گا۔ ان شاء اللہ

مذہبی فرقہ واریت کا سد باب۔ توجہ طلب پہلو

فرقہ واریت کی اصطلاح عموماً اس مذہبی تقسیم کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے جس کا اظہار مختلف گروہوں کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ اور اپنے اپنے وابستگان میں دوسروں کے خلاف مذہبی بنیاد پر منافرت پیدا کرنے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے اسباب بنیادی طور پر دو ہیں۔ ایک کا تعلق مذہبی فکر سے اور دوسرے کا سماجی حرکیات سے ہے۔ 

فرقہ وارانہ مذہبی فکر کا محوری نکتہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مذہبی عقیدے کی تعبیر میں مستند اور معیاری موقف (یعنی جسے کوئی گروہ اپنے فہم کے مطابق مستند اور معیاری سمجھتا ہو)سے اختلاف کرنے والے اس مذہب کے ساتھ اپنی جس اصولی وابستگی اور نسبت کا دعویٰ کرتے ہیں، اس کی یکسر نفی کر دی جائے اور انھیں ان لوگوں کی مانند قرار دیا جائے جو سرے سے اس مذہبی روایت کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں رکھتے۔ یہ رویہ مذہبی فہم اور مذہبی تعبیر میں تنوع کے امکان کو تسلیم نہ کرنے اور اعتقادی تعبیرات کو سائنسی یا ریاضیاتی نوعیت کے بیانات کے ہم معنی سمجھنے سے پیدا ہوتا ہے۔مزید برآں اس انداز فکر میں اس سوال کا بھی ایک غیر متوازن جواب طے کیا جاتا ہے کہ کسی گروہ کی طرف سے ایک مخصوص مذہبی روایت کے ساتھ اصولی وابستگی قبول کر لینے اور اس کے بعد اعتقادی وعملی گمراہیوں میں مبتلا ہو جانے کی صورت میں کس پہلو کو کتنا وزن دیا جائے۔ 

سماجی حرکیات کی رو سے فرقہ واریت، طاقت اور وسائل کے حصول اور اپنے دائرہ اثر کو بڑھانے کی جبلت کا مظہر ہوتی ہے۔ مذہب ہمیشہ سے انسانی معاشروں میں طاقت اور سیادت کے حصول کا موثر ترین ذریعہ رہا ہے۔ مذہبی اختلاف کی بنیاد پر جب معاشرتی تقسیم پیدا ہوتی ہے تو ہر گروہ اپنے اپنے دائرہ اثر کو محفوظ رکھنے اور اس میں وسعت پیدا کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے حریف مذہبی گروہوں پر کفر وضلالت کے فتوے عائد کرنا نتیجہ خیز اور موثر ثابت ہوتا ہے۔ یہ کشمکش کسی معاشرے کے مانے ہوئے اور مسلمہ مذہبی گروہوں کے مابین بھی پائی جاتی ہے، تاہم صرف اس دائرے تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کا زیادہ سنگین اظہار ان فکری حلقوں کے حوالے سے ہوتا ہے جو اپنی دینی تعبیرات میں روایتی مذہبی گروہوں کے طے کردہ دائروں اور حدود کی پابندی ضروری نہیں سمجھتے۔ ایسی صورت میں روایتی مذہبی گروہ عموماً ایک مشترکہ خطرے کے مقابلے میں یک جان اور یک زبان ہو جاتے ہیں اور یوں نفرت انگیزی کا یہ عمل ایک نئی طرح کی گروہی تقسیم کی بنیاد بن جاتا ہے۔

اس صورت حال میں بہتری لانا، ظاہر ہے ، بہت گہرے غور وفکر اور بہت سنجیدہ منصوبہ بندی کا متقاضی ہے۔ یہ خوش آئند ہے کہ صورت حال کی سنگینی کی طرف نہ صرف عمومی طور پر معاشرتی طبقات بلکہ خود دینی قیادت بھی متوجہ ہو رہی ہے اور خاص طور پر نوجوان نسل بہت سے حوالوں سے ان ذہنی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو کر سوچنے کی صلاحیت رکھتی ہے جن میں مختلف مذہبی گروہ پنے اپنے وابستگان کو باندھنے کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ 

