جولائی ۲۰۱۹ء

علوم اسلامیہ میں تحقیق کے جدید تقاضے

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

بعد الحمد والصلوٰۃ! یہ میرے لیے خوشی اور افتخار کی بات ہے کہ علامہ اقبالؒ اوپن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی اسکالرز کے اس کورس میں ارباب فہم و دانش سے گفتگو کا موقع مل رہا ہے اور اس پر میں یونیورسٹی انتظامیہ کا شکر گزار ہوں۔ میں آج اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی علوم میں تحقیق کا ذوق رکھنے والے احباب کی خدمت میں کچھ گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ اسلامی علوم و فنون کے حوالہ سے تحقیق اور ریسرچ کے شعبہ میں ہم ایک عرصہ سے تحفظات اور دفاع کے دائرے میں محصور چلے آرہے ہیں۔ مستشرقین نے اسلام، قرآن کریم اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ...

میری علمی و مطالعاتی زندگی (پروفیسر خورشید احمد کے مشاہدات و تاثرات)

― عرفان احمد

اللہ تعالیٰ کا میرے اوپر یہ بڑا فضل رہا ہے کہ میں نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی، وہ دینی اور علمی دونوں اعتبار سے ایک اچھا گھرانا تھا۔ میرے والد مرحوم علی گڑھ کے پڑھے ہوئے تھے۔ انہوں نے سیاسی زندگی میں تحریک خلافت مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے لیے جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ والد محترم کے دینی، سیاسی اور ادبی شخصیات سے گہرے روابط تھے اور ایسے سربرآوردہ حضرات کا ہمارے ہاں آنا جانا تھا، اس لیے بچپن ہی میں دہلی کی ادبی اور ثقافتی زندگی سے استفادے کا موقع ملا۔ بچوں کی ایک انجمن دلی میں تھی جس کا میں سب سے کم عمر صدر منتخب ہوا۔ جامعہ ملیہ میں سپورٹس‘...

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ڈاکٹر رضوان علی ندوی کی تنقید (۱)

― مفتی امان اللہ نادر خان

مؤرخہ 7 اور 8 جولائی (2013) کے روزنامہ ’’امت‘‘ میں ’’ڈاکٹر سید رضوان علی ندوی ‘‘صاحب کا ایک مضمون بعنوان ’’ حضرت معاویہؓ اور قدیم مؤرخین اور محدثین‘‘ شائع ہوا ، جس میں ڈاکٹر صاحب نے ’’ اہلسنت والجماعت ‘‘ کے مؤقف سے انحراف کر کے بزعمِ خویش حضرت سیدنا امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’صحیح حالات ‘‘پر ’’تاریخی حقائق ‘‘اور ’’قدیم مؤرخین و محدثین ‘‘ کی آراء کی مدد سے روشنی ڈالی ہے اور یہ ثابت کرنے کی نا کام کو شش کی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زبان زد عام مشہور فضائل و مناقب من گھڑت ہیں ،قدیم مؤرخین و محدثین میں سے کسی نے انہیں ذکر...

مکاتیب

― ادارہ

(۱) مشفقی ومکرمی جناب عمار ناصر صاحب۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مزاجِ گرامی بخیر! مئی 2014ء کے شمارہ ’’الشریعہ‘‘ میں جناب عاصم بخشی کا مکتوب نظر سے گذرا جس میں غزالی اور ابنِ رشد کے حوالہ سے میرے مضمون (فروری، مارچ 2014ء) پر کچھ تعریضات پیش کی گئی ہیں۔ زیرِ نظر مکتوب کے اندر انہی تعریضات کے جواب میں کچھ توضیحات پیش کرنا مقصود ہیں۔ ۱۔ مکتوب نگار کو اعتراض ہے کہ غزالی کا دفاع کرتے ہوئے میں نے اپنے مضمون میں ناقدینِ غزالی کے جس ’’فرضی حملہ‘‘ کے خلاف جوابی کار روائی کی ہے، اس حملہ کا کوئی حوالہ اور ماخذ نہیں بتایا اور نہ ہی اس حملہ کے کسی...

’’کتاب العروج‘‘ ۔ تہذیب کے قرآنی سفر کا ایک چشم کشا تذکرہ

― ڈاکٹر محمد غطریف شہباز ندوی

اب سے کوئی سات دہائی پہلے لبنان کے ایک مسلمان ادیب اورمصنف امیرشکیب ارسلان نے ایک مختصرسی کتاب لکھی تھی : لماذاتأخرالمسلمون وتقدم غیرہم (مسلمانوں کے زوال اوردوسروں کے عروج کے اسباب)۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سوال آج تک مسلمانان عالم کے تعاقب میں ہے اوران کے پڑھے لکھے حلقہ کے زیرغور ہے مگراس کے جوابات جو مختلف علماء نے دیے ہیں، ان میں جواب کم اور مزیدسوال زیادہ کھڑے ہوتے ہیں۔ راشد شازنے اس مسئلہ کو بہت گہرائی سے لیاہے اوران کی اکثر تحریروں میں یہ تجزیہ راہ پاجاتاہے۔ راشدشاز ہمارے زمانہ کے ایک عہدساز مفکرومصنف ہیں۔ عربی ،انگریزی اوراردومیں ان کی...