ہماری رائے میں فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے چند نہایت بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اگرچہ ان سب کو بیک وقت رو بہ عمل نہیں کیا جا سکتا، لیکن طویل مدتی منصوبہ بندی میں بہرحال انھیں پیش نظر رہنا چاہیے:

۱۔ دینی تعلیم کا موجودہ نظام اور مدارس کا ماحول فرقہ وارانہ ماحول کا سب سے بڑا منبع ہے۔ ا س کی اصلاح کیے بغیر کوئی حقیقی تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ ضروری ہے کہ دینی تعلیم کا نظام مخصوص فکری یا کلامی مسالک کے بجائے مجموعی اسلامی روایت اور اس کے متنوع فکری مظاہر کو تعلیم وتدریس اور ذہن سازی کی بنیاد بنائے۔

۲۔ تمام مذہبی حلقہ ہائے فکر کے مابین باہمی میل جول ، مکالمہ اور تبادلہ خیال کے مواقع ہر ہر سطح پر پیدا کرنے چاہییں۔ ابتدا میں کچھ دوسرے ادارے اس طرح کے فورم مہیا کر سکتے ہیں، لیکن اصلاً دینی حلقوں کو یہ کام خود اپنے داخلی داعیے اور اپنی قوت ارادی کی بنیاد پر کرنا ہوگا۔

۳۔ فرقہ واریت کے حوالے سے سول سوسائٹی کی تعلیم وتربیت اور ذہن سازی سب سے موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ معاشرے کے تمام با اثر طبقات کی ذہن سازی کو مستقل طو رپر موضوع بنانا چاہیے، اس لیے کہ کسی بھی رویے کو جب تک عام معاشرے کی طرف سے تائید اور ہمدردی نہ ملے، وہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔

۴۔ اس معاملے میں حکومت کا کردار زیادہ تر خاموش تماشائی کا ہے اور بعض پہلووں سے منفی بھی ہے۔ حکومتوں نے فرقہ وارانہ تقسیم کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسے قبول کرنے اور سیاسی مقاصد کے لیے اسے استعمال کرنے کی پالیسی بنائی ہوئی ہے جو تقسیم کو تسلسل دینے اور مضبوط تر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اس پالیسی میں بھی بنیادی تبدیلی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

۵۔ مذہبی طبقات کے ذہین عناصر کو جدید فکری اور معاشرتی چیلنجز کی طرف متوجہ کرنا فرقہ وارانہ ماحول میں تبدیلی کا ایک بہت موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ مذہبی ماحول میں جن مسائل وموضوعات کو اہمیت اور ترجیح کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے، ذہین عناصر بھی عموماً اس کا اثر قبول کرتے اور انھی ترجیحات کو اپنی ذہنی وفکری کاوشوں کا میدان بنا لیتے ہیں۔ اگر ان کی ذہنی توجہ کے دائرے بدل دیے جائیں اور انھیں امت کے حقیقی اور زندہ مسائل کی طرف متوجہ کر لیا جائے تو اس سے خود بخود ماحول میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔

۶۔ دینی راہ نماوں کی ذہنی ونفسیاتی تربیت بھی کام کا ایک اہم میدان ہے۔ اس کے لیے Capacity building کے باقاعدہ منصوبے بنانے چاہییں اور مستقبل کے متوقع دینی قائدین کو فکر وشعور کے ساتھ ساتھ ایسی عملی مہارتیں بھی سکھانی چاہییں جس سے ان کا کردار مثبت رخ پر ڈھل سکے اور وہ اپنی مساعی کو تعمیر معاشرہ پر مرکوز کر سکیں۔

۷۔ دینی قیادت میں مغلوبیت اور پچھڑے پن کا تحت الشعوری احساس بطور خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ احساس علمی اور عملی میدانوں میں مسابقت کے فطری جذبے کو حدود اعتدال میں نہیں رہنے دیتا اور مثبت طور پر اپنے کاز کو آگے بڑھانے کے بجائے انھیں حریف اور مخالف طبقات کے بارے میں غیر ضروری طو رپر حساس بنا دیتا ہے۔ اسی احساس کے زیر اثر، ہر قیمت پر غلبہ اور برتری حاصل کرنے کے جذبے سے مذہبی تقسیم، سیاسی عوامل کا آلہ کار بن جاتی ہے جس سے فرقہ وارانہ مذہبی تقسیم مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔

۸۔ اختلاف اور تنقید کی اخلاقیات کی پابندی کو اس نوع کی ساری کاوشوں کا بنیادی ہدف قرار دینا چاہیے۔ تمام مسلکی حلقوں میں اس طرز فکر کو دینی واخلاقی بنیادوں پر ایک مسلمہ کا درجہ حاصل ہو جانا چاہیے کہ کسی بھی نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اس کے موقف کی درست تعبیر، اصلاح کا ہمدردانہ جذبہ اور اسلوب بیان کی شائستگی جیسے اصولوں کی کسی بھی حال میں قربانی نہیں دی جا سکتی۔

فرقہ وارانہ مذہبی بیانیوں پر مختصر تبصرہ

مذہبی تعبیرات کا اختلاف اور ان کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم ہمارے ہاں کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے۔ اس کا اظہار عموماً فرقہ وارانہ اسالیب اور تکفیر وتضلیل کے فتاویٰ کی صورت میں ہوتا ہے۔ اسلام آباد کے ادارہ برائے امن وتعلیم نے گزشتہ دنوں اس موضوع پر ایک پانچ روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا اور اس میں ہونے والے تفصیلی بحث ومباحثہ کی روشنی میں فرقہ وارانہ بیانیے کے نمائندہ نکات مرتب کیے ہیں۔ یہ نکات تبصرے کے لیے مختلف حضرات کو بھیجے گئے ہیں۔ راقم الحروف نے چند اہم نکات پر مختصراً جو کچھ عرض کیا، وہ عمومی دلچسپی کے تناظر میں یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔

بیانیہ: ہمارے اکابر حق پر ہیں اور وہی اسلام کی مستند ترین تعبیر پیش کرتے ہیں۔

تبصرہ: اسلامی تناظر میں کسی بھی فکر کے استناد اور قبولیت کا معیار مسلمانوں کی مجموعی علمی روایت ہے۔ مختلف فکری حلقے اپنے اپنے زاویے سے یہ تصور رکھ سکتے ہیں کہ انھی کے اکابر کی پیش کردہ تعبیر درست ترین اور حتمی ہے، تاہم اس یقین واذعان کا وزن آخری تجزیے میں مجموعی علمی روایت ہی طے کرتی ہے۔ جو فکری دھارے ہم عصر اور ایک دوسرے کے حریف ہوں، ان کی طرف سے اپنے اور مخالفین کے متعلق اس طرح کے دعووں کو زیادہ احتیاط ، بلکہ شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور کسی حتمی فیصلے کا کام فکری روایت کے جدلیاتی عمل کے سپرد کر دینا چاہیے۔

بیانیہ: اسلام میں جدت پسندی کا تصور مغرب سے مرعوبیت کی علامت ہے۔ 

تبصرہ: ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ مصداق کے لحاظ سے ایک غیر واضح عنوان ہے۔ اسی طرح مرعوبیت کا تعین بہت حد تک ایک موضوعی چیز ہے۔ میرے نزدیک ’’اسلام میں جدت پسندی‘‘ کا یقینی مصداق یہ چیز ہے کہ اسلام کے بنیادی عقائد وتصورات اور اخلاقی اقدار کے فریم ورک میں تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کر لیا جائے۔ اگر جدید افکار یا تمدنی وتہذیبی مظاہر کو، چاہے تاریخی وواقعاتی طور پر ان کی پیش کاری ابتداء اً غیر اسلامی تناظر میں کی گئی ہو، اسلامی اقدار اور مقاصد کے تابع کر کے اور ان کے ساتھ ہم آہنگ کر کے اسلامی فکری روایت کا حصہ بنانا مقصود ہو تو یہ ’’جدت پسندی‘‘ نہیں۔ اصولی طور پر بھی نہیں، اور عملاً بھی نہیں، کیونکہ کوئی تہذیب یا فکری روایت گرد وپیش کی تبدیلیوں سے بے تعلق ہو کر ناک کی سیدھ پر تاریخ میں سفر جاری نہیں رکھ سکتی۔

بیانیہ: اگرفلاں مسلک اپنے فلاں فلاں عقیدے سے رجوع کر لے تو مفاہمت ہو سکتی ہے۔ 

تبصرہ: مذہبی اختلاف اس دنیا کی ایک ناقابل تردید اور ناقابل تبدیل حقیقت ہے۔ اس میں مفاہمت کا مطالبہ غیر حقیقی اور غیر اخلاقی ہے، البتہ دعوت اور مکالمہ کے ذریعے سے ایک دوسرے کے مذہبی خیالات ونظریات کو تبدیل کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ قرآن نے اعتقادی اختلافات کے باب میں حق وباطل کو آخری درجے میں واضح کرنے کے بعد بھی مخالف مذہبی گروہوں سے مفاہمت کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ یہ کہا کہ یہ اختلاف ایسے ہی برقرار رہیں گے اور ان کا فیصلہ قیامت کے روز خدا کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ دنیا میں بقائے باہم اور اخلاقی طرز زندگی کے لیے جو چیزیں مطلوب ہیں، وہ دو ہیں: ایک، مخالف مذہبی عقائد کی صحیح اور دیانت دارانہ تعبیر کا اہتمام اور خود ساختہ تعبیرات کی نسبت سے گریز۔ اور دوسری، اختلاف کو رواداری کے ساتھ قبول کرنا اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات واحساسات کو ٹھیس پہنچانے سے اجتناب کرنا۔

بیانیہ: مودودیت ایک گمراہ فرقہ ہے۔ / غامدی صاحب ایک فتنہ ہیں اور اسلام کی تعلیمات کو بگاڑ رہے ہیں۔

تبصرہ: مولانا مودودی اور غامدی صاحب نے دین کو براہ راست اصل مآخذ سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس کوشش میں مروجہ دینی تعبیرات سے کئی جگہ اہم اور بنیادی اختلاف بھی کیا ہے۔ ان کی پیش کردہ دینی فکر اور مذہبی تعبیرات میں قابل نقد اور کمزور باتیں بھی ہو سکتی ہیں جن پر علمی نقد لازماً ہونا چاہیے، لیکن بحیثیت مجموعی ان کی دینی فکر کو فتنہ یا گمراہی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بیانیہ: فلاں اور فلاں حضرات گستاخ رسول ہیں۔ انھوں نے توہین آمیز عبارات لکھی ہیں۔

تبصرہ: کسی کلام کو توہین یا گستاخی قرار دینے کے لیے کلام کا سیاق وسباق اور متکلم کی نیت بنیادی چیز ہے۔ کوئی عبارت ظاہر کے لحاظ سے ایسا تاثر دیتی ہو تو اس پر نظر ثانی کر لینی چاہیے، تاہم متکلم کی نیت اور عبارت کے مقصد کو نظر انداز کر کے اس پر گستاخانہ یا توہین آمیز ہونے کا فتویٰ جاری نہیں کیا جا سکتا۔

بیانیہ: گستاخ رسول کو قتل کرنا غیرت ایمانی کا تقاضا ہے اور عین شریعت ہے۔

تبصرہ: توہین رسالت کا کوئی بھی واقعہ رونما ہونے پر شرعی قانون یہ ہے کہ قائل کو عدالت کے سامنے اپنی بات کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔ اگر واقعتا اس کی نیت توہین ہی کی ہو تو اسے توبہ اور رجوع کے لیے کہا جائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو پھر عدالت جرم کی نوعیت کے لحاظ سے اسے قرار واقعی سزا دے جو بعض صورتوں میں موت بھی ہو سکتی ہے۔

بیانیہ: پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔

تبصرہ: فرقہ واریت کا منبع جہالت اور غلو کے ذہنی ونفسی رویے ہیں، اور ان ذہنی رویوں کو معاشرتی سوچ کا حصہ بنانے کا کردار مذہبی تعبیرات ادا کرتی ہیں۔ بیرونی ہاتھ اور سیاسی عوامل صرف اس کو بڑھانے اور کوئی مخصوص رخ دینے کے ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں اور یہ خارجی عوامل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کسی معاشرے میں ذہنی ونفسی سطح پر اور مذہبی تعبیرات کے دائرے میں ان کے لیے زمین تیار نہ کر دی گئی ہو۔

بیانیہ: دوسرے مسالک کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ہماری راہ میں ہمارے مسلک کے ہی شدت پسند عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔

تبصرہ: یہ بات درست ہے۔ اس کا مقابلہ صرف عزم مصمم اور بلندی کردار سے کیا جا سکتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت فرقہ واریت سے تنگ ہے اور اس سے نجات چاہتی ہے، لیکن اقلیتی گروہوں کے بلند آہنگ ہونے جبکہ سنجیدہ وفہمیدہ طبقات کے غیر فعال بلکہ منفعل ہونے کی وجہ سے اکثریت، اقلیت کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے۔ہر مسلکی حلقے میں اگر ایسے پر عزم افراد سامنے آئیں جو یہ طے کر لیں کہ وہ ہر حال میں وحدت امت کی بات کریں گے اورکسی مصلحت یا مفاد کی خاطر یا کسی خوف کے تحت فرقہ وارانہ گروہ بندی کا حصہ نہیں بنیں گے اور اس کے لیے مقبولیت یا عوامی قبولیت کی بھی پروا نہیں کریں گے تو ان شاء اللہ بہت کم عرصے میں فضا بدلی جا سکتی ہے۔ 

قراقرم یونیورسٹی میں دو روزہ ورک شاپ

قراقرام انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت میں ۷ اور ۸ ستمبر ۲۰۱۶ء کو ’’سماجی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ (بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد) اور قراقرم یونیورسٹی کے زیر اہتمام دو روزہ ورک شاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے رکن جناب ڈاکٹر خالد مسعود، پشاور یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹڈیز ڈاکٹر معراج الاسلام ضیاء، اقبال مرکز برائے تحقیق ومکالمہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر حسن الامین، ائیر یونیورسٹی اسلام آباد کے استاذ جناب ندیم عباس، پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن اسلام آباد کے رکن ڈاکٹر محمد حسین اور معروف اینکر پرسن سبوخ سید کے ساتھ ساتھ راقم الحروف کو بھی اظہار خیال کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ ورک شاپ کی آخری نشست میں گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ جناب حافظ حفیظ الرحمن اور کور کمانڈر میجر جنرل عاصم منیر نے بھی شرکت کی، جبکہ قراقرم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان کے علاوہ مختلف شعبوں کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ وطالبات بھی بڑی دلچسپی اور انہماک سے دو روزہ ورک شاپ میں شریک رہے۔ 

راقم الحروف نے ورک شاپ کی ایک نشست میں ’’مذہبی فرقہ واریت اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں‘‘ کے عنوان پر جو گفتگو کی، اس کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:

  • اجتماعیت، اسلام کی بتائی ہوئی معاشرتی اقدار میں سے ایک بہت بنیادی قدر ہے۔ یہ ایک روحانی قدر بھی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت، حسد اور بغض کے جذبات ہرگز پسند نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک معاشرتی اور تہذیبی ضرورت بھی ہے، کیونکہ جو قومیں باہمی افتراق کا شکار ہو جائیں، ان کی توانائیاں خود کو کمزور کرنے میں صرف ہونے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ دشمن ان پر حاوی ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
  • اسلام میں اجتماعیت کا مفہوم یہ نہیں کہ مسلمانوں میں باہم اختلاف رائے نہ ہو، خاص طور پر یہ کہ مذہب کو سمجھنے یا اس پر عمل کرنے میں سب مسلمان ایک ہی انداز کے پابند ہوں۔ اجتماعیت کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اختلاف رائے رکھتے ہوئے بھی باہم متحد رہیں اور اختلاف رائے کو نفسانی اسباب یا غلو کے زیر اثر باہمی افتراق کا ذریعہ نہ بنا لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست دین سیکھنے والی جماعت، صحابہ کرام نے اپنے اجتماعی طرز عمل سے واضح کیا ہے کہ دین میں اختلاف رائے اور فرقہ واریت کے مابین کیا فرق ہوتا ہے۔ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں، حج کے موقع پر ان کے، ظہر اور عصر کی چار رکعتیں ادا کرنے پر سخت تنقید کی (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما اس موقع پر دو رکعتیں ادا کیا کرتے تھے)، لیکن جب نماز کا وقت ہوا تو انھی کی اقتدا میں چار رکعتیں ادا کر لیں اور سوال کیے جانے پر فرمایا کہ (اختلاف کی بنیاد پر) مسلمانوں میں گروہ بندی پیدا کرنا بہت بری بات ہے۔ 
  • دو چیزیں اختلاف رائے کو فرقہ واریت میں بدل دیتی ہیں۔ ایک، اپنی رائے کو حتمی اور فیصلہ کن سمجھنا اور مخالف نقطہ نظر کے لیے گنجائش تسلیم نہ کرنا۔ دوسری، مسلمانوں کو اپنی رائے کے گرد جمع کرنے اور دوسرے نقطہ ہائے نظر سے دور کرنے کے لیے گروہ بندی اور باہمی منافرت کو فروغ دینا۔ صحابہ کے دور میں اختلاف رائے موجود تھا اور بہت سے مذہبی معاملات کے فہم اور تعبیر میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا، لیکن صحابہ نے اپنے نقطہ نظر کو حتمی قرار دیتے ہوئے مخالف نقطہ نظر کی کلی نفی کرنے کا نیز اس بنیاد پر عام لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرنے اور ان میں باہمی منافرت پھیلانے کا رویہ اختیار نہیں کیا۔ یہی اختلاف اور فرقہ واریت میں حد فاصل ہے۔ فرقہ پرست ذہن اپنی پیش کردہ مذہبی تعبیر کو حتمی اور فیصلہ کن سمجھتا ہے اور عام لوگوں کو اپنے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے انھیں دوسرے نقطہ ہائے نظر کے لوگوں سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے مذہبی فتوے بازی کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔
  • فرقہ واریت کا تعلق صرف مذہبی اختلاف سے نہیں، ہر نوعیت کے اختلاف سے ہے۔ اگر مذہب کے علاوہ سیاسی، علاقائی اور نسلی اختلاف بھی ایسا رنگ اختیار کر لے کہ مختلف گروہ ایک دوسرے کی رائے کو برداشت نہ کر سکیں اور ان کی توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے صرف ہونے لگیں تو بلاشبہ یہ بھی فرقہ واریت ہے۔ اس لیے اس موضوع کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے صرف مذہبی گروہ بندی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ فرقہ بندی کے تمام مظاہر کو زیر بحث لانا چاہیے، کیونکہ جس طرح مذہبی فرقہ واریت امت کی وحدت اور اجتماعیت کو مجروح کرتی ہے، بالکل اسی طرح سیاسی، نسلی اور فکری اختلافات اگر گروہ بندی اور حزبیت کی شکل اختیار کر لیں تو وہ بھی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو پارہ پارہ کر دینے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
  • فرقہ واریت پورے معاشرے کا مسئلہ ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری صرف اس طبقے پر نہیں ڈالی جا سکتی جو مذہبی ’’قیادت‘‘ کے منصب پر فائز ہے، اس لیے کہ کسی بھی رویے اور طرز فکر کو جب تک معاشرے کی طرف سے تائید اور حمایت نہ ملے، وہ جڑ نہیں پکڑ سکتا۔ فرقہ وایت کے سدباب کے لیے کردار ادا کرنا معاشرے کے تمام اہم طبقات کی ذمہ داری ہے۔ اس ضمن میں مذہبی راہ نماں کے ساتھ ساتھ سیاسی قیادت، ارباب اقتدار اور سب سے بڑھ کر سول سوسائٹی کو بھی اپنا بھرپور ادا کرنا ہوگا اور عوام الناس کے فکر وشعور کی سطح کو اس طرح بلند کرنا ہوگا کہ وہ کسی فرقہ وارانہ بیانیے سے متاثر ہو کر اسے اس کا دست وبازو بننے پر آمادہ نہ ہوں۔
  • معاشرتی طبقات اگر درج ذیل چند نکات کے حوالے سے یکسو ہو جائیں اور ان سے متصادم کسی بھی مذہبی تعبیر یا بیانیے کی حوصلہ شکنی کی فضا پیدا ہو جائے تو فرقہ واریت کو بہت کم عرصے میں جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے:

    1. مسلمانوں کے مابین مذہبی اختلاف بظاہر کتنا ہی سنگین ہو ، اس کی بنیاد پر تکفیر کا کوئی جواز نہیں۔ چنانچہ ہر ایسی مذہبی تعبیر یا بیانیہ جو تعبیری اختلاف کی وجہ سے کسی گروہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر زور دیتا ہو، اپنے ظاہر ہی کے لحاظ سے قابل رد ہے۔
    2. ہر مذہبی گروہ اپنے موقف کی تعبیر کا خود ہی حق رکھتا ہے، اس لیے کسی بھی گروہ کی زبان سے دوسرے گروہ کے موقف کی تعبیر قابل قبول نہیں۔
    3. تنقید اور اختلاف میں شائستگی کا دامن چھوڑنے اور اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے پر ماحول کے ذمہ دار حضرات کو اپنی سماجی حیثیت اور دائرۂ اختیار کے مطابق اپنا رد عمل ظاہر کرنا چاہیے اور یہ واضح کرنا چاہیے کہ اشتعال انگیزی اور تحقیر واستہزا کا اسلوب قابل قبول نہیں۔
    4. مختلف گروہوں کے مابین ہر سطح پر سماجی میل جول اور مکالمے کا ماحول تسلسل کے ساتھ قائم رکھا جائے، کیونکہ غلط فہمیاں اور دوریاں پیدا ہونے کا ایک بہت بنیادی سبب یہی ہوتا ہے کہ مختلف خیال کے لوگ آپس میں ملنا جلنا چھوڑ دیں۔

بحیثیت مجموعی یہ ورک شاپ اپنے موضوع پر طلبہ وطالبات کی ذہن سازی کے حوالے سے بہت مفید اور کامیاب رہی، تاہم ورک شاپ کی آخری نشست میں گلگت بلتستان کے کور کمانڈر میجر جنرل عاصم منیر نے اپنی گفتگو میں جہاں گلگت میں قیام امن اور خاص طور پر ایک نہایت پرامن ماحول میں انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے گلگت کی فوجی اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں کا ذکر کیا، وہاں بعض ایسی باتیں بھی کہیں جو پوری ورک شاپ کے مقصد اور مزاج کے بالکل برعکس تھیں۔ مثلاً انھوں نے سی پیک کے منصوبے کے معاشی واقتصادی فوائد بیان کرنے کے بعد ’’حرف آخر‘‘ یہ فرمایا کہ جو لوگ اس منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھا رہے ہیں اور ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کر رہے ہیں، وہ آپ کے دشمن ہیں، اس لیے جب بھی کوئی شخص ایسی بات کرے تو ’’آپ اس کا منہ توڑ دیجیے، بلکہ بہتر ہے کہ اس کا سر توڑ دیجیے۔‘‘ اسی طرح مولویوں کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ان سے اپنے مذہب کو واپس چھیننے کی ضرورت ہے۔ ہماری زندگی کے تین ہی اہم مواقع ہوتے ہیں، یعنی پیدا ہونا، شادی اور مرنا اور ہم نے یہ تینوں مولوی کے حوالے کیے ہوئے ہیں۔ آپ اذان دینے، نکاح اور جنازہ پڑھانے کا کام خود کر سکتے ہیں، کسی مولوی کی ضرورت نہیں۔ 

یہ انداز اظہار ورک شاپ کے بنیادی پیغام کے لحاظ سے تو محل نظر تھا ہی، اس پہلو سے بھی قابل اعتراض تھا کہ یہ احساسات وتاثرات بہرحال جنرل صاحب کے ذاتی احساسات تھے، جبکہ ورک شاپ میں وہ اپنے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے وردی میں اور پورے فوجی پروٹوکول کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ ان کے ذاتی خیالات کچھ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن اپنی منصبی حیثیت میں گفتگو کرتے ہوئے انھیں کسی بھی موضوع پر اپنی بات کو اسی حد تک محدود رکھنا چاہیے تھا جو ان کے ادارے کا طے شدہ اور علانیہ موقف ہے۔

آراء و افکار

اکتوبر ۲۰۱۶ء

جلد ۲۷ ۔ شمارہ ۱۰