غیر سودی بینکاری پر ایک سیمینار

― مولانا ابوعمار زاہد الراشدی

۲۸ مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان پاکستان شریعت کونسل اور میزان بینک کے باہمی تعاون سے ’’غیر سودی بینکاری‘‘ کے مسئلہ پر منعقدہ سیمینار میں راقم الحروف نے درج ذیل معروضات پیش کیں: بعد الحمد والصلوٰۃ ! غیر سودی معاشی نظام اور غیر سودی بینکاری اس وقت دنیا بھر میں مختلف سطحوں پر زیر بحث ہے اور اسی حوالہ سے آج کا یہ سیمینار بھی منعقد ہو رہا ہے۔ غیر سودی بینکاری کے فقہی اور فنی پہلوؤں کے بارے میں تو اس وقت کچھ عرض نہیں کر سکوں گا، البتہ اس کی معروضی صورت حال کے تناظر میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہوں گا۔ غیر سودی بینکاری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ پاکستان کے...

الشریعہ اکادمی میں دورۂ تفسیر و محاضرات قرآنی

― ادارہ

الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ ہر سال مدارس کی سالانہ چھٹیوں کے موقع پر مدارس کے فضلا اور منتہی طلبا کے لیے دورہ تفسیر کا اہتمام کرتی ہے۔ امسال بھی چوتھے سالانہ دورۂ تفسیر کا افتتاح ۲ جون بروز سوموار صبح نو بجے ہوا ۔ افتتاحی تقریب میں اکادمی کے ڈائریکٹر مولانا زاہد الراشدی کے علاوہ مدرسہ نصرۃ العلوم کے مہتمم مولانا محمد فیاض خان سواتی اور مدرسہ اشرف العلوم کے استاذ الحدیث مولانا مفتی فخر الدین بطور مہمان خصوصی شریک تھے۔ تلاوت و نعت کے بعد اکادمی کے استاذ مولانا حافظ محمد رشید نے دورۂ تفسیر کا مختصر تعارف اور امتیازی خصوصیات سامعین کے سامنے...

ملی مجلس شرعی کا ایک اہم اجلاس

― ادارہ

۱۵ جون کو جامعہ اشرفیہ لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام کے مشترکہ علمی و فکری فورم ’’ملی مجلس شرعی پاکستان‘‘ کا ایک اہم اجلاس مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں مولانا مفتی محمد خان قادری، علامہ احمد علی قصوری، مولانا عبد المالک خان، مولانا حافظ عبد الغفار روپڑی، مولانا سید عبد الوحید، حافظ عاکف سعید، پروفیسر ڈاکٹر محمد امین، مولانا سید قطب، مولانا قاری احمد وقاص، اور مولانا زاہد الراشدی نے شرکت کی۔ وفاقی شرعی عدالت میں سودی نظام و قوانین کے خلاف کیس کی از سر نو سماعت شروع ہونے کے بعد عدالت کی طرف...

مولانا زاہد الراشدی کے اسفار و خطابات

― ادارہ

* 25 مئی کو اٹھیل پور قصور میں مدرسہ عربیہ اشرف العلوم کے سالانہ اجلاس سے خطاب۔ * 27 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے فاضل مولانا محمد یوسف ثانی کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب اور اسلامیہ کالونی میں مولانا عبد الحفیظ محمدی کی مسجد کی تعمیر نو پر دعائیہ تقریب میں شرکت۔ * 28 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان شریعت کونسل کے زیر اہتمام سود کے موضوع پر سیمینار سے خطاب اور بزرگ عالم دین شیخ الحدیث مولانا علاء الدینؒ کی وفات پر ان کے صاحبزادگان سے مدرسہ نعمانیہ میں تعزیت۔ * 29 مئی کو ڈیرہ اسماعیل خان میں جامعہ نصرۃ العلوم...

پانی پینے کے طبی اصول

― حکیم محمد عمران مغل

پانی کا سب سے اہم کام خون کو پتلا کرنا ہے جس سے یہ رگوں میں دوڑتا ہے۔ چین کے لوگ ساری زندگی گرم پانی پیتے ہیں، ہماری طرح برف کے گولے حلق میں نہیں ٹھونستے۔ پانی کا برتن گہرا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کشادہ ہونا چاہیے تاکہ اس میں خاکی ذرات ہوں تو نظر آ سکیں۔ آدمی کو پانی کب پینا چاہیے؟ پرانے اطبا نے انسانی مزاجوں کے لحاظ سے درجات مقرر کیے ہیں۔ مرطوب مزاج تھوڑا صبر کر کے پیے، لیکن خشک مزاج فوری پیے۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو تب دق، احتراق اخلاط، ضعف دماغ اور سرد کا اندیشہ ہے۔ غذا کے ساتھ پانی پینے کے متعلق اطبا کا کافی اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے غذا کچی